ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے

2026-04-15
سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آئیں لیکن انہوں نے اسلام آباد آنے کے لیے ایک شرط بھی رکھی ہے۔ حامد میر نے کہا کہ میرے پاس یکم اپریل کو ہی یہ خبر آ گئی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات پاکستان میں ہونے جا رہے ہیں لیکن معاملے کی حساسیت کے باعث یہ مسئلہ پیش آ رہا تھا کہ خبر چلائیں تو کیسے چلائیں کیونکہ اگر ہم یہ خبر اس وقت بریک کر دیتے تو ایک طوفان برپا ہو جاتا اور پھر ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والے عوامل سرگرم ہو جاتے۔ حامد میر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں ہونے کی خبر بھی ہمارے پاس موجود تھی لیکن ہمیں کہا گیا کہ اگر آپ نے یہ خبر چلائی تو اس کی ناصرف امریکا اور ایران کی جانب سے تردید آ جائے گی بلکہ پاکستان بھی اس کی تردید کر دے گا، پھر جیو کی انتظامیہ کے ساتھ طویل سوچ بچار کے بعد آخر کار ہم نے یہ خبر بریک کر دی اور اب تو امریکا کے صدر نے بھی خود کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور بھی پاکستان میں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امریکی صدر کی بات پر زیادہ اعتبار نہیں ہے، مذاکرات کے دوران کسی بھی مرحلے پر ٹرننگ پوائنٹ آ سکتا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مرحلے کو تاخیر کا باعث بنا سکتے ہیں۔ سینئر تجزیہ کار نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں سوائے ایک چیز کے تقریباً تمام نکات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا، ایک چیز جس پر ایران نے کہا تھا کہ ہم نے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا اور کوئی لچک نہیں دکھانی، ایران نے کہا کہ ہم لبنان میں سیز فائرتک امریکا کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خود پاکستان آنے کی خبروں سے متعلق سوال پر حامد میر نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ خواہش ضرور ہے اور یہ بات ہم تک چینی سفارتی ذرائع سے پہنچی ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جو بات چیت چل رہی ہے اس میں بہت سے بین الاقوامی معاہدے بھی شامل ہیں اور بین الاقوامی ماہرین ان معاہدوں کو سامنے رکھ کر معاہدوں کا ڈرافٹ تیار کرتے ہیں، اور ایسے بہت سے ماہرین امریکا، ایران اور دیگر اسٹیک ہولرز کی طرف سے پاکستان میں موجود ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے علاوہ ایک اور چھکا مارنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور وہ شمالی کوریا کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے 14 مئی کو چین جانا ہے۔ ان کا کہنا تھا چینی سفارتی ذرائع سے ہی ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چین نے امریکی صدر سے کہا ہے کہ آپ نے دورہ چین سے قبل ایران کے ساتھ معاملہ نمٹانا ہے، تو اس لحاظ سے ان کے پاس اپریل کا مہینہ ہے، تو اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے پا جاتے ہیں تو پھر چین، امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بھی کسی ڈیل کی کوشش کر سکتا ہے۔ سینئر صحافی کا کہنا ہے ایران کے مطالبے پر نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی اور امریکی ذرائع سے جو بات ہم تک پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بڑے حیران ہوئے کہ ایران نے یورینیم نہ رکھنے پر رضامندی ظاہر کی جس پر جے ڈی وینس نے کہا جی وہ راضی ہیں، ٹرمپ نے کہا ایران آبنائے ہرمز پر بھی لچک دکھانے کے لیے تیار ہے تو اس پر نائب صدر نے کہا جی اس پر بھی ایران تیار ہے۔ حامیر میر کا کہنا تھا لبنان والا معاملہ بہت حساس ہے اور کسی کو اچھا لگے یا برا لگے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت امریکا کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہیں نیتین یاہو ہے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ اپنے ایکشن کے ساتھ ثابت کریں کہ وہی امریکا کے صدر ہیں اور وہ نیتین یاہو سے ڈکٹیشن نہیں لیتے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے تو بہت کھل کر کہا ہے کہ امریکی مجھے اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے رپورٹ کر رہے تھے، اور واشنگٹن میں جو لبنان کے حوالے سے مذاکرات ہو رہے ہیں انہیں حزب اللہ نے مسترد کر دیا ہے جبکہ لبنان حکومت میں حزب اللہ کے پاس دو وزارتیں موجود ہیں اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ لبنان میں مسلکی اختلافات پیدا کیے جائیں اور یہ تاثر دیا جائے کہ ہم حزب اللہ کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں، اس لیے اس معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو کوئی ایکشن لینا ہوگا اور انہیں نیتن یاہو کو بتانا ہوگا کہ میں آپ سے ڈکٹیشن لینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
اس بار جے ڈی وینس کی جگہ ٹرمپ
2026-04-15
