پیٹرول کی قیمت میں کمی
پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔ آج رات بارہ بجے یکم فروری سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہو جائے گا، پیٹرول 36 پیسے سستا ہونے کی توقع ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے 47 پیسے اضافہ ہو سکتا ہے۔مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 45 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں تقریباً 7 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز ہے۔ دو دن میں سونے کی قیمت میں تاریخی کمی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد ہو گا۔
جون 2026 تک سونے کی
جون 2026 تک عالمی سطح پر سونے کی قیمت کہاں تک جائیگی؟نئی پیشگوئی کردی گئی۔ یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (UBS) نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کے وسط تک عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 6 ہزار 200 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جاسکتا ہے۔ تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سونے کی قیمت دھڑم سے گر گئی قبل ازیں عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیچز(Goldman Sachs) نے سونے کی قیمت سے متعلق پیش گوئی کی تھی جس کے مطابق 2026 کے اختتام تک فی اونس سونے کی قیمت 5,400 ڈالر تک جاسکتی ہے۔ یاد رہے گزشتہ شب سونے کی قیمت 5 ہزار 594 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد اچانک 5 فیصد کمی کے ساتھ 5 ہزار 109 ڈالر تک آ گئی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مختصر مدت میں قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم مجموعی طور پر سونے کی کارکردگی اب بھی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔ سونے اور چاندی کی قیمتیں گرنے سے 3 کھرب ڈالر کا نقصان ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا ماہانہ بنیادوں پر 24 فیصد اضافے کے ساتھ سال 1980 کے بعد اپنی بہترین پوزیشن میں ہے، جو عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی معاشی اشاریوں، امریکی ڈالر کی قدر، شرح سود اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی فیصلے سے قبل احتیاط سے کام لیں۔
9 اشیاء ضروریہ سستی
ملک میں 9 اشیاء ضروریہ سستی ،18 مہنگی ہوگئیں ،24 کی قیمتوں میں استحکام رہا، ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر کمی جبکہ سالانہ بنیادوں پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دسمبر میں مہنگائی میں کمی، ادارہ شماریات کی ماہانہ رپورٹ جاری پاکستان بیورو برائے شماریات کے مطابق گذشتہ ہفتہ کے دوران آلو کی قیمت میں 7.81 فیصد، پیاز 6.66 فیصد، نمک پائوڈر 1.36 فیصد، آٹا 1.17 فیصد، دال مسور 0.75 فیصد، انڈے 0.30 فیصد، گڑ 0.24 فیصد اور باسمتی چاول کی قیمت میں 0.08 فیصد کی کمی ہوئی۔ اس کے برعکس ٹماٹر کی قیمت میں 7.53 فیصد، چکن 3.25 فیصد، کیلا 3.07 فیصد، ایل پی جی 1.56 فیصد، دال ماش 1.49 فیصد، دال چنا 1.31 فیصد، سرخ مرچ پائوڈر 0.66 فیصد، دال مونگ 0.61 فیصد، جلانے کی لکڑی 0.37 فیصد، اڑھائی کلو بناسپتی گھی 0.32 فیصد اور سگریٹ کی قیمت میں 0.24 فیصد کا اضافہ ہوا۔
بلوچستان میں گندم کی قلت
بلوچستان میں گندم کی قلت کے باعث ایک کلو آٹا 145روپے کا ہوگیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اندورن صوبہ 20 کلو آٹےکے تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپےسے تجاوزکرگئی ہے۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک کے پاس گندم کا اسٹاک موجود نہیں ہے، پنجاب اور سندھ سے گندم لانے پر پابندی ہے، نئی فصل آنے تک صوبےکے شہریوں کو مہنگے داموں آٹا خریدنا پڑے گا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر خوراک نے بتایاکہ صوبائی حکومت نےگندم نہ خریدنےکافیصلہ کیاہے۔
لاکھوں روپے لاگت والی آلو
ملک میں اس بار آلو کی گرتی قیمتوں سے کاشت کاروں کے ساتھ مڈل مین بھی پریشان ہیں اور ڈھائی تین لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت والی آلو کی فصل کے 50 ہزار دینے والا بھی کوئی نہیں جس جے باعث نئی فصل لگانا بھی نا ممکن ہو گیا۔ افغانستان اور ایران کا بارڈر بند ہونے کےباعث پنجاب میں آلو کی فصل کا خریدار کوئی نہیں، زیادہ پیدوار کی وجہ سے آلو اسٹور کرنے میں بھی گھاٹا ہے اور آلو کی فصل نہیں اٹھائی جارہی۔ اگلی فصل میں بھی تاخیر کا سامنا ہے۔ 3 لاکھ روپے والا آلو کا ایک ایکڑ 40 یا 50 ہزار روپے میں بھی نہیں بک رہا، کسان قرضے تلے دب چکے ہیں۔ آڑھتیوں کا کہنا ہے ایک وقت تھاکہ آڑھتی اور کولڈ اسٹوریج والےکسانوں سے سستا آلو خرید کر رکھ لیتے تھے اور پھر صارفین کو 100 سے 150 روپے کلو بیچتے تھے لیکن اب کوئی 10 روپے کلو بھی لینے والا نہیں۔ محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سال آلو کی پیداوار زیادہ ہے کوشش ہے زیادہ سے زیادہ ایکسپورٹ کریں۔ اسٹور مالکان کے مطابق جو کاشت کار آلورکھوا گئے تھے وہ بھی لینے نہیں آرہے، ہم مجبوراً جانوروں کے چارے کےطورپر اونے پونے داموں بیچ رہے ہیں۔ الو کے کاشت کاروں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس وقت وہ مشکلات کا شکار ہیں، مزید تباہی سے بچانے کیلئے ایکسپو رٹ کا راستہ نکالا جائے اور ان کی مدد کی جائے ورنہ نئی فصل اگانا ممکن نہیں گا۔
امریکی مالیاتی تسلط
اسلام آباد: امریکی مالیاتی تسلط کے خلاف عالمی دباؤ کے باعث بھارت، چین اور برکس نے ڈالر سے منہ موڑ لیا۔ دہائیوں تک امریکی ڈالر کی حکمرانی قائم رہی، جس نے عالمی تجارت، زرمبادلہ کے ذخائر اور اشیاء کی منڈیوں کو سہارا دیا لیکن اب یہ برتری ایک ایسے دباؤ کی زد میں ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایشیا، افریقا، لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک اب اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی ایک ملک کے زیرِ اثر واحد کرنسی پر انحصار کرنا دانشمندی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اب تیزی سے ایسے متبادل ذرائع تیار کر رہے ہیں جو عالمی مالیاتی نظام کا ڈھانچہ بدل کر رکھ سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کی قیادت چین، روس اور بھارت کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران، بھارت نے 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کیے ہیں جو کہ ان کے ذخائر میں 21 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ گزشتہ چار سالوں میں پہلی بار ہے کہ ان ذخائر میں سالانہ بنیادوں پر اتنی بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ چین نے اکتوبر 2024 اور اکتوبر 2025 کے درمیان 71 ارب ڈالر مالیت کے امریکی قرضے (ٹریژری بانڈز) فروخت کر دیے ہیں۔ برکس ممالک نے مجموعی طور پر صرف ایک ماہ کے دوران اپنے امریکی ٹریژری ذخائر میں 29 ارب ڈالر کی کمی کی ہے، جو کہ ریزرو مینجمنٹ میں ایک خاموش لیکن مربوط تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔ ڈالر کی کمزوریاں اب بالکل واضح ہو چکی ہیں۔ امریکی حکومت کا قرضہ 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، شرحِ سود میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے، بانڈز کی قیمتیں گر گئی ہیں اور قرض لینے کی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ جغرافیائی سیاسی خطرات اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ مغربی پابندیوں کے تحت روس کے ڈالر کے ذخائر کو منجمد کر دیا گیا، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ ڈالر کے اثاثوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالات کا سبق بالکل واضح ہے: تمام تر مالیاتی بھروسہ کسی ایک واحد کرنسی پر کرنا اب محفوظ نہیں رہا۔ اس کے نتیجے میں، اقوام اپنی سرمایہ کاری کو مختلف اثاثوں میں تقسیم کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ’’سونا‘‘ ایک بار پھر زرمبادلہ کے ذخائر کی حکمت عملیوں کے مرکز میں واپس آ گیا ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کے برعکس، سونے میں دیوالیہ ہونے یا پابندیوں کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا، جو بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی افراتفری میں استحکام فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح، تجارت اور ادائیگیوں کا نظام بھی تیزی سے ڈالر کے دائرہ کار سے باہر نکل رہا ہے۔ چین 40 سے زائد ممالک کے ساتھ ’’یوآن‘‘ میں لین دین کر رہا ہے، جبکہ بھارت نے 20 ممالک کے بینکوں کے ساتھ ’’روپے‘‘ کے خصوصی اکاؤنٹس قائم کر لیے ہیں۔ بھارت نے برکس پر مبنی ایک ڈیجیٹل کرنسی نیٹ ورک کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ ’پروجیکٹ ایم برج‘ کے تحت مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے تجربات کیے جا رہے ہیں، جنہیں سونے اور قومی کرنسیوں کا تحفظ حاصل ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ڈالر کی غیر چیلنج شدہ برتری کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔ جے پی مورگن کی جوائس چانگ مشاہدہ کرتی ہیں کہ امریکی ڈالر ایک اہم عالمی کرنسی کے طور پر تو برقرار رہے گا، لیکن اب یہ واحد غالب عالمی کرنسی نہیں رہے گا۔
وزیراعظم کا بڑا اعلان؛
وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری اور صنعتوں کے لیے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ویلنگ چارجز میں صنعتوں کے لیے 9 روپے کمی اور ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کی شرح ساڑھے 7 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دل تو چاہتا ہے بجلی 10 روپے سستی کی جائے، مگر بعض مجبوریوں کے باعث ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے برآمدکنندگان اور نمایاں کاروباری شخصیات کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ دیا جائے گا، جس کی تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ برآمدکنندگان اور کاروباری طبقہ ملکی معیشت کا سر کا تاج ہیں اور آئندہ معاشی پالیسیاں تاجر برادری سے مشاورت کے بعد تشکیل دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدکنندگان نے مشکل حالات میں محنت کر کے 2025 میں ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا اور اربوں ڈالر ملک میں لائے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں اور کچھ لوگوں نے ملک کو تکنیکی طور پر ڈیفالٹ قرار دے دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 میں پیرس سمٹ کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط پر بات چیت ہوئی، تاہم چین، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا گیا۔ ان کے مطابق اب معیشت مستحکم ہو چکی ہے، مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے اور پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد تک آ چکا ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ صورتحال ابھی مزید بہتری کی متقاضی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ذخائر پہلے سے دگنے ہو چکے ہیں اور حکومت اخراجات کم کرنے، نجکاری اور شفافیت کے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے شوگر سیکٹر، یوٹیلیٹی اسٹورز اور پاسکو میں کرپشن کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سخت فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام میں سیکیورٹی اداروں نے اہم کردار ادا کیا اور پیٹرول کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے معاشی اصلاحات جاری رہیں گی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے رابطے تیز کیے جا رہے ہیں۔
سیمنٹ کی فروخت میں سالانہ
جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ملک میں سیمنٹ کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر9فیصد جبکہ برآمدات میں ایک فیصداضافہ ریکارڈکیاگیاہے۔ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں 29.94ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 9فیصدزیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملک میں 27.54ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی تھی۔ جنوری میں ملک میں 4.15ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت کااندازہ ہے جوگزشتہ سال جنوری کے 4.03ملین ٹن کے مقابلہ میں 3فیصدزیادہ ہے۔ اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملک کے شمالی شہروں وعلاقوں میں 20.66ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 12فیصدزیادہ ہے،گزشتہ مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملک کے شمالی شہروں وعلاقوں میں 18.38ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی تھی۔ مالی سال کے پہلے7ماہ میں ملک کے جنوبی شہروں وعلاقوں میں 3.82ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.77ملین ٹن کے مقابلہ میں ایک فیصدزیادہ ہے۔ اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں 5.46ملین ٹن سیمنٹ کی برآمدات ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 5.39ملین ٹن کے مقابلہ میں ایک فیصدزیادہ ہے۔ جنوری میں ملک سے 0.83ملین ٹن سیمنٹ کی برآمدات کااندازہ ہے جوگزشتہ سال جنوری کے 0.58ملین ٹن کے مقابلہ میں 43فیصدزیادہ ہے۔
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر
ملکی زرمبادلہ کے مجوعی ذخائر میں ساڑھے 3 کروڑ ڈالر سے زائد اضافہ ہوگیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر 1کروڑ34 لاکھ ڈالر اضافے سے 16ارب10کروڑ ڈالر ہوگئے۔ نئے کرنسی نوٹ مارکیٹ میں کب دستیاب ہوں گے؟ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا اسی طرح کمرشل بینکوں کے ذخائر 2کروڑ17لاکھ ڈالر اضافہ سے 5ارب19 کروڑ ڈالرزکی سطح پر آگئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی مجموعی ذخائر 3کروڑ51لاکھ ڈالرز اضافہ سے 21ارب29 کروڑ ڈالرز ہوگئے ہیں۔
امریکا، ایران کشیدگی؛
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج کے خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے تیار کردہ تخمینوں کے مطابق یکم فروری 2026 سے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 9.47 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکام کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 3.69 روپے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6.95 روپے فی لیٹر اضافے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑ رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی بھی اضافے سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔ حتمی فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات کی روشنی میں وفاقی حکومت کرے گی۔
سونے کے بعد چاندی
عالمی منڈی میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں سونے کے بعد چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 121 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد اچانک دباؤ کا شکار ہو گئی اور 7 ڈالر کی کمی کے ساتھ 114 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق قیمتی دھاتوں میں حالیہ دنوں میں تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر فروخت کا رجحان سامنے آیا ہے، جس کے باعث قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔ سونے کے بعد چاندی میں آنے والی اس تیز گراوٹ نے سرمایہ کاروں اور تاجروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاندی اور پلاٹینم جیسی نسبتاً چھوٹی مارکیٹوں میں قیاس آرائیوں کا عنصر زیادہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں حقیقی قدر سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی بھی بڑی حد تک قیاس آرائیوں اور شارٹ ٹرم سرمایہ کاری کا نتیجہ تھی، جس کے ختم ہوتے ہی قیمتوں میں اصلاح (Correction) دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ قلیل مدت میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، تاہم مجموعی طور پر عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور جغرافیائی سیاسی تناؤ قیمتی دھاتوں کی طلب کو سہارا دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گراوٹ کے باوجود سونا اور چاندی اب بھی طویل مدتی بنیادوں پر مضبوط پوزیشن میں سمجھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کا انحصار عالمی مالیاتی پالیسیوں، امریکی ڈالر کی قدر، شرح سود اور سرمایہ کاروں کے رویّے پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ فوری منافع کے بجائے محتاط حکمت عملی اپنائیں اور مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں اس غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتی دھاتوں سے وابستہ کاروباری حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ سرمایہ کار آئندہ رجحان کے واضح ہونے کے منتظر ہیں۔
سپر ٹیکس پر عدالتی
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سپر ٹیکس پر وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد 237 ارب کی وصولی کی تیاری کرلی۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سپر ٹیکس کی مد میں 327 ارب روپے وصول کرنے ہیں۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق صرف تیل و گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں سے تقریباً 90 ارب روپے وصول ہونے ہیں کیونکہ تیل وگیس دریافت کرنے والی کمپنیاں پہلے ہی 44 سے 55 فیصد ٹیکس ادا کررہی ہیں۔ ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ قانون کے مطابق ان کمپنیوں سے اس سے زیادہ ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا لہٰذا ایف بی آر نے237 ارب روپے سپرٹیکس کی مد میں وصو ل کرنے کے لیے تیاری کرلی ہے۔ ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ بڑی کمپنیوں سے اگلے 3 دن میں 100 ارب جمع کرنے کے لیے رابطے کرلیے گئے ہیں جب کہ سپرٹیکس کے معاملے پر آئینی عدالت کے فیصلے سے آئی ایم ایف کوبھی آگاہ کردیا گیا ہے۔
کراچی کےکاروباری
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کا کہنا ہےکہ کراچی کےکاروباری طبقےکا بڑا حوصلہ ہے، ناانصافیوں کے بعد بھی ڈٹا ہوا ہے،کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتارسکتے ہیں۔ کراچی میں کاروباری طبقے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقے کی پریشانیوں اورچیلنجز کا ادراک ہے،کاروباری اعتماد بہت اچھا نہیں ہے، ٹیکسوں کے مسائل ہیں، سکیورٹی بہت آئیڈیل نہیں ہے، یہ معاملات میرے نہیں ہیں لیکن یہ اعتماد پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ آپ کے معاملات حل کرائیں گے، تمام منفی چیزوں کے باوجود کچھ بہت اچھی چیزیں ہو رہی ہیں، 25 کروڑ آبادی میں 65 فیصد نوجوان ہیں، پاکستان خوراک پیدا کرنے والا امیر ملک ہے، زراعت ہماری ضرورت پوری کرلیتا ہے، ایندھن اور کھانےکا تیل منگوانا پڑتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کا کہنا تھا کہ مئی کے بعد پاکستان کی دنیا میں نئی شناخت سامنے آئی ہے، قرضوں کی وجہ سے پوری دنیا میں برے حالات ہیں، دنیا ڈالر سے دوسری کرنسیوں پر منتقل ہو رہی ہے، اگلے دو سال بہت اہم ہیں، ہمارے لیے مواقع بڑھیں گے، حکومت کا ظرف ہے کہ آئی ایم ایف سے مذکرات کی مشکل بتاتی نہیں، آئی ایم ایف سے نکلنے کا قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ کاروباری طبقے کی مشاورت سے کام کریں گے، وسائل ہم مہیا کریں گے، کراچی کا نیا چہرہ ہوگا،کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، وسط اپریل اور مئی تک آپ کے ریزرو 40 سے 48 ارب ڈالر ہوں گے، بہت سے نئے آئیڈیاز پر کام کر رہے ہیں، لوگوں کو نوکریوں سےنہ نکالیں بہت کچھ آنے والا ہے، معیشت کا پہیہ چلےگا تو سارے مسائل حل ہوں گے،کاروباری طبقے کو سہولیات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیب نے تین سال میں 12.4 ٹریلن کی ریکوری کی ہے، تین مہینوں میں 11 ہزار ارب زمزید جمع کروں گا، اس شہر کے ساتھ بہت بڑی دھوکے بازی ہوئی ہے، بنگلادیش بھائی سے بھائی کی سازش سے الگ ہوئے، سازش ناکام ہوئی اور بھائی کے ساتھ بھائی مل گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی زمینوں کا ریکارڈ ڈیجٹلائز ہوگا، ہم نے 1500 ارب کی زمینیں واہگزار کرائیں ہیں، چند روز میں اس کی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔
بھارت اور یورپی یونین تجارتی
لاہور: سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے یورپی یونین اور بھارت کے تجارتی معاہدے پر کہا ہےکہ یہ معاہدہ پاکستان کی صنعتوں کے لیے بڑا خطرہ ہے، تجارتی معاہدے سے پاکستان کی 9 ارب ڈالرز کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس متاثر ہوسکتی ہیں۔ ایک بیان میں گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ایک کروڑ افراد کا روزگار متاثر ہوسکتا ہے، یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا، پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک پر اب زیرو ٹیرف کا اطلاق ہوگا، اس سے قبل صرف پاکستان کے لیے یورپی یونین نے زیرو ٹیرف فراہم کیا ہوا تھا۔ گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ حکومت کو ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری بچانے کے لیے آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا، ٹیکسٹائل انڈسٹری کو علاقائی نرخوں پر بجلی و گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتوں پر ٹیکسز کی شرح علاقائی ممالک کے برابرکی جائے، صنعتوں کی کاروباری لاگت کو ہمسایہ ممالک کے برابر کیا جائے، ملکی صنعتیں سسٹم کی نااہلی کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتیں۔ بھارت اور یورپی یونین نے ’مدر آف آل ڈیلز‘ پر اتفاق کرلیا خیال رہےکہ بھارت اور یورپی یونین نے ایک بڑے تجارتی معاہدے پر اتفاق کرلیا ہےجسے فریقین نے ’مدر آف آل ڈیلز‘ قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق اس معاہدے کے تحت یورپی برآمدات کے تقریباً 97 فیصد پر ٹیرف کم یا ختم کر دیے جائیں گے جس سے سالانہ 4 ارب یورو تک ڈیوٹی کی بچت ہو سکےگی۔ یورپی حکام کے مطابق یہ اب تک بھارت کا سب سے جامع اور وسیع تجارتی معاہدہ ہے جس سے یورپ کے زرعی، آٹو موبائل اور خدمات کے اہم شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق معاہدے میں سکیورٹی شراکت داری بھی شامل ہے جس سے دفاعی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نریندر مودی کے مطابق اس معاہدے سے بھارت کے ٹیکسٹائل، قیمتی پتھروں اور زیورات، چمڑے کی مصنوعات اور خدمات کے شعبے کو بھی فروغ ملےگا۔
ملک میں بینکوں کی
کراچی: پاکستان میں بینکوں کی سرمایہ کاری ڈپازٹس سے بھی تجاوز کرگئی۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں بینکوں کے ڈپازٹس 5.8 فیصد بڑھ کر 37431 ارب روپے ہوگئے اور ان 12 ماہ میں بینکوں کے ڈپازٹس 23.6 فیصد بڑھے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں کی سرمایہ کاری ایک سال میں 30 فیصد بڑھی جس سے دسمبر 2025 تک بینکوں کی سرمایہ کاری کا حجم 37910ارب روپے ہوگیا۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ایک سال میں بینکوں نے 8781 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جس دوران بینکوں کے ایڈوانسز کا حجم دسمبر 2025 تک 14880 ارب روپے رہا جب کہ ایک سال میں بینکوں کے ایڈوانسز 7 فیصد کم ہوئے، ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب 53 فیصد سے کم ہو کر 39.8 فیصد پر آ گیا۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد کے مطابق انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ تناسب 96 فیصد سے بڑھ کر 101.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یکم فروری سے پیٹرول
اسلام آباد: یکم فروری سے پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ انڈسٹری ذرائع کا کہناہےکہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیٹرول 36 پیسے فی لیٹر سستا ہوسکتا ہے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 9 روپے 47 پیسے فی لیٹرتک مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق مٹی کا تیل 3 روپے 69 پیسے فی لیٹر مہنگا اور لائٹ ڈیزل 6 روپے 95 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ انڈسٹری ذرائع نے بتایا کہ اوگرا 30 جنوری کو ورکنگ پیٹرولیم ڈویژن کو بھجوائے گا، وزارت خزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت سےکرے گی۔
2026میں پاکستان میں
ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس نے پاکستان کے معاشی اشاروں کی پیشگوئی کردی ہے۔ رواں سال 2026میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 5.1 فیصد رہنے کا امکان ہے ،2027میں مہنگائی معمولی اضافے کے ساتھ 5.6 فیصد تک جاسکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا آئندہ 2 ماہ کیلئے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0.5 فیصد سے بڑھ کر 1.3 فیصد تک جاسکتا ہے ،مالی سال 2026میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی نمو 3.5 فیصد رہے گی۔ مشیر وزارت خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ایس اینڈ پی اور اسٹیٹ بینک کی پیشگوئیوں میں مجموعی طور پر ہم آہنگی ہے۔ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل، اسٹیٹ بینک اسٹیٹ بینک نے2 سالوں کیلئے مہنگائی 5 سے 7 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے ، اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0 سے 1 فیصد کی توقع کی جبکہ معاشی شرح نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔
نئے کرنسی نوٹ مارکیٹ میں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے حتمی منظوری ملتے ہی دو سے تین مختلف مالیت کے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کی چھپائی شروع کر دی جائے گی۔ یہ بات اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے تازہ مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے نوٹوں کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور کابینہ کی منظوری کے فوراً بعد چھپائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا نئے ڈیزائن کے بینک نوٹ چھاپنے کا عمل کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ کابینہ کی منظوری سے مشروط، ہم جلد ہی چھپائی شروع کر دیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹ بیک وقت چھاپے جائیں گے۔ جمیل احمد کے مطابق نئے ڈیزائن کے نوٹ فوری طور پر مارکیٹ میں نہیں آئیں گے بلکہ مرحلہ وار گردش میں لائے جائیں گے، جب اسٹیٹ بینک موجودہ نوٹوں کو تبدیل کرنے کے لیے کم از کم مطلوبہ ذخیرہ تیار کر لے گا۔ انہوں نے کہ جیسے ہی مرکزی بینک موجودہ زیرِ گردش نوٹوں کو تبدیل کرنے کے لیے کم از کم ضروری اسٹاک حاصل کر لے گا، نئے ڈیزائن کے نوٹ مرحلہ وار گردش میں لائے جائیں گے۔” تاہم گورنر نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن مالیت کے نوٹ سب سے پہلے متعارف کرائے جائیں گے۔ اس وقت پاکستان میں زیرِ گردش کرنسی نوٹوں میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1,000 اور 5,000 روپے کے نوٹ شامل ہیں۔ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل، اسٹیٹ بینک گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ حکومت کو منظوری کے لیے ارسال کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد انہیں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نئے ڈیزائن حکومت کو بھجوا دیے ہیں، اور حکومت نے انہیں کابینہ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں وزیراعظم آفس نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے پاکستانی کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا اور اس معاملے پر غور کے لیے ایک کابینہ کمیٹی قائم کی۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ کرنسی نوٹوں کا نیا ڈیزائن جدید تقاضوں کے مطابق اور بین الاقوامی ماہرین کی معاونت سے تیار کیا جا رہا ہے۔
