ٹرمپ کا ایران پر مزید حملوں کا اعلان: اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 4 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی    space    عوام پر پیٹرول بم گرانے کی تیاری، فی لیٹر قیمت میں 100 روپے اضافے کا خدشہ    space    مقاصد کی تکمیل تک جنگ جاری رہےگی، ٹرمپ کا آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران پر شدید حملے کرنےکا اعلان    space    شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک    space    ایران جنگ جاری رکھنےکے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ    space    کیا ثالث امریکا کی ضمانتوں پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ پاکستان میں ایرانی سفیر کا سوال    space    ایران نے پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہونےکی تصدیق کردی    space   

ثنا یوسف قتل کیس، مقتولہ کے والد نے بیان


2026-03-18

ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف قتل کیس میں مقتولہ کے والد نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا۔ روزنامہ جنگ کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ مقتولہ کے والد نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اہلیہ، بیٹے اور اپنی بیٹی ثناء یوسف کے ساتھ سیکٹر جی 13 میں رہائش پزیر تھا، میری بیٹی سوشل میڈیا انفلوئنسر تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وقوعے کے دن میں کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گیا تھا، شام کو مجھے میری اہلیہ نے فون پر بتایا کہ نامعلوم شخص نے بیٹی کو گولی مار دی ہے، بیٹی کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملے نے بتایا کہ میری بیٹی کی موت ہو چکی ہے۔ ثناء کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹی کی ڈیڈ باڈی پمز منتقل کی گئی جس کے بعد پولیس کو بیان ریکارڈ کروایا، بیٹی کے موبائل فون پولیس کے حوالے کیے، پولیس نے جائے وقوع کی بھی رپورٹ بنائی۔

جنگ کے باوجود ایرانی

2026-04-02

جنگ کے باوجود ایرانی کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔ ایرانی ریال کی قدر میں 400 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، پاکستانی روپے کے مقابلے میں ایرانی کرنسی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں نے ایرانی ریال کو بڑے پیمانے پر خریدا ہے اس کے علاوہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس لینے کے اعلان کے بعد ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران پر حملے سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال 2500 روپے میں مل جاتے تھے لیکن اب ایک کروڑ ایرانی ریال 10 ہزار پاکستانی روپے میں مل رہے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ایران پر عائد پابندیاں ہٹا لی جائیں گی جس کے بعد ایرانی کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ ہو گا اسی وجہ سے لوگ ایرانی کرنسی خریدنے میں مصروف ہیں۔

حریف زمینی آپریشن کرنے

2026-04-02

ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے اپنی فوج سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے حملے کیلئے تیار رہیں۔ ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے اپنی افواج کو مسلسل ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی آرمی چیف نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ دشمن کی ہر حرکت کو انتہائی احتیاط سے مانیٹر کیا جائے، ایرانی آرمی چیف نے کہا کہ اگر کوئی حریف زمینی آپریشن کی کوشش کرے تو دشمن کے کسی بھی فوجی کو زندہ نہیں بچنا چاہیے۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کا جدید ہرمز 900 ڈرون مار گرایا ہے، ایرانی فضائی دفاعی نظام نے یہ ڈرون شیراز کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا۔

کراچی سمیت سندھ میں

2026-04-02

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں 4 اپریل تک بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں موسم کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جہاں مغربی ہواؤں کا سلسلہ بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں داخل ہو چکا ہے اور 4 اپریل تک ملک کے مختلف حصوں میں برقرار رہنے کی توقع ہے۔ کراچی کےمختلف علاقوں آئی آئی چندریگر روڈ ، گلستان جوہر، صدر ، شارع فیصل، کیماڑی ، لیاقت آباد، ناظم آباد ،فیڈرل بی ایریا اور دیگر علاقوں میں بارش ہوئی، بارش کا سلسلہ مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش جبکہ چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے، شہر کا مطلع زیادہ تر ابرآلود رہے گا۔ پی ڈی ایم اے نے صورتحال کے پیش نظر تمام ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ضروری حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق آندھی، ژالہ باری اور آسمانی بجلی کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جبکہ تیز ہوائیں اور ژالہ باری کھڑی فصلوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ کسانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ موسمی حالات کے مطابق اپنی فصلوں کی حفاظت کے اقدامات کریں۔ دوسری جانب لاہور میں بھی محکمہ موسمیات نے 4 اپریل تک بارشوں کی پیشگوئی کر رکھی ہے، جس کے باعث درجہ حرارت میں کمی اور موسم خوشگوار ہونے کا امکان ہے۔ اسلام آباد میں مطلع آج جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے، شام اور رات کے اوقات میں بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ کے پی کے، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے بلند پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