پاکستان اور عالمی سفارتی حلقوں میں اس وقت سب سے بڑی خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ آمد ہے، جس کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید اور سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے کامیاب ہونے کی قوی امید ظاہر کی ہے۔ نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے ایک بڑا انکشاف کیا کہ اگر یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں، تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے پر دستخط کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کو موقع نہیں دیں گے بلکہ وہ خود اسلام آباد آئیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس تاریخی کامیابی کی صورت میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی بھی پاکستان آمد متوقع ہے، جس کے بعد اسلام آباد عالمی امن کا مرکز بن جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان خبروں کو تقویت دیتے ہوئے امریکی اخبار ‘نیویارک پوسٹ’ کے رپورٹر سے گفتگو میں کہا کہ “ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں”۔ ٹرمپ نے پاکستان کو مذاکرات کے لیے ترجیحی مقام قرار دیتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کی بھرپور تعریف کی اور کہا کہ وہاں “فیلڈ مارشل بہترین کام کر رہے ہیں”۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد اگلے دو روز سفارتی لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
ویٹو یا تو ختم کیا جائے
2026-04-15
پاکستان نے کہا ہے کہ ویٹو یا تو ختم کیا جائے یا اس کے استعمال کو محدود کیا جائے۔ پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ویٹو کے معاملے پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں اہم معاملات پر عدم کارروائی ویٹو کے غلط یا بے جا استعمال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ ویٹو کو یا تو ختم کیا جائے یا اس کے استعمال کو محدود کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویٹو میں کسی بھی قسم کی توسیع یا نئے مستقل ارکان کا اضافہ قابل قبول نہیں۔ عاصم افتخار احمد نے ویٹو کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس طاقت کے توازن کیلئے سلامتی کونسل کے منتخب ارکان کی تعداد میں اضافہ ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منتخب ارکان کی تعداد بڑھنے سے مستقل ارکان کا اثر و رسوخ کم ہوگا اور عالمی نمائندگی بہتر بنائی جا سکے گی۔ پاکستانی مندوب کے مطابق سلامتی کونسل کی اصلاحات جامع ہونی چاہئیں اور ویٹو کا مسئلہ بھی اس عمل کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
موسم گرما کی چھٹیاں کب
2026-04-15
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور نصاب کی بروقت تکمیل کے لیے تعلیمی کلینڈر میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے۔ ان تجاویز کا بنیادی مقصد تعلیمی سال کے دوران تدریسی دنوں کی تعداد کو بڑھا کر کم از کم 180 سے 190 دن تک لانا ہے تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ وزیر تعلیم کے مطابق، اس وقت تعلیمی سال میں چھٹیوں کی بھرمار کی وجہ سے اصل تدریسی وقت بہت کم رہ جاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے موسم گرما کی چھٹیوں میں 15 سے 20 دن اور موسم سرما کی چھٹیوں میں 5 سے 6 دن کی کمی کی تجویز زیرِ غور ہے۔ اس کے علاوہ، تعلیمی سیشن کو منظم کرنے کے لیے ہر دوسرے ہفتے (Alternate Saturday) کو اسکول کھولنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ میٹرک اور او/اے لیولز کے طلبہ کے لیے الگ الگ تعلیمی کلینڈرز تیار کیے جائیں گے تاکہ بین الاقوامی امتحانات کے شیڈول کے مطابق پڑھائی مکمل کی جا سکے۔ یاد رہے کہ مارچ 2026 میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایندھن کے بحران کی وجہ سے اسکولوں میں طویل بندش رہی تھی، جس کے بعد اب حکومت تدریسی عمل کو تیز کرنے کے لیے یہ اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم آج سعودی عرب،
2026-04-15
وزیراعظم شہباز شریف آج سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے سعودی عرب اور قطر کے دورے دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن اور سلامتی پر مرکوز ہوں گے، جہاں وہ اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ دورہ ترکیہ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے اور عالمی رہنماؤں کے ہمراہ لیڈرز پینل میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ اس موقع پر ان کی طیب اردوان سمیت دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ فورم میں پاکستان کی شرکت تعمیری سفارتکاری اور عالمی تعاون کے عزم کا اظہار ہے۔ وزیراعظم کے ہمراہ اسحاق ڈار، عطاء اللہ تارڑ اور طارق فاطمی بھی ہوں گے۔
بلدیاتی انتخابات کیلئے مزید
2026-04-15
الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لیے 180 دن کی مہلت دینے کا خیبر پختونخوا حکومت کا مطالبہ مسترد کردیا۔ صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات سے قبل نئی قانون سازی، موسمی و انتظامی چیلنج اور امن وامان کے پیش نظر وقت مانگا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لیے 180 دن کی مہلت دینے کا خیبر پختونخوا حکومت کا مطالبہ مسترد کردیا۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ حلقہ بندیوں کے لیے صوبائی حکومت کی مشاورت لازمی نہیں، موسم اور سکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر عمل میں تاخیر قابل قبول نہیں، صوبائی حکومت کا مؤقف غیر تسلی بخش ہے۔