مسلسل اضافے کے بعد
گزشتہ کئی دن سے پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، تاہم آج منگل کے روز سونے کی قیمت میں معمولی کمی ہوئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 1500 روپے کمی کے بعد 5 لاکھ 30 ہزار 562 روپے ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ 10 گرام سونے کی قیمت 1286 روپے کمی کے ساتھ 4 لاکھ 54 ہزار 871 ہوگئی ہے۔ ملک بھر میں چاندی 212 روپے اضافے سے 11640 روپے تولہ کی سطح پر موجود ہے۔
حکومت کی آئی ایم ایف
اسلام آباد: حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) سے کچھ شعبوں میں رعایتیں لینےکی تیاری کرلی ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مذاکرات میں ٹیکس وصولیوں کے ہدف اور توانائی کی قیمتیں کم کرنےکی درخواست کی جائےگی۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ازسرنو ترجیحات متعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ محکمے آئی ایم ایف سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے 2 ہفتوں میں تجاویز وزارت خزانہ کو دیں گے، وزارت صنعت و پیداوار صنعتی شعبےکی مشکلات کم کرنے کے لیے تجاویز تیار کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے آئندہ مذاکرات میں صنعتوں کی بحالی کے لیے ریلیف حاصل کرنےکی حکمت عملی بنانےکی ہدایت کی۔ ذرائع کے مطابق ایم ڈی آئی ایم ایف نے قرض پروگرام میں رہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو معاشی گروتھ کے لیے حکومتی ترجیحات سے آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق صنعتوں اور بڑی کمپنیوں کے لیے سُپر ٹیکس اور پاور ٹیرف میں کمی کی تجاویز بھی تیار کی جا رہی ہیں۔
حکومت نے آٹے کی قیمت
کراچی: سندھ حکومت نے آٹے کی نئی قیمت کا تعین کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا، آٹے کی فی کلو ریٹیل قیمت 107 روپے مقرر کی گئی ہے۔ 10 کلوآٹے کے تھیلے کے نرخ 1070 روپے مقررکئے گئے ہیں، آٹے کی ایکس مل فی کلو قیمت 104 روپے جبکہ 10 کلو تھیلا 1040 روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں آٹے کی قیمت 142 سے 145 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈھائی نمبر فائن آٹا ڈیڑھ سو روپے کلو تک پہنچ گیا ہے۔ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل، اسٹیٹ بینک پشاور میں آٹا 150 سے 160 روپے فی کلو جبکہ کوئٹہ میں فی کلو آٹا ڈیڑھ سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
سونا بلند ترین سطح کو
سونا بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سستا ہو گیا۔ گزشتہ روز سونے کے نرخ میں 10 ہزار 900 روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر چلی گئی تھی۔ آج سونے کے فی تولہ نرخ میں 1500 روپے کی کمی ہونے سے نئی قیمت 5 لاکھ 30 ہزار 562 روپے ہو گئی ہے۔ دس گرام سونا 1286 روپے سستا ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 54 ہزار 871 روپے ہوگئی ہے۔ حکومت نے آٹے کی قیمت کا تعین کر دیا عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں 15 ڈالر کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد فی اونس سونا 5082 ڈالر کا ہو گیا ہے۔ سونے کی قیمت کے برعکس چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، چاندی 212 روپے مہنگی ہوئی ہے جس کے بعد قیمت 11640 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی
بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے تعین میں مقامی ایجنٹس کا کردار ختم کردیا گیا۔ جنگ اور دی نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے درآمد کی جانے والی گاڑیوں کے حوالے سے کسٹمز جنرل آرڈر جاری کردیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق یورپ سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ہوگا۔ اس سے پہلے استعمال شدہ گاڑیوں سمیت تمام گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کا تعین مجاز مقامی ایجنٹوں کے ذریعے ہوتا تھا۔
جنوبی ایشیا میں عدم استحکام
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر پربھارت کاغیرقانونی قبضہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیاد ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں امن انصاف اور کثیر الجہتی نظام سے متعلق مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مئی کے تنازع نے اس حقیقت کوواضح کردیا۔ کشمیریوں کوحق خودارادیت سے محروم رکھنے سے امن کوشدید خطرات لاحق ہیں، عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی عالمی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام لاکھوں افراد کی زندگیوں اور روزگار کو خطرے میں ڈالتا ہے، پاکستان پانی اور دیگر قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کے عمل کو مسترد کرتا ہے۔ وزیر اعظم کا جیم اسٹون انڈسٹری کے فروغ کیلئے بڑے اقدامات کا اعلان انہوں نے کہا کہ معاہدوں کی پاسداری بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیاد ہے، عالمی قانون کا مساوی اطلاق ہونا چاہیے، طاقت کی بالادستی سے عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد دو سے تین مختلف مالیت کے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں ہے اور کابینہ کی منظوری ملتے ہی چھپائی شروع کر دی جائے گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق، “نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی چھپائی کا عمل کافی آگے بڑھ چکا ہے، کابینہ کی منظوری کے بعد جلد چھپائی شروع کر دی جائے گی، اور دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹس بیک وقت چھاپے جائیں گے۔” جمیل احمد نے کہا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں نہیں آئیں گے بلکہ مرحلہ وار گردش میں لائے جائیں گے. انہوں نے بتایا کہ نئے نوٹس اس وقت گردش میں لائے جائیں گے جب مرکزی بینک موجودہ کرنسی نوٹس کو مرحلہ وار تبدیل کرنے کے لیے مناسب اسٹاک حاصل کر لے گا۔ تاہم گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ واضح نہیں کیا کہ سب سے پہلے کن مالیت کے نوٹس متعارف کرائے جائیں گے۔ اس وقت ملک میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹس زیر گردش ہیں۔ جمیل احمد کا کہنا تھا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم آفس نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹس کے نئے ڈیزائن سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا اور اس معاملے کے لیے کابینہ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ کرنسی نوٹس کی ازسرِنو ڈیزائننگ جدید تقاضوں کے مطابق اور بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے کی جا رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک کا شرح سود
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق 2 ماہ تک شرح سودساڑھے 10 فیصد پر برقرار رہےگی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح 7.4 فیصد پر برقرار ہے۔
پی ایس ایکس میں زبردست
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جاری ہے۔ پیر کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور 100 انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی۔ کاروبار کے آغاز میں انڈیکس میں 1434 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جو ٹریڈنگ کے دوران 1800 پوائنٹس تک بڑھ گیا۔ کاروبار کے دوران اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس ایک لاکھ 90 ہزار 600 کی سطح عبور کرگیا۔
مرغی کی قیمت بھی عوامی پہنچ
مرغی کی سرکاری قیمتوں کو نظرانداز کر دیا گیا، مرغی کا گوشت بھی عوامی پہنچ سے دور ہو گیا۔ لاہور میں برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 349 روپے کلو ہے جبکہ پرچون ریٹ 363 روپے مقرر کیا گیا ہے، گوشت 526 روپے کلو ہے، انڈوں کی فی درجن قیمت 337 روپے مقرر کی گئی ہے، اوپن مارکیٹ میں مرغی کا گوشت 550 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ لاہور میں گزشتہ روز سرکاری نرخنامے کے مطابق مرغی کا گوشت 533 روپے کلو تھا جبکہ آج سرکاری نرخ میں سات روپے کی کمی ہوئی ہے لیکن عام مارکیٹ میں مرغی کی مہنگے داموں فروخت جاری ہے۔ فیصل آباد میں زندہ برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 339 روپے کلو، پرچون ریٹ 353 روپے کلو ہے جبکہ گوشت 511 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ملک میں آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ ملتان میں زندہ برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 306 روپے کلو، پرچون ریٹ 320 روپے کلو جبکہ گوشت کا ریٹ 464 روپے کلو مقرر کیا گیا ہے، انڈے 338 روپے فی درجن دستیاب ہیں۔
سال 2026 میں خریدنے کے لیے
سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کی آٹو موبائل مارکیٹ میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔سوزوکی ویگن آر اور مشہور زمانہ ’’کیری ڈبہ‘‘(بولان) کی باضابطہ بندش کے بعد کم بجٹ میں گاڑی خریدنے والے صارفین اب نئی جنریشن کی انٹری لیول گاڑیوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود سوزوکی آلٹو اب بھی پاکستان کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جا رہی ہے۔ 660 سی سی انجن، بہترین فیول ایوریج اور مضبوط ری سیل ویلیو کی وجہ سے آلٹو متوسط طبقے کی پہلی ترجیح بنی ہوئی ہے۔ 2026 میں اس کی قیمت 23.3 سے 30.5 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ دوسری جانب سوزوکی ایوری نے باضابطہ طور پر بولان کی جگہ لے لی ہے۔ یہ گاڑی جدید EFI انجن، بہتر سسپنشن، مؤثر ایئر کنڈیشننگ اور اضافی سیفٹی فیچرز کے ساتھ متعارف کرائی گئی ہے۔ وسیع کیبن کے باعث یہ گاڑی بڑے خاندانوں اور کمرشل استعمال کے لیے تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جبکہ اس کی قیمت 27.5 سے 28 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ جاپانی امپورٹ گاڑیوں میں ڈائی ہاٹسو میرا اور نسان ڈیز نمایاں ہیں۔ ڈائی ہاٹسو میرا کم ایندھن خرچ، آرام دہ ڈرائیو اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے، تاہم اس کے اسپیئر پارٹس مہنگے ہیں۔اس کی قیمت 28.5 سے 32.5 لاکھ کے درمیان ہے۔ نسان ڈیز کو 660 سی سی گاڑیوں میں ’’لگژری آپشن‘‘ کہا جا رہا ہے، مگر اس کی قیمت اور مینٹیننس لاگت نسبتاً زیادہ ہے۔اس کی قیمت 32.5 لاکھ سے 39 لاکھ کے درمیان ہے۔ سوزوکی کلٹس اب بھی 1000 سی سی کی مقبول ہیچ بیک ہے، لیکن 2026 میں اس کی قیمت 40 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث یہ سستی گاڑیوں کی فہرست کے آخری کنارے پر پہنچ گئی ہے۔یہ گاڑی 40.9 لاکھ سے 45.9 لاکھ کے درمیان مل جاتی ہے۔ استعمال شدہ مارکیٹ میں ویگن آر اور ٹویوٹا وِٹز اب بھی دستیاب ہیں اور کم بجٹ مگر قدرے بڑی گاڑی کے خواہشمند افراد کے لیے بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہیں۔998 سی سی ویگن آر(استعمال شدہ) 28 لاکھ سے 34 لاکھ کے درمیان باآسانی مل جاتی ہے 1000 سی سی ٹویوٹا وِٹز(استعمال شدہ)مارکیٹ میں 26 لاکھ سے 44 لاکھ کے درمیان فروخت ہورہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر محفوظ سرمایہ کاری درکار ہو تو سوزوکی آلٹو، زیادہ جگہ کے لیے سوزوکی ایوری اور آرام و سہولت کے شوقین افراد کے لیے جاپانی امپورٹ گاڑیاں بہترین انتخاب ہیں۔
اسٹیٹ بینک آج مانیٹری پالیسی
اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج نئے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی جاری کرے گا، جس میں بنیادی شرح سود کے سنگل ڈیجٹ میں آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس اسٹیٹ بینک کے ہیڈ آفس کراچی میں منعقد ہوگا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے دوران معاشی اشاریوں، مہنگائی کی صورتحال اور دیگر اہم اقتصادی عوامل کا تفصیلی جائزہ لے کر بنیادی شرح سود کا تعین کرے گی۔ مانیٹری پالیسی کا باضابطہ اعلان گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پریس کانفرنس کے ذریعے کریں گے۔ یاد رہے کہ 2025 کی آخری مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود میں نصف فیصد کمی کی تھی، جس کے بعد پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ ٹریژری بلز کی نیلامی میں شرح سود میں مزید کمی کے واضح اشارے ملے ہیں۔ چار سال بعد پہلی مرتبہ بینکوں سے حاصل کیے جانے والے حکومتی قرض پر شرح سود سنگل ڈیجیٹ سطح پر آچکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کا اعلان، بنیادی شرح سود 11 سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گئی سروے رپورٹس کے مطابق ٹریژری بلز پر شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں آنے کے باعث بنیادی شرح سود میں مزید کمی کا امکان مضبوط ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام، مہنگائی پر قابو اور ترسیلات زر میں اضافے کے پیش نظر اسٹیٹ بینک بنیادی شرح سود میں آدھے سے ایک فیصد تک کمی کر سکتا ہے۔