سانحہ گل پلازہ، جوڈیشل کمیشن

2026-04-02

کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے اپنی انکوائری مکمل کر لی۔ کمیشن کے مطابق رپورٹ 7 اپریل تک حکومت سندھ کے حوالے کر دی جائے گی جبکہ اس سلسلے میں سیکرٹری قانون کو بھی طلب کر لیا گیا ہے اور انہیں باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے سیکشن 3 کے تحت 10 فروری 2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے انکوائری کمیشن قائم کیا گیا تھا ، جس کا مقصد گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کرنا تھا۔ کمیشن کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے آٹھ ہفتوں کی مدت دی گئی تھی، جس کے اندر انکوائری مکمل کر لی گئی ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ رپورٹ اور متعلقہ ریکارڈ کو باقاعدہ سیل شدہ حالت میں حکومت سندھ کے حوالے کیا جائے گا، رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے یا نہ لانے کا حتمی اختیار حکومت سندھ کے پاس ہوگا۔

حکومت کا یوٹیوبرز، انسٹاگرام انفلوئنسرز

2026-04-02

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں لانے کے لیے نئے قواعد کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔ مسودے کے تحت 50 ہزار یا اس سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو کاروبار تصور کرتے ہوئے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ ایف بی آر کی جانب سے ایس آر او 545(I)/2026 اور 546(I)/2026 کے تحت جاری مجوزہ ترامیم میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل چینلز سے آمدن حاصل کرنے والے افراد پر خصوصی ٹیکس طریقہ کار لاگو کیا جائے گا، جس میں مقامی اور غیر ملکی دونوں شامل ہوں گے۔ مجوزہ قواعد کے مطابق قابلِ ٹیکس آمدن وہ ہوگی جو سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی مجموعی کمائی ہو، جس میں سے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد اخراجات کی مد میں منہا کیے جا سکیں گے۔ یہ ٹیکس ان افراد پر بھی لاگو ہوگا جو پاکستان میں ناظرین، اشتہارات یا سبسکرپشنز کے ذریعے آمدن حاصل کرتے ہیں، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا باہر۔ ایف بی آر نے یوٹیوب آمدن کے لیے ایک پیمانہ بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ہر ایک ہزار ویوز پر 195 روپے آمدن تصور کی جائے گی، جس میں وقتاً فوقتاً رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔ مسودے کے تحت ڈیجیٹل کریئیٹرز کو سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور اپنی آمدن کو سالانہ ٹیکس ریٹرن میں ایک مخصوص حصے میں ظاہر کرنا ہوگا۔ اگر ظاہر کی گئی آمدن مقررہ فارمولے سے کم ہوئی تو ٹیکس حکام فرق وصول کر سکیں گے۔ غیر ملکی یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کے لیے بھی حد مقرر کی گئی ہے، جس کے مطابق اگر کسی ٹیکس سال میں پاکستان سے 50 ہزار یا ایک سہ ماہی میں 12 ہزار 250 صارفین کی انگیجمنٹ حاصل ہو تو وہ بھی ٹیکس کے دائرے میں آ جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ اقدام ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کا حصہ ہے، جس کے بعد انفلوئنسرز، یوٹیوبرز اور دیگر آن لائن کمائی کرنے والے افراد کے لیے نگرانی سخت ہونے کا امکان ہے۔

پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی

2026-04-02

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) محض ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اور عوامی تحریک ہے جس نے ملک کے مرکز یعنی پنجاب کی روح کو ایک نیا شعور عطا کیا تھا۔ جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار پنجاب کے میدانوں میں قدم رکھا تو انہوں نے محض ووٹ حاصل نہیں کیے، بلکہ بے سہارا اور پسے ہوئے طبقات میں انقلاب کی وہ شمع روشن کی جس نے دہائیوں تک ملکی سیاست کا رخ متعین کیا۔ لیکن 2026 کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج یہی صوبہ، بالخصوص وسطی پنجاب، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری کشمکش میں ایک خاموش تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی کے پاس ایک سنجیدہ اور عوامی متبادل کے طور پر ابھرنے کا بہترین موقع موجود تھا، لیکن وسطی پنجاب کی موجودہ قیادت کی فکری پسماندگی اور عوام سے مکمل کٹ جانے کی وجہ سے یہ موقع ضائع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے زوال کی جڑیں صرف بیرونی سیاسی تبدیلیوں میں نہیں، بلکہ اس کے اپنے تنظیمی ڈھانچے میں لگنے والے اس گھن میں چھپی ہیں جسے "ڈرائنگ روم سیاست" کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ماضی میں پارٹی کے گراف گرنے کے اسباب پر بحث کی گئی، پیپلز پارٹی نے اپنی "اسٹریٹ پاور" کو "صوفہ پاور" میں تبدیل کر دیا ہے۔ وسطی پنجاب کے موجودہ صدر اور جنرل سیکرٹری کی کارکردگی آج ہر اس وفادار جیالے کے لیے ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے جس نے آمریت کے دور میں کوڑے کھائے۔ بجائے اس کے کہ پارٹی کو ایک جدید اور متحرک سیاسی مشین بنایا جاتا جو پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل بیانیے اور ن لیگ کے مفاداتی نیٹ ورک کا مقابلہ کر سکتی، ان عہدیداروں نے خود کو ایک مخصوص حلقہ احباب تک محدود کر لیا ہے۔ جب تک پارٹی کے ڈھانچے کی اوپر سے نیچے تک مکمل سرجری نہیں کی جاتی اور ان غیر فعال چہروں کو ہٹا کر عوامی نبض پر ہاتھ رکھنے والے لیڈر سامنے نہیں لائے جاتے، کارکن کا حوصلہ بحال کرنا ناممکن ہے۔ ایک ایسا جنرل سیکرٹری جو اپنے ضلعی صدور کے لیے بھی ناقابلِ رسائی ہو، وہ تنظیم کا سرتاج نہیں بلکہ اس کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس تنظیمی مفلوج زدہ صورتحال نے پنجاب کے ووٹروں کے درمیان ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس نے پارٹی کے خلاف بیگانگی کو جنم دیا۔ جب پنجاب کا کسان گندم کے بحران اور مہنگی کھادوں کی وجہ سے سڑکوں پر رل رہا تھا، تو وسطی پنجاب کی یہ قیادت کہاں تھی؟ جب بجلی کے کمر توڑ بلوں نے غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتخاب مشکل بنا دیا تھا، تو پیپلز پارٹی کے یہ عہدیدار کس گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے؟ عوامی دکھوں کے ان لمحات میں ان کی "پراسرار خاموشی" کو عوام نے مفاہمت یا بے حسی سے تعبیر کیا ہے۔ پنجاب کی سیاست "موجودگی" کا نام ہے، اور اپنی عدم موجودگی سے اس قیادت نے یہ پیغام دیا ہے کہ شاید پیپلز پارٹی اب پنجاب میں اقتدار کی جنگ لڑنے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور لاہور جیسے بڑے صنعتی و سیاسی مراکز میں پیپلز پارٹی صرف لیٹر پیڈز تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ پارٹی کو درپیش ایک اور مہلک مرض "پیراشوٹرز" اور مبینہ طور پر الیکٹ ایبلز پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ دولت کے بل بوتے پر ٹکٹ حاصل کرنے والے یہ لوگ پہلے مشکل مرحلے پر پارٹی کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس وہ نظریہ ہی نہیں ہوتا جو جیالے کا خاصہ ہے۔ وسطی پنجاب کی موجودہ قیادت نے ان موسمی پرندوں کو ان نظریاتی کارکنوں پر ترجیح دی جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پارٹی کا پرچم تھامے رکھا۔ جیالے کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی نے پارٹی کی نچلی سطح پر بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اب خود مداخلت کر کے اس دائرے کو توڑنا ہوگا۔ پنجاب کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو 90 کی دہائی کے فرسودہ چہروں یا ان لیڈروں سے متاثر نہیں ہو سکتے جو عوامی دھول کے بجائے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر سیاست کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ نوجوانوں کو آج ایک جدید ڈیجیٹل وژن کی ضرورت ہے، جسے "بلاول یوتھ کارڈ" کے ذریعے عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس میں ٹیک ہبز، میرٹ پر مبنی ملازمتیں اور سوشل سیفٹی نیٹ کا وعدہ ہونا چاہیے، لیکن یہ پیغام موجودہ فرسودہ ڈھانچے کے ذریعے عوام تک نہیں پہنچ سکتا۔ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) اور پیپلز یوتھ آرگنائزیشن (PYO) کو یونیورسٹیوں کی سطح پر دوبارہ زندہ کرنا اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے تاکہ نوجوان نسل کو بھٹو کے فلسفے سے دوبارہ جوڑا جا سکے۔ اسی طرح پنجاب کی معیشت کی شہ رگ یعنی کسان کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ صرف پیپلز پارٹی ہی اسے مڈل مین کے استحصال سے بچا سکتی ہے۔ سندھ میں زرعی اصلاحات اور کسانوں کو زمینوں کی تقسیم کا جو کامیاب ماڈل اپنایا گیا، اسے پنجاب کے ہر ضلع میں ایک برانڈ کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ یہاں کی قیادت اس کامیابی کو زبان دینے میں بھی ناکام رہی۔ سوشل میڈیا اور بیانیے کی اس جدید جنگ میں پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ایک ایسی پیشہ ور ٹیم کی ضرورت ہے جو "بھٹو ازم" کو پنجاب کی مقامی ثقافت اور زبان میں ڈھال کر گھر گھر پہنچا سکے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جدید قیادت اور صدر آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت پارٹی کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، لیکن وسطی پنجاب کی قیادت ان اثاثوں کو عوامی طاقت میں بدلنے کے بجائے ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ہمیں اب "ڈرائنگ روم سیاست دانوں" کی نہیں بلکہ "وار ٹائم آرگنائزرز" کی ضرورت ہے جو اضلاع کے دورے کریں اور کارکنوں کے درمیان رہ کر تنظیم سازی کریں۔ صنعتی شہروں جیسے فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں مزدوروں کے لیے "لیبر کارڈز" کا اجراء پیپلز پارٹی کے روایتی ووٹ بینک کو دوبارہ فعال کر سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مصلحتوں کے لبادے اتار پھینکے جائیں۔ اگر پیپلز پارٹی دوبارہ لاہور کے تخت کی دعویدار بننا چاہتی ہے تو اسے پہلے اپنے گھر کی صفائی کرنی ہوگی۔ موجودہ غیر فعال قیادت کو ہٹا کر مخلص اور نظریاتی کارکنوں کو آگے لانا ہی واحد راستہ ہے۔ کارکن تیار ہے، نظریہ زندہ ہے، مگر قیادت اور عوام کے درمیان کا پل ٹوٹ چکا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو چاہیے کہ وہ روایتی بیوروکریٹک سیاست دانوں کو بائی پاس کر کے براہ راست کارکنوں سے "ورکرز کنونشنز" کے ذریعے رابطہ کریں۔ پنجاب کے وقار کی بحالی کے لیے مشکل اور دلیرانہ فیصلے ناگزیر ہیں۔ "تیر" کے نشان کو دوبارہ فتح کی علامت بنانے کے لیے ان عناصر سے چھٹکارا پانا ہوگا جنہوں نے پارٹی کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور پنجاب کا سیاسی خلا کسی کا انتظار نہیں کرے گا؛ اب نہیں تو کبھی نہیں۔

