مئی میں سمندر پار پاکستانیوں

2026-06-11
کراچی: پاکستان میں بیرون سے آنے والی ترسیلات زر میں اضافہ ہوگیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ خرم شہزاد کے مطابق مئی میں سمندرپار پاکستانیوں نے 4 ارب 25 کروڑ ڈالر وطن بھیجے۔ خرم شہزاد کے مطابق جولائی تا مئی ترسیلات زر 9 فیصد اضافے سے 38 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال کے اختتام تک ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
2026-06-12
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کے دوران ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمت میں 1.62 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد اس کے سودے 86.29 ڈالر فی بیرل میں طے پائے۔ برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 1.29 فیصد کمی دیکھی گئی اور اس کے سودے 89.09 ڈالر فی بیرل میں ہوئے۔ ماہرین کے مطابق عالمی طلب و رسد کی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں، کمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بھی مزید کمی ہو سکتی ہیں، اس کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔
امریکا ایران کشیدگی کے اثرات
2026-06-12
ورلڈ بینک نے عالمی اقتصادی سست روی اور مہنگائی میں اضافے سے خبردار کر دیا۔ ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جبکہ رواں سال عالمی ترقی کی رفتار کورونا وبا کے بعد سب سے سست رہنے کا امکان ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں سال عالمی اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ 2.9 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں، مہنگائی میں اضافہ اور قرض لینے کی بلند لاگت عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر سپلائی چین میں رکاوٹیں مزید بڑھ گئیں تو عالمی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 36 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اور اس کی اوسط قیمت 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کی صورت میں عالمی مہنگائی کی شرح 4 فیصد تک جا سکتی ہے، جو گزشتہ سال 3.3 فیصد رہی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جنوری کے بعد دنیا کے دو تہائی ممالک کے لیے اقتصادی ترقی کی پیش گوئیوں میں کمی کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی معاونت کے لیے 60 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس امدادی پیکیج کو 100 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی
2026-06-12
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کردیا۔ اسلام آباد میں قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معشیت متاثر ہوئی جب کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، معاشی ترقی کی شرح نمو3.7فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاوئنٹ 72 ملین ڈالر مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصدرہی، ڈیری اورلائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصدحصہ ہے۔سیمنٹ سیکٹر میں 10 فیصد، فرٹیلائزر سیکٹر میں17فیصد گروتھ ہوئی، ٹیکس محصولات میں 11.3فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ2 سال میں بتدریج کمی ہوئی۔ ان کا کہنا تھاکہ فری لانسرز کی برآمدات 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، برآمدات میں کمی کی وجہ چاول اور چینی کی برآمدات میں ڈیڑھ ارب ڈالر کمی ہے۔ اسپورٹس کی برآمدات 3ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، آئی ٹی برآمدات 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گی اور خوشی کی بات ہے کہ فیفا ورلڈکپ میں پاکستان کا بنا ہوا فٹبال استعمال ہوگا جبکہ درآمدات میں کمی لانا ہماری ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالر ہیں جو جون کے آخر تک زر مبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع رقم 12.7 ارب ڈالر کی تاریخی سطح کو چھوگئی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں انویسٹر بیس بڑھ کر 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کرگئی،رواں سال اب تک رکارڈ 11 نئی کمپنیوں کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ ہوئی، ملک میں 39,000 سے زیادہ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے اوپر ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یو اے ای نے ہمیں لمبا عرصہ سپورٹ کیا، یو ای اے کے ساتھ دیرینہ پائیدار تعلقات ہیں، پاکستانیوں کی بڑی تعداد یو اے ای میں کام کر رہی ہے، ہم اس پر یو اے ای کے مشکور ہیں۔
ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا
2026-06-12
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے منسوخ کرنے اور ایران ڈیل اس ہفتےہونے کے بیان کے عالمی اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گرگئیں۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ 89 ،ڈبلیو ٹی آئی اور یو اے ای مربن کی 87 ڈالرفی بیرل میں فروخت کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی آگئی اور جاپان کا نکی 225 انڈیکس 3.5 فیصد اوپر چلا گیا۔ ادھر جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 7.5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
آئندہ مالی سال کا 17 ہزار ارب
