https://www.youtube.com/watch?v=Px3jDEHaJUc    space    ایران کے خلاف فوجی کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی، ٹرمپ کا بڑا بیان    space    اسٹاک مارکیٹ کیلیے نیا ڈیجیٹل فریم ورک متعارف؛ اکاؤنٹ ایک دن میں کھلے گا    space    صارفین پر بجلی گرنے کو تیار؛ 36 ارب سے زائد کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان    space    سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور    space    وزیراعظم کا اپنے فیصلوں پر عملدرآمد میں غفلت پر اظہار تشویش    space    صارفین پر بجلی گرنے کو تیار؛ 36 ارب سے زائد کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان    space   

وزیراعظم آج سعودی عرب،


2026-04-15

وزیراعظم شہباز شریف آج سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے سعودی عرب اور قطر کے دورے دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن اور سلامتی پر مرکوز ہوں گے، جہاں وہ اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ دورہ ترکیہ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے اور عالمی رہنماؤں کے ہمراہ لیڈرز پینل میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ اس موقع پر ان کی طیب اردوان سمیت دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ فورم میں پاکستان کی شرکت تعمیری سفارتکاری اور عالمی تعاون کے عزم کا اظہار ہے۔ وزیراعظم کے ہمراہ اسحاق ڈار، عطاء اللہ تارڑ اور طارق فاطمی بھی ہوں گے۔

سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور

2026-08-28

اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں پمز سانحے پر شدید بحث سامنے آئی، جس میں واقعے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا، جبکہ ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور کی گئی۔ سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ آفیسر منظور احمد کاکڑ کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے معمول کی کارروائی معطل کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر سینیٹر شیری رحمان نے تحریک پیش کی۔ بعد ازاں سینیٹ نے معمول کی کارروائی معطل کردی اور پمز سانحہ پر بحث شروع کردی۔ سینیٹ میں سانحہ پمز پر بحث کے لیے وقفہ سوالات بھی معطل کردیا گیا، جس کی تحریک شیری رحمان نے پیش کی۔ اجلاس میں حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل 2026 واپس لے لیا۔ بل واپس لینے کی تحریک وزیر آئی ٹی کی جگہ وزیر مملکت طلال چوہدری نے پیش کی۔ سینیٹر علی ظفر نے پمز واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے واقعے کی مکمل انکوائری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پمز واقعے کی ذمہ داری ہر اس شخص پر ہے جو بجٹ پاس کرنے میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صحت کے بجٹ پر کٹ کا غریب آدمی کی صحت پر اثر پڑنے کی نشاندہی کی تھی۔ سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ معاملے پر سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے، جس کی سربراہی اپوزیشن کا کوئی رکن کرے۔ کمیٹی میں 50 فیصد حکومتی اور 50 فیصد اپوزیشن ارکان ہونے چاہییں، جبکہ کمیٹی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے ایس او پیز بنائے۔ علی ظفر نے کہا کہ کمیٹی کو اختیار دیا جائے کہ کسی بھی ادارے کو اپنی مدد کے لیے بلا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹیوں پر عوام کو یقین نہیں ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے اظہار خیال کرتے ہوئے سی ایم ایچ کے نظام کو پمز میں بھی فالو کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم ایچ میں سپاہی سے جنرل تک کا علاج ہوتا ہے اور وہاں ایسے واقعات کی کبھی شکایات نہیں آئیں۔ انہوں نے پمز سانحہ کو بہت بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا المیہ نہیں تھا، ایسے واقعات روز ہوتے ہیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ روز المیہ ہوتا ہے، لوگ روتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں، ایسے المیے ختم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹیاں بھی بنتی ہیں، تحقیقات بھی ہوتی ہیں اور سزا جزا بھی ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود مسئلہ برقرار رہتا ہے۔ پرویز رشید نے تجویز دی کہ قانون بنایا جائے کہ سرکاری تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلخانہ کا علاج سرکاری اسپتال میں ہوگا۔ سرکار سے تنخواہ لینے والوں کے نجی اسپتال سے علاج پر پابندی لگائی جائے۔ ایسا قانون بنادیا جائے تو دنوں میں اسپتال عالمی معیار کے ہوجائیں گے۔ انہوں نے سرکار سے تنخواہ لینے والوں پر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی پابندی اور ان کے بچوں کو سرکاری اسکولز میں لازمی داخل کرنے کا قانون بنانے کی تجویز بھی دی۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے پمز سانحے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 20 ہزار ارب روپے کا قومی بجٹ تھا لیکن پمز نہیں چلا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ 4 صوبے نہیں چلا سکتے، 25 بنا دیے تو کیا حشر ہوگا؟ سینیٹ میں پمز سانحہ پر بحث کے دوران فلک ناز چترالی نے کہا کہ وزیر صحت سینیٹ اجلاس میں پمز کے قصیدے پڑھ رہے تھے، اس پر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے دن پمز گئیں تو سیکیورٹی گارڈز نے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ فلک ناز چترالی نے کہا کہ بچے شاپنگ بیگ میں والدین کو دیے گئے اور کہا گیا کہ کسی کو بتانا نہیں اور یہاں سے چلے جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دو اسپتال سنبھالے نہیں جاتے اور یہ اچھل اچھل کر کہتے ہیں کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ فلک ناز چترالی نے وزیر صحت اور حکومت کو قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈر بانی پی ٹی آئی کو اسی اسپتال لے جایا گیا تھا۔ یہ جال بانی پی ٹی آئی کے لیے بچھایا گیا تھا اور بانی پی ٹی آئی کو پمز لانا سیکیورٹی رسک ہے۔ فلک ناز چترالی کی تقریر پر مسلم لیگ ن کے ارکان اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے احتجاج کیا۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ پہلے طے کرلیں کہ سیاست پر بات کرنی ہے یا پمز واقعے پر۔ انہوں نے کہا کہ پمز واقعے پر بات کے بجائے آخر میں یہ چور کو لے آئے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سب سے زیادہ عوام کا خادم وزیر ہوتا ہے، ہم عوام کے نوکر ہیں اور عوام شہنشاہیوں سے تھک چکے ہیں۔ عوام کہتے ہیں ہمیں سہولت چاہیے ، لوگ ایوانوں سے لوگ ناامید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سانحے پر تحقیقات کیلئے ہاؤس کمیٹی کا مطالبہ کیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ جو کمیٹیاں بنی ہیں، ہمیں ان پر کوئی اعتماد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات نہ ہوئیں تو استعفے مانگیں گےان کا کہنا تھا کہ 14 بچوں کی مائیں رو رہی ہیں ۔ ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے۔ ہر اسپتال میں عملہ صبح 6 بجے موجود ہوتا ہے، مگر وہاں عملہ نہیں تھا۔ پتہ کریں عملہ کہاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ساری زندگی اے سی میں بیٹھتے ہیں، کسی نے اے سی میں چنگاری دیکھی ہے، سسٹم کام ہی نہیں کررہے۔ شیری رحمان نے سوال کیا کہ جولائی میں ہوسٹل میں آگ لگی تھی، بتایا جائے اس کا کیا بنا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات نہ ہوئی تو وہ یہ ایوان نہیں چلنے دیں گی۔ سی ڈی اے کی رپورٹس پمز کی رپورٹس سے مختلف ہیں ۔ وہاں کی انتظامیہ سے پوچھا جائے کہ وہ کیا کررہی ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ صرف سیکیورٹی کو الزام دینے سے کام نہیں چلے گا۔ سی ڈی اے نے جو فائر سیفٹی انتظامات کا کہا تھا، وہ کیوں نہیں ہوئے؟ بتایا جائے ہنگامی راستے کیوں بند تھے۔ انہوں نے سینیٹ کی کمیٹی بنانے اور اسے 40 دن کا وقت دینے کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم نے کمیٹی بنائی ہے جو شاہد خان کی قیادت میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری کمیٹی وزیراعظم نے ڈاکٹر کیانی کی سربراہی میں بنائی ہے۔ حکومت سانحے پر رنجیدہ بھی ہے اور سنجیدہ بھی ہے۔ مولانا عطاء الرحمان نے پمز میں ہونے والے سانحے کو لمحہ فکر قرار دیتے ہوئے ذمہ دار لوگوں کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ معمولی نہیں ہے۔ دیگر ممالک میں یہ واقعات نہیں ہوتے، سانحے کے ذمہ دار بھی جانتے ہیں کہ کچھ دیر بات ہوگی اور پھر خاموشی چھا جائے گی۔ مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہوا، اس کے ذمہ دار کہاں ہیں؟ پمز کی متاثرہ مائیں رو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو بھی کمیٹی بنائی جائے اسے ڈیڈ لائن دی جائے۔ حکومت اس وقت ایک کٹھ پتلی ہے اور اس کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوتوں کے ایما پر ان کا ایجنڈا پورا کرنے والوں کو نشان عبرت بنانا چاہیے۔ ایک جوڑے کو چار پانچ سال بعد اولاد ملی اور وہ بھی سانحے میں جاں بحق ہوگیا۔ اگر یہ واقعہ قصداً اس لیے کیا گیا کہ ہم اس میں مصروف ہوجائیں اور وہ اپنا کام کرتے رہیں تو معاملہ سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز نبی اکرم کی ناموس پر حملے ہورہے ہیں، یہاں قادیانیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، اصل ذمہ داروں کو نشان عبرت بنانا چاہیے۔ سینیٹر خالدہ عطیب نے کہا کہ اس ایشو کو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے سندھ کے ولیکا اسپتال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل استعمال شدہ سرنجیں استعمال کرنے سے 70 سے زائد بچے ایڈز کا شکار ہوگئے تھے۔ اگر اس واقعے پر کچھ کرلیتے تو شاید یہ واقعہ نہ ہوتا۔ خالدہ عطیب نے کہا کہ بچوں کے وارڈ کو تالا لگادیا گیا تھا اور آدھا گھنٹہ چابی ڈھونڈنے میں لگ گیا، جس سے وارڈ بند رہا۔ چابی تلاش کرنے میں آدھا گھنٹہ لگا اور بچے دم گھٹنے سے فوت ہوئے۔ انہوں نے وارڈ کی انچارج اور ڈیوٹی پر موجود نرسز کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ خالدہ عطیب نے کہا کہ ولیکا اسپتال میں متاثرہ بچے روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا سندھ حکومت نے ان بچوں کے علاج کی ذمہ داری اٹھائی اور اس واقعے پر کسی نے استعفا دیا؟ سینیٹر دلاور حسین نے پمز کے انتظامی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے ای ڈی نے اپنے نیچے ایسے لوگ لگائے ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ جاپان کے ادارے جائیکا نے بھاری فنڈنگ کرکے ایک منصوبہ دیا، لیکن جائیکا کے تعاون سے شروع ہونے والے منصوبے میں آپریشن بھی شروع نہیں ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ ای ڈی نے وہاں باقاعدہ ایک دکانداری لگا رکھی ہے۔ جو ڈاکٹر منظور نظر لیبارٹریوں کے ٹیسٹ نہیں لکھتا، اسے کھڈے لگا دیا جاتا ہے۔ اس سانحے کا ذمہ دار وزیر نہیں بلکہ موجودہ ای ڈی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پمز اسپتال کے ای ڈی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ کے کیسز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پارلیمنٹیرینز نے اس ای ڈی کے خلاف بات کی، اس کے باوجود اسے نہیں ہٹایا جاسکا۔ ای ڈی کو وزیراعظم بھی نہیں ہٹا سکے، سوال یہ ہے کہ نااہل آدمی کو کس نے لگایا تھا۔ اتنے بڑے المیے کے بعد بھی اس نااہل شخص کو نہیں ہٹایا جاسکا۔ انہوں نے سب سے پہلے ای ڈی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس شخص کی موجودگی میں شفاف تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں۔ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بچوں کا قتل ہے۔ اس پر سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اگر پمز میں لانے کی کوشش کی گئی ہے تو یہ قتل کی سازش ہے۔ انہوں نے سینیٹر پرویز رشید کی تائید بھی کی کہ حکومت پاکستان سے تنخواہ لینے والے کسی شخص کو نجی اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہید بچوں کے والدین کو پریشرائز کیا جارہا ہے کہ وہ نہ بولیں۔ بعد ازاں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے ایوان میں خطاب سے پہلے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہا کہ پہلے ہمیں بات کرنے کا موقع دیں، پھر وزیر کی بات سنیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہیں جواب دینے کا کوئی شوق نہیں، وہ بیٹھ جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ اندوہناک واقعہ تھا اور اس کی کوئی توجیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کمیٹی بنانے کی حمایت کی تاہم کہا کہ اس پر وقت کی قید نہ لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 4 لاکھ بچے مررہے ہیں اور ملک میں روزانہ 1300 بچے مررہے ہیں۔ اموات میں دنیا میں سب سے بڑا نمبر ہمارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران مرجاتی ہیں۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ نظام گل سڑچکا ہے، 2 برے لوگوں میں ایک کم برے شخص کو لگانا ہوتا ہے، جبکہ ہر کوئی کہتا ہے کہ کسی کا برا شخص ہٹا کر میرا برا آدمی لگادیں۔ مصطفیٰ کمال نے ایوان کو یقین دلایا کہ کسی ایک شخص کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ وزارتوں کے لیے ہم اپنی قبر خراب نہیں کریں گے۔ پورے ہیلتھ کیئر نظام کو ٹھیک کرنا ہے، پھر کوئی ایم این اے یا سینیٹر کسی ڈاکٹر کے لیے فون نہ کرے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سب کے بندے لگے ہوئے ہیں یہاں پر۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بچے کو بچایا گیا ہے اور اسے اسٹاف نے بچایا ہے۔ اس دوران سینیٹر شیری رحمان نے پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد پیش کردی۔ شیری رحمان نے ایوان میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ یہ کمیٹی تشکیل دیں۔ ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔

وزیراعظم کا اپنے فیصلوں پر عملدرآمد میں غفلت پر اظہار تشویش

2026-08-28

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزراتوں کی جانب اپنے فیصلوں پر عملدرآمد میں غفلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے41 وفاقی سیکریٹریوں ومحکموں کے سربراہان کو سنجیدگی سے عمل کی واضح ہدایات جاری کر دیں۔ وزیراعظم آفس نے یہ ہدایات ایک وفاقی وزارت کی وزیراعظم کے احکامات پر عملدرآمد کے حوالہ سے غفلت کی نشاندہی پر جاری کیں۔ ہے جس پر وزیر اعظم آفس نے ہدایات جاری کیں۔ مراسلے کے مطابق وزیر اعظم نے اپنے احکامات پر عمل درآمد میں متعلقہ وزارت کے غیر سنجیدہ رویئے پر تشویش کااظہار کیا، اس رویئے کے باعث عوامی مفاد کے اہم امور کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے فوری عملدرآمد یقینی اور گورننس موثر بنانے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی جب کمزور گورننس اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے گورننس سسٹم ناکام ہونے پر بحث زوروں پر ہے۔ وزیراعظم آفس نے کہا کہ ایک مخصوص وزارت اور اس کی متعلقہ محکموں کی غفلت وزیراعظم کے فیصلوں پر عمل درآمد میں غیر ضروری تاخیر کا باعث ہے، ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے ضروری بین الوزارتی تعاون کا بھی فقدان ہے، وزیراعظم نے اس تاخیر، ان کی ہدایات کے مقاصد، نتائج اور فالو اپ پر فوکس کی کمی کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جو ایک ذمہ دار، شفاف اور جوابدہ گورننس کے حکومتی وعدوں سے ہم آہنگ نہیں۔ مستقبل میں اس رویہ کی روک تھام کیلئے یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وزیراعظم کی پالیسی ہدایات پر بروقت عملدرآمد ، موثر فالو اپ کیساتھ پالیسی ہدایات کے مقاصد کا حصول یقینی بنایا جائے۔

پاک ایران تجارت جاری ہے، تہران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کے پابند نہیں، پاکستان

