حکومت نے 6 ماہ میں 1254 ارب

2026-01-23
پاکستان نے 6 ماہ میں ایک ہزار 254 ارب روپے بیرونی قرضہ لیا۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت 29 فیصد یعنی 280 ارب روپے زیادہ قرضہ ملا، جولائی تا دسمبرپاکستان کو17ارب67 کروڑ روپےکی گرانٹ بھی ملی۔ دستاویز میں کہا ہے کہ جولائی تا دسمبر مجموعی بیرونی مالی معاونت ایک ہزار 272 ارب ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی کرنسی میں پاکستان کو 6 ماہ میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالرموصول ہوئے، ڈالر ٹرمز میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 904 ملین زیادہ ملے۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال پہلے 6 ماہ میں3 ارب60 کروڑ ڈالرحاصل ہوئے تھے، پاکستان کو اس دوران آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ اس کے علاوہ ہے، 6 ماہ میں نان پراجیکٹ ایڈ 785 ارب، پراجیکٹ ایڈ 487 ارب روپے رہی جبکہ بجٹ سپورٹ کیلئے 458 ارب 72 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 170 ارب روپے کی آئل فیسلیٹی دی، اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو137 ارب روپے قرض دیا اور پراجیکٹ ایڈ کی مد میں پاکستان کو487 ارب روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال4 ہزار507 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لینے کا ہدف ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں کمی
2026-01-31
پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔ آج رات بارہ بجے یکم فروری سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہو جائے گا، پیٹرول 36 پیسے سستا ہونے کی توقع ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے 47 پیسے اضافہ ہو سکتا ہے۔مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 45 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں تقریباً 7 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز ہے۔ دو دن میں سونے کی قیمت میں تاریخی کمی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد ہو گا۔
جون 2026 تک سونے کی
2026-01-31
جون 2026 تک عالمی سطح پر سونے کی قیمت کہاں تک جائیگی؟نئی پیشگوئی کردی گئی۔ یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (UBS) نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کے وسط تک عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 6 ہزار 200 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جاسکتا ہے۔ تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سونے کی قیمت دھڑم سے گر گئی قبل ازیں عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیچز(Goldman Sachs) نے سونے کی قیمت سے متعلق پیش گوئی کی تھی جس کے مطابق 2026 کے اختتام تک فی اونس سونے کی قیمت 5,400 ڈالر تک جاسکتی ہے۔ یاد رہے گزشتہ شب سونے کی قیمت 5 ہزار 594 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد اچانک 5 فیصد کمی کے ساتھ 5 ہزار 109 ڈالر تک آ گئی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مختصر مدت میں قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم مجموعی طور پر سونے کی کارکردگی اب بھی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔ سونے اور چاندی کی قیمتیں گرنے سے 3 کھرب ڈالر کا نقصان ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا ماہانہ بنیادوں پر 24 فیصد اضافے کے ساتھ سال 1980 کے بعد اپنی بہترین پوزیشن میں ہے، جو عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی معاشی اشاریوں، امریکی ڈالر کی قدر، شرح سود اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی فیصلے سے قبل احتیاط سے کام لیں۔
9 اشیاء ضروریہ سستی
2026-01-31
ملک میں 9 اشیاء ضروریہ سستی ،18 مہنگی ہوگئیں ،24 کی قیمتوں میں استحکام رہا، ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر کمی جبکہ سالانہ بنیادوں پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دسمبر میں مہنگائی میں کمی، ادارہ شماریات کی ماہانہ رپورٹ جاری پاکستان بیورو برائے شماریات کے مطابق گذشتہ ہفتہ کے دوران آلو کی قیمت میں 7.81 فیصد، پیاز 6.66 فیصد، نمک پائوڈر 1.36 فیصد، آٹا 1.17 فیصد، دال مسور 0.75 فیصد، انڈے 0.30 فیصد، گڑ 0.24 فیصد اور باسمتی چاول کی قیمت میں 0.08 فیصد کی کمی ہوئی۔ اس کے برعکس ٹماٹر کی قیمت میں 7.53 فیصد، چکن 3.25 فیصد، کیلا 3.07 فیصد، ایل پی جی 1.56 فیصد، دال ماش 1.49 فیصد، دال چنا 1.31 فیصد، سرخ مرچ پائوڈر 0.66 فیصد، دال مونگ 0.61 فیصد، جلانے کی لکڑی 0.37 فیصد، اڑھائی کلو بناسپتی گھی 0.32 فیصد اور سگریٹ کی قیمت میں 0.24 فیصد کا اضافہ ہوا۔
بلوچستان میں گندم کی قلت
2026-01-31
بلوچستان میں گندم کی قلت کے باعث ایک کلو آٹا 145روپے کا ہوگیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اندورن صوبہ 20 کلو آٹےکے تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپےسے تجاوزکرگئی ہے۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک کے پاس گندم کا اسٹاک موجود نہیں ہے، پنجاب اور سندھ سے گندم لانے پر پابندی ہے، نئی فصل آنے تک صوبےکے شہریوں کو مہنگے داموں آٹا خریدنا پڑے گا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر خوراک نے بتایاکہ صوبائی حکومت نےگندم نہ خریدنےکافیصلہ کیاہے۔
لاکھوں روپے لاگت والی آلو
2026-01-31