سونے کی قیمت کا نیا ریکارڈ،
ایک روز کی کمی کے بعد ملک بھر میں سونے کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج فی تولہ سونا 9 ہزار 100 روپے مہنگا ہوا جس کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے پر ہوگئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 7 ہزار 802 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 41 ہزار 239 روپے پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یکدم 91ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 923ڈالر کی نئی بلند سطح پر آگئی ہے۔ سونے کی قیمت میں اضافے کا عالمی رجحان کب تک برقرار رہے گا؟ سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کی قیمت مالیاتی بحران یا معاشی گراوٹ کے دوران کم ہونے کے بجائے برقرار رہنے یا بڑھنے کی توقع کی جاتی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ 1970 کی دہائی کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے جو گذشتہ برس اپریل سے اب تک 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ قیمتی دھاتوں کے ڈیلر اور سٹوریج فراہم کرنے والی کمپنی سلور بلین کے بانی گریگر گریگرسن کے مطابق گذشتہ ایک سال میں ان کے صارفین کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کی غیر یقینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بہت سے سرمایہ کار، بینک اور امیر خاندان اب سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔ گریگرسن کے مطابق ہمارے زیادہ تر صارفین طویل عرصہ تک سونا اپنے پاس رکھتے ہیں۔انھوں نے وضاحت کی کہ ان کے صارفین کی اکثریت چار سال سے زیادہ عرصہ تک سونا محفوظ رکھتے ہیں۔ گریگرسن کہتے ہیں کہ کسی نہ کسی وقت پر سونے کی قیمت میں گراوٹ ہو گی لیکن میرا ماننا ہے کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں کم از کم اگلے پانچ سال تک کے لیے سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کی امید ہے۔
ملک میں آٹے کی قیمت
ملک بھر میں آٹا مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ بیس کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، سب سے زیادہ مہنگا آٹا بنوں اور پشاور کے شہری خریدنے پر مجبور ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق بنوں اور پشاور میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔اسلام آباد میں بیس کلو آٹے کاتھیلا 2960 روپے میں دستیاب ہے۔ راولپنڈی میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2933 روپے،کوئٹہ میں 2850، حیدر آباد میں 2760 روپے اور کراچی میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2700 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سرگودھا میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2667 روپے تک پہنچ گیا ہے، ملتان، فیصل آباد، سکھر اور خضدار میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2600 روپے ہے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑا اضافہ ہوگیا سیالکوٹ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2540 روپے، بہاولپور میں آٹے کا تھیلا 2506روپے، لاڑکانہ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2500 اورگوجرانوالہ میں ا2467 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ لاہور کے شہری سب سے کم قیمت میں بیس کلو آٹے کا تھیلا خرید رہے ہیں یہاں آٹا 1850 روپے میں بیس کلو فروخت ہو رہا ہے۔
کراچی: سوئی سدرن کا گھر
کراچی: سوئی سدرن نے گھریلو صارفین کو گیس کی مکمل فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئی سدرن کے مطابق گھریلو صارفین کو گیس کی مکمل فراہمی ہوگی جب کہ صنعتوں کے لیے گیس 2 دن بند رکھی جائے گی۔ سوئی سدرن کے مطابق صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنز کے لیے ہفتے کی صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک گیس بند ہوگی۔
ملک میں سونے اور چاندی
کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 9 ہزار 100 روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے کی سطح پر آ گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 7 ہزار 802 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 41 ہزار 239 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں سونا 91 ڈالر فی اونس مہنگا ہوا اور اس کی قیمت 4 ہزار 923 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی۔ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور فی تولہ چاندی کی قیمت میں 372 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ چاندی 10 ہزار 275 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
استعمال شدہ موبائل فونز کی
ایف بی آر کسٹمز ویلیو ایشن نے بیرون ملک سے درآمد کیے گئے پرانے موبائل فونز کی نظر ثانی شدہ کسٹم ویلیو جاری کردی۔ نئے اور کم ریٹس کے باعث 4 بڑے برانڈز کے مجموعی طور 62 ماڈلز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس میں کمی واقع ہوگی۔ نئے ویلیوایشن ریٹس کے تحت ایک معروف برانڈ کے فونز کی کسٹمز ویلیو میں 32 فیصد سے 89 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ ویلیو ایشن کے حکام کے مطابق سابقہ طریقہ کار میں قیمتیں بڑھا چڑھا کر دکھانے، انڈر انوائسنگ اور استعمال شدہ فونز کی گریڈنگ کے باعث کلیئرنس میں تاخیر ہوتی تھی جس کا بوجھ صارفین پر پڑتا تھا۔
سونے کی قیمت کا نیا ریکارڈ،
ایک روز کی کمی کے بعد ملک بھر میں سونے کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج فی تولہ سونا 9 ہزار 100 روپے مہنگا ہوا جس کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے پر ہوگئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 7 ہزار 802 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 41 ہزار 239 روپے پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یکدم 91ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 923ڈالر کی نئی بلند سطح پر آگئی ہے۔ سونے کی قیمت میں اضافے کا عالمی رجحان کب تک برقرار رہے گا؟ سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کی قیمت مالیاتی بحران یا معاشی گراوٹ کے دوران کم ہونے کے بجائے برقرار رہنے یا بڑھنے کی توقع کی جاتی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ 1970 کی دہائی کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے جو گذشتہ برس اپریل سے اب تک 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ قیمتی دھاتوں کے ڈیلر اور سٹوریج فراہم کرنے والی کمپنی سلور بلین کے بانی گریگر گریگرسن کے مطابق گذشتہ ایک سال میں ان کے صارفین کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کی غیر یقینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بہت سے سرمایہ کار، بینک اور امیر خاندان اب سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔ گریگرسن کے مطابق ہمارے زیادہ تر صارفین طویل عرصہ تک سونا اپنے پاس رکھتے ہیں۔انھوں نے وضاحت کی کہ ان کے صارفین کی اکثریت چار سال سے زیادہ عرصہ تک سونا محفوظ رکھتے ہیں۔ گریگرسن کہتے ہیں کہ کسی نہ کسی وقت پر سونے کی قیمت میں گراوٹ ہو گی لیکن میرا ماننا ہے کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں کم از کم اگلے پانچ سال تک کے لیے سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کی امید ہے۔
کراچی: سوئی سدرن کا
کراچی: سوئی سدرن نے گھریلو صارفین کو گیس کی مکمل فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئی سدرن کے مطابق گھریلو صارفین کو گیس کی مکمل فراہمی ہوگی جب کہ صنعتوں کے لیے گیس 2 دن بند رکھی جائے گی۔ سوئی سدرن کے مطابق صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنز کے لیے ہفتے کی صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک گیس بند ہوگی۔
آذربائیجان کی کمپنی کا
آذربائیجان کی ایک کمپنی نے پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا اعلان کردیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ڈیووس میں بزنس راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد ہوا، اجلاس میں عالمی سطح کی معروف کمپنیوں کے سی ای اوز اور سینئر حکام نے شرکت کی جہاں پاکستان کی اصلاحاتی سمت، سرمایہ کاری کے مواقعوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق آذربائیجان کی کمپنی نے پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس کا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خیر مقدم کیا اور ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ محمد اورنگزیب اور بل گیٹس کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جس میں پاکستان میں صحت اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ مزیدبراں وزیر خزانہ نے ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔
سونا بلند ترین سطح پر پہنچنے
سونا بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سستا ہو گیا۔ گزشتہ روز سونے کے نرخ پہلی پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئے تھے، جس کے بعد قیمت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ آج سونے کی قیمت میں 800 روپے فی تولہ کمی ہونے سے نئی قیمت 5 لاکھ 5 ہزار 562 روپے ہوگئی ہے۔ دس گرام سونا 686 روپے سستا ہوا ہے جس کے بعد نئے نرخ 4 لاکھ 33 ہزار 437 روپے ہو گئے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 8 ڈالر سستا ہوا ہے جس کے بعد فی اونس قیمت 4832 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ فچ نے پاکستان کی معاشی صورتحال کی رپورٹ جاری کر دی گزشتہ روز چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، آج چاندی کی قیمت 30 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ قیمت 9904 روپے ہو گئی ہے۔
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16 ملین ڈالر اضافے کے ساتھ 21.25 ارب ڈالر ہوگئے ہیں ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 16 جنوری 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تحویل میں زرمبادلہ کے ذخائر 16.08 ارب ڈالر،کمرشل بینکوں کی تحویل میں زرمبادلہ کے ذخائر 5.17 ارب ڈالر تھے ۔ نئے نوٹ تیار، اسٹیٹ بینک کو حکومت کی اجازت کا انتظار زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 21.25 ارب ڈالر ہوگئے ۔16 جنوری 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 16 ملین ڈالر کے اضافے سے 16,087.7 ملین ڈالر ہو گئے ہیں۔
حکومت نے 6 ماہ میں 1254 ارب
پاکستان نے 6 ماہ میں ایک ہزار 254 ارب روپے بیرونی قرضہ لیا۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت 29 فیصد یعنی 280 ارب روپے زیادہ قرضہ ملا، جولائی تا دسمبرپاکستان کو17ارب67 کروڑ روپےکی گرانٹ بھی ملی۔ دستاویز میں کہا ہے کہ جولائی تا دسمبر مجموعی بیرونی مالی معاونت ایک ہزار 272 ارب ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی کرنسی میں پاکستان کو 6 ماہ میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالرموصول ہوئے، ڈالر ٹرمز میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 904 ملین زیادہ ملے۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال پہلے 6 ماہ میں3 ارب60 کروڑ ڈالرحاصل ہوئے تھے، پاکستان کو اس دوران آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ اس کے علاوہ ہے، 6 ماہ میں نان پراجیکٹ ایڈ 785 ارب، پراجیکٹ ایڈ 487 ارب روپے رہی جبکہ بجٹ سپورٹ کیلئے 458 ارب 72 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 170 ارب روپے کی آئل فیسلیٹی دی، اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو137 ارب روپے قرض دیا اور پراجیکٹ ایڈ کی مد میں پاکستان کو487 ارب روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال4 ہزار507 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لینے کا ہدف ہے۔
حکومت طویل مدتی سرمایہ
ڈیووس: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہےکہ حکومت طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پر عزم ہے۔ ڈیووس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطح بزنس راؤنڈ ٹیبل اجلاس ہوا جس میں عالمی سطح کی معروف کمپنیوں کے سی ای اوز اور سینئر حکام شریک ہوئے۔ بزنس راؤنڈ ٹیبل پاکستان کی جانب سے کثیرالقومی سرمایہ کاروں سےجاری روابط کا حصہ تھی جس میں پاکستان کی اصلاحاتی سمت، سرمایہ کاری کے مواقعوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کےلیے پُر عزم ہے، اس میں وزارتِ خزانہ کے تحت قائم ٹیکس پالیسی آفس بھی شامل ہے۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ کے مواقع موجود ہیں، پاکستان کو عالمی ویلیو چینز کےلیے مسابقتی مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
