پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی

2026-04-02
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) محض ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اور عوامی تحریک ہے جس نے ملک کے مرکز یعنی پنجاب کی روح کو ایک نیا شعور عطا کیا تھا۔ جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار پنجاب کے میدانوں میں قدم رکھا تو انہوں نے محض ووٹ حاصل نہیں کیے، بلکہ بے سہارا اور پسے ہوئے طبقات میں انقلاب کی وہ شمع روشن کی جس نے دہائیوں تک ملکی سیاست کا رخ متعین کیا۔ لیکن 2026 کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج یہی صوبہ، بالخصوص وسطی پنجاب، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری کشمکش میں ایک خاموش تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی کے پاس ایک سنجیدہ اور عوامی متبادل کے طور پر ابھرنے کا بہترین موقع موجود تھا، لیکن وسطی پنجاب کی موجودہ قیادت کی فکری پسماندگی اور عوام سے مکمل کٹ جانے کی وجہ سے یہ موقع ضائع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے زوال کی جڑیں صرف بیرونی سیاسی تبدیلیوں میں نہیں، بلکہ اس کے اپنے تنظیمی ڈھانچے میں لگنے والے اس گھن میں چھپی ہیں جسے "ڈرائنگ روم سیاست" کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ماضی میں پارٹی کے گراف گرنے کے اسباب پر بحث کی گئی، پیپلز پارٹی نے اپنی "اسٹریٹ پاور" کو "صوفہ پاور" میں تبدیل کر دیا ہے۔ وسطی پنجاب کے موجودہ صدر اور جنرل سیکرٹری کی کارکردگی آج ہر اس وفادار جیالے کے لیے ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے جس نے آمریت کے دور میں کوڑے کھائے۔ بجائے اس کے کہ پارٹی کو ایک جدید اور متحرک سیاسی مشین بنایا جاتا جو پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل بیانیے اور ن لیگ کے مفاداتی نیٹ ورک کا مقابلہ کر سکتی، ان عہدیداروں نے خود کو ایک مخصوص حلقہ احباب تک محدود کر لیا ہے۔ جب تک پارٹی کے ڈھانچے کی اوپر سے نیچے تک مکمل سرجری نہیں کی جاتی اور ان غیر فعال چہروں کو ہٹا کر عوامی نبض پر ہاتھ رکھنے والے لیڈر سامنے نہیں لائے جاتے، کارکن کا حوصلہ بحال کرنا ناممکن ہے۔ ایک ایسا جنرل سیکرٹری جو اپنے ضلعی صدور کے لیے بھی ناقابلِ رسائی ہو، وہ تنظیم کا سرتاج نہیں بلکہ اس کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس تنظیمی مفلوج زدہ صورتحال نے پنجاب کے ووٹروں کے درمیان ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس نے پارٹی کے خلاف بیگانگی کو جنم دیا۔ جب پنجاب کا کسان گندم کے بحران اور مہنگی کھادوں کی وجہ سے سڑکوں پر رل رہا تھا، تو وسطی پنجاب کی یہ قیادت کہاں تھی؟ جب بجلی کے کمر توڑ بلوں نے غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتخاب مشکل بنا دیا تھا، تو پیپلز پارٹی کے یہ عہدیدار کس گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے؟ عوامی دکھوں کے ان لمحات میں ان کی "پراسرار خاموشی" کو عوام نے مفاہمت یا بے حسی سے تعبیر کیا ہے۔ پنجاب کی سیاست "موجودگی" کا نام ہے، اور اپنی عدم موجودگی سے اس قیادت نے یہ پیغام دیا ہے کہ شاید پیپلز پارٹی اب پنجاب میں اقتدار کی جنگ لڑنے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور لاہور جیسے بڑے صنعتی و سیاسی مراکز میں پیپلز پارٹی صرف لیٹر پیڈز تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ پارٹی کو درپیش ایک اور مہلک مرض "پیراشوٹرز" اور مبینہ طور پر الیکٹ ایبلز پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ دولت کے بل بوتے پر ٹکٹ حاصل کرنے والے یہ لوگ پہلے مشکل مرحلے پر پارٹی کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس وہ نظریہ ہی نہیں ہوتا جو جیالے کا خاصہ ہے۔ وسطی پنجاب کی موجودہ قیادت نے ان موسمی پرندوں کو ان نظریاتی کارکنوں پر ترجیح دی جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پارٹی کا پرچم تھامے رکھا۔ جیالے کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی نے پارٹی کی نچلی سطح پر بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اب خود مداخلت کر کے اس دائرے کو توڑنا ہوگا۔ پنجاب کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو 90 کی دہائی کے فرسودہ چہروں یا ان لیڈروں سے متاثر نہیں ہو سکتے جو عوامی دھول کے بجائے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر سیاست کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ نوجوانوں کو آج ایک جدید ڈیجیٹل وژن کی ضرورت ہے، جسے "بلاول یوتھ کارڈ" کے ذریعے عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس میں ٹیک ہبز، میرٹ پر مبنی ملازمتیں اور سوشل سیفٹی نیٹ کا وعدہ ہونا چاہیے، لیکن یہ پیغام موجودہ فرسودہ ڈھانچے کے ذریعے عوام تک نہیں پہنچ سکتا۔ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) اور پیپلز یوتھ آرگنائزیشن (PYO) کو یونیورسٹیوں کی سطح پر دوبارہ زندہ کرنا اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے تاکہ نوجوان نسل کو بھٹو کے فلسفے سے دوبارہ جوڑا جا سکے۔ اسی طرح پنجاب کی معیشت کی شہ رگ یعنی کسان کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ صرف پیپلز پارٹی ہی اسے مڈل مین کے استحصال سے بچا سکتی ہے۔ سندھ میں زرعی اصلاحات اور کسانوں کو زمینوں کی تقسیم کا جو کامیاب ماڈل اپنایا گیا، اسے پنجاب کے ہر ضلع میں ایک برانڈ کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ یہاں کی قیادت اس کامیابی کو زبان دینے میں بھی ناکام رہی۔ سوشل میڈیا اور بیانیے کی اس جدید جنگ میں پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ایک ایسی پیشہ ور ٹیم کی ضرورت ہے جو "بھٹو ازم" کو پنجاب کی مقامی ثقافت اور زبان میں ڈھال کر گھر گھر پہنچا سکے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جدید قیادت اور صدر آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت پارٹی کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، لیکن وسطی پنجاب کی قیادت ان اثاثوں کو عوامی طاقت میں بدلنے کے بجائے ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ہمیں اب "ڈرائنگ روم سیاست دانوں" کی نہیں بلکہ "وار ٹائم آرگنائزرز" کی ضرورت ہے جو اضلاع کے دورے کریں اور کارکنوں کے درمیان رہ کر تنظیم سازی کریں۔ صنعتی شہروں جیسے فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں مزدوروں کے لیے "لیبر کارڈز" کا اجراء پیپلز پارٹی کے روایتی ووٹ بینک کو دوبارہ فعال کر سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مصلحتوں کے لبادے اتار پھینکے جائیں۔ اگر پیپلز پارٹی دوبارہ لاہور کے تخت کی دعویدار بننا چاہتی ہے تو اسے پہلے اپنے گھر کی صفائی کرنی ہوگی۔ موجودہ غیر فعال قیادت کو ہٹا کر مخلص اور نظریاتی کارکنوں کو آگے لانا ہی واحد راستہ ہے۔ کارکن تیار ہے، نظریہ زندہ ہے، مگر قیادت اور عوام کے درمیان کا پل ٹوٹ چکا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو چاہیے کہ وہ روایتی بیوروکریٹک سیاست دانوں کو بائی پاس کر کے براہ راست کارکنوں سے "ورکرز کنونشنز" کے ذریعے رابطہ کریں۔ پنجاب کے وقار کی بحالی کے لیے مشکل اور دلیرانہ فیصلے ناگزیر ہیں۔ "تیر" کے نشان کو دوبارہ فتح کی علامت بنانے کے لیے ان عناصر سے چھٹکارا پانا ہوگا جنہوں نے پارٹی کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور پنجاب کا سیاسی خلا کسی کا انتظار نہیں کرے گا؛ اب نہیں تو کبھی نہیں۔