محنت، اخلاص اور خدمتِ انسانیت

2026-04-02

دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے کردار، محنت اور خلوص کے ذریعے نہ صرف اپنی پہچان بناتی ہیں بلکہ اپنے وطن اور کمیونٹی کا نام بھی روشن کرتی ہیں۔ ندیم بٹ انہی شخصیات میں شامل ہیں، جنہوں نے یورپ کی سرزمین پر رہتے ہوئے صحافت کے میدان میں ایک منفرد مقام حاصل کیا اور پاکستانی کمیونٹی کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یورپین دارالحکومت میں رہتے ہوئے ندیم بٹ نے جس انداز میں پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی کی، وہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے نہ صرف یورپ میں بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل، کامیابیوں اور سرگرمیوں کو اجاگر کیا بلکہ یورپین یونین جیسے اہم ادارے کو ایشیائی کمیونٹی، خصوصاً پاکستانیوں میں متعارف کروانے کا فریضہ بھی سرانجام دیا۔ ان کی صحافت نے مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کیا ندیم بٹ کے صحافتی سفر کا آغاز ایک ایسے معروف ٹی وی چینل سے ہوا جو یوکے اور یورپ میں گھر گھر دیکھا جاتا تھا۔ یہ چینل اپنی الگ پہچان رکھتا تھا اور ناظرین میں بے حد مقبول تھا۔ ایسے پلیٹ فارم پر کام کرنا خود ایک چیلنج تھا، لیکن ندیم بٹ نے اپنی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے اس چیلنج کو کامیابی میں بدل دیا۔ انہوں نے دن رات محنت کی، اپنی صلاحیتوں کو نکھارا اور جلد ہی وہ وقت آ گیا جب ناظرین ان کی خبروں اور پروگرامز کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔ ان کی کامیابی کا راز صرف پیشہ ورانہ مہارت نہیں بلکہ ان کا اعلیٰ اخلاق، نرم گفتاری، محبت، شرافت اور مثبت رویہ بھی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ لوگوں کے ساتھ احترام اور خلوص کا برتاؤ کیا، جس کی بدولت انہوں نے یورپ میں نہ صرف ایک کامیاب صحافی بلکہ ایک باوقار انسان کے طور پر بھی اپنی پہچان بنائی۔ کمیونٹی کے افراد ان کے پروگرامز کا آغاز ان کی موجودگی کے بعد کرنا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے تھے، جو ان کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے ذاتی زندگی میں بھی ندیم بٹ ایک مثالی شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی مصروف زندگی کے باوجود اپنے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ انہیں قرآن، اسلام اور دینی تعلیمات سے روشناس کروایا اور ساتھ ہی جدید تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کیا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو طب کے شعبے میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی تاکہ وہ انسانیت کی خدمت کر سکیں۔ آج ان کے بچے ڈاکٹر بن چکے ہیں اور معاشرے میں خدمتِ انسانیت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ یہ ان کی بہترین تربیت اور وژن کا عملی مظہر ہے 23 مارچ 2026 کا دن ندیم بٹ کی زندگی میں ایک یادگار سنگ میل ثابت ہوا۔ اس موقع پر پاکستان کے سفارت خانہ برسلز کی جانب سے انہیں بہترین صحافت کے اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ سفیر پاکستان، رحیم حیات قریشی نے انہیں پیش کیا مبارک باد کے مستحق ہیں سفیر پاکستان جنھوں نے صحافتی میدان میں ملک و قوم کی خدمت کرنے والے محب وطن پاکستانی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس سے قبل 2006 میں عزت مآب سفیر پاکستان سعید خالد نے برسلز کے سب سے پہلے اور متحرک صحافی وقار ملک کو شیلڈ اور ایوارڈ سے نوازا تقریب میں جیسے ہی ندیم بٹ نام پکارا گیا، پورا پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا اور کمیونٹی نے خوشی کا بھرپور اظہار کیا۔ یہ لمحہ نہ صرف ندیم بٹ کے لیے بلکہ پوری پاکستانی کمیونٹی کے لیے فخر کا باعث تھا یہ اعزاز دراصل ان کی برسوں کی محنت، لگن اور قومی خدمات کا اعتراف تھا۔ انہوں نے اپنی صحافت کے ذریعے نہ صرف معلومات فراہم کیں بلکہ نوجوان نسل میں شعور بیدار کیا۔ انہوں نے برسلز پارلیمنٹ اور یورپین پارلیمنٹ جیسے اداروں کا تعارف عام کیا، جس کے نتیجے میں نوجوانوں اور طلبہ میں سیاسی آگاہی پیدا ہوئی اور وہ مثبت سیاست کی جانب راغب ہوئے۔ آج یورپ میں پاکستانی نوجوانوں کی سیاست میں شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ندیم بٹ جیسے افراد کی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں کمیونٹی کے افراد کا یہ بھی ماننا ہے کہ ندیم بٹ کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں برسلز پارلیمنٹ اور یورپین پارلیمنٹ کی سطح پر بھی اعزازات سے نوازا جانا چاہیے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی صحافت کے ذریعے نہ صرف پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی کی بلکہ یورپی اداروں اور ایشیائی کمیونٹی کے درمیان فاصلے کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ندیم بٹ اپنی کامیابی کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کرم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:“خلوصِ دل سے کی گئی محنت اور سچی نیت سے کی گئی عبادت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ میری ہمیشہ خواہش رہی کہ میں انسانیت کی خدمت کروں اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دوں۔ اللہ تعالیٰ نے میری دعاؤں کو قبول کیا اور مجھے کامیابی عطا فرمائی۔” ندیم بٹ کہتے ہیں: “جب آپ محنت کو اپنی عظمت بنا لیتے ہیں تو قدرت خود آپ کو کامیابی کی دہلیز تک پہنچا دیتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسان ثابت قدم رہے اور مثبت سوچ اپنائے رکھے بلاشبہ، ندیم بٹ کی زندگی ایک ایسی روشن مثال ہے جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر انسان محنت، دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف بڑھتا رہے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ ان کی داستان نہ صرف صحافت سے وابستہ افراد بلکہ ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتا ہے۔ ندیم بٹ واقعی صحافت کے افق پر چمکتا ہوا ایک درخشندہ ستارہ ہیں، جن کی روشنی آنے والی نسلوں کو بھی راستہ دکھاتی رہے گی برسلز سے نوجوان اور معروف بزنس مین اور ترقی پسند لیڈر شیخ ماجد نے اس موقع پر کہا کہ ترقی صرف وہی انسان حاصل کر سکتا ہے جو اپنے دل میں اخلاص رکھتا ہو، اپنی نیت میں سچائی رکھتا ہو اور انسانیت سے بے لوث محبت کرتا ہو۔ دنیا میں بے شمار لوگ محنت کرتے ہیں، مگر اصل کامیابی انہی کے حصے میں آتی ہے جو اپنے کردار کو مضبوط رکھتے ہیں اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں شیخ ماجد نے کہا کہ ندیم بٹ اسی اصول کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنی محنت سے کامیابی حاصل کی بلکہ اپنے اعلیٰ کردار، سچائی اور مخلصانہ رویے سے لوگوں کے دل بھی جیت لیے۔ انہوں نے کبھی شارٹ کٹ کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مسلسل جدوجہد، ایمانداری اور لگن کو اپنا شعار بنایا ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی صرف دولت یا شہرت کا نام نہیں بلکہ اصل کامیابی وہ ہے جس میں انسان دوسروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ ندیم بٹ نے اپنی صحافت کے ذریعے نہ صرف معلومات فراہم کیں بلکہ لوگوں کو جوڑا، شعور دیا اور انسانیت کی خدمت کا درس بھی دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ صرف ایک کامیاب صحافی ہی نہیں بلکہ ایک مثال بن چکے ہیں۔ ایک ایسی مثال جو یہ بتاتی ہے کہ اگر انسان مخلص ہو، سچا ہو اور انسانیت سے محبت کرے تو قدرت خود اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیتی ہے۔

