بھارت نے امریکا کے

2026-02-23
امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات مؤخر کر دیے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت نے واشنگٹن بھیجے جانے والے اپنے تجارتی وفد کا دورہ اس وقت مؤخر کر دیا جب امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات کو مسترد کر دیا، جس کے بعد نئی تجارتی پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور تاحال نئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ ادھر صدر ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے کے بعد تمام ممالک سے درآمدات پر 15 فیصد عارضی محصول عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔ مجوزہ عبوری معاہدے کے تحت امریکا کچھ بھارتی برآمدات پر محصولات کم کرنے پر آمادہ تھا جبکہ بھارت آئندہ پانچ برسوں میں توانائی، طیاروں، قیمتی دھاتوں اور ٹیکنالوجی مصنوعات سمیت بڑی مالیت کی امریکی اشیا خریدنے پر تیار تھا۔ بھارتی اپوزیشن جماعت نے بھی عدالتی فیصلے کے بعد معاہدے کو مؤخر کر کے ازسرنو بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔
بینک ایس ایم ایس کی مد میں صارفین
2026-04-02
سینیٹ کمیٹی خزانہ میں انکشاف ہوا ہے کہ بینک ایس ایم ایس کی مد میں صارفین سے 3.40 روپے فی میسیج وصول کر رہےہیں ، بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں کی بھاری ایس ایم ایس چارجز کی ذمہ داری ایک دوسرےپر ڈالنےکی کوشش کی۔ قائمہ کمیٹی نے صارفین سے ایس ایم ایس چارجز وصولی کا ایک سال کا ڈیٹا طلب کر لیا ۔ بینکوں کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا 2021 میں ایک ایس ایم ایس کے چارجز صرف 42 پیسے تھے ، جو 2025 میں 3 روپے 40 پیسے فی میسیج کر دیئے گئے ، ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ایس ایم ایس چارجز کم کئے بغیر بینک کچھ نہیں کر سکتے ، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک عنایت حسین نے بتایا بینکوں نے ایس ایم ایس کی مد میں صارفین سے 18 ارب 70 کروڑ روپے سالانہ فیس وصول کی ۔ جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو 25 ارب 60 کروڑ روپےادائیگی کی گئی ۔ یوں بینکوں نے کمپنیوں کو 7 ارب روپے اضافی ادا کئے۔ سینیٹر عبدالقادر نےکہا بینک 400 ارب روپے سالانہ منافع کما رہےہیں ۔ اگر 7 ارب روپے دے بھی دیں تو زیادہ بڑی بات نہیں ۔ یہ دو پیسے کا ایس ایم ایس تین سو پیسےمیں کیوں بیچ رہے ہیں ۔ ٹیلی کام کمپنی کے نمائندے نے کہا ہمارے اوپر چور اچکوں کا لیبل لگا ہوا ہے ۔ لیکن ہمارا بزنس شفاف ہے ، کئی بار آڈٹ ہو چکا ۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا ٹیلی کام کمپنیوں کی فی ایس ایم ایس کاسٹ ایک سے دو پیسے ہے ۔ کمرشل بینک بھی اس میں پیسہ بنا رہے ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نےکہا صارفین سے ایس ایم ایس چارجز کی وصولی کا ایک سال کا ڈیٹا فراہم کیا جائے ۔ ڈیٹا ملنے کے بعد صارفین کو درپیش اس مسئلے کا حل نکالیں گے ۔ جب سارا ڈیٹا آ جائے گا تو فی ایس ایم ایس لاگت کا بھی تعین ہو جائے گا ۔
ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں
2026-04-02
وفاقی حکومت مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کو 610 ارب روپے کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہ بات ایکسپریس نےبتائی۔ دستاویزات کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ ایف بی آر جولائی سے مارچ تک تقریباً 9.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کر سکا، جو کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے مقررہ ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے۔اس دوران محصولات میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا، جو سالانہ ہدف حاصل کرنے کیلیے درکار رفتار کا تقریباً نصف ہے۔ حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے بھی محصولات پر منفی اثر ڈالا، صرف مارچ کے مہینے میں تقریباً 100 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث درآمدات متاثر ہوئیں، جس سے 65 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی، جبکہ گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث کھاد کے کارخانوں نے بھی متوقع ٹیکس سے 35 ارب روپے کم ادا کیے۔ مزید برآںایف بی آر نے 447 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے، جس میں مارچ کے دوران 61 ارب روپے شامل ہیں، جس سے بھی مجموعی وصولیوں پر دباؤ پڑا۔