مودی کو آسٹریلیا کے دورے پر جان سے مارنے کی دھمکی
2026-07-06
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مودی کو آسٹریلیا کے دورے کے دوران میلبرن کے مارول اسٹیڈیم میں 9 جولائی 2026کو ہونے والی کمیونٹی تقریب کے دوران جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ دھمکی مارول اسٹیڈیم کے فیس بک ایونٹ پیج پر ایک صارف ابو مصطفیٰ کی جانب سے پوسٹ کی گئی ہے۔ اس دھمکی کے بعد آسٹریلیا میں سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب آسٹریلوی حکام نے دھمکی کو پوری طرح سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات اور حفاظتی اقدامات کا آغازکردیا ہے
بھارت: شوہر نے گرل فرینڈ کے ساتھ
2026-07-06
بھارت میں شوہر نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ مل کر نئی نویلی دلہن کو جان سے مار دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست ہریانہ کے ضلع گروگرا کے علاقے مانیسر میں پیش آیا، جہاں 25 سالہ شوہر انکیت نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو گولی مار دی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب لڑکی کی والدہ نے 22 مئی کو پولیس اسٹیشن میں بیٹی کے شوہر اور سسرال والوں کیخلاف شکایت درج کروائی۔ خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ بیٹی کی شادی رواں سال فروری میں انکیت سے ہوئی تھی، بیٹی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جس پر کوئی جواب نہیں ملا، پھر سسرال والوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ پولیس کے مطابق دوران تفتیش معلوم ہوا کہ انکیت نے اپنی گرل فرینڈ رجنی کے ساتھ مل کر بیوی کو گولی مار کر قتل کردیا ہے جس کی لاش گرل فرینڈ کے کرائے کے کمرے سے ملی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ انکیت کی شادی کو صرف تین ماہ ہی ہوئے تھے جب کہ وہ رجنی کے ساتھ گزشتہ تین سال سے تعلق میں تھا۔ پولیس کے مطابق انکیت اور رجنی قتل کرنے کے بعد نیپال فرار ہوگئے تھے اور جیسے ہی ملک واپس آئے تو انہیں کرائم برانچ کی ٹیم نے فوری گرفتار کرلیا۔
ڈیلیوری رائیڈر نے جلتے ہوئے فلیٹ
2026-07-05
یک ڈیلیوری رائیڈر نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر ایک جلتے ہوئے فلیٹ میں بھڑکتے شعلوں کو بجھا دیا۔ یہ واقعہ چین کے صوبے ہوانگزو میں سامنے آیا۔ 21 سالہ این ارپائی ملازمت کے بعد اپنے کرائے کے فلیٹ میں برتن دھو رہے تھے جب انہوں نے فائر الارم کی آواز سنی۔ وہ بھاگ کر باہر نکلے اور تیسری منزل کے ایک خالی فلیٹ میں آگ کے شعلوں کو بھڑکتے ہوئے دیکھا۔ سکیورٹی گارڈز اور اپارٹمنٹ بلڈنگ کے عملے کے افراد متاثرہ فلیٹ کے پاس موجود تھے مگر دھواں راہداری میں بھرتا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل رہی تھی۔ این ارپائی وہاں اپنے پیاروں کے ساتھ موجود تھے اور ان کی جانب سے انہیں فائر فائٹرز کا انتظار کرنے کا کہا گیا، مگر انہوں نے ایک آگ بجھانے والے آلے کو لیا اور جلتے ہوئے فلیٹ کی جانب تیزی سے گئے۔ ماضی میں این ارپائی فائر فائٹنگ کی تربیت لے چکے تھے اور انہوں نے آگ کا پھیلاؤ کے ماخذ کو تلاش کرلیا۔ آگ کے شعلوں کی شدت میں کمی نہیں آئی تو وہ باہر گئے اور زیادہ پریشر والے پانی کے پائپ کو لے کر ایک بار پھر متاثرہ فلیٹ میں آئے اور آگ کو بجھا دیا۔ ان کی دلیرانہ کوشش 10 منٹ تک جاری رہی اور خوش قسمتی سے عمارت میں کوئی فرد زخمی نہیں ہوا۔ مگر پھیپھڑوں میں دھواں بھر جانے کی وجہ سے این ارپائی فائر فائٹرز کی آمد کے بعد بے ہوش ہوکر گرگئے۔ کئی گھنٹوں بعد اسپتال میں ہوش میں آنے کے بعد این ارپائی نے بتایا کہ آگ بجھانے کے دوران وہ ایک بار بھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔ این ارپائی جس کورئیر کمپنی میں کام کرتے ہیں، اس کی جانب سے ان کی بہادری پر 2 ہزار یوآن کا نقد انعام دیا گیا جبکہ اسپتال کے بل بھی ادا کیے گئے۔ ماضی این ارپائی بیجنگ میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرچکے ہیں اور وہاں بھی آگ بجھانے کے ایک واقعے میں مدد کرچکے ہیں۔ ہوانگزو آنے کے بعد انہوں نے فائر سیفٹی ٹریننگ بھی حاصل کی۔
وفاقی حکومت نے عیدالاضحیٰ کی
2026-05-20
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کی تعطیلات 26، 27 اور 28 مئی تک ہوں گی۔ وزیراعظم کی منظوری سے کابینہ ڈویژن نے عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
حکومت کا عید سے قبل جدید
2026-05-14
حکومت نے عید سے قبل جدید سہولتوں سے آراستہ عوام ایکسپریس شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی نے جدید سہولتوں سے آراستہ عوام ایکسپریس کا عیدالاضحیٰ سے قبل افتتاح کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر ریلوے ٹرین کا باقاعدہ افتتاح 24 مئی کو کریں گے، انہوں نے کہا کہ عید سے قبل عوام ایکسپریس کو مکمل اپ گریڈ کر کے مسافروں کے لئے پیش کیا جائے گا۔ وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ یہ ٹرین مسافروں کو تیز، آرام دہ اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرے گی اور کم وقت میں پشاور سے کراچی پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات مہیا کرنا ہمارا وژن ہے، ان کا کہنا تھا کہ ریلوے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں
2026-05-14
کراچی کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے دوران گھنٹوں طویل لوڈشیڈنگ سے شہری اذیت میں مبتلا ہوگئے، مستثنیٰ علاقوں میں بھی بجلی کی غیر اعلانی بندش نے عوام کا جینا مشکل کردیا۔ کہنے کو تو کراچی عروس البلاد ہے، لیکن اس کا شاید ہی کوئی کونا ایسا ہو جہاں بجلی کی آنکھ مچولی جاری نہ ہو۔ یہاں ہزاروں روپے کے بل بھرنے کے باوجود بجلی ہلال عید کی طرح مختصر مدت کے لیے جلوہ دکھاتی ہے۔ حال یہ ہے کہ مستثنیٰ قرار دیے گئے علاقوں میں بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں ۔ کیماڑی، کھارادر، لیاری، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن ، سعید آباد اور گلشن اقبال سمیت درجنوں علاقے ہیں جہاں کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن گئی ہے، جبکہ لیاقت آباد سی ون ایریا، ناظم آباد، گلبہار، رضویہ اور پاک کالونی سمیت کئی علاقوں کے مکین بھی اس کی مسلسل بندش سے گرمی میں کھول رہے ہیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور حبس میں طویل لوڈشیڈنگ نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بجلی نہ ہوتو پانی کا بحران بونس کے طور پر ملتا ہے۔ دوسری جانب کے الیکٹرک کا مؤقف وہی گھسا پٹا ہے کہ بعض علاقوں میں تکنیکی مسائل اور لائن لاسز کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ان تسلیوں سے بہلنے والے نہیں ۔ متعلقہ حکام غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیں اور بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
ذوالحج 1447 ہجری کا چاند 17 مئی
2026-05-12
