میر رضا کیس میں پولیس کی مزید خامیاں سامنے آگئیں    space    ایرانی دھمکیاں: ٹرمپ ترکیہ سے خفیہ طور پر کیسے نکلے؟ امریکی اخبار نے پردہ اٹھادیا    space    ویسٹ انڈیز ٹیم براہ راست ورلڈکپ 2027 میں نہ پہنچ سکی، کوالیفائر کھیلنا لازم    space    مذاکرات جاری ہیں، ایران کو تباہ کن کارروائی سے پہلے آخری موقع دینا چاہتا ہوں، صدر ٹرمپ    space    میرے بچے تصویروں پر فلٹر لگانے پر مجھ سے لڑتے ہیں: جویریہ سعود    space    ساتھی اداکارہ نے دیپیکا ککڑ کے شادی سے قبل اسلام قبول کرنے کی وجہ بتا دی    space    ملک میں سونا مزید مہنگا    space   

پاکستان اور سعودیہ کے درمیان پورٹس


2026-06-06

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری بڑھانےکے متعدد معاہدے طے پاگئے، معاہدوں پر دستخط سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے اجلاس میں کیےگئے۔ ذرائع کے مطابق ایس آئی ایف سی اور جوائنٹ بزنس کونسل کی میزبانی میں پاک سعودیہ بزنس کونسل کا اجلاس ہوا، سابق نگراں وزیر گوہر اعجاز، چیئرمین پاک سعودی جوائنٹ بزنس کونسل فواد مختار نے اجلاس کی صدارت کی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان پورٹس اور موٹر ویز کی تعمیر و ترقی کے معاہدے ہوگئے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ کراچی حیدر آباد موٹروےکی تعمیر کا معاہدہ طے پاگیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ رئیل اسٹیٹ اور معدنیات کی ترقی کے معاہدے پر بھی دستخط ہوگئے، سعودی پاک بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمدالسعود نے معاہدوں پر دستخط کیے۔ ذرائع کے مطابق سعودی وفدکی قیادت چیئرمین پاک سعودی بزنس کونسل شہزادہ منصوربن السعود نے کی، وفاقی وزرا مصدق ملک، علی پرویز ملک اور مشیر نجکاری محمد علی نے اجلاس میں شرکت کی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سعودی سرمایہ کاروں کوپاکستان میں مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پربریفنگ دی گئی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بزنس ٹو بزنس میٹنگز کی گئیں، سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان حکومتی سطح پربھی میٹنگز ہوئیں۔ ذرائع نے بتایاکہ سعودی سرمایہ کاروں کو پاور سیکٹر سمیت دیگر منصوبوں میں شرکت کی دعوت دی گئی، سعودی سرمایہ کاروں کو ٹرانسمیشن لائنز اور اسمارٹ میٹرنگ کے شعبوں میں بریفنگ دی گئی، پیٹرولیم، معدنی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی بریفنگ دی گئی۔ ذرائع نے بتایاکہ ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسدالرحمٰان نے سعودی سرمایہ کاروں کا شکریہ ادا کیا۔

