ہمیں ایران میں بہت جلد فتح ملنے جارہی ہے: ٹرمپ کا دعویٰ    space    لبنان اور اسرائیل میں 10 روزہ جنگ بندی شروع، بیروت میں شہریوں کا جشن، ہوائی فائرنگ    space    امریکا کا اسلحہ اور ایٹمی مواد کی فراہمی روکنے کیلئے ایران جانیوالے بحری جہازوں کی تلاشی کا اعلان    space    وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جیسی سفارتکاری اپنی زندگی میں کم ہی دیکھی ہے: جلیل عباس جیلانی    space    لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا، ٹرمپ کا اعلان    space    ایرانی اسپیکر کا لبنان جنگ بندی میں ثالثی پر ریاست پاکستان اور فیلڈ مارشل سے اظہار تشکر    space    جنگ روکنے میں پاکستان کا مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار قابل ستائش ہے: ایرانی صدر    space   

عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا


2026-04-17

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق بڑھتی امیدیں ہیں۔ اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821.44 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ جون کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.4 فیصد بڑھ کر 4,844.40 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ ڈالر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس سے دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا سستا ہو گیا، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ایران جنگ بندی کی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمت 4,900 ڈالر سے اوپر جاتی ہے تو اگلا ہدف نفسیاتی حد 5,000 ڈالر ہو سکتا ہے۔ ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر امید ظاہر کی ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے مزاحمت جاری رکھی تو اس پر معاشی دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں اب بھی معمول سے کم ہیں۔ یاد رہے کہ فروری میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کمی بھی آ چکی ہے، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتوں سے مہنگائی بڑھنے اور شرح سود زیادہ رہنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔ اگرچہ سونے کو مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس کی طلب کو متاثر کرتی ہے کیونکہ یہ منافع نہیں دیتا۔ امریکا میں تاجروں کے مطابق اس سال شرح سود میں کمی کا امکان اب 29 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ جنگ سے قبل دو بار کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 80.41 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد بڑھ کر 2,135.58 ڈالر، جبکہ پیلیڈیم 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,587.39 ڈالر تک پہنچ گیا۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر

2026-04-17

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی معاشی اصلاحات پر اظہارِ اطمینان کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات کی۔ ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی معاشی پیشرفت کی تعریف کی اور کہا کہ اصلاحاتی پروگرام پر مؤثرعملدرآمد اور معیشت میں استحکام آیا ہے۔ ایم ڈی آئی ایم ایف نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا، مضبوط معاشی پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔ کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا تھا کہ ساختی اصلاحات جاری رکھنا ترقی کے لیے ضروری ہیں۔

سعودیہ کی مالی معاونت بیرونی

2026-04-17

وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہےکہ سعودی عرب کی مالی معاونت اہم ہےجوبیرونی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کرےگی۔ وزیرخزانہ نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس کے موقع پرموڈیزکے نمائندگان سے ملاقات کی جس میں معاشی صورتحال اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کرلی ہے، تمام قرض دہندگان کی ذمہ داریاں بروقت پوری کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی مالی معاونت اہم ہےجوبیرونی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کرےگی۔ اس کے علاوہ وزیرخزانہ نےعالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی کےلیے درمیانی مدت کی حکمت عملی پرروشنی ڈالی جب کہ وزیرخزانہ نے جاری علاقائی صورتحال کے تناظرمیں توانائی شعبے میں حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا

2026-04-17

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق بڑھتی امیدیں ہیں۔ اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821.44 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ جون کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.4 فیصد بڑھ کر 4,844.40 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ ڈالر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس سے دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا سستا ہو گیا، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ایران جنگ بندی کی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمت 4,900 ڈالر سے اوپر جاتی ہے تو اگلا ہدف نفسیاتی حد 5,000 ڈالر ہو سکتا ہے۔ ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر امید ظاہر کی ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے مزاحمت جاری رکھی تو اس پر معاشی دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں اب بھی معمول سے کم ہیں۔ یاد رہے کہ فروری میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کمی بھی آ چکی ہے، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتوں سے مہنگائی بڑھنے اور شرح سود زیادہ رہنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔ اگرچہ سونے کو مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس کی طلب کو متاثر کرتی ہے کیونکہ یہ منافع نہیں دیتا۔ امریکا میں تاجروں کے مطابق اس سال شرح سود میں کمی کا امکان اب 29 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ جنگ سے قبل دو بار کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 80.41 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد بڑھ کر 2,135.58 ڈالر، جبکہ پیلیڈیم 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,587.39 ڈالر تک پہنچ گیا۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی

2026-04-17

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہونے سے پیٹرول و ڈیزل سستا ہونے کا امکان ہے۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 44 سینٹ کی کمی ہونے سے نرخ 94.49 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اگر اضافہ بھی ہوتا ہے تو وہ بھی معمولی نوعیت کا ہوتا ہے، جنگ بندی کی وجہ سے قیمتوں میں استحکام آ رہا ہے۔ برطانوی برینٹ خام تیل کے برعکس امریکی ویسٹ ٹیکساس 90.59 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا اثر دنیا بھر کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے، اگر کمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان میں بھی پیٹرول و ڈیزل سستا ہو سکتا ہے لیکن اس کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔

اسٹیٹ بینک نے ملکی کرنٹ

2026-04-17

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک نے ملکی معیشت کے حوالے سے اہم اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں ایک ماہ میں 363 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 7 کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔ جبکہ مارچ 2025 میں یہ سرپلس ایک ارب 27 کروڑ ڈالر تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نکل کر 17 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس ہو گیا۔ جبکہ اس سے قبل پہلے 8 ماہ میں یہ 89 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خسارے میں تھا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 75 کروڑ ڈالر سرپلس تھا۔ جبکہ فروری 2026 میں یہ 23 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا۔

عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا

2026-04-16

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق بڑھتی امیدیں ہیں۔ اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821.44 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ جون کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.4 فیصد بڑھ کر 4,844.40 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ ڈالر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس سے دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا سستا ہو گیا، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ایران جنگ بندی کی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمت 4,900 ڈالر سے اوپر جاتی ہے تو اگلا ہدف نفسیاتی حد 5,000 ڈالر ہو سکتا ہے۔ ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر امید ظاہر کی ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے مزاحمت جاری رکھی تو اس پر معاشی دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں اب بھی معمول سے کم ہیں۔ یاد رہے کہ فروری میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کمی بھی آ چکی ہے، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتوں سے مہنگائی بڑھنے اور شرح سود زیادہ رہنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔ اگرچہ سونے کو مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس کی طلب کو متاثر کرتی ہے کیونکہ یہ منافع نہیں دیتا۔ امریکا میں تاجروں کے مطابق اس سال شرح سود میں کمی کا امکان اب 29 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ جنگ سے قبل دو بار کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 80.41 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد بڑھ کر 2,135.58 ڈالر، جبکہ پیلیڈیم 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,587.39 ڈالر تک پہنچ گیا۔

سونا مزید مہنگا ہو گیا

2026-04-16

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 1400روپے بڑھ گئی جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 4 ہزار 862 روپے کا ہو گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 1200 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 32 ہزار 837 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں 14 ڈالر کے اضافے سے فی اونس سونا 4 ہزار 825 ڈالر کا ہو گیا۔