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے
2026-04-15
سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آئیں لیکن انہوں نے اسلام آباد آنے کے لیے ایک شرط بھی رکھی ہے۔ حامد میر نے کہا کہ میرے پاس یکم اپریل کو ہی یہ خبر آ گئی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات پاکستان میں ہونے جا رہے ہیں لیکن معاملے کی حساسیت کے باعث یہ مسئلہ پیش آ رہا تھا کہ خبر چلائیں تو کیسے چلائیں کیونکہ اگر ہم یہ خبر اس وقت بریک کر دیتے تو ایک طوفان برپا ہو جاتا اور پھر ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والے عوامل سرگرم ہو جاتے۔ حامد میر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں ہونے کی خبر بھی ہمارے پاس موجود تھی لیکن ہمیں کہا گیا کہ اگر آپ نے یہ خبر چلائی تو اس کی ناصرف امریکا اور ایران کی جانب سے تردید آ جائے گی بلکہ پاکستان بھی اس کی تردید کر دے گا، پھر جیو کی انتظامیہ کے ساتھ طویل سوچ بچار کے بعد آخر کار ہم نے یہ خبر بریک کر دی اور اب تو امریکا کے صدر نے بھی خود کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور بھی پاکستان میں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امریکی صدر کی بات پر زیادہ اعتبار نہیں ہے، مذاکرات کے دوران کسی بھی مرحلے پر ٹرننگ پوائنٹ آ سکتا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مرحلے کو تاخیر کا باعث بنا سکتے ہیں۔ سینئر تجزیہ کار نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں سوائے ایک چیز کے تقریباً تمام نکات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا، ایک چیز جس پر ایران نے کہا تھا کہ ہم نے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا اور کوئی لچک نہیں دکھانی، ایران نے کہا کہ ہم لبنان میں سیز فائرتک امریکا کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خود پاکستان آنے کی خبروں سے متعلق سوال پر حامد میر نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ خواہش ضرور ہے اور یہ بات ہم تک چینی سفارتی ذرائع سے پہنچی ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جو بات چیت چل رہی ہے اس میں بہت سے بین الاقوامی معاہدے بھی شامل ہیں اور بین الاقوامی ماہرین ان معاہدوں کو سامنے رکھ کر معاہدوں کا ڈرافٹ تیار کرتے ہیں، اور ایسے بہت سے ماہرین امریکا، ایران اور دیگر اسٹیک ہولرز کی طرف سے پاکستان میں موجود ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے علاوہ ایک اور چھکا مارنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور وہ شمالی کوریا کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے 14 مئی کو چین جانا ہے۔ ان کا کہنا تھا چینی سفارتی ذرائع سے ہی ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چین نے امریکی صدر سے کہا ہے کہ آپ نے دورہ چین سے قبل ایران کے ساتھ معاملہ نمٹانا ہے، تو اس لحاظ سے ان کے پاس اپریل کا مہینہ ہے، تو اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے پا جاتے ہیں تو پھر چین، امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بھی کسی ڈیل کی کوشش کر سکتا ہے۔ سینئر صحافی کا کہنا ہے ایران کے مطالبے پر نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی اور امریکی ذرائع سے جو بات ہم تک پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بڑے حیران ہوئے کہ ایران نے یورینیم نہ رکھنے پر رضامندی ظاہر کی جس پر جے ڈی وینس نے کہا جی وہ راضی ہیں، ٹرمپ نے کہا ایران آبنائے ہرمز پر بھی لچک دکھانے کے لیے تیار ہے تو اس پر نائب صدر نے کہا جی اس پر بھی ایران تیار ہے۔ حامیر میر کا کہنا تھا لبنان والا معاملہ بہت حساس ہے اور کسی کو اچھا لگے یا برا لگے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت امریکا کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہیں نیتین یاہو ہے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ اپنے ایکشن کے ساتھ ثابت کریں کہ وہی امریکا کے صدر ہیں اور وہ نیتین یاہو سے ڈکٹیشن نہیں لیتے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے تو بہت کھل کر کہا ہے کہ امریکی مجھے اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے رپورٹ کر رہے تھے، اور واشنگٹن میں جو لبنان کے حوالے سے مذاکرات ہو رہے ہیں انہیں حزب اللہ نے مسترد کر دیا ہے جبکہ لبنان حکومت میں حزب اللہ کے پاس دو وزارتیں موجود ہیں اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ لبنان میں مسلکی اختلافات پیدا کیے جائیں اور یہ تاثر دیا جائے کہ ہم حزب اللہ کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں، اس لیے اس معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو کوئی ایکشن لینا ہوگا اور انہیں نیتن یاہو کو بتانا ہوگا کہ میں آپ سے ڈکٹیشن لینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کسانوں