2026-06-12
اسلام آباد: اگلے مالی سال کا 17 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال میں دفاع کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے اور قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب رپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز ہے جب کہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائے جانے کا امکان ہے جب کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جب کہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد ٹیکس لگانے، 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس شرح مقررکرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جب کہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن والوں پر یہی شرح لاگو کرنے کی تجویز ہے، سالانہ ایک کروڑ سے زائد کمانے والوں پر عائد سرچارج ختم کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنا ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے جب کہ بچوں کے فارمولا دودھ، گھی ،کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیاء خورونوش مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ بجٹ میں سپرٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی تجویز ہے۔ بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا ا س سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نئے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو بجٹ پر بریفنگ دیں گے۔
25 اور 40 ہزار روپے مالیت کے
2026-06-11
25 اور 40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ورز پشاور اور مظفرآباد میں ہونے والی قرعہ اندازی میں کئی افراد کروڑ پتی بن گئے جبکہ سینکڑوں افراد لاکھوں روپے جیتنے میں کامیاب رہے۔ 40 ہزار روپے کے پریمیم پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی مظفرآباد میں میں ہوئی، بانڈ نمبر 810678 رکھنے والے خوش نصیب شخص نے 8 کروڑ روپے کا پہلا انعام جیتا۔ دوسرا انعام جو کہ تین کروڑ روپے فی کس تھا ، اس طرح تین خوش نصیب افراد بھی کروڑ پتی بن گئے ، بانڈ نمبر 159467، 855955 اور 954286 تیسرا انعام جیتنے میں کامیاب رہے۔ 660 افراد کے نام فی کس 5 لاکھ روپے رہے، کامیاب ہونے والے تمام افراد کی مکمل فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ 25 ہزار روپے مالیت کے قومی پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوئی، قرعہ اندازی میں بانڈ نمبر 009663 اور 845124 رکھنے والے افراد نے پہلا انعام جیتا جو کہ 3،3 کروڑ روپے فی کس تھا۔ دوسرا انعام پانچ افراد کے نام رہا جن کے بانڈ نمبر 187375، 216012، 583887، 747225 اور 763842 ہیں۔ ہر فرد کو ایک ایک کروڑ روپے انعامی رقم ملے گی۔ اس کے علاوہ 700 افراد کو 3 لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے۔
وفاقی حکومت کے قرضوں کے
2026-06-11
اسلام آباد: وفاقی حکومت کے قرضے 81 ہزار 930 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ وفاقی حکومت کے قرضوں کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے اور ایک سال میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 6 ہزار 994 ارب روپےکااضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت کے قرضے بڑھ کرنئی بلند ترین سطح 81 ہزار 930 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اپریل 2026 کےایک مہینے میں مرکزی حکومت کاقرضہ 1406 ارب روپےبڑھا۔
ٹرمپ اور انکے خاندان نے جنوری
2026-06-11
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کی کرپٹو منصوبوں کے ذریعے کمائے جانے والی رقم کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان نے جنوری 2025 سے اپنے کرپٹو منصوبوں، بشمول ورلڈ لبرٹی فنانشل، ٹرمپ میم کوائن اور دیگر کمپنیوں کے ذریعے کم از کم 2.3 ارب ڈالر کمائے۔ ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والے 10 لاکھ سے زائد سرمایہ کاروں کو مجموعی طور پر تقریباً 2.3 ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جس پر سرمایہ کاروں نے مایوسی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
آئی ایم ایف سولر پینلز پر ٹیکس
2026-06-11
اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے سولر پینلز کی مصنوعات پر ٹیکس میں مجوزہ اضافہ واپس لینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کے بعد آئی ایم ایف اسٹیشنری اور سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافہ نہ کرنے پر راضی ہو گیا۔ اس پیش رفت کو آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کی تیاری کے دوران عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی کوششوں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ریئل سٹیٹ سیکٹر کے لیے مجوزہ ٹیکس رعایتوں پر مذاکرات جاری ہیں۔
مئی میں سمندر پار پاکستانیوں
2026-06-11
کراچی: پاکستان میں بیرون سے آنے والی ترسیلات زر میں اضافہ ہوگیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ خرم شہزاد کے مطابق مئی میں سمندرپار پاکستانیوں نے 4 ارب 25 کروڑ ڈالر وطن بھیجے۔ خرم شہزاد کے مطابق جولائی تا مئی ترسیلات زر 9 فیصد اضافے سے 38 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال کے اختتام تک ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