آئی ایم ایف نے مزید رعایت دینے سے انکار کرتے ہوئے سالانہ ہدف 13.98 کھرب روپے برقرار رکھا ہے، جس کے حصول کے امکانات اب انتہائی کم دکھائی دیتے ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت محصولات میں بہتری کیلیے اصلاحات جاری رکھے گی۔مارچ کے مہینے میں بھی ایف بی آر مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکا اور 1.37 کھرب روپے کے مقابلے میں صرف 1.182 کھرب روپے جمع کیے گئے، جو 185 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ مہینوں میں بھی محصولات پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
پاک وہیلز کا نیا ٹیزر: کیا ایک
2026-04-02
پاک وہیلز ڈاٹ کام نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک پراسرار ٹیزر شیئر کر کے پاکستان کی آٹوموٹو کمیونٹی میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمپنی ایک ممکنہ طور پر سب سے بڑے اقدام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس ٹیزر میں ایک شاندار گاڑی کو ڈھانپ کر پیش کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ کیپشن لکھا گیا ہے: وه لمحہ جس کا ہم سب کوانتظار تھا،اس پوسٹ نے شائقین اور ماہرین میں تجسس اور جوش و خروش پیدا کردیا ہے۔ مداحوں اور شائقین نے کمنٹس میں اپنے اندازے اور نظریات شیئر کرنا شروع کردیے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ پاک وہیلز اپنی گاڑی یا کار برینڈ لانچ کرنے جارہی ہے جبکہ دیگر بحث کررہے ہیں کہ یہ نئی سیڈان، نئی جنریشن کورولا یا کیا کی کوئی گاڑی ہوسکتی ہے۔ کچھ مداح مزاحیہ انداز میں مینوئل ویرینٹ کی خواہش ظاہر کررہے ہیں۔ ایم جی ، شاید ہنڈائی یا یہ تجویز دے رہے ہیں کہ برانڈ کا نام منج ہوسکتا ہے۔ یہ ہلچل ناصرف شائقین کی گاڑیوں کے شوق کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مقامی آٹو موٹو منظر نامے میں جدت کے لیے ان کی بے تابی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ پاک وہیلز نے کوئی تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں ۔ یہ ٹیزر یقینی طور پر زبردست توقعات پیدا کرچکا ہے ۔ چاہے یہ ایک ذاتی گاڑی، سٹریٹیجک تعاون یا بالکل نئے موبیلٹی تصور کی جانب اشارہ ہو۔ آن لائن جوش و خروش ظاہر کرتا ہے آٹو موٹو کمیونٹی بے صبری سے "وہ لمحہ جس کا ہم سب کو انتظار تھا" کا انتظار کررہی ہے۔
امریکا نے تیل کی پیداوار میں
2026-04-02
کراچی: امریکا میں تیل کی پیداوار سعودی عرب اور روس کی مجموعی پیداوار سے بھی آگے نکل گئی جس کے بعد امریکا تیل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ 2026 کے بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا ایک بار پھر دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن کر ابھرا ہے، اس کی یومیہ پیداوار دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ممالک سعودی عرب اور روس کی مجموعی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں امریکا کی اوسط تیل پیداوار تقریباً13.6 ملین بیرل یومیہ رہے گی اور 2027 میں پیداوار بڑھ کر 13.8ملین بیرل یومیہ تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی درجہ بندی کے مطابق دنیا کے 10 سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں امریکا پہلے، سعودی عرب دوسرے اور روس تیسرے نمبر پر ہیں۔ تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کی یومیہ پیداوار 20.9ملین سے22.8 ملین بیرل کے درمیان ہے جو دنیا کی کل پیداوار کا 15 سے20 فیصد حصہ بنتی ہے۔ یہ مقدار نہ صرف سعودی عرب کی10.8 سے11.2ملین بیرل یومیہ پیداوار سے زیادہ ہے بلکہ روس کی10.5 سے 10.9ملین بیرل یومیہ پیداوار کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔
مارچ میں مہنگائی کی
2026-04-02
پاکستان میں مارچ 2026 کے دوران مہنگائی کی سالانہ شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو حکومتی اندازوں سے کم ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق فروری میں یہ شرح 7 فیصد تھی، جبکہ مارچ 2025 میں مہنگائی نہایت کم سطح 0.69 فیصد پر ریکارڈ کی گئی تھی۔ جاری مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 5.65 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 5.24 فیصد تھی۔ وزارتِ خزانہ نے مارچ کیلئے مہنگائی کا تخمینہ 7.5 سے 8.5 فیصد کے درمیان لگایا تھا، تاہم اصل شرح اس سے کم رہی۔ رپورٹ کے مطابق بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافے، خصوصاً عید کے موقع پر، معاشی سرگرمیوں پر مثبت اثر ڈالنے کی توقع ہے، تاہم یہ میزبان ممالک کی معاشی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ بروکریج ہاؤسز عارف حبیب لمیٹڈ اور جے ایس گلوبل نے بھی مہنگائی کی شرح بالترتیب 7.6 اور 7.3 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔
ایران جنگ جاری رکھنے
2026-04-02
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ جاری رکھنےکے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد برطانوی خام تیل کی نئی قیمت 105.55 ڈالر فی بیرل ہوگئی، امریکی خام تیل کی قیمت بھی اضافے کے بعد 105 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس کے علاوہ یو اے ای مربن خام تیل 3 فیصد کمی کےساتھ 103 ڈالر کی سطح پر موجود ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر نے عوام سے خطاب میں ایران جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد تمام فوجی مقاصد حاصل کرلیے جائیں گے، صدر ٹرمپ نے آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران پر مزید شدید حملے کرنے کا بھی اعلان کردیا۔
عوام پر پیٹرول بم گرانے
2026-04-02
اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں درآمدی لاگت کے مقابلے میں 100 روپے اور ڈیزل میں 200 روپے فی لیٹر سے زائد کا فرق موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے تاہم آئندہ چند روز میں نئی قیمتوں کا اعلان کردیا جائے گا۔
ٹرمپ کا ایران پر مزید
2026-04-02
کراچی: امریکی صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے بڑھانے کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید مندی کا رجحان ہے۔ جمعرات کو کاروبار کے آغاز سے ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی جارہی ہے اور ابتدا میں ہی 100 انڈیکس 3763 پوائنٹس کم ہوکر 151748 پر چلا گیا۔ کاروبار کے دوران مارکیٹ میں مزید منفی رجحان دیکھنے میں آیا اور 100 انڈیکس 4088 پوائنٹس کم ہوکر 151423 پر چلا گیا۔ پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 2.63 فیصد کم ہوا ہے۔ واضح رہےکہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ کے ایران جنگ سے جلد نکلنے کے بیان کے بعد مارکیٹ میں بڑی تیزی دیکھی گئی تھی۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال،
2026-04-01
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ برطانوی خام تیل کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ گئی ہے، امریکی خام تیل کی فروخت 103 ڈالر فی بیرل ہو رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز پر تقریباً 3 ہزار جہاز پھنسے ہوئے ہیں، متحدہ عرب امارات میں تیل بحران کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 سے 70 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ ڈیزل کی نئی قیمت 2.72 درہم اضافے کے بعد 4.69 درہم تک پہنچ گئی ہے ۔ سپر پیٹرول، اسپیشل نائنٹی فائیو اور ای پلس نائنٹی ون پیٹرول کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں مختلف ممالک
2026-04-01
ایران پر جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں مختلف ممالک کے تقریباً 3 ہزار جہاز پھنس گئے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور ترسیل کا نظام شدید متاثر ہو گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ٹرانسپورٹ کمپنیاں متبادل اور طویل زمینی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے نقل و حمل کے اخراجات میں 200 فیصد تک اضافہ اور ترسیل کے وقت میں تین گنا تک تاخیر ہو گئی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ان ممالک کیلئے بند کی گئی ہے جو جارحیت میں ملوث ہیں، جبکہ دیگر ممالک ایرانی حکام سے رابطہ کرکے اپنے جہاز گزار سکتے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق کم از کم 18 بھارتی پرچم بردار جہاز، جن میں ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی لے جانے والے جہاز شامل ہیں، آبنائے ہرمز میں محصور ہیں۔ رپورٹس کے مطابق خلیج فارس کے دیگر سمندری علاقے بھی ہائی رسک زون قرار دیے جا چکے ہیں، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم تجارتی راستے کی بندش بھارت سمیت خطے کے کئی ممالک میں توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