2026-04-15
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گندم کے کاشتکاروں کیلئے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے 6 ارب روپے مالیت کا باردانہ مفت فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے گندم کی خریداری 3500 روپے فی من کے حساب سے فوری شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی، اعلامیے کے مطابق رجسٹرڈ کاشتکاروں کو پرچیز سنٹرز سے فی ایکڑ 10 بوری باردانہ فراہم کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے کسان کارڈ ہولڈرز سے ترجیحی بنیادوں پر گندم خریدنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جبکہ 3500 روپے فی من کے نرخ پر خریدی گئی گندم کی ادائیگی 72 گھنٹوں کے اندر کاشتکاروں کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ گندم خریداری کے عمل کی نگرانی کیلئے صوبے میں اسٹرٹیجک مینجمنٹ کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں، اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے ورک ود پنجاب گورنمنٹ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت ایگریکلچر گریجویٹس سمیت دیگر افراد کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں کسان کارڈ کے ذریعے 100 ارب روپے کے قرضوں کے اجرا کا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے جبکہ 9 لاکھ کاشتکاروں کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت 30 ہزار ٹریکٹرز دینے کا ہدف رکھا گیا ہے، جن میں سے 20 ہزار کاشتکاروں کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ کسان کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا اور صوبے میں زرعی ترقی کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔
کوئٹہ: لوکل کونسلز کی نئی
2026-04-15
کوئٹہ: ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کوئٹہ نے لوکل کونسلز کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرستیں جاری کر دیں۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق حلقہ بندیوں پر اعتراضات 15 اپریل سے 29 اپریل تک جمع کرائے جا سکیں گے۔ جبکہ یہ اعتراضات ریجنل الیکشن کمشنر کوئٹہ ڈویژن کے دفتر میں دائر کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق حلقہ بندی اتھارٹی 14 مئی تک موصول ہونے والے اعتراضات پر فیصلے کرے گی۔ جبکہ حتمی فہرستوں کی اشاعت 21 مئی 2026 کو کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے اعتراضات متعلقہ اتھارٹی کو جمع کرائیں۔
حکومت کا شام 5سے رات 1 بجے
2026-04-15
وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے بجلی کے صارفین کے لیے ریلیف اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق جولائی سے فروری کے دوران بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود موثر حکمت عملی سے بجلی کی قیمت میں 71 پیسے فی یونٹ کمی آئی ہے۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ کم لاگت والے ذرائع کو بروئے کار لا کر بجلی کی پیداواری صلاحیت کا مؤثر استعمال کیا گیا ہے، تاہم حکومت کو “پیک آورز” (Peak Hours) میں کھپت میں اضافے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اگر پیک آورز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے ایندھن پر انحصار کیا گیا تو قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، اسی لیے شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان روزانہ سوا 2 گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ (بجلی کی بندش) کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی خصوصی مانیٹرنگ اور ہدایت پر بجلی کی قیمت میں ممکنہ 80 پیسے فی یونٹ اضافے اور مزید لوڈ مینجمنٹ کو روک دیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ اگر کمرشل مارکیٹیں بروقت بند کی جائیں تو بجلی کی طلب میں کمی لا کر عوام کو مزید ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
ایران نے مذاکرات کیلئے
2026-04-15
اسلام آباد: ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہوا تو پاکستان ان کی اولین ترجیح ہو گا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایک اور مرحلے کے مذاکرات جلد اسلام آباد میں ہونے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم دوسری جانب کی صورتحال واضح نہیں۔ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہوا تو پاکستان ہی ہمارے ترجیح ہو گی۔ غیر ملکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے وفود رواں ہفتے دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں۔ تاکہ امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بھی اس امکان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور اسی ہفتے یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔ دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔ جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اہم مذاکرات جمعرات کو اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔
