بھارت نے دوبارہ للکارا تو اس کا جغرافیہ بدل کر اسے تاریخ کا حصہ بنادیں گے: خواجہ آصف    space    خیبر پختونخواکے مسائل پر پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک پیج پر، وفاق سے صوبےکے حقوق ادا کرنےکا مطالبہ کردیا    space    دنیا امریکا اور اسرائیل آئندہ ہفتے ایران پر حملےکی تیاری کر رہے ہیں: خبر ایجنسی    space    وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت    space    آئی ایم ایف کا پاکستان سے سیلز ٹیکس میں ہر قسم کی چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ    space    آئی ایم ایف کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں 5500 روپے اضافےکا مطالبہ    space    رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں ملکی آئی ٹی برآمدات 3 ارب 80 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گئیں    space   

عالمی مارکیٹ میں تیل


2026-05-19

امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی کی بازگشت کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ برینٹ خام تیل 111 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 107 ڈالر فی بیرل میں فروخت کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ مربن خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کرنے اور آبنائے ہرمز کھلنے کی غیریقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

ملک میں 10ہزار سے زائد نئی

2026-05-19

اسلام آباد: ملک میں رواں سال فروری سے اپریل تک 10 ہزار سے زائد کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) نےکمپنیوں کی رجسٹریشن کے اعدادو شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق فروری سے اپریل کے دوران 10ہزار 511 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کی تعداد 8 ہزار693 تھی۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ اپریل میں 4 ہزار 82 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، 22 سے زائد ممالک کے سرمایہ کاروں نے بھی پاکستان میں کمپنیاں رجسٹرڈ کیں، غیرملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا مجموعی سرمایہ 218 فیصد بڑھا ہے۔ اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا مجموعی اداشدہ سرمایہ 88 کروڑ 20 لاکھ روپے رہا جبکہ گزشتہ سال غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ادا شدہ سرمایہ 27 کروڑ 70 لاکھ روپے تھا۔ ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں تجارت،خدمات، معلوماتی ٹیکنالوجی، تعمیرات اور معدنیات کی کمپنیاں رجسٹر کرائی گئیں، کمپنیوں کی ریگولیٹری کمپلائنس میں 61 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح تین ماہ میں 61 ہزار 960 کمپنیوں نے سالانہ ریٹرنز جمع کرائیں جبکہ گزشتہ سال 38 ہزار 326 کمپنیوں نے ریٹرنز جمع کروائے تھے۔ ایس پی سی پی کے مطابق نان لسٹڈ کمپنیوں کے شیئرسرٹیفکیٹس کو ڈیجیٹلائز کرنے کا آغاز ہوگیا ہے، الیکٹرانک شیئرز سےکمپنیوں کے شیئر ہولڈنگ تنازعات کا خاتمہ ممکن ہوگا، اسلام آباد، کراچی،لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد میں سہولت مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ایس ای سی پی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمپنی رجسٹریشن کے نظام کو مزید خودکار بنایا جائے گا اور کمپنیوں کے نام ریزویشن کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے گا۔

عالمی مارکیٹ میں تیل

2026-05-19

امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی کی بازگشت کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ برینٹ خام تیل 111 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 107 ڈالر فی بیرل میں فروخت کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ مربن خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کرنے اور آبنائے ہرمز کھلنے کی غیریقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا0

2026-05-19

ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں آج سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 900 روپے کے اضافے کے بعد 4 لاکھ 77 ہزار 162 روپے ہو گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک میں 10 گرام سونے کی قیمت 772 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 9 ہزار 89 روپے ہو گئی ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 9 ڈالرز کے اضافے سے 4548 ڈالرز فی اونس ہو گیا۔