ملک میں اس بار آلو کی گرتی قیمتوں سے کاشت کاروں کے ساتھ مڈل مین بھی پریشان ہیں اور ڈھائی تین لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت والی آلو کی فصل کے 50 ہزار دینے والا بھی کوئی نہیں جس جے باعث نئی فصل لگانا بھی نا ممکن ہو گیا۔ افغانستان اور ایران کا بارڈر بند ہونے کےباعث پنجاب میں آلو کی فصل کا خریدار کوئی نہیں، زیادہ پیدوار کی وجہ سے آلو اسٹور کرنے میں بھی گھاٹا ہے اور آلو کی فصل نہیں اٹھائی جارہی۔ اگلی فصل میں بھی تاخیر کا سامنا ہے۔ 3 لاکھ روپے والا آلو کا ایک ایکڑ 40 یا 50 ہزار روپے میں بھی نہیں بک رہا، کسان قرضے تلے دب چکے ہیں۔ آڑھتیوں کا کہنا ہے ایک وقت تھاکہ آڑھتی اور کولڈ اسٹوریج والےکسانوں سے سستا آلو خرید کر رکھ لیتے تھے اور پھر صارفین کو 100 سے 150 روپے کلو بیچتے تھے لیکن اب کوئی 10 روپے کلو بھی لینے والا نہیں۔ محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سال آلو کی پیداوار زیادہ ہے کوشش ہے زیادہ سے زیادہ ایکسپورٹ کریں۔ اسٹور مالکان کے مطابق جو کاشت کار آلورکھوا گئے تھے وہ بھی لینے نہیں آرہے، ہم مجبوراً جانوروں کے چارے کےطورپر اونے پونے داموں بیچ رہے ہیں۔ الو کے کاشت کاروں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس وقت وہ مشکلات کا شکار ہیں، مزید تباہی سے بچانے کیلئے ایکسپو رٹ کا راستہ نکالا جائے اور ان کی مدد کی جائے ورنہ نئی فصل اگانا ممکن نہیں گا۔
امریکی مالیاتی تسلط
2026-01-31
اسلام آباد: امریکی مالیاتی تسلط کے خلاف عالمی دباؤ کے باعث بھارت، چین اور برکس نے ڈالر سے منہ موڑ لیا۔ دہائیوں تک امریکی ڈالر کی حکمرانی قائم رہی، جس نے عالمی تجارت، زرمبادلہ کے ذخائر اور اشیاء کی منڈیوں کو سہارا دیا لیکن اب یہ برتری ایک ایسے دباؤ کی زد میں ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایشیا، افریقا، لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک اب اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی ایک ملک کے زیرِ اثر واحد کرنسی پر انحصار کرنا دانشمندی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اب تیزی سے ایسے متبادل ذرائع تیار کر رہے ہیں جو عالمی مالیاتی نظام کا ڈھانچہ بدل کر رکھ سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کی قیادت چین، روس اور بھارت کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران، بھارت نے 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کیے ہیں جو کہ ان کے ذخائر میں 21 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ گزشتہ چار سالوں میں پہلی بار ہے کہ ان ذخائر میں سالانہ بنیادوں پر اتنی بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ چین نے اکتوبر 2024 اور اکتوبر 2025 کے درمیان 71 ارب ڈالر مالیت کے امریکی قرضے (ٹریژری بانڈز) فروخت کر دیے ہیں۔ برکس ممالک نے مجموعی طور پر صرف ایک ماہ کے دوران اپنے امریکی ٹریژری ذخائر میں 29 ارب ڈالر کی کمی کی ہے، جو کہ ریزرو مینجمنٹ میں ایک خاموش لیکن مربوط تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔ ڈالر کی کمزوریاں اب بالکل واضح ہو چکی ہیں۔ امریکی حکومت کا قرضہ 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، شرحِ سود میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے، بانڈز کی قیمتیں گر گئی ہیں اور قرض لینے کی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ جغرافیائی سیاسی خطرات اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ مغربی پابندیوں کے تحت روس کے ڈالر کے ذخائر کو منجمد کر دیا گیا، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ ڈالر کے اثاثوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالات کا سبق بالکل واضح ہے: تمام تر مالیاتی بھروسہ کسی ایک واحد کرنسی پر کرنا اب محفوظ نہیں رہا۔ اس کے نتیجے میں، اقوام اپنی سرمایہ کاری کو مختلف اثاثوں میں تقسیم کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ’’سونا‘‘ ایک بار پھر زرمبادلہ کے ذخائر کی حکمت عملیوں کے مرکز میں واپس آ گیا ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کے برعکس، سونے میں دیوالیہ ہونے یا پابندیوں کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا، جو بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی افراتفری میں استحکام فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح، تجارت اور ادائیگیوں کا نظام بھی تیزی سے ڈالر کے دائرہ کار سے باہر نکل رہا ہے۔ چین 40 سے زائد ممالک کے ساتھ ’’یوآن‘‘ میں لین دین کر رہا ہے، جبکہ بھارت نے 20 ممالک کے بینکوں کے ساتھ ’’روپے‘‘ کے خصوصی اکاؤنٹس قائم کر لیے ہیں۔ بھارت نے برکس پر مبنی ایک ڈیجیٹل کرنسی نیٹ ورک کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ ’پروجیکٹ ایم برج‘ کے تحت مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے تجربات کیے جا رہے ہیں، جنہیں سونے اور قومی کرنسیوں کا تحفظ حاصل ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ڈالر کی غیر چیلنج شدہ برتری کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔ جے پی مورگن کی جوائس چانگ مشاہدہ کرتی ہیں کہ امریکی ڈالر ایک اہم عالمی کرنسی کے طور پر تو برقرار رہے گا، لیکن اب یہ واحد غالب عالمی کرنسی نہیں رہے گا۔
وزیراعظم کا بڑا اعلان؛
2026-01-30
وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری اور صنعتوں کے لیے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ویلنگ چارجز میں صنعتوں کے لیے 9 روپے کمی اور ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کی شرح ساڑھے 7 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دل تو چاہتا ہے بجلی 10 روپے سستی کی جائے، مگر بعض مجبوریوں کے باعث ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے برآمدکنندگان اور نمایاں کاروباری شخصیات کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ دیا جائے گا، جس کی تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ برآمدکنندگان اور کاروباری طبقہ ملکی معیشت کا سر کا تاج ہیں اور آئندہ معاشی پالیسیاں تاجر برادری سے مشاورت کے بعد تشکیل دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدکنندگان نے مشکل حالات میں محنت کر کے 2025 میں ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا اور اربوں ڈالر ملک میں لائے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں اور کچھ لوگوں نے ملک کو تکنیکی طور پر ڈیفالٹ قرار دے دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 میں پیرس سمٹ کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط پر بات چیت ہوئی، تاہم چین، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا گیا۔ ان کے مطابق اب معیشت مستحکم ہو چکی ہے، مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے اور پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد تک آ چکا ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ صورتحال ابھی مزید بہتری کی متقاضی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ذخائر پہلے سے دگنے ہو چکے ہیں اور حکومت اخراجات کم کرنے، نجکاری اور شفافیت کے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے شوگر سیکٹر، یوٹیلیٹی اسٹورز اور پاسکو میں کرپشن کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سخت فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام میں سیکیورٹی اداروں نے اہم کردار ادا کیا اور پیٹرول کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے معاشی اصلاحات جاری رہیں گی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے رابطے تیز کیے جا رہے ہیں۔
سیمنٹ کی فروخت میں سالانہ
2026-01-30
جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ملک میں سیمنٹ کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر9فیصد جبکہ برآمدات میں ایک فیصداضافہ ریکارڈکیاگیاہے۔ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں 29.94ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 9فیصدزیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملک میں 27.54ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی تھی۔ جنوری میں ملک میں 4.15ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت کااندازہ ہے جوگزشتہ سال جنوری کے 4.03ملین ٹن کے مقابلہ میں 3فیصدزیادہ ہے۔ اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملک کے شمالی شہروں وعلاقوں میں 20.66ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 12فیصدزیادہ ہے،گزشتہ مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملک کے شمالی شہروں وعلاقوں میں 18.38ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی تھی۔ مالی سال کے پہلے7ماہ میں ملک کے جنوبی شہروں وعلاقوں میں 3.82ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.77ملین ٹن کے مقابلہ میں ایک فیصدزیادہ ہے۔ اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں 5.46ملین ٹن سیمنٹ کی برآمدات ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 5.39ملین ٹن کے مقابلہ میں ایک فیصدزیادہ ہے۔ جنوری میں ملک سے 0.83ملین ٹن سیمنٹ کی برآمدات کااندازہ ہے جوگزشتہ سال جنوری کے 0.58ملین ٹن کے مقابلہ میں 43فیصدزیادہ ہے۔
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر
2026-01-30
ملکی زرمبادلہ کے مجوعی ذخائر میں ساڑھے 3 کروڑ ڈالر سے زائد اضافہ ہوگیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر 1کروڑ34 لاکھ ڈالر اضافے سے 16ارب10کروڑ ڈالر ہوگئے۔ نئے کرنسی نوٹ مارکیٹ میں کب دستیاب ہوں گے؟ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا اسی طرح کمرشل بینکوں کے ذخائر 2کروڑ17لاکھ ڈالر اضافہ سے 5ارب19 کروڑ ڈالرزکی سطح پر آگئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی مجموعی ذخائر 3کروڑ51لاکھ ڈالرز اضافہ سے 21ارب29 کروڑ ڈالرز ہوگئے ہیں۔
امریکا، ایران کشیدگی؛
2026-01-30
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج کے خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے تیار کردہ تخمینوں کے مطابق یکم فروری 2026 سے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 9.47 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکام کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 3.69 روپے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6.95 روپے فی لیٹر اضافے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑ رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی بھی اضافے سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔ حتمی فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات کی روشنی میں وفاقی حکومت کرے گی۔