2026-08-27

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاک ایران تجارت جاری ہے۔ پاکستان تہران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ 31 اگست کو بشکیک میں ایس سی او سربراہ اجلاس ہو رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کریں گے، جہاں دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مغربی ایشیا میں کشیدگی میں کمی اور امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی قیادت نے کشیدگی میں کمی اور امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ دفتر خارجہ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے صدر ٹرمپ کے ایلچی کے طور پر دورہ تہران کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ کشیدگی میں کمی کی پاکستانی کی کوشش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قیام امن کی بات چیت کی بحالی کے لیے پرخلوص کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں نائب وزیراعظم کی ترک وزیر خارجہ سے 3 بار ٹیلیفونک بات ہوئی۔ نائب وزیراعظم کی لندن میں آئی ایم او کے سربراہ سے صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات ہوئی۔ لندن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ 19 اگست کو نائب وزیراعظم کی موریطانیہ کے وزیر خارجہ سے اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ نائب وزیراعظم اور یو این سیکریٹری جنرل کی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ نائب وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے کردار کے حوالے سے پاکستان کے بھرپور عزم کا اعادہ کیا۔ نائب وزیراعظم کی برازیل اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے بھی گفتگو ہوئی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ شام کے وزیر خارجہ نے 19 برس بعد پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان شام کی آزادی، علاقائی سلامتی اور خودمختاری کی حمایت کرتا ہے۔ 22 اگست کو 11 مسلم ممالک نے شام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔ فضائی اڈے پر اسرائیلی حملہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ مسلم ممالک نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کے حوالے سے مشترکہ مذمتی بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور فرانس کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورتی دور پیرس میں منعقد ہوا۔ پاکستان نے 17 اگست کو یو این کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ کی صدارت سنبھالی ہے۔ نیپال میں سیلابی ریلوں سے جانیں مالی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔ پاکستان نے عبوری افغان حکومت کے وزیر دفاع کی جانب سے دو طرفہ میکنزم کے قیام کی تجویز نوٹ کی ہے۔ افغان طالبان کو زبانی دعووں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان ریاستی سطح پر ادارہ جاتی میکنزم کے لیے تیار ہے۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ مکہ معاہدے کا مقصد علاقائی سلامتی ہے۔اجتماعی ذمہ داریوں اور سلامتی کے حوالے سے مشترکہ مقاصد والے ممالک کے لیے فورم کھلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سابق بھارتی سی ڈی ایف کے کیرانہ پہاڑوں کے حوالے سے دعووں کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ تاریخ حقائق سے بنتی ہے نہ کہ بالی ووڈ انداز کے بیانیے سے۔ لڑائی کے بعد جو مکا یاد آئے وہ اپنے ہی منہ پر مارنا چاہیے۔ پاکستان نے نئی دہلی میں اپنے ہائی کمیشن کے باہر توڑ پھوڑ پر ویانا کنونشن کے تحت احتجاج کیا ہے۔ اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں تجاوزات کے خلاف بلاتخصیص کارروائی کی گئی۔ دفتر خارجہ اسلام آباد میں تمام متعلقہ ممالک کے مشنز کے اجلاس میں تجاوزات کے خلاف کارروائی سے آگاہ کیا گیا۔ اسلام آباد میں ہونے والی کارروائی کو نئی دہلی میں بلانوٹس کارروائی سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کے دورے کو امریکا سے منسلک کرنے کی خبریں بےبنیاد ہیں۔ فیلڈ مارشل کا دورہ خالصتا ثالثی کوششوں کا حصہ تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ تجارت بین الاقوامی تجارت قوانین کے تابع ہے۔ پاک ایران تجارت جاری ہے اور پاکستان اسے فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ پاکستان ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کا پابند نہیں۔ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی کی پابندیاں عائد ہوں تو معاملہ دوسرا ہو گا۔ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرے سے باہر پابندیوں جیسے یکطرفہ اقدامات کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ آر ایس ایس ہمیشہ پاکستان مخالف اقدامات میں ملوث رہی۔ آر ایس ایس مسلمانوں کے خلاف تشدد اور پاکستان کیخلاف ریاستی سرپرستی میں نفرت پھیلانے میں ملوث ہے۔ موہن بھگوت کے دورہ امریکا پر تبصرہ نہیں کر سکتے، یہ امریکا اور بھارت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی ایف کا دورہ آبنائے ہرمز کھلوانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سب کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان پُرامید ہے لیکن حتمی فیصلہ تہران اور واشنگٹن کو کرنا ہے۔ سی ڈی ایف نے اپنے دورہ تہران میں پرخلوص کوشش کی ۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت میں امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے دورے پر اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو ڈیمارش کیا گیا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس کا معاملہ ایک وسیع البنیاد بحث کا حصہ ہے۔ توقع ہے افغان طالبان رجیم انسداد دہشتگردی کے حوالے سے ذمہ داری پوری کرے گا۔ طالبان رجیم کسی کے کہنے پر پاکستان کو فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے ذریعے غیر مستحکم کرے گا تو اسے پراکسی کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے میں بستیاں بسانے کا کوئی حق نہیں۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کو سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی غیرقانونی قرار دے چکی ہیں۔ مغربی کنارے میں آبادکاری کے حوالے سے اسرائیلی دعوے بےبنیاد ہیں۔