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی

2026-04-02

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فتنہ الخوارج کے 8 دہشتگردہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کی اطلاع ملی جس پر سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کی۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کارروائی کے دوران بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 8 خوارج ہلاک کردیے گئے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دیگر خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ افغان طالبان حکومت اپنی سرحدی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین کو خوارج کے استعمال سے روکے اور اپنے شہریوں کی پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے سے باز رکھے۔

بیوی کے مبینہ قاتل اور 4 سال

2026-04-02

انڈین پنجاب کے شہر فاضلکہ کی پولیس نے فوج کے سابق کپتان سندیپ تومر کو گرفتار کر لیا ہے، جو اپنی بیوی کے قتل کے مقدمے میں تقریباً 4 سال سے مفرور تھے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے بتایا کہ وہ ایل پی جی سلینڈر بھروانے اور مالی لین دین کے دوران اپنی اصلی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور پی اے این کارڈ استعمال کر رہے تھے۔ پولیس نے اسی سراغ کی مدد سے ان تک رسائی حاصل کی۔ ایس ایس پی گُرمیت سنگھ کے مطابق سابق کیپٹن سندیپ تومر کے خلاف 2013 میں آئی پی سی کی دفعہ 304 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی، جہیز کے مطالبے اور ان کی موت کا سبب بننے جیسے الزامات تھے۔ یہ مقدمہ ان کے سسر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق سندیپ تومر نے اپنی بیوی شویتا سنگھ کو قتل کیا اور اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ بعد ازاں پولیس کی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل تھا۔ واقعے کے روز ہی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ سندیپ تومر اس مقدمے میں تقریباً 5 سال جیل میں رہے۔ تاہم 2019 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا۔2022 میں عدالت نے دوبارہ انھیں سرینڈر کرنے کا حکم دیا مگر انھوں نے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیش ہونے سے انکار کیا اور 2022 سے مفرور تھے۔ پولیس حکام کے مطابق ان کی تلاش جاری رہی اور آخرکار 28 مارچ کو فاضلکہ پولیس نے مدھیہ پردیش پولیس کی مدد سے انھیں گرفتار کیا۔سندیپ تومر کا تعلق اتر پردیش کے شہر کانپور سے ہے۔ واقعے کے وقت وہ پنجاب کے شہر ابوہر میں 12 بہار رجمنٹ میں کیپٹن کے طور پر تعینات تھے۔ ان کی بیوی بھی اتر پردیش کی رہائشی تھیں۔ ایف آئی آر کے مطابق دونوں کی شادی فروری 2013 میں ہوئی تھی اور شویتا سنگھ کی موت 8 جولائی 2013 کو ہوئی۔مرنے والی خاتون کے والد کے مطابق شادی کے کچھ عرصے بعد ہی سندیپ تومر اور ان کے گھر والے جہیز کے لیے شویتا کو پریشان کرنے لگے تھے اور یہ بات انھوں نے اپنی والدہ کو بھی بتائی تھی۔ 8 جولائی کو انھیں بیٹی کی موت کی اطلاع ملی جس کے بعد انھوں نے داماد سندیپ تومر کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ایس ایس پی کے مطابق پہلے تو ملزم نے اپنی بیوی کی موت کو خودکشی قرار دیا لیکن تفتیش میں ثابت ہوا کہ یہ قتل ہی تھا۔ 2014 میں مقامی عدالت نے سندیپ تومر کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے بعد انھیں فیروزپور جیل بھیج دیا گیا اور فوج نے بھی انھیں برخاست کر دیا۔تقریباً 5 سال سزائے قید کاٹنے کے بعد انھوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس کے بعد 2019 میں انھیں ضمانت پر رہائی ملی۔ تاہم 2022 کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ اس پر عمل کرنے کے بجائے وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے اور فرار ہو گئے۔2024 میں شکایت کنندہ نے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ عدالت کے حکم پر ایس پی فاضلکہ کی سربراہی میں تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے سندیپ تومر کی تلاش جاری رکھی۔ ایس ایس پی فاضلکہ کے مطابق ضمانت پر رہائی کے بعد سندیپ تومر نے اپنی شناخت تبدیل کر لی تھی اور ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہے تھے۔ گرفتاری کے وقت وہ دوسری شادی بھی کر چکے تھے۔ 4سال کے دوران انھوں نے اپنا حلیہ اور پتا دونوں بدلے اور پنجاب کے بعد اڑیسہ، بنگلورو اور مدھیہ پردیش میں رہائش اختیار کرتے رہے۔ایس ایس پی کے مطابق کچھ دن پہلے ان کے بینک سٹیٹمنٹ سے پتا چلا کہ وہ ایک گیس ایجنسی سے ایل پی جی سلینڈر بھرواتے ہیں۔ ’’جب گیس ایجنسی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موجودہ پتا دستیاب ہوا۔‘‘یہ معلومات مقامی پولیس کے ساتھ شیئر کی گئیں اور وہاں سے سندیپ تومر کو فوراً گرفتار کر لیا گیا۔بعد ازاں فاضلکہ پولیس کی ایک ٹیم انھیں پنجاب لے آئی جہاں مقامی عدالت نے انھیں ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

امریکی واسرائیلی اہداف پر

2026-04-02

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی واسرائیلی اہداف پر100سے زائد میزائل وڈرون حملے کیے ہیں اور 200راکٹ فائر کیے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج نے مزاحمتی محاذوں کے ساتھ مل کر اسرائیلی اور امریکی اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں، جن میں 100 سے زائد میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے جبکہ 200 راکٹ بھی فائر کیے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان کارروائیوں میں اسرائیلی حکومت کی فوجی تنصیبات اور مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ بحرین میں امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں تقریباً 80 اہلکار موجود تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ قطر میں العدید ایئر بیس پر میزائل حملے کے دوران ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہوا جبکہ دیگر تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ دوسری جانب حزب اللہ نے بدھ کے روز اسرائیل پر 60 میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کو بھی نشانہ بنانے کی بات کی گئی ہے۔ ادھر عراق میں اسلامی مزاحمت نے بھی 41 امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایران نے متحدہ عرب امارات میں 37 امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