رواں مالی سال کے پہلے

2026-05-19

اسلام آباد: پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ اپریل میں ماہانہ دوسری بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ہیں اور رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں آئی ٹی برآمدات 3 ارب 80 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گئی ہیں۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں گزشتہ ماہ سالانہ اور ماہانہ بنیادوں پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر آئی ٹی کی برآمدات 33 فیصد بڑھیں، آئی ٹی کی برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پرگزشتہ ماہ 2 فیصد اضافہ ہوا۔ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصدکا اضافہ ہوا، جولائی 2025 تا اپریل 2026 میں آئی ٹی کی برآمدات 3 ارب 80 کروڑ ڈالرز رہیں،گزشتہ ماہ آئی ٹی کی برآمدات42کروڑ30 لاکھ ڈالرز رہیں۔ رواں مالی سال آئی ٹی کی برآمدات ساڑھے 4 ارب ڈالرز پرپہنچنےکا تخمینہ ہے۔ گزشتہ مالی سال آئی ٹی کی برآمدات کا حجم 3 ارب 80 کروڑ ڈالرز تھا۔

آئی ایم ایف کا پاکستان سے

2026-05-19

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان سے سیلز ٹیکس میں ہر قسم کی چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن کا بجٹ پر ایف بی آر سے مذاکرات کا آخری دن ہے اور آئی ایم ایف مشن کی ایف بی آر کے ساتھ آج مجموعی طور پر 3 ملاقاتیں ہوں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا اگلے مالی سال وصولیوں کا ٹارگٹ 15264 ارب رکھنے پر اصرار ہے جبکہ ایف بی آر کی جانب سے وصولیوں کا ٹارگٹ کم کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ اگلے مالی سال انفورسمنٹ کی مد میں 778 ارب رکھے جائیں اور 430 ارب کے نئے ٹیکس لگائے جائیں، نئے ٹیکسز کہاں کہاں لگائے جائیں گے، ایف بی آر حکام اس حوالے سے آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کا آئی ایم ایف کے ساتھ وصولیوں کا ہدف جی ڈی پی کے 11.2 فیصد رکھنے پر اتفاق ہوا ہے تاہم سیلز ٹیکس سے متعلق تفصیلی بات چیت ہوگی۔ ذرائع کا بتانا ہے آئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس میں ہر قسم کی چھوٹ ختم کرنے اور سیلز ٹیکس شرح کم کرکےسب پر برابر لاگو کرنے کا مطالبہ کیا ہے، آئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس شرح 22.8 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا انتباہ،

2026-05-18

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح آئندہ عرصے میں بڑھ کر تقریباً 7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم اگلے سال کی دوسری ششماہی میں اس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کراچی چیمبر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران ملکی معیشت میں 3.7 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم مستقبل میں معاشی استحکام کے آثار بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جمیل احمد نے کہا کہ جون 2028 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے فنانسنگ کا حجم بڑھا کر 1500 ارب روپے تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ جس میں اندرونی قرض بڑھا جبکہ بیرونی قرضوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ عالمی معاشی صورتحال ہے۔ اور رواں مالی سال میں برآمدی ہدف میں تقریباً 2 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری پر کام جاری ہے اور اس حوالے سے حکومتی منظوری کا عمل بھی آخری مراحل میں ہے۔

حکومت کا گندم درآمد کرنے پر غور

2026-05-18

لاہور: پنجاب حکومت نے ملک میں ممکنہ 45 لاکھ ٹن شارٹ فال کے خدشے کے پیش نظر گندم درآمد کرنے پر غور شروع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق موسمی اثرات کے باعث گندم کی پیداوار میں 12 سے 15 فیصد کمی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک میں مجموعی طور پر 45 لاکھ ٹن گندم کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 25 سے 27 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ محکمہ خوراک کے مطابق ملک میں ضرورت کے مطابق گندم موجود نہیں۔ جبکہ پاسکو، سندھ اور خیبر پختونخوا کے پاس مجموعی طور پر 22 لاکھ ٹن گندم موجود ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گندم امپورٹ کے معاملے پر حکومتی سطح پر مشاورت جاری ہے۔ اور پنجاب حکومت کا مؤقف بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔

آٹے کے نئے سرکاری ریٹ جاری

2026-05-18

کراچی: آٹے کے نئے سرکاری ریٹ جاری کرنے کے باوجود شہری مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ کمشنر کراچی کی جانب سے آٹے کی نئی قیمتیں جاری کرنے کے باوجود ان پر عمل نہیں ہو رہا ہے، کراچی میں چکی، فائن اور ڈھائی نمبر آٹا سرکاری قیمت کے برعکس مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔ چکی کا آٹا 150 روپے فی کلو کی بجائے 160 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، سرکاری قیمت کے برعکس دس روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔ فائن آٹا 121 روپے فی کلو کی بجائے 140روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، ڈھائی نمبر آٹے کی سرکاری فی کلو قیمت 113 روپے مقرر کی گئی ہے لیکن 130 روپے میں کلو فروخت ہورہاہے۔ آٹے کی قیمتوں میں اس اضافے کا ذمہ دار ریٹیلرز نے فلور ملز کو ٹھہرا دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ فلو ملز نے آٹا سرکاری لسٹ آتے ہی مہنگا کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگا آٹا خرید کر کم قیمت میں فروخت نہیں کرسکتے ،انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی سستا آٹا دلوائیں تو سرکاری قیمتوں پر آٹا مہیا کریں گے۔

ملک میں 10ہزار سے زائد نئی

2026-05-18

اسلام آباد: ملک میں رواں سال فروری سے اپریل تک 10 ہزار سے زائد کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) نےکمپنیوں کی رجسٹریشن کے اعدادو شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق فروری سے اپریل کے دوران 10ہزار 511 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کی تعداد 8 ہزار693 تھی۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ اپریل میں 4 ہزار 82 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، 22 سے زائد ممالک کے سرمایہ کاروں نے بھی پاکستان میں کمپنیاں رجسٹرڈ کیں، غیرملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا مجموعی سرمایہ 218 فیصد بڑھا ہے۔ اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا مجموعی اداشدہ سرمایہ 88 کروڑ 20 لاکھ روپے رہا جبکہ گزشتہ سال غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ادا شدہ سرمایہ 27 کروڑ 70 لاکھ روپے تھا۔ ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں تجارت،خدمات، معلوماتی ٹیکنالوجی، تعمیرات اور معدنیات کی کمپنیاں رجسٹر کرائی گئیں، کمپنیوں کی ریگولیٹری کمپلائنس میں 61 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح تین ماہ میں 61 ہزار 960 کمپنیوں نے سالانہ ریٹرنز جمع کرائیں جبکہ گزشتہ سال 38 ہزار 326 کمپنیوں نے ریٹرنز جمع کروائے تھے۔ ایس پی سی پی کے مطابق نان لسٹڈ کمپنیوں کے شیئرسرٹیفکیٹس کو ڈیجیٹلائز کرنے کا آغاز ہوگیا ہے، الیکٹرانک شیئرز سےکمپنیوں کے شیئر ہولڈنگ تنازعات کا خاتمہ ممکن ہوگا، اسلام آباد، کراچی،لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد میں سہولت مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ایس ای سی پی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمپنی رجسٹریشن کے نظام کو مزید خودکار بنایا جائے گا اور کمپنیوں کے نام ریزویشن کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے گا۔

ایف پی سی سی آئی کی بجٹ

2026-05-18

اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے بجٹ27۔2026 کے لیے تجاویز وزارت خزانہ کو ارسال کر دیں۔ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے وزارت خزانہ کو بھیجی گئی بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد کم کرکے 35 فیصد سے 30 فیصد کی جائے جبکہ تنخواہ دارطبقے پر 9 فیصد سرچارج کو ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سپرٹیکس کومکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز بھی دی ہے اور برآمدات میں اضافےکیلئےگڈز ایکسپورٹرزکیلئے فائنل ٹیکس ریجیم بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایف پی سی سی آئی نے آئی ٹی شعبے پر عائد 25 فیصد برآمدی ٹیکس کی شرح کو 2035 تک برقرار رکھنے، ایس ایم ای ٹرن اوورکی حد 25 کروڑ سے بڑھا کر 50کروڑ کرنے اور مینوفیکچررز کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کو 29 سےکم کرکے 20فیصد کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