جسے شوق ہے وہ نئے صوبوں کی قرار داد اسمبلی میں لے آئے، وزیراعلیٰ سندھ

2026-08-27

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جسے شوق ہے وہ نئے صوبوں کی قرار داد اسمبلی میں لے آئے۔ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کورنگی میں افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پمز اسپتال کا واقعہ بہت دلخراش ہے۔ ہمارے انسٹی ٹیوٹس کو مزید بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کے سوال پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پر بات کریں گے کہ اس میں فائدے نقصانات کیا ہیں ۔ بلدیاتی نظام کو مضبوط ، کپسٹی بلڈنگ بنانا ہمارا مینفیسٹو ہے ۔ دوسرے صوبوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بلدیاتی اداروں کو مضبوط کریں۔ سندھ اسمبلی 6 بار پہلے بھی نئے صوبوں کی مخالفت کی قراد داد منظور کر چکی ہے۔ کل اسمبلی میں ہوسکتا ہے کہ نئے صوبوں کی مخالفت کی قرار داد منظور ہو۔ جس کو شوق ہے وہ قرار داد اسمبلی میں آئے۔ قبل ازیں انہوں نے پیٹس اسپتال کے آپریشن تھیٹر، وارڈز اور آئی سی یو کا دورہ کیا اور ڈائیگناسٹک بے، پوسٹ مارٹم ہال اور جدید لیبارٹریز کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پیٹس اسپتال کے مختلف شعبوں، وارڈز، ریکوری وارڈ، ایکسرے اور دیگر سہولیات کا جائزہ کیا جب کہ وزیراعلیٰ سندھ کو سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں نئی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں جدید سہولیات کا قیام اہم پیش رفت ہے۔ نئی سہولیات سے جانوروں کی صحت، تحقیق اور بیماریوں کی نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔ لائیو اسٹاک سندھ کی معیشت کا اہم ستون اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ لائیو اسٹاک کا شعبہ غذائی تحفظ، روزگار اور دیہی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند مویشی، بہتر پیداوار اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہماری بنیادی ترجیحات ہیں۔ حکومت سندھ جانوروں کی صحت اور ویٹرنری خدمات کے فروغ پر مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ جدید پیٹ اسپتال میں علاج، سرجری، انتہائی نگہداشت اور تشخیص کی جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ پیٹ اسپتال میں پالتو جانوروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق طبی سہولیات میسر ہوں گی۔ نئے تشخیصی و تحقیقی کمپلیکس میں ڈیری، اینالیٹیکل اور پیراسائٹولوجی لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔ جدید لیبارٹریز سے جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص، نگرانی اور روک تھام میں مدد ملے گی۔ مؤثر تشخیصی نظام سے دودھ اور گوشت کے معیار اور فوڈ سیفٹی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جدید انفرااسٹرکچر کے ساتھ ویٹرنری ماہرین اور محققین کی نئی نسل تیار کرنا بھی ہماری ترجیح ہے۔ اکیڈمک بلاک سے ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع مزید بڑھیں گے۔ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کو ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور تشخیص کا مرکز بنایا جائے گا۔ تشخیصی لیبارٹریز کو مزید جدید اور ویکسین کی تیاری کی صلاحیت کو مزید مستحکم کریں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موبائل ویٹرنری سروسز اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں تک سہولیات پہنچائی جائیں گی۔ تحقیق کو ہاریوں کے عملی مسائل اور ضروریات کے حل سے براہِ راست جوڑا جائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ لائیو اسٹاک کے جدید اور پائیدار طریقوں کو فروغ دیا جائے گا۔ سندھ کی مقامی اور قیمتی مویشی نسلوں کا تحفظ ہماری زرعی ترجیحات میں شامل ہے۔ مضبوط لائیو اسٹاک شعبہ، مستحکم دیہی معیشت اور خوشحال سندھ ہمارا عزم ہے۔ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کو ملک کے لیے ایک مثالی ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی عالمی مارکیٹ سے قرض لینے کی تیاری؛ وزیر خزانہ نے منصوبہ بتادیا