پاور ڈویژن کی درآمدی کوئلے کی خریداری میں خامیوں کی نشاندہی

2026-08-25

پاور ڈویژن نے درآمدی کوئلے کی خریداری کے طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نیپرا کو نئی اصلاحی گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق نئی گائیڈ لائنز کے تحت خریداری سے پہلے کے مرحلے میں سالانہ 380 ملین روپے کی بچت ہوگی۔ وزیر توانائی اویس لغاری کی زیرصدارت کوئلے کی خریداری سے متعلق متعدد اجلاس ہوئے، جن میں کوئلے کی خریداری کا اصل ڈیٹا، کنٹریکٹس اور مارکیٹ میں رائج طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت درآمدی کوئلے کی خریداری، درآمد اور ترسیل کے شعبے میں اصلاحات کا عمل شروع کررہی ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق کوئلے کی خریداری کے لیے بہترین دستیاب رعایت کا اصول متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت کول پاور پلانٹس کو کم ڈسکاؤنٹ دینے والے عالمی سپلائر سے کوئلہ خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے قبل مختلف پاور پلانٹس ایک ہی کول سپلائر سے مختلف رعایتیں حاصل کرتے رہے، جبکہ کوئلے کی خریداری پر مختلف پاور پلانٹس کو 25 سینٹ سے 7.12 ڈالر فی ٹن تک مختلف رعایتیں ملیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق ایک ہی سپلائر نے مختلف پاور پلانٹس کو کوئلے پر مختلف رعایتیں دیں، جبکہ بعض بیک اپ سپلائی معاہدوں میں مرکزی سپلائی معاہدوں سے زیادہ رعایت حاصل کی گئی۔ کول پاور پلانٹس نے معاہدے کے باوجود زیادہ رعایت دینے والے سپلائر سے کوئلہ نہیں خریدا، جس کے باعث اضافی لاگت براہِ راست بجلی صارفین پر منتقل ہوتی رہی۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن ڈیٹا اور مارکیٹ کے تجزیے کے ذریعے خامیوں کی نشاندہی کررہا ہے اور انہیں مؤثر ریگولیٹری و پالیسی اقدامات کے ذریعے دور کیا جارہا ہے۔ اصلاحاتی اقدامات سے ہونے والی بچت کا براہِ راست فائدہ بجلی صارفین تک پہنچایا جائے گا۔ اویس لغاری نے کہا کہ کوئلے کی خریداری میں مداخلت کا مقصد تجارتی معاملات میں دخل اندازی نہیں، بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی لاگت بجلی صارفین سے وصول کی جاتی ہے، اس لیے ایندھن کی خریداری مؤثر اور شفاف ہونی چاہیے۔ پاور ڈویژن کا مقصد غیر ضروری اخراجات ختم کرکے بجلی صارفین کو حقیقی ریلیف دینا ہے۔

کم خطرے والے سیلز ٹیکس درخواست گزاروں کی رجسٹریشن 3 ورکنگ دنوں میں کرنے کی ہدایت

2026-08-25

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کم خطرے والے درخواست گزاروں کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کو تیز اور مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس حوالے سے ایف بی آر کی ریونیو ڈویژن ان لینڈ ریونیو کی جانب سے باضابطہ طور پرسیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 20 آف 2026 جاری کردیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی درخواستوں پر کارروائی خطرے کی بنیاد پر کی جائے گی، جبکہ کمپیوٹرائزڈ رسک پیرامیٹرز کے تحت کم خطرے کے زمرے میں آنے والی درخواستوں کو ترجیحی اور مقررہ مدت میں نمٹایا جائے گا جن کم خطرے والی درخواستوں میں تمام مطلوبہ معلومات اور دستاویزات مکمل ہوں گی۔ متعلقہ لوکل رجسٹریشن آفس ان پر غیر ضروری تاخیر کے بغیر کارروائی کرے گا اور جہاں تک ممکن ہو رجسٹریشن تین ورکنگ دنوں کے اندر دے گا۔ ایف بی آر کے مطابق کم خطرے والے درخواست گزار سے اضافی دستاویز یا معلومات صرف اسی صورت طلب کی جائے گی جب وہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت خصوصی طور پر درکار ہو، سیلز ٹیکس رولز 2006 میں مقرر ہو۔ درخواست گزار کی فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کے لیے ضروری ہو یا کمپیوٹرائزڈ رسک مینجمنٹ سسٹم میں کسی مخصوص خطرے کی نشاندہی ہوئی ہوایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ مزید جانچ کی ضرورت والی درخواست متعلقہ افسر کو بھیجتے وقت اس کی مخصوص وجوہات الیکٹرانک طور پر ریکارڈ کی جائیں اور درخواست کو بغیر وجہ کے زیر التوا نہ رکھا جائے۔ اگر درخواست نامکمل ہو یا کوئی مطلوبہ دستاویز یا معلومات غائب، غلط یا ناکافی ہو تو درخواست گزار کو درخواست جمع کرانے کے سات دن کے اندر کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔ اطلاع میں مطلوبہ دستاویز یا معلومات، سامنے آنے والی کمی یا تضاد، اسے دور کرنے کا طریقہ اور تعمیل کے لیے دیا گیا وقت واضح طور پر درج ہوگاجنرل آرڈر میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی عمومی یا مبہم اعتراض نہیں اٹھایا جائے گا اور ہر اعتراض مخصوص، متعلقہ اور متعلقہ قانونی یا ضابطہ جاتی تقاضے سے قابلِ سراغ ہونا چاہیے۔ درخواست گزار کی جانب سے مطلوبہ دستاویزات یا معلومات فراہم کرنے کے بعد درخواست مکمل ہوجائے تو اسے دوبارہ رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ درخواست پر فوری کارروائی کی جائے گی۔ ایف بی آر نے حقیقی مینوفیکچرنگ اداروں کی رجسٹریشن میں سہولت کے لیے مختلف شعبوں کی مینوفیکچررز کی نمائندہ سیکٹرل ایسوسی ایشنز، جو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے دائرہ کار میں آتی ہیں، کو اپنے ممبر درخواست گزاروں کے کوائف اور وجود سے متعلق پری رجسٹریشن سرٹیفکیشن فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ جنوبیایشیائی تارکینِ وطن کی کمیونٹیز دریافت کرنا سیکٹرل ایسوسی ایشن اپنے دستیاب ریکارڈ کی حد تک اس امر کی تصدیق کرسکے گی کہ درخواست گزار متعلقہ مینوفیکچرنگ سرگرمی میں مصروف ہے یا ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے ظاہر کردہ کاروباری مقام یا فیکٹری قابل شناخت ہے، جہاں قابل اطلاق ہو درخواست گزار ایسوسی ایشن کا رکن ہے، مجوزہ مینوفیکچرنگ سرگرمی متعلقہ شعبے سے مطابقت رکھتی ہے اور درخواست گزار کی جانب سے ایسوسی ایشن کو فراہم کردہ کوائف دستیاب ریکارڈ سے جانچے گئے ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق سیکٹرل ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری سرٹیفکیٹ درخواست گزار یا متعلقہ ایسوسی ایشن دیگر دستاویزات کے ساتھ الیکٹرانک طور پر متعلقہ لوکل رجسٹریشن آفس کو فراہم کرے گی۔ یہ سرٹیفکیٹ سہولت کے لیے پری رجسٹریشن تصدیقی معاونت تصور ہوگا اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 یا سیلز ٹیکس رولز 2006 کے تحت مقرر کسی قانونی تقاضے کی جگہ نہیں لے گا۔ سرٹیفکیٹ درخواست گزار کو کسی قسم کی چھوٹ، رعایت یا قانونی استثنا بھی فراہم نہیں کرے گا۔ فزیکل ویری فکیشن کے دوران غلط معلومات سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ ایسوسی ایشن ذمہ دار ہوگی جنرل آرڈر کے مطابق متعلقہ لوکل رجسٹریشن آفس مینوفیکچرر کے معاملات میں سیلز ٹیکس رولز 2006 کے رول 5(5) کے تحت تین ورکنگ دنوں کے اندر پری فزیکل ویری فکیشن کرے گا۔ تصدیق کا نتیجہ الیکٹرانک طور پر ریکارڈ کیا جائے گا اور اس کے بعد درخواست پر بلاوجہ تاخیر کے بغیر کارروائی کی جائے گی ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا عمل خطرے کی بنیاد پر ہی جاری رہے گا اور زیادہ خطرے یا مشکوک درخواستوں کو قانون کے مطابق اضافی جانچ، پری ویری فکیشن، پوسٹ ویری فکیشن یا دیگر تصدیقی اقدامات سے گزارا جاسکے گا۔ کم خطرے کی درجہ بندی ایف بی آر کو بعد میں سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر دوبارہ تصدیق سے نہیں روکے گی، خصوصاً اگر خطرے، عدم وجود، غلط بیانی، جعلی دستاویزات یا کسی اور بے ضابطگی کی نشاندہی ہو۔ ایف بی آر نے تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو اور کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو جنرل آرڈر پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