اسپارکو کا کہنا ہے کہ ملک میں عیدالاضحیٰ 27 مئی کو ہونے کا امکان ہے۔ ترجمان اسپارکو کے مطابق ذوالحج 1447 ہجری کا چاند 17 مئی 2026 کی شام نظر آنے کے امکانات روشن ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ چاند 17 مئی 2026 کو رات 01:01 بجے پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ غروبِ آفتاب کے وقت نئے چاند کی عمر تقریباً 18 گھنٹے 30 منٹ ہوگی۔ اسپارکو کے مطابق پاکستان کے ساحلی علاقوں میں غروبِ آفتاب اور غروبِ ماہتاب کے درمیان تقریباً 60 منٹ کا وقفہ متوقع ہے جس کے باعث چاند نظر آنے کے امکانات موافق ہیں۔ فلکیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر یکم ذوالحج 1447 ہجری بروز پیر 18 مئی 2026 کو متوقع ہے جبکہ عیدالاضحیٰ 27 مئی 2026 کو ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اسلامی مہینے کے آغاز کے حوالے سے حتمی فیصلہ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کرے گی جو ملک بھر سے موصول ہونے والی معتبر شہادتوں اور مصدقہ مشاہدات کی بنیاد پر اعلان کرنے کی مجاز اتھارٹی ہے۔
وائیڈ فولڈ ایبل فونز کی
2026-05-12
دنیا بھر میں اسمارٹ فون کمپنیاں اب وائیڈ فولڈ ایبل ڈیوائسز کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جہاں حالیہ Huawei Pura X Max کے بعد نئی ڈیوائسز کی افواہیں زور پکڑ گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق Samsung اس سال Galaxy Z Fold 8 اور Galaxy Z Flip 8 کے ساتھ ایک وائیڈ فولڈ ایبل متعارف کرا سکتا ہے، جبکہ Apple بھی اپنا پہلا فولڈ ایبل آئی فون، ممکنہ طور پر “آئی فون الٹرا”، ستمبر میں پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ادھر Vivo کے بارے میں لیکس سامنے آئی ہیں کہ Vivo X Fold 6 میں اسکرین کریز (fold line) کو بہتر بنانے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے، جو صارفین کے لیے ایک اہم بہتری سمجھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی مستقبل میں زیادہ چوڑے “بُک اسٹائل” فولڈ ایبل ڈیزائنز کی طرف جا سکتی ہے۔
سوات میں گاڑی گہری کھائی
2026-05-11
سوات میں گاڑی گہری کھائی میں گر گئی، حادثے میں 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق گاڑی ملم جبہ کے علاقے سیر تلیگرام سے گناجیر جارہی تھی کہ گناجیر کے قریب گاڑی گہری کھائی میں جا گری۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور 11افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 5 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق اور زخمیوں میں خواتین اور بچے شامل،جن کو سیدو شریف اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی سمیت ملک
2026-05-11
اسلام آباد، راولپنڈی، چکوال اور ایبٹ آباد سمیت ملک کے متعدد علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں موسم کی خرابی کے باعث کئی پر وازیں متاثر ہوگئیں، لاہور میں آندھی اور بارش سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ ادھر مالاکنڈ،سوات،نوشہرہ ،شمالی وزیرستان سمیت کے پی کے متعدد علاقوں میں بھی بارش ہوئی۔ صوابی میں آسمانی بجلی گرنےکےباعث مختلف حادثات میں 6 افراد زخمی ہوگئے جب کہ کئی علاقوں میں بجلی معطل ہے، وادی نیلم اور مظفرآباد میں بھی بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک جب کہ سندھ اور جنوبی بلوچستان میں شدید گرم رہنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ بالائی پنجاب،بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اورخطہ پوٹھوہار میں چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