2026-08-25

اسلام آباد: پاکستان عالمی مارکیٹ سے قرض لینے کی تیاری کررہا ہے، جس کے لیے وزیر خزانہ نے منصوبے کی تفصیلات بتائی ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دوطرفہ قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے قرض لینے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ امریکا سے 10 ارب ڈالر کی سوئپ لائن نجی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا اشارہ ہے۔ واشنگٹن سے 10 ارب ڈالر کی سوئپ لائن پر تعمیری پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان کو آئندہ چند ماہ میں اس پر جواب ملنے کی امید ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ مرکوز ہے۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈی ایف سی کا پاکستان میں اہم کردار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی معیشت کو امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان رواں مالی سال ایک سے 2 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرنے پر غور کررہا ہے۔ پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں یورو بانڈز اور سکوک جاری کرنے کے لیے بینکوں کے کنسورشیم مقرر کردیے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان 75 کروڑ ڈالر کے چینی یوان بانڈز یعنی پانڈا بانڈز کے اجرا کی بھی تیاری کررہا ہے۔ پاکستان کی برآمدات بڑھانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ جون تک ایک سال میں بڑھ کر 39.5 ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ چین پاکستان کے 129.7 ارب ڈالر کے مجموعی غیر ملکی قرض میں 23 فیصد کا بڑا قرض خواہ ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان فی الحال چین سے مزید فنانسنگ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کررہا۔ انہوں نے کہا کہ ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر بی کردی ہے، جبکہ پاکستان آئندہ 12 ماہ میں بی پلس ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا ہدف پاکستان کی ریٹنگ کو ڈبل بی تک لے جانا ہے۔

فیلڈ مارشل اور ایرانی صدر کے درمیان انتہائی مثبت ملاقات ہوئی، وزیر داخلہ

2026-08-25

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل اور ایرانی صدر کے درمیان انتہائی مثبت ملاقات ہوئی ہے۔ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور ایرانی صدر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں ایران امریکا تنازع سمیت مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی غور کیا گیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی صدر کے درمیان ملاقات انتہائی مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی۔ دونوں جانب سے ایران امریکا تنازع کے حل، آئندہ کے لائحہ عمل اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر اہم مشاورت کی گئی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ ملاقات کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس حوالے سے امید ظاہر کی گئی کہ اسلام آباد ایم او یو کی بحالی تنازع کے جامع حل کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر نے ملاقات کے دوران اپنی حکومت کا مؤقف اور تحفظات کھل کر بیان کیے، جس پر مثبت اور تعمیری تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر پیش رفت بھی سامنے آئی، جبکہ باہمی رابطوں اور مشاورت کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔ ملاقات کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بات چیت انتہائی مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی ، جس سے خطے میں پائیدار امن کے لیے امید پیدا ہوئی ہے۔ ایران امریکا تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی اہم پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے خطے کے موجودہ حالات میں سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل اور امن کے فروغ کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر بھی توجہ دی۔

زخمیوں کی فوری طبی امداد؛ نجی اسپتال کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی

2026-08-24

کراچی: سندھ میں زخمی افراد کو فوری طبی امداد کی فراہمی سے متعلق قانون کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سندھ انجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ ایکٹ سے متعلق آگاہی مہم سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اور راہِ عمل ٹرسٹ کے اشتراک سے شروع کی گئی ہے، جس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نجی اسپتال میں علاج مہنگا ہونے کی صورت میں حکومت اخراجات برداشت کرے گی، جبکہ گن شاٹ یا جلنے کے زخمی مریض کو نجی اسپتال پہنچنے پر فوری طبی امداد دی جائے۔ عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ نجی اسپتال میں علاج کی استطاعت نہ رکھنے والے مریض کو طبی امداد دینے کے بعد سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکو لیگل ایکٹ اور قانون سے پولیس کو بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر صحت سندھ نے کہا کہ حادثات میں لوگ زخمیوں کی مدد سے اس خوف کے باعث گریز کرتے ہیں کہ پولیس انہیں نہ پکڑ لے۔ پولیس اور عوام میں آگاہی پیدا کرکے حادثات میں زخمیوں کی مدد کرنے کا خوف دور کرنا ہے۔ عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ زخمی افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے سروسز اسپتال کے حوالے سے کہا کہ سروسز اسپتال بند نہیں ہورہا بلکہ اسے کے ایم سی اسپتال میں شفٹ کیا جارہا ہے۔ وزیر صحت سندھ نے کہا کہ سروسز اسپتال میں جو ڈاکٹرز ہوتے ہیں وہ کام نہیں کرنا چاہتے۔ وہ وہاں بیٹھنا چاہتے ہیں جہاں او پی ڈی چل رہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو 3 کمروں سے زیادہ کیا ضرورت ہے۔