معاشی استحکام کے بعد پاکستان کو پائیدار ترقی کا چیلنج

2026-08-24

اسلام آباد: پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی عدم استحکام، زرمبادلہ کے دباؤ اور ادائیگیوں کے بحران سے نمٹنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اب ملک کو نئے اورزیادہ مشکل مرحلے کاسامناہے۔ معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعداصل چیلنج ایسی پائیدار،سرمایہ کاری پر مبنی اور برآمدات سے تقویت پانے والی ترقی کاحصول ہے جو مستقبل میں دوبارہ مالیاتی اور بیرونی ادائیگیوں کے بحران کو جنم نہ دے۔ حالیہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا، جبکہ مالی سال کے دوران ترسیلات زر 41۔6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ 15مئی تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17۔1 ارب ڈالر، جبکہ کمرشل بینکوں سمیت مجموعی ذخائر 22۔6 ارب ڈالر ریکارڈکیے گئے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد، معاشی نمو میں بہتری،مہنگائی پر قابو پانے اورزرمبادلہ ذخائر میں توقعات سے بہتر اضافے کااعتراف کیا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے فوری معاشی بحران سے نکلنے کی صلاحیت پیداکرلی ہے،لیکن محض استحکام کومعاشی کامیابی کاآخری مرحلہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔ اب ملک کو ایسی شرح نمودرکار ہے، جو لاکھوں نوجوانوں کیلیے روزگار پیداکرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے معیارزندگی میں نمایاں بہتری بھی لاسکے۔ پاکستان کی معیشت کا بنیادی مسئلہ یہ رہاہے کہ جب بھی معاشی نمو تیز ہوتی ہے تودرآمدات بھی بڑھ جاتی ہیں، نتیجتاًکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ وسیع، روپے پردباؤ، زرمبادلہ ذخائرکم اور بالآخر ایک نئے استحکام پروگرام کی ضرورت پیدا ہوجاتی ہے، پاکستان کوصرف تیز رفتارنہیں، بلکہ مختلف نوعیت کی معاشی نمودرکار ہے۔ اعدادوشمارظاہرکرتے ہیں کہ ملک کی موجودہ معاشی ساخت اب بھی بیرونی مالی وسائل اور ترسیلات زر پر خاصا انحصارکرتی ہے، درآمدات محدودکرکے وقتی طور پر بیرونی دباؤکم کیاجاسکتا ہے، لیکن اس سے سرمایہ کاری، پیداوار اور مجموعی معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں، اس کے برعکس برآمدات میں اضافہ ملک کوزیادہ تیزی سے ترقی کرنے کے ساتھ مطلوبہ زرمبادلہ بھی فراہم کرسکتا ہے۔ پاکستان کیلیے سب سے بڑاسوال یہ ہوناچاہیے کہ وہ اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیوں نہیں کر پا رہا۔ طویل المدت معاشی حکمت عملی کو وسائل کی کمی کوسنبھالنے کے بجائے عالمی مسابقت کی صلاحیت پیدا کرنے پر مرکوزکرناہوگا۔ اطلاعاتی ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ خدمات، انجینئرنگ، ڈیجیٹل تجارت اور دیگر قابل تجارت خدمات ایسے شعبے ہیں، جہاں پاکستان اپنی نوجوان افرادی قوت سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ پاکستان کو ایسا توانائی نظام تشکیل دیناہوگا،جومالی طور پر پائیدار، قابل اعتماد اور پیداواری شعبے کیلیے مسابقتی ہو۔ اس مقصدکیلیے سرکاری اداروں سے متعلق مشکل فیصلے کرناہونگے، ٹیکس اصلاحات کامقصد پہلے سے ٹیکس اداکرنیوالے طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ وسیع کرناچاہیے،سرکاری اداروں میں اصلاحات سے قومی خزانے پر بوجھ کم اور خدمات کامعیار بہترکیاجائے۔

کاٹن ایئر کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار توقعات سے بہتر ہونے کے امکانات