آئل کمپنیز کا ڈیزل کی قیمتوں

2026-04-16

اسلام آباد: ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں حالیہ تبدیلیوں پر تحفظات اور 128 ارب روپے کے بقایا جات پر آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں حالیہ تبدیلیوں اور پرائس ڈیفرنشل کلیمز کی ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا مالی دباؤ پیٹرولیم سیکٹر کی لیکویڈیٹی (نقدی کے بہاؤ) کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے ملک بھر میں ایندھن کی سپلائی کا نظام خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کو 13 اپریل 2026 کو لکھے گئے ایک تفصیلی خط میں صنعتی ادارے نے کہا ہے کہ دو بیک وقت ہونے والی تبدیلیاں، یعنی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں ترمیم اور ریگولیٹری ادائیگیوں میں تاخیر،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ’’شدید مالی دباؤ‘‘ ڈال رہی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کمپنیاں ملک بھر میں ایندھن کی خریداری اور تقسیم کی ذمہ دار ہیں۔

ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت

2026-04-16

اسٹیٹ بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا۔ اسٹیٹ بینک اعلامیے کے مطابق 2018 کا پرانا ورچوئل کرنسی سرکلر ختم کردیا گیا ہے جب کہ نیا فریم ورک نافذ کردیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی لائسنسنگ اور نگرانی کی ذمہ دار ہو گی، اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹڈ ادارے لائسنس یافتہ وی اے ایس پیز اکاؤنٹس کھول سکیں گے۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ بینکوں کو وی اے ایس پی کا لائسنس حاصل کر کے اس کی تصدیق کرنا ہو گی، صارفین کے فنڈز کے لیے علیحدہ کلائنٹ منی اکاؤنٹس ہوں گے اور رقوم ملانا ممنوع ہو گا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ اکاؤنٹس روپے میں ہوں گے اور نقد جمع یا نکاسی کی اجازت نہیں ہو گی، بینک وی اے ایس پیز کی جانچ پڑتال کریں گے اور نگرانی یقینی بنائیں گے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ مشکوک لین دین رپورٹ ایف ایم یو کو ہو گی اور قوانین پرعمل لازم ہو گا، بینک فنڈز یا صارفین کی رقوم سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے۔ اعلامیے کے مطابق ورچوئل کمپنیوں کیلئے علیحدہ کلائنٹ منی اکاؤنٹس رکھنا لازمی ہوگا،این او سی رکھنے والی کمپنیوں کو محدود نوعیت کے اکاؤنٹس کی اجازت دی گئی ہے،۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کورسمی مالیاتی نظام میں شامل کرنےوالےممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ چیئرمین پی وی اے آر اے بلال بن ثاقب کے مطابق یہ پاکستان کےمالیاتی نظام میں ورچوئل اثاثوں کوشامل کرنےکی بنیادی پیشرفت ہے،لائسنس یافتہ اداروں کو بینکاری رسائی دے کر شفافیت اور ضابطہ مضبوط ہوگا۔

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان

2026-04-16

اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کےلیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق یورپی یونین نے پاکستان میں اعلیٰ سطح کے بزنس فورم کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، ای یو پاک بزنس فورم 28 اور 29 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں یورپی اور پاکستانی سرمایہ کار کاروباری شخصیات شرکت کریں گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین دنیا کی سب سے بڑی سنگل مارکیٹ اورپاکستان کی بڑی برآمدی منڈی ہے، فورم کا مقصد تجارتی تعلقات کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ ای یو پاک بزنس فورم میں زرعی کاروبار، ڈیجیٹل انوویشن، فن ٹیک،گرین لاجسٹکس، ٹیکسٹائل، اہم شعبے زیرغور آئیں گے، یورپی یونین کا گلوبل گیٹ وے پروگرام پاکستان میں 400 ارب یورو کی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا جبکہ پاکستان میں 300 سے زائد یورپی کمپنیاں پہلے ہی مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ فورم کے دوران 600 سے زائد بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں شیڈول ہیں، سرمایہ کاروں اوریورپی مالیاتی اداروں کے درمیان خصوصی ملاقاتیں بھی ہوں گی، فورم پاکستان کو یورپی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مرکز بنانے میں مدد دے گا۔ یورپی یونین نے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کے عزم کا اعادہ بھی کیا اور کہا کہ فورم سے نجی شعبے کے روابط مزید مضبوط ہوں گے۔