عمران خان کا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں کا بھی عدالت سے رجوع

2026-08-24

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں نے بھی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ حکام کو نوٹس کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کرلیے۔ جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی۔ بیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکار ہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے، دو ماہ میں 10 مرتبہ اسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا، اس مسلہ کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء اسپتال میں ہی ممکن ہے۔ بیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اگر بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ فیصلے نے واضع کر دیا کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں، سپریم کورٹ فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے استدعا ہے کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری اسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیویٹ اسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیے کہ درخواست گزار اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے، مناسب علاج معالجہ کروانا قیدی کا بنیادی حق ہے، سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہیں لہٰذا شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔ تیسرے قیدی کے وکیل نے دلائل دیے کہ درخواست گزار محمد اسماعیل 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے، ایک بھائی دبئی ہوتا ہے لیکن سالوں سے رابطہ نہیں ہے، جیل حکام کو حکم دیا جائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کروائی جائے۔ عدالت نے تینوں کیسز میں جیل حکام کو جواب کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔

پولیس اہلکاروں کے ٹارگٹ کلر سے روابط کا انکشاف، اہم شواہد سامنے آگئے

2026-08-24

لاہور: پولیس اہل کاروں کے ٹارگٹ کلرز سے روابط کا انکشاف ہوا ہے، اس حوالے سے تفتیش میں اہم شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس کی ٹارگٹ کلنگ اور ٹارگٹ کلرز سے روابط کے الزام کی تحقیقات کے دوران زیر حراست 2 پولیس اہلکاروں سے تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اہلکار اسٹریٹ کرائم میں مرکزی ٹارگٹ کلر ریحان کی پشت پناہی کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق ٹارگٹ کلر ریحان میٹرو بس میں موبائل چوری اور اسنیچنگ کی وارداتیں کرتا تھا۔ زیر حراست پولیس اہلکار اپنے یونٹس میں موجود اثر و رسوخ اور تعلقات استعمال کرکے ریحان کی مدد کرتے رہے۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ پولیس اہلکار ٹارگٹ کلر ریحان کی ضمانت پر رہائی اور اس کا ریکارڈ ختم کروانے میں مدد کرتے تھے۔ زیر حراست ایک اے ایس آئی کریمنل ریکارڈ برانچ میں جبکہ کانسٹیبل لوئر مال انویسٹی گیشن ونگ میں تعینات تھا۔ پولیس کے مطابق زیر حراست دونوں اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے ہیں، جبکہ ان کے موبائل فونز کا فرانزک بھی جاری ہے۔

عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی؛ خواجہ آصف کا سخت مؤقف سامنے آ گیا

2026-08-20

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کو علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے دیگر قیدیوں انہوں نے زور دیا کہ انصاف کے تقاضے سب کے لیے برابر ہونے چاہییں، کسی ایک فرد کو خصوصی سہولت نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ہمیشہ سرکاری اسپتالوں میں ہی علاج کروایا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نواز شریف کے آپریشن کے دوران پی ٹی آئی کے ایک حامی ڈاکٹر کو موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں حکومت کا مؤقف شامل کرنے کی قانونی گنجائش ہوئی تو حکومت اسے ہر صورت رجسٹرڈ کروائے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی دورِ حکومت کے تلخ رویوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کے ساتھ جو زبان استعمال کی گئی وہ سب کے سامنے ہے۔