2026-08-24

کراچی: کپاس کی پیداوار میں اضافے کے باعث مقامی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں دوبارہ مندی کارحجان غالب ہوگیا، فصل کیلیے موافق موسمی حالات کے باعث کاٹن ایئر 2026-27 کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار توقعات سے بہتر ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ لیکن بھاری ٹیکسز عائد ہونے سے روئی کی غیردستاویزی خرید و فروخت مزید بڑھنے کے خدشات ہیں۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایاکہ روئی کی بین الاقوامی منڈیوں میں زبردست تیزی کے باعث گزشتہ ہفتے کے اوائل میں پاکستان میں روئی کی قیمت 500روپے تا 700روپے فی من بڑھ گئی تھی۔ تاہم بیشتر مقامی کاٹن زونز میں کپاس کی آمدمیں غیر متوقع اضافے کے باعث روئی کی قیمتیں دوبارہ 300 تا 400روپے فی من کمی سے پنجاب میں 18800روپے، جبکہ سندھ میں 18600روپے فی من کی تک آگئی ہے۔ نئے ہفتے میں عالمی مارکیٹوں میں روئی کی قیمتوں کے رحجان کے تناظر میں مقامی مارکیٹوں پر بھی قیمتوں میں کمی بیشی کارحجان سامنے آسکتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں سمندرسے پہاڑی سلسلوں کی جانب اورجنوب سے شمال کی جانب چلنے والی ایک خاص ہوا،جسے علاقائی زبان میں ’’دکھن‘‘ کہتے ہیں کے باعث اس کے کپاس کی فصل پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جس میں کپاس کی فصل سے حبس کاخاتمہ، فصل پرکیڑوں اور سنڈیوں کے حملے میں غیر معمولی کمی اور پودے کی بہترین بڑھوتری کے باعث کپاس کی مقدار اورمعیار بھی بہتر ہونے سے گذشتہ ہفتے کپاس کی آمدمیں نمایاں اضافہ ہواہے۔ جس کے باعث روئی کی قیمتوں میں دوبارہ مندی کا رحجان سامنے آیا، تاہم توقع ہے کہ آئندہ کچھ عرصے کے دوران بارشیں نہ ہونے اوردکھن مزیدچلنے کے باعث پاکستان میں رواں سال معیاری روئی کی دستیابی گذشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں بہتر ہونے سے پاکستانی روئی کی درآمدی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ شوگر لابی کو پاکستان میں بڑی تیزی سے کاٹن زونزکوشوگر زونز میں تبدیل کرنے میں کامیابیاں حاصل ہورہی ہے جس میں پاکستان کے سب سے بڑے کاٹن زون رحیم یارخان سمیت دیگرکاٹن زونز میں نئی شوگر ملزکاقیام اور گنے شوگر ملزکی جانب سے کاشت کاروں کوگناکاشت کرنے کیلیے اربوں روپے کے قرضہ جات کی فراہمی ہے۔ جس سے خدشہ ہے کہ آئندہ چندسالوں کے دوران پاکستان میں کپاس کی کاشت میں مزیدکمی واقع ہونے سے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار مزید بڑھ جائیگی۔

ملکی توانائی شعبے کا مجموعی سرکلر ڈیٹ 5 ہزار 286 ارب روپے تک پہنچ گیا

2026-08-24

اسلام آباد: ملکی توانائی شعبے کا مجموعی سرکلر ڈیٹ 5 ہزار 286 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گیس شعبے کا سرکلر ڈیٹ 3 ہزار 611 ارب روپے جبکہ بجلی شعبے کا سرکلر ڈیٹ ایک ہزار 675 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے۔ توانائی شعبے کے مجموعی سرکلر ڈیٹ میں گیس کے شعبے کا حصہ بجلی کے شعبے سے نمایاں زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا توانائی کا شعبہ بدستور مالی دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے اس شعبے میں مالی استحکام کے لیے اصلاحات تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سرکلر ڈیٹ روکنے کے لیے ضروری ہے۔ علاوہ ازیں اس شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نقصانات میں کمی بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق بجلی شعبے میں سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو کم کرنا پاکستان کے لیے اہم چیلنج ہے۔ اسی طرح آئی ایم ایف نے گیس کے شعبے میں لاگت کے مطابق ٹیرف ایڈجسٹمنٹ جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ History آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے کی کمزوریاں پاکستان کے مالی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ حکومت نے رواں مالی سال بجلی شعبے کے سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو مزید کم کرنے کا عزم کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق توانائی شعبے میں اصلاحات کا مقصد نقصانات کم کرکے بجلی اور گیس کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانا ہے۔

انشورنس صارفین کے تحفظ کیلیے ایس ای سی پی کا اہم اقدام

2026-08-20

اسلام آباد: انشورنس صارفین کے تحفظ کے لیے ایس ای سی پی نے اہم اقدام کرتے ہوئے انشورنس کمپنیوں کے لیے مارکیٹ کنڈکٹ رولز 2026 کا مسودہ رائے عامہ کے لیے جاری کردیا۔ ان مجوزہ انشورنس رولز کا اطلاق صرف انفرادی انشورنس پالیسیوں پر ہوگا۔ مجوزہ رولز میں انشورنس کلیمز میں تاخیر کے خاتمے کے لیے لازمی ٹائم لائنز مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پالیسی کے اجرا سے کلیم کی ادائیگی تک انشورنس کمپنیوں کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں، جبکہ کلیمز کی پراسیسنگ اور ادائیگی مقررہ مدت میں کرنا ہوگی۔ لائف انشورنس کلیم پر متعلقہ دستاویزات ملنے کے بعد 20 دن میں فیصلہ کرنا لازم ہوگا۔ موٹر انشورنس کلیم پر سروے رپورٹ کے بعد 5 دن، جبکہ دیگر نان لائف انشورنس کلیمز پر سروے کے بعد 7 دن میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ کلیم منظور ہونے کے بعد انشورنس کمپنی کو 7 دن میں ادائیگی کرنا ہوگی۔ اسپتال میں داخل مریض کے ہیلتھ انشورنس کلیم کو 20 دن میں نمٹانا ہوگا، جبکہ اسپتال سے ڈسچارج کی منظوری انشورنس کمپنی کو 3 گھنٹے کے اندر دینا ہوگی۔ انشورنس کمپنی کی تاخیر کے باعث مریض کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے سے نہیں روکا جاسکے گا۔ انشورنس کمپنیاں کلیم کے لیے صرف متعلقہ دستاویزات ہی طلب کرسکیں گی، جبکہ کلیم سیٹلمنٹ، مسترد شدہ اور زیر التوا کلیمز کا ڈیٹا جاری کرنا ہوگا۔ انشورنس کمپنیوں کو ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا کلیمز کا تناسب بھی بتانا ہوگا۔ کلیمز اور دیگر ڈیٹا کمپنیوں کی ویب سائٹس پر دستیاب ہوگا۔ نئی انشورنس پالیسی کی درخواست کمپنی کو 7 دن میں نمٹانا ہوگی، جبکہ لائف بیمہ پالیسی کے دستاویزات زیادہ سے زیادہ 20 دن میں جاری کرنا ہوں گے۔ ڈیجیٹل ذریعے سے فروخت کی گئی پالیسی 3 دن کے اندر جاری کرنا ہوگی۔ موٹر انشورنس میں گاڑی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پالیسی ہولڈر کو بتانا لازم ہوگا، جبکہ اسے گاڑی کی اوور انشورنس اور انڈر انشورنس کے اثرات سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔ موٹر انشورنس کلیم میں منظور شدہ مرمت عمومی طور پر 15 دن میں مکمل کرنا ہوگی۔ نان لائف انشورنس پالیسی ہولڈر کو بغیر وجہ بتائے پالیسی منسوخ کرنے کا حق ہوگا۔ مجوزہ رولز کی خلاف ورزی پر کمپنی پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ اسی طرح مسلسل خلاف ورزی پر روزانہ مزید 10 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ ایس ای سی پی نے مجوزہ رولز پر 30 دن میں عوام اور اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز اور اعتراضات طلب کرلیے ہیں، جبکہ عوامی مشاورت کے بعد مجوزہ رولز منظوری کے لیے ایس ای سی پی پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

2026-08-20

حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی جبکہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا، جس کا نوٹفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے میکنزم کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 32 روپے 63 پیسے کمی کردی ہے جس کے نتیجے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 363 روپے 6 پیسے ہوگئی ہے۔ دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں دو روپے 97 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ہے اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 334 روپے 54 پیسے سے بڑھا کر 337 روپے 51 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمت کا اطلاق 20 اگست 2026 کے لیے ہوگا۔ قبل ازیں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آئل ریفائنریز سے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کے لیے حکومت کی درخواست قبول کرلی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریفائنریز کے تعاون سے اوگرا ڈیزل کی قیمت میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردے گا۔ حکومت نے گزشتہ روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کرتے ہوئے فی لیٹر قیمت بالترتیب 334 روپے 54 پیسے اور 395 روپے 69 پیسے مقرر کی تھی۔

ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان چین اسپورٹس فٹ ویئر تعاون کے معاہدے پر دستخط

2026-08-17

اسلام آباد: پاک چین صنعتی تعاون سے اسپورٹس فٹ ویئر شعبے میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسی سلسلے میں ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان چین اسپورٹس فٹ ویئر تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، یہ معاہدہ پاکستان کی معروف کمپنی فارورڈ اسپورٹس اور چین کے ژونگ زی ہواشین گروپ کے درمیان طے پایا ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستانی مینوفیکچرنگ صلاحیت اور چینی سرمایہ کاری و تجربے کے امتزاج سے صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا، اس معاہدہ سے ٹیکنالوجی منتقلی، روزگار کے مواقع اور پاکستان کی اسپورٹس مصنوعات کی عالمی مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ شراکت داری پاکستان کی برآمدات کو متنوع بنانے اور عالمی فٹ ویئر مارکیٹ میں ملک کا حصہ بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی، پاکستان میں صنعتی توسیع، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور معاشی بحالی ایس آئی ایف سی کے تعاون اور سرمایہ دوست ماحول کا مظہر ہے۔

ٹیکس ریلیف کے باوجود تنخواہ دار طبقے سے جولائی میں 2 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول

2026-08-17

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دینے کے باوجود رواں مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی 2026) میں پچھلے مالی سال کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقے سے دو ارب روپے زیادہ ٹیکس وصولی ہوئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام کے مطابق جولائی 2026 میں تنخواہ دار طبقے سے 44 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کی نسبت تنخواہ دار طبقے نے جولائی 2026 میں 2 ارب روپے زائد انکم ٹیکس دیا۔ گزشتہ سال جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے 42 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا تھا جبکہ جولائی 2024 میں تنخواہ دار طبقے سے تقریباً 30 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ ماہ جائیداد کی خرید و فروخت پر 15.5 ارب روپے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول ہوا، جولائی 2026 میں جائیداد کے تقریباً 90 ہزار لین دین ریکارڈ کیے گئے۔ جولائی 2025 میں جائیداد کے 60 ہزار لین دین ریکارڈ ہوئے تھے، ایک سال میں جائیداد کے لین دین میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔

سونا عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا، چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

2026-08-16

کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں کمی آ گئی جبکہ چاندی مہنگی ہو گئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 5 ڈالر کی کمی کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 375 ڈالر کی سطح پر آگئی ۔ عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج کاروباری ہفتے کے آخری روز 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 500روپے کی کمی سے نئی قیمت 4لاکھ 59ہزار 936روپے ہو گئی۔ اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت 429روپے گھٹ کر 3لاکھ 94ہزار 320روپے کی سطح پر آگئی۔ دریں اثنا مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 13روپے کے اضافے سے 6ہزار 949روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 11روپے کے اضافے سے 5ہزار 957روپے کی سطح پر آگئی ہے۔