سونا بلند ترین سطح پر پہنچنے
سونا بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سستا ہو گیا۔ گزشتہ روز سونے کے نرخ پہلی پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئے تھے، جس کے بعد قیمت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ آج سونے کی قیمت میں 800 روپے فی تولہ کمی ہونے سے نئی قیمت 5 لاکھ 5 ہزار 562 روپے ہوگئی ہے۔ دس گرام سونا 686 روپے سستا ہوا ہے جس کے بعد نئے نرخ 4 لاکھ 33 ہزار 437 روپے ہو گئے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 8 ڈالر سستا ہوا ہے جس کے بعد فی اونس قیمت 4832 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ فچ نے پاکستان کی معاشی صورتحال کی رپورٹ جاری کر دی گزشتہ روز چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، آج چاندی کی قیمت 30 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ قیمت 9904 روپے ہو گئی ہے۔
فچ نے پاکستان کی معاشی
اسلام آباد: عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کر دی۔ فچ نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹو برقرار رکھی ہے۔ پاکستان کے لیے ریکوری ریٹنگ بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ جبکہ سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی معیار کے حوالے سے ملک کا اسکور کمزور قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کو ڈیفالٹ کی صورت میں 31 سے 50 فیصد تک رقم واپس ملنے کا امکان ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم ہے۔ تاہم ڈیفالٹ کی صورت میں قرضوں میں اوسط درجے کی ریکوری متوقع رہے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا زیادہ ہونا پاکستان کی ریٹنگ پر دباؤ کا باعث ہے۔ اگر حکومتی قرض اور سود کی ادائیگیوں میں کمی نہ ہوئی تو مستقبل میں ریٹنگ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ فچ نے رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی معیار کے حوالے سے گورننس اسکور کمزور ہے۔ اور عالمی بینک کے گورننس انڈیکس میں پاکستان 22 فیصد کی سطح پر موجود ہے۔ جو کمزور حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان میں فی تولہ سونا
دنیا بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ جاری ہے اور پاکستان میں فی تولہ سونا تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز کے مطابق آج پاکستان میں سونا 12700 روپے فی تولہ مہنگا ہوا ہے جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے کی سطح پر آگئی۔ اس کے علاوہ 10گرام سونا 10888 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 44 ہزار 123 روپے کا ہوگیا ہے۔ ادھر عالمی مارکیٹ میں سونا 127 ڈالر فی اونس مہنگا ہوکر 4840 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگیا۔ دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت میں 64 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور قیمت 9933 روپے ہوگئی ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی
اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی صنعت و پیداوار ہارون اختر نے اسٹیل مل کی بحالی کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران ہارون اختر نے کہا کہ ہم اسٹیل ملز کو بحال کر رہے ہیں، اسٹیل ملز میں صرف روس نہیں 4 مختلف پارٹیز دلچسپی رکھتی ہیں، جلد نیو انرجی وہیکل پالیسی لائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین اور سولر پالیسی بھی لا رہےہیں، پیداواری شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہےہیں، اس کے علاوہ ہوم اپلائنسز پاکستان میں بنانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
حکومت نے 6 ماہ میں
پاکستان نے 6 ماہ میں ایک ہزار 254 ارب روپے بیرونی قرضہ لیا۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت 29 فیصد یعنی 280 ارب روپے زیادہ قرضہ ملا، جولائی تا دسمبرپاکستان کو17ارب67 کروڑ روپےکی گرانٹ بھی ملی۔ دستاویز میں کہا ہے کہ جولائی تا دسمبر مجموعی بیرونی مالی معاونت ایک ہزار 272 ارب ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی کرنسی میں پاکستان کو 6 ماہ میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالرموصول ہوئے، ڈالر ٹرمز میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 904 ملین زیادہ ملے۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال پہلے 6 ماہ میں3 ارب60 کروڑ ڈالرحاصل ہوئے تھے، پاکستان کو اس دوران آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ اس کے علاوہ ہے، 6 ماہ میں نان پراجیکٹ ایڈ 785 ارب، پراجیکٹ ایڈ 487 ارب روپے رہی جبکہ بجٹ سپورٹ کیلئے 458 ارب 72 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 170 ارب روپے کی آئل فیسلیٹی دی، اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو137 ارب روپے قرض دیا اور پراجیکٹ ایڈ کی مد میں پاکستان کو487 ارب روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال4 ہزار507 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لینے کا ہدف ہے۔
کے الیکٹرک کے خلیجی سرمایہ
سعودی عرب اور کویت سے تعلق رکھنے والے کے الیکٹرک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کے خلاف 2 ارب ڈالر کا بین الاقوامی ثالثی کیس دائر کردیا۔ مقدمے میں حکومت پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے اور مدعی کے مطابق ریگولیٹری مداخلت، سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی اور معاہدے میں رکاوٹ سے شدید مالی نقصان ہوا۔ کراچی کے بجلی نظام میں 4.7 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی 16 جنوری 2026 کو او آئی سی سرمایہ کاری معاہدے اور اقوامِ متحدہ کے ثالثی قوانین (UNCITRAL) کے تحت شروع کی گئی
پاکستان اور اسلامی ترقیاتی
پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 603 ملین ڈالر کے 3معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ معاہدے اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد باضابطہ طور پر طے پائے۔ اعلامیے کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) تقریباً 603 ملین ڈالر مالیت کے تین قرضے فراہم کرے گا، ان معاہدوں میں موٹروے کے ایک حصے کی تعمیر اور سماجی شعبے کے دو اہم منصوبے شامل ہیں۔ یہ قرضے ایم-6 سکھر- حیدرآباد موٹروے منصوبے، انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کے لیے غربت سے نجات کا منصوبہ (پی جی ای پی)، جو منتخب انتہائی پسماندہ اضلاع اور سیلاب متاثرہ علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے لیے اسکول سے باہر بچوں کے منصوبے کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) کی جانب سے شارٹ ٹرم فنانسنگ (قلیل مدتی مالیات) کے طور پر کموڈٹی فنانسنگ کی مد میں کیے گئے 700 ملین ڈالر کے ایک اور عہد میں سے بینک نے رواں مالی سال کے پہلے 5 مہینوں میں اب تک 383.78 ملین ڈالر جاری کر دیے ہیں۔
پاکستان میں فی تولہ سونا
دنیا بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ جاری ہے اور پاکستان میں فی تولہ سونا تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز کے مطابق آج پاکستان میں سونا 12700 روپے فی تولہ مہنگا ہوا ہے جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے کی سطح پر آگئی۔ اس کے علاوہ 10گرام سونا 10888 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 44 ہزار 123 روپے کا ہوگیا ہے۔ ادھر عالمی مارکیٹ میں سونا 127 ڈالر فی اونس مہنگا ہوکر 4840 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگیا۔ دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت میں 64 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور قیمت 9933 روپے ہوگئی ہے۔
سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ
شمالی خطے میں سیمنٹ کی قیمتوں میں آج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹوپلائن سیکیورٹیز کے مطابق سیمنٹ کی فی بوری قیمت میں 30 سے 50 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دسمبر 2025 کے دوران سیمنٹ کی برآمدات میں مجموعی طور پر 20 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی خطے سے سیمنٹ کی برآمدات دسمبر 2025 میں 7.14 فیصد کمی کے بعد 6 لاکھ 21 ہزار 685 ٹن رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ مقدار 6 لاکھ 69 ہزار 461 ٹن تھی۔ ملک میں سیمنٹ کی بوری سستی ہوگئی یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں شمالی علاقوں میں قائم سیمنٹ ملز سے کوئی برآمد نہیں ہوئی۔ اسی طرح جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران شمالی خطے سے سیمنٹ کی برآمدات میں 18.53 فیصد کمی دیکھی گئی اور برآمدات 8 لاکھ 8 ہزار 506 ٹن رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ مقدار 9 لاکھ 92 ہزار 413 ٹن تھی۔
کوہاٹ میں تیل اور گیس
اسلام آباد: آئل گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے کوہاٹ میں تیل و گیس کے نئے بڑے ذخائر کی دریافت کا اعلان کردیا۔ ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق براگزئی ایکس ون کنویں سے یومیہ 3100 بیرل خام تیل اور 81500 لاکھ مکعب فٹ یومیہ گیس بھی حاصل ہوگی۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ او جی ڈی سی ایل کی گزشتہ ایک ماہ میں نشپا بلاک میں مسلسل تیسری بڑی دریافت ہے، حالیہ 3 دریافتوں سے مجموعی طور پر یومیہ 9480بیرل خام تیل حاصل ہو رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ ملکی خام تیل کی مجموعی پیداوار میں 14.5 فیصد ہے اور یہ حالیہ کامیابیاں قومی توانائی سلامتی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہےکہ مقامی وسائل کے فروغ سے ملک میں توانائی کی طلب و رسد میں مزید بہتری آئے گی۔
آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے
وفاقی حکومت کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباری افراد کو ریلیف دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے جائیں گے۔ مشیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا کہ تنخواہ دار افراد اور دستاویزی معیشت کا حصہ بننے والے کاروباروں کے لیے ہدفی ریلیف پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت توانائی کے نرخوں میں کمی اور ٹیکس ریٹس کو مؤثر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جا سکے۔ خرم شہزاد کے مطابق رواں مالی سال میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 4 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جبکہ آئندہ سال یہ شرح تقریباً 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرونی مالی استحکام کے لیے ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔ مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ اقتصادی جائزے کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بار محتاط اور پائیدار معاشی پالیسی اپنا رہی ہے تاکہ بار بار بیلنس آف پیمنٹس کے بحران سے بچا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 24 ایسے سرکاری ادارے جو قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں، انہیں نجکاری کے عمل میں لایا جائے گا۔ افراط زر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 25 سے 30 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 5 فیصد تک آ چکی ہے۔ حکومت کا ہدف عوام کی آمدن میں اضافہ کرنا ہے، جس سے برآمدات اور طویل مدتی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کو بڑا ریلیف دیدیا گیا انہوں نے ٹیکس وصولیوں پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ گزشتہ سال وفاق نے 13 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جس سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 11.3 فیصد رہی، جبکہ عالمی معیار کے مطابق یہ شرح تقریباً 18 فیصد ہونی چاہیے۔
نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق اہم
وفاقی کابینہ کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کو نئے 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے بینک نوٹ متعارف کرانے کے معاملے پر سفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی سے خاص طور پر اس بات پر سفارشات طلب کی گئی ہیں کہ نئے بینک نوٹوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مجوزہ مواد انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔ کمیٹی نئے نوٹوں کے مواد کی حفاظت، معیار اور صحت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ کیا نئے کرنسی نوٹ آنے کے بعد پرانے نوٹ استعمال ہوں گے یا نہیں؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے واضح ہدایت دی ہے کہ نئے کرنسی نوٹوں میں استعمال ہونے والے مواد سے متعلق تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ عوام کے لیے کسی قسم کے نقصان کا باعث نہ بنے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات کی روشنی میں نئے بینک نوٹوں کے اجرا سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
پاکستان چاول برآمدکرنیوالا
بین الاقوامی جریدہ گلف نیوز نے بھی پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر پذیرائی پر مہر لگادی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2026کے آغاز پر پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کنندہ ملک بن گیا ہے۔ دسمبر 2025 میں پاکستانی چاول کی برآمدات میں 14 فیصد ماہانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ باسمتی چاول کی برآمدات میں 50 فیصد سے زائد اضافے نےکامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دسمبر 2025 میں پاکستان نے 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول عالمی منڈیوں میں برآمدکیے۔ دسمبر2025 میں ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 87 ہزار ٹن رہیں۔ پاکستان نے ویتنام پر سبقت حاصل کرکے عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔ پاکستان سےسب سے زیادہ چاول یو اےای، چین، تنزانیہ،کینیا اور آئیوری کوسٹ کو برآمدکیا گیا۔
مہنگی بجلی میں کاروبار نہیں
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین کامران ارشد نے کہا ہےکہ مہنگی بجلی کےباعث 150 ملیں بند ہو چکی ہیں ہم مزید کاروبار کیسے کریں لہٰذا صنعتوں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں۔ اپٹما ہیڈ آفس میں دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کامران ارشد نے کہا کہ حکومت فوری معاشی ایمرجنسی نافذ کرے اور بیوروکریسی میں گاڑیاں بانٹنے اور سڑکیں بنانے کی بجائے عوام کو روزگار فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری زوال کی طرف جا رہی ہے، دسمبر میں مجموعی ایکسپورٹس 19.55فیصد جب کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹس 8 فیصد کم ہوئی ہیں اور 150 ملیں بند ہو چکی ہیں۔ کامران ارشد کا کہنا تھا کہ صنعتوں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں، وہ خود صنعتیں چلا لے۔ اس موقع پر چیئرمین اپٹما نارتھ زون اسد شفیع نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ 350 ارب روپے کی کراس سبسڈی واپس لی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا پہیہ رک گیا تو انڈر پاس بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، دوسروں کی بجلی چوری کا بوجھ صنعتوں پر نہ ڈالا جائے، پاور منسٹری کی ساری کیلکولیشن غلط ہے۔ اپٹما رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ صنعت کو قومی ترجیح بنایا جائے ورنہ اگلے 6 ماہ میں ایکسپورٹ مزید کم ہو جائے گی، ہمیں امریکا اور چین کی تجارتی جنگ کا فائدہ ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔
چاول کی برآمدات
پاکستان نے چاول کی برآمد میں بڑا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے، بین الاقوامی جریدے نے پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر پذیرائی کی تصدیق کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 کے دوران پاکستانی چاول کی برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، خصوصاً باسمتی چاول کی برآمد میں 50 فیصد سے زائد غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول برآمدکئے، اس طرح پاکستان عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن پر پہنچ گیا۔ سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر، آٹا مزید مہنگا ہونے کا امکان پاکستانی چاول سب سے زیادہ متحدہ عرب امارات، چین، تنزانیہ، کینیا اور آئیوری کوسٹ کو برآمد کیا گیا۔ ماہرین نے چاول کی برآمدات میں مسلسل اضافے کو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیاہے۔
سونا ہزاروں روپے مہنگا
ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرافہ بازار ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 7 ہزار 500 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 89 ہزار 362 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 6 ہزار 431 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 19 ہزار 549 روپے مقرر کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سونا سستا،فی تولہ قیمت کیا ہو گئی؟ جانیے صرافہ مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی رجحان یہی رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر
کراچی: سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے آٹا مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ اس بارے میں چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عبدالجنید نے کہا کہ سرکاری گندم غذائیت سے خالی ہے جسے نئی گندم کے ساتھ مکس کرکے جو آٹا تیار ہو رہا ہے وہ قیمت کے لحاظ سے عوام کی پہنچ سے باہر ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ سندھ حکومت کی طرف سے فلور ملوں کوگندم کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے کراچی میں آٹے کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ 750 روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج جاری کر دیے گئے چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ کراچی کی فلور ملوں کو سرکاری گندم کی ترسیل بروقت نہ ہونے سے متعلق کمشنر کراچی کو بھی تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے۔
مالی سال کی پہلی ششماہی
کراچی: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جس سے ملکی تجارت اور معیشت کو بڑا دھچکا پہنچا۔ ماہرین نے اس رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف شعبوں کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ غذائی اجناس کی برآمدات میں 40.29 فیصد کمی ہوئی، جس کا حجم 2 ارب 36 کروڑ ڈالرز تک رہ گیا۔ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں غذائی اجناس کی برآمدات تقریباً 4 ارب ڈالرز تھیں۔ اسی طرح چاول کی برآمدات میں 49.90 فیصد کمی، سبزیوں کی برآمدات میں 36.80 فیصد کمی، مقامی خشک میوہ جات کی برآمدات میں 63.78 فیصد کمی اور پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں 43.66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ فارماسوٹیکل مصنوعات کی برآمدات میں 28.67 فیصد کمی جبکہ ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات میں 36.51 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس ٹیکسٹائل شعبہ اپنی برآمدات میں معمولی اضافہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور اس دوران ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 9 ارب 16 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گیا۔ تاہم مجموعی برآمدات میں کمی کے باعث معیشت پر دباؤ برقرار ہے۔ یہ بھی پڑھیں: عمرہ پر جانے والوں کیلئے خوشخبری، سعودی ریال سستا ہو گیا ماہرین کے مطابق برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات عالمی طلب میں کمی، برآمدی لاگت میں اضافہ، لاجسٹک اور مارکیٹ رسائی کے مسائل، اور عالمی منڈیوں میں مسابقتی دباؤ ہیں۔
مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت
پاکستان میں موجودہ ہفتے میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس ہفتے میں سونے کی قیمت میں 8600 روپے کا اضافہ ہوا جس سے فی تولہ سونے کی قیمت 4لاکھ ، 81 ہزار 862 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ گذشتہ ہفتے ایک تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ ، 73 ہزار 262 روپے جبکہ دس گرام سونے کی قیمت 4 لاکھ ، 13 ہزار 118 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ سونا سستا،فی تولہ قیمت کیا ہو گئی؟ جانیے صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں ہفتہ وار بنیاد پر سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ عالمی سطح پر قیمت میں اضافہ رہا ۔ موجودہ ہفتے میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4595 ڈالر فی اونس رہی۔
قانونی پیٹرول پمپس کی شناخت کیلئے
حکومت نے پیٹرولیم سیکٹر میں بہتری، شفافیت اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کیلئے جامع اصلاحات پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول پمپس اور فیول سپلائی چین میں اسمگلنگ کے سدباب کیلئے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اعلامیے کے مطابق قانونی پیٹرول پمپس سے متعلق مستند معلومات کی فراہمی کیلئے ”راہگزر“ موبائل ایپ لانچ کر دی گئی ہے، جس کے ذریعے صارفین منظور شدہ اور رجسٹرڈ فیول پمپس کی آسانی سے شناخت کر سکیں گے۔ آئل ٹینکرز کی مؤثر نگرانی کیلئے اوگرا اور پی آئی ٹی بی کے اشتراک سے مشترکہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کر لیا گیا ہے، اس نظام کے تحت فیول ٹینکرز، ٹرمینلز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس کو ایک مربوط ڈیجیٹل نیٹ ورک سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پیٹرول پمپس پر خودکار ٹینک گیجز اور ڈیجیٹل نوزلز نصب کیے جائیں گے تاکہ مقدار اور معیار کی درست نگرانی ممکن ہو سکے۔ اسی طرح ڈی جی پی سی تیل و گیس بلاکس کی شفاف بولی کیلئے نیا آن لائن پورٹل متعارف کروائے گا، جس سے ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن بلاکس کی بولی کا پورا عمل ڈیجیٹل ہو جائے گا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے مزید کہا کہ دھماکہ خیز مواد کی نگرانی کیلئے ایکسپلوسیوز ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم فعال کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ایکسپلوسیوز سپلائی چین کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور اس منصوبے کے دو مراحل کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔ سندھ حکومت کا آتشزدگی سے متاثرہ تاجروں کی مالی مدد کا اعلان غیر قانونی پیٹرولیم مصنوعات کے خلاف مؤثر کارروائی کیلئے ایکٹ 1934 میں ترامیم کی گئی ہیں، جن کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی فروخت اور ترسیل پر بھاری جرمانوں اور ضبطی کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔
ملک میں سونے کی قیمت میں
کراچی: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز کمی ہوئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 600 روپے کم ہوکر 4لاکھ81 ہزار 862 روپےہوگئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 515 روپے کم ہوکر 4لاکھ 13ہزار118 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کی قیمت 6 ڈالر کم ہوکر 4595 ڈالر فی اونس ہے۔
چاول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
شہر کی اوپن مارکیٹ میں پریمیم کوالٹی کے چاول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چاول کی قیمتیں 10 سے 20 روپے تک بڑھ کر 570 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اشیاء خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کم آمدنی والے طبقے کی خریداری کی صلاحیت متاثر کر دی ہے اور راشن خریدنا اب مشکل ہو گیا ہے۔
کیا 10روپے کانوٹ ختم کیا
دس روپے کے بینک نوٹ کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ دس روپے کا بینک نوٹ برقرار رکھا جائے یا اسے ختم کر دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ دس روپے کے بینک نوٹ کی پیداواری لاگت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی سفارشات مرتب کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کو یہ بھی جانچنے کا ٹاسک دیا گیا ہے کہ دس روپے کے بینک نوٹ کے مقابلے میں اس کا سکہ زیادہ فائدہ مند ہے یا نہیں۔ کیا نئے کرنسی نوٹ آنے کے بعد پرانے نوٹ استعمال ہوں گے یا نہیں؟ کابینہ کمیٹی اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی، جن کی روشنی میں دس روپے کے بینک نوٹ کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
سال 2025 میں بجلی تقسیم کار
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاورسیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 جاری کر دی۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق ٹیکسز، سر چارجز، ڈیوٹیز کے باعث بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہوچکی ہیں، بجلی تقسیم کار کمپنیاں نقصانات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ سال2025 میں صرف ایک بجلی کمپنی ٹیسکو مقررہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہی، ایک سال میں بجلی تقسیم کارکمپنیوں کے نقصانات سے گردشی قرض میں 397 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ سال 2025 میں کےالیکڑک،پیسکو،حیسکو سیپکو اور کیسکو کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی، ان کمپنیوں میں طویل لوڈشیڈنگ، کم وصولیاں، بڑھتے واجبات بڑے مسائل ہیں۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق سال 2025میں صرف ایک کمپنی کم نقصانات کے ہدف کو پورا کرسکی،اس عرصے میں ٹیسکو کے علاوہ تمام کمپنیاں کم نقصانات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ کےالیکڑک، ڈسکوز میں نئےکنکشنز، میٹرز کا اجرا،نیٹ میٹرنگ کنکشن میں تاخیر عام ہیں۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں تھرکول سے چلنے والے پلانٹس کو کم چلایاگیا، تھر کے کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو 23۔67 فیصد صلاحیت پر چلایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ 4 ہزار میگاواٹ کی لاہور مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کو صرف 35 فیصد تک استعمال کیا گیا، لاہور مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کو ادائیگیاں 100 فیصد بنیاد پر کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 بجلی کے ترسیلی نظام سے مکمل استفادہ نہیں کیا گیا، لاگ رپورٹس دستیاب نہ ہونے سے ترسیلی نظام کا مکمل جائزہ ممکن نہیں، بجلی کی ترسیل کے تقریباً تمام منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق پاور سیکٹر میں ترقی محددو رہی، پاورسیکٹر کی سرکاری کمپنیوں میں گورننس کے شدید مسائل ہیں۔ پاور سیکٹر کے اداروں میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی عدم موجودگی پلاننگ کیلئے بڑاچیلنج ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ مالی سال2024-25میں ٹیک اینڈ پے والی بجلی پیداوار کا کم استعمال کیا گیا، ٹیک اینڈ پے پلانٹس کے کم استعمال سے کپیسٹی پیمنٹس بڑھ گئیں۔ رپورٹ کے مطابق صارفین مہنگی بجلی اور کمپنیوں کے رویوں سے تنگ آکر متبادل بجلی ذرائع پر جا رہے ہیں۔بجلی صارفین سولر کی طرف جارہے ہیں اور اسٹوریج کے لیے بیٹری آچکی ہے۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق ڈسکوز 20 سالوں میں بطور کارپوریٹ ادارہ کام کرنے میں ناکام رہیں، ان کمپنیوں کے بورڈز کو ادارے کو مالی طور پر صحت مند بنانے میں دلچسپی نہیں، ڈسکوز میں وفاقی حکومت کی مداخلت زیادہ ہے، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی سمیت مختلف اداروں کے ذریعے ڈسکوز کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ ڈسکوز کی ناقص کار کردگی کا 233ارب روپے کا ڈیٹ سروس سرچارجز کا بوجھ صارفین نے اٹھایا۔
ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ
ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دسمبر میں 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس پیدا کی گئی، ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی جبکہ بجلی کی فی یونٹ لاگت 9.62 روپے رہی۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سی پی پی اے کی درخواست پر 29 جنوری کو سماعت کرے گی۔
اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے آخری روز تیزی کا رجحان ہے۔ جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھنے کو ملا اور ہنڈرڈ انڈیکس میں تیزی رہی۔ کاروبار کے آغاز پر ہنڈرڈ انڈیکس 1881 پوائنٹس اضافے سے 183338 پر گیا اور کچھ دیر بعد ہی اس میں مجموعی طور پر 2575 پوائنٹس کا اضافہ ہوگیا۔ کاروبار کے دوران مارکیٹ میں مزید تیزی آئی اور ہنڈرڈ انڈکس 3152 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 84 ہزار 600 سے تجاوز کرگیا۔ آج ڈیڑھ گھنٹے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 1.7 فیصد تک اوپر چلا گیا۔
کیا نئے کرنسی نوٹ آنے کے بعد
نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا کے حوالے سے عوام کے لیے اہم وضاحت سامنے آ گئی ہے کہ نئے نوٹ آنے کے بعد بھی پرانے کرنسی نوٹ فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے بلکہ مرحلہ وار ختم کئے جائیں گے۔ حکومتِ پاکستان نے 10 روپے سے لے کر 5000 روپے تک کے کرنسی نوٹ نئے ڈیزائن اور جدید سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلی مرتبہ پلاسٹک (پولیمر) کرنسی نوٹ متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق پرانے نوٹ ایک مخصوص مدت تک قابلِ استعمال رہیں گے اور انہیں مرحلہ وار تبدیل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک سمیت تمام بینکوں کو واضح ٹائم لائن دی جائے گی، جس کے دوران شہری اپنے پرانے نوٹ بینکوں میں جمع کرا کر نئے نوٹ حاصل کر سکیں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئے ڈیزائن کے حامل کرنسی نوٹ رواں سال 2026 کے دوران مارکیٹ میں آ جائیں گے۔ ملک میں اس وقت تقریباً 10 ہزار 260 ارب روپے مالیت کی کرنسی گردش میں ہے، جس کے پیش نظر حکومت تمام بینکوں کو پرانے نوٹوں کی تبدیلی کے لیے جامع ہدایات جاری کرے گی۔ نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کا فیصلہ ، ڈیزائن پر غور کیلئے کابینہ کمیٹی تشکیل حکام کے مطابق نئے کرنسی نوٹ سیکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہوں گے اور ان سے ملک میں مالی لین دین کو مزید آسان اور محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔
ملک میں سونے کی قیمت میں
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 3700 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 4لاکھ 82 ہزار 462 روپے کا ہوگیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 3172 روپے کم ہوکر 4لاکھ 13 ہزار 633 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 37 ڈالر کم ہوکر 4601 ڈالر فی اونس ہے۔
حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں
وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنےکا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 253 روپے17 پیسے فی لیٹر برقرار رہےگی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر برقرار رہےگی۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی بڑھا دی جس کے بعد عوام ریلیف سے محروم ہوگئے۔ حکومت نے 4 روپے 65 پیسے اضافے سے پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 79 روپے 62 پیسے سے بڑھا کر 84 روپے 27 پیسے کردی۔ اس کے علاوہ ڈیزل پر فی لیٹر لیوی میں 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل پر لیوی 75 روپے 41 پیسے سے بڑھا کر 76 روپے 21 پیسے کی گئی ے جب کہ لیوی برقرار رہتی تو پیٹرول ساڑھے 4 روپے فی لیٹرسستا ہوسکتا تھا۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 31 جنوری تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنےکا فیصلہ کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 253 روپے17 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر برقرار رہےگی۔
گندم کی قیمت میں 700 روپے
لاہور سمیت صوبہ پنجاب بھر میں گندم کے ریٹس میں 700 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ دس روز کے دوران فی من گندم کی قیمت 3,700 روپے سے بڑھ کر 4,400 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے، راولپنڈی میں گندم کا فی من ریٹ 4,800 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ لاہور میں گندم کا فی من ریٹ 4,450 روپے ہو گیا ہے جبکہ لاہور کے متعدد علاقوں میں سرکاری 10 اور 20 کلو آٹے کا تھیلا نایاب ہے، 15 کلو آٹے کا تھیلا 15 سو روپے سے بڑھ 17سو 50 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے۔ گوجرانوالہ اور گجرات میں گندم کا فی من ریٹ 45 سو روپے، ملتان میں 44 سو 50 روپے، بہاولپور اور ڈی جی خان میں گندم کا فی من ریٹ 44 سو روپے ہو گیا ہے۔ سونے کے بعد چاندی کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اسلام آباد میں گندم کا فی من ریٹ 44 روپے تک پہنچ گیا ہے، مرکزی چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کا کہنا ہے کہ گندم کی قلت نے گندم مہنگی کر دی، جس کی وجہ سے آٹا مہنگا ہو رہا ہے۔
مرغی اور انڈوں کی قیمتوں
لاہور شہر کی اوپن مارکیٹ میں مرغی کے گوشت کی قیمت 595 روپے فی کلو ہے۔ صافی گوشت 700 روپے سے زائد اور بون لیس گوشت 750 روپے سے اوپر فروخت ہو رہا ہے۔ زندہ برائلر کا فارم ریٹ 383 روپے فی کلو ہے، جبکہ تھوک کی قیمت 397 روپے اور پرچون میں 411 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ مختلف شہروں میں مرغی کی قیمت میں بڑی کمی تو کہیں ہوشربا اضافہ دوسری جانب، فارمی انڈوں کا سرکاری ریٹ 330 روپے فی درجن مقرر ہے، تاہم بازار میں انڈے 350 سے 370 روپے فی درجن کے درمیان فروخت ہو رہے ہیں۔
750 روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی
نیشنل سیونگز نے 750 روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکز قومی بچت نے باضابطہ طور پر 750 روپے کے پرائز بانڈز قرعہ اندازی نمبر 105 کے نتائج جاری کیے جو 15 جنوری 2026 کو پشاور میں کی گئی۔ پہلا انعام 15 لاکھ روپے بانڈ نمبر809258 کو ملا، دوسرا انعام 5 لاکھ روپے فی کس تین خوش نصیب افراد کے حصے میں آیا جو بانڈ نمبرز 488890، 748328 اور 746418 کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں ہزاروں افراد نے 9,300 روپے کا تیسرا انعام جیتا، حکام نے کہا کہ قرعہ اندازی سخت نگرانی اور شفاف طریقہ کار کے تحت منعقد کی گئی۔ سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟ اس طرح آج ساڑھے سات سو روپے کے پرائز بانڈز رکھنے والے درج بالا افراد مالا مال ہو گئے ہیں۔ انعام جیتنے والے افراد مقررہ مدت کے اندر مجاز برانچز سے معیاری تصدیقی عمل کے تحت اپنی انعامی رقم وصول کر لیں۔
ملک میں سونے کی قیمت میں مسلسل
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 3700 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 4لاکھ 82 ہزار 462 روپے کا ہوگیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 3172 روپے کم ہوکر 4لاکھ 13 ہزار 633 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 37 ڈالر کم ہوکر 4601 ڈالر فی اونس ہے۔
عمرہ پر جانے والوں کیلئے خوشخبری
کراچی: پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ روز کے مقابلے میں سعودی ریال کی قدر میں 2 پیسے کی کمی دیکھی گئی۔ تازہ ترین اوپن مارکیٹ ریٹس کے مطابق سعودی ریال 74 روپے 80 پیسے میں خریدا جا رہا ہے۔ جبکہ اس کی فروخت 75 روپے 30 پیسے میں ہو رہی ہے۔ دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں سعودی ریال 74 روپے 63 پیسے میں خریدا اور 74 روپے 76 پیسے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ منگل 13 جنوری 2026 کو اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال 74 روپے 85 پیسے میں خریدا گیا تھا۔ جبکہ اس کی فروخت 75 روپے 50 پیسے میں ہو رہی تھی۔ یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں پیٹرول کی فی بیرول قیمت میں بڑی کمی ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی صورتحال اور زر مبادلہ کی طلب و رسد کے باعث کرنسی مارکیٹ میں معمولی اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہے۔ جبکہ آئندہ دنوں میں بھی ریٹس میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں
پاکستانی عوام کو پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے مسلسل چوتھی مرتبہ ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے، جس سے نئے سال کے آغاز پر ملنے والے بڑے ریلیف کے بعد صارفین کو مزید سہولت حاصل ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر تک کمی ہو سکتی ہے۔ اس ورکنگ کے مطابق پٹرول 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 70 پیسے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 1 روپے 82 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر تک کمی متوقع ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد پٹرولیم ڈویژن نئی قیمتوں کا اعلان کرے گا، جو آئندہ 15 روز کے لیے نافذ ہوں گی۔ سرکاری محکموں میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر پابندی کا فیصلہ واضح رہے کہ یکم جنوری 2026 کو پٹرول کی قیمت میں 10 روپے 28 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق قیمتوں میں متوقع کمی کی وجہ بین الاقوامی تیل کی منڈی میں قیمتوں میں کمی، کسٹمز ڈیوٹی میں کمی اور کرنسی ریٹ میں تبدیلیاں ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں 11 جنوری کو پٹرول کی قیمت 2.74 ڈالر فی بیرل کمی کے بعد 66.54 ڈالر فی بیرل تک آ گئی تھی۔
حکومت کون سے نوٹ تبدیل کرنے جا رہی
حکومت نے وفاقی کابینہ کی باضابطہ منظوری کے بعد نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ چھاپنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بدھ کے روز وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں 100، 500، 1,000 اور 5,000 روپے کے بینک نوٹس کے نئے ڈیزائن متعارف کرانے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹس جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں، جس کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے نئے نوٹس میں جدید اور مضبوط سکیورٹی تھریڈز شامل کیے جائیں گے۔ نئے ڈیزائن میں پاکستان کی علاقائی اور جغرافیائی تنوع کے ساتھ ساتھ تاریخی مقامات کو نمایاں کیا جائے گا، جبکہ خواتین کے قومی ترقی میں کردار اور موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ نئے کرنسی نوٹ اضافی قیمت پر فروخت ہونے لگے کرنسی نوٹس کے حتمی اجرا سے قبل مجوزہ ڈیزائنز کا مزید جائزہ لینے کے لیے کابینہ نے ایک خصوصی کابینہ کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دی۔ اجلاس کے دوران کابینہ نے نجی حج پالیسی 2027ء تا 2030ء کے مسودے کو مزید غور و خوض کے لیے دوبارہ حج پالیسی کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کی۔ مسودہ نجی حج آپریٹر کمپنیوں کی رجسٹریشن اور تھرڈ پارٹی ویریفکیشن سے متعلق امور کا احاطہ کرتا ہے۔
سونے کے بعد چاندی کی قیمت
پاکستان سمیت دنیا بھر میں چاندی کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 7.5 فیصد اضافے سے بلند ترین سطح 93 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی ہے۔ عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ چاندی کی موجودہ قیمتوں میں اضافہ 2025 میں شروع ہوا، چاندی کی قیمتوں میں صرف 13 ماہ میں 210 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح 4 لاکھ 86 ہزار 162روپے پر پہنچ چکی ہے، عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 4638 ڈالر کا ہو گیا ہے۔ ملک میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی پاکستان میں چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، گزشتہ روز فی تولہ قیمت 9575 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔
ڈالر کے 250 روپے سے نیچے آنے کے
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے تیار کردہ جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کی درآمد میں 15 ممالک کی دلچسپی کے باعث امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔ ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ڈالر کے 250 روپے سے نیچے آنے کے قوی امکانات ہیں۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فے۔ ای سی اے پی چیئرمین کے مطابق روپے کی قدر میں بہتری کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ، جے ایف 17 طیاروں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط بحالی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ 46 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکی ہے۔ لاس اینجلس میں فلاحی کنسرٹ، فلسطین اور سوڈان کے بچوں کیلئے 5.4 ملین ڈالر جمع ملک بوستان نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈالر 290 روپے سے زائد سطح سے کم ہو کر تقریباً 281 روپے پر آ گیا ہے، جو قریباً 9 روپے کی کمی ہے۔ انہوں نے روپے کی موجودہ استحکام کو عارضی قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی حقیقی قدر 250 روپے سے بھی کم ہے۔ انہوں نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ 2022 میں ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم تھے، جو اب بڑھ کر تقریباً 22 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ حکومت پر تنقید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ملک بوستان کا کہنا تھا کہ معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی اور اس کی بحالی میں وقت لگنا فطری عمل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چند سال قبل ڈالر کے 500 روپے تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، جبکہ اب توقعات 250 روپے یا اس سے بھی کم سطح کی طرف جا رہی ہیں۔
ملک میں فی تولہ سونا مزید 4300
کراچی : ملک میں سونےکی فی تولہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید 4300 کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے سے سونے کی قمیت 4لاکھ 86 ہزار 162 روپے کی تاریخ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کا بھاؤ3687 روپے اضافے سے 4 لاکھ 16 ہزار 805 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 43 ڈالر اضافے سے 4638 ڈالر فی اونس ہے۔
حکومت کا نئےکرنسی نوٹ متعارف کرانے
اسلام آباد: حکومت نے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانےکا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اعلامیے کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے جاری ہونے والے بینک نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔ وفاقی کابینہ نےکرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور کے لیےکابینہ کمیٹی تشکیل دے دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئےکرنسی نوٹوں کو جدید عصری تقاضوں کے حوالے سے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ نئےکرنسی نوٹوں کےڈیزائن کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 100، 500، 1000 اور 5000 روپےکے نئے ڈیزائن کے بینک نوٹ متعارف کروائے جائیں گے۔ نئے کرنسی نوٹوں میں زیادہ بہتر سکیورٹی تھریڈ استعمال کیا جائےگا۔ نئےکرنسی نوٹوں کی ڈیزائن میں پاکستان کی علاقائی اور جغرافیائی تنوع اور تاریخی یادگاروں کو جگہ دی گئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ خواتین کی قومی ترقی میں شمولیت کو بھی ڈیزائن کا حصہ بنایا جائےگا، ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم معاشرتی موضوعات کو بھی ڈیزائن کا حصہ بنایا جائےگا۔
حکومت نے متبادل راستوں سے کینو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی کاوشوں کے نتیجے میں پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، وفاقی حکومت نے متبادل راستوں کے ذریعے کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف کسانوں کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی زرمبادلہ میں اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے آلو اور کینو کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔ اس درخواست پر ڈپٹی وزیراعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی، جس میں متعلقہ وفاقی وزارتوں اور تمام اہم سٹیک ہولڈرز کو نمائندگی دینے کی استدعا کی گئی ہے، تاکہ برآمدی عمل کو مزید مؤثر اور آسان بنایا جا سکے۔ پنجاب حکومت نے وفاقی سطح پر اس بات پر زور دیا کہ آلو اور کینو کی ایکسپورٹ کے لیے نئی بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش کی جائے اور برآمدی اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے حصول اور کسانوں کو بروقت فائدہ پہنچانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب آلو اور کینو کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 95 فیصد پیدا کرتا ہے۔ رواں سال پنجاب میں آلو کی پیداوار 12 ملین ٹن جبکہ کینو کی پیداوار 4 ملین ٹن تک متوقع ہے، جس کے باعث برآمدات کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا ہے کہ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی محنت کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے کھلے دل سے وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق آلو اور کینو کی ایکسپورٹ میں بہتری سے نہ صرف کسان مستحکم ہوں گے بلکہ صوبے اور ملک کی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
وزیراعظم کی ورلڈ لبرٹی فنانشل وفد
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے وفد نے ملاقات کی جس کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل اور کراس بارڈر ادائیگیوں کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زکری وِٹکوف کی قیادت میں وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈیجیٹل پاکستان کے اپنے وژن سے آگاہ کیا، جس کا مقصد شہریوں کے لیے رابطے، رسائی، شفافیت اور سہولت میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں اور مالیاتی جدت پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بن رہا ہے۔ اس موقع پر زکری وِٹکوف نے پاکستان کے ساتھ محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام، بالخصوص کراس بارڈر ادائیگیوں اور فارن ایکسچینج کے شعبے میں تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کو عالمی ڈیجیٹل فنانس میں ایک مضبوط امیدوار بنا رہا ہے۔ بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حکومتِ پاکستان اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی (ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ادارہ) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب دیکھی۔ ایم او یو کا مقصد کراس بارڈر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نئے نظام پر تکنیکی اور پالیسی سطح پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے سی ای او زکری وِٹکوف نے دستخط کیے۔
سوزوکی سوئفٹ کے خریداروں کیلئے
یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) نے اپنی آٹو فنانسنگ اسکیم UBL Drive کے تحت سوزوکی سوئفٹ کے خریداروں کے لیے ایک پرکشش پیشکش متعارف کرادی ہے، جس کے تحت صارفین گاڑی کو آسان ماہانہ اقساط پر خرید سکتے ہیں۔ اس آفر میں ریزیڈیول ویلیو (RV) فنانسنگ کا آپشن بھی شامل ہے، جس کے باعث کم ماہانہ ادائیگی کے ساتھ گاڑی حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ یو بی ایل کے مطابق یہ سہولت سوزوکی سوئفٹ کے تمام ویریئنٹس پر دستیاب ہے، جن میں سوئفٹ GL مینوئل، GL CVT اور GLX CVT شامل ہیں۔ گاڑیوں کی قیمتیں تقریباً 44 لاکھ 60 ہزار روپے سے 47 لاکھ 66 ہزار روپے کے درمیان ہیں، جبکہ خریدار مختلف ایکویٹی کنٹری بیوشن آپشنز میں سے انتخاب کرسکتے ہیں، جو تقریباً 13 لاکھ 40 ہزار روپے سے شروع ہوتی ہیں۔ سوزوکی سوئفٹ GL مینوئل کی قیمت 43 لاکھ 36 ہزار روپے ہے، جس پر 13 لاکھ 44 ہزار روپے ڈاؤن پیمنٹ کے بعد تقریباً 29 لاکھ 91 ہزار روپے فنانس کیے جا سکتے ہیں۔ اس ویریئنٹ کی ماہانہ قسط اسٹینڈرڈ پلان کے تحت تقریباً ایک لاکھ 2 ہزار 982 روپے بنتی ہے، جبکہ ریزیڈیول ویلیو پلان میں یہ قسط کم ہو کر 69 ہزار 567 روپے رہ جاتی ہے۔ اسی طرح سوئفٹ GL CVT کی قیمت 45 لاکھ 60 ہزار روپے ہے، جس پر 15 لاکھ 96 ہزار روپے ایکویٹی کے بعد ماہانہ قسط RV پلان کے تحت 68 ہزار 711 روپے سے شروع ہوتی ہے۔ ٹاپ آف دی لائن سوئفٹ GLX CVT کی قیمت 47 لاکھ 19 ہزار روپے رکھی گئی ہے، جس پر ماہانہ قسط ریزیڈیول ویلیو پلان میں تقریباً 69 ہزار 128 روپے بنتی ہے۔ یو بی ایل کے مطابق اسٹینڈرڈ فنانسنگ اسٹرکچر میں ماہانہ اقساط تقریباً ایک لاکھ 3 ہزار روپے تک ہیں، جبکہ RV پلان میں کم ماہانہ ادائیگی کے بدلے مدت کے اختتام پر ایک بڑی رقم ادا کرنا ہوگی۔ درخواست دینے کے لیے صارفین یو بی ایل ڈرائیو پورٹل وزٹ کرسکتے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ یہ آفر محدود مدت اور منتخب برانچز کے لیے ہے، جبکہ قیمتوں اور شرائط میں تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔ تمام درخواستیں بینک کی کریڈٹ پالیسی اور شرائط و ضوابط کے تحت منظور کی جائیں گی۔
ملک میں سونے کی قیمت
ملک میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ گزشتہ روز سونے کے نرخ میں 900 روپے فی تولہ اضافہ ہوا تھا جبکہ آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 4300 روپے کا اضافہ ہو گیاہے۔ 4300 کے اضافے کے بعد سونے کی نئی قیمت بلند ترین سطح 4 لاکھ 86 ہزار 162روپے پر پہنچ گئی ہے۔ دس گرام سونے کے نرخ میں 3 ہزار 687 روپے اضافہ ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 16ہزار 805 روپے ہو گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخ میں 43 ڈالر اضافہ ہونے سے فی اونس قیمت 4638 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر بڑی کمی کا امکان ملک میں چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، چاندی کی فی تولہ قیمت میں 500 روپے کا اضافہ ہونے سے قیمت 9575 روپے ہو گئی ہے۔
پنجاب میں ٹیکس نہ دینے والوں
پنجاب میں عرصہ دراز سے ٹیکس نہ دینے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی معظم اقبال سپرا کی زیر صدارت فیلڈ آپریشن کی کارکردگی بارے اجلاس ہوا، جس میں کہا گیا کہ صوبہ بھر میں سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پی آر اے سے لازمی رجسٹریشن کروانا ہوگی۔ کمپنیوں کو ای آئی ایم ایس اور ٹیکس ادائیگی بھی یقینی بنانا ہوگی، اجلاس میں محصولات کے اہداف اور ای آئی ایم ایس رجسٹریشن بارے کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری محکموں میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر پابندی کا فیصلہ مقررہ اہداف مکمل نہ کرنے پر سرگودھا اور بہاولپور ڈویژن کی کارکردگی کے بارے میں اظہار ناراضی کیا گیا، چیئرمین پی آر اے کا کہنا تھا کہ تمام فیلڈ ٹیموں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے رواں ماہ ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔
ای سی سی نے دفاعی منصوبوں کیلئے
اسلام آباد: اقصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دفاعی منصوبوں کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں دفاعی منصوبوں کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔ پنجاب میں ایس ڈی جی پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور اسلام آباد میں آٹزم سینٹر اسلام آباد کے لیے خصوصی بچوں کی ٹرانسپورٹ کے لیے 32 کروڑ روپے کی گرانٹ منظورکی گئی۔ آسان خدمت مرکز اسلام آباد کے قیام کے لیے 80 کروڑ اور ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی اور آئی ٹی منصوبوں کے لیے 3 ارب 70 کروڑ روپے منظور کیےگئے۔ ایف بی آر کے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے لیے 3 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ ایشیا پیٹرولیم لمیٹڈ پائپ لائن پر مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی۔ فلم و ڈرامہ فنانس فنڈ کے لیے 70 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، یہ رقم فلم اور ڈرامہ صنعت کے فروغ کے لیے فنڈز شفاف طریقے سے خرچ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
پیٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں بھی 16 جنوری سے قیمتوں میں کمی ہو سکتی ہے۔ یکم جنوری کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوئی تھی، پیٹرول 10 روپے 28 پیسے سستا ہوا تھا جبکہ ڈیزل 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر سستا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق سولہ جنوری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 4 روپے 59 پیسے فی لٹر تک کم ہونے کا امکان ہے، پیٹرول 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر، ڈیزل 2 روپے 70 پیسے فی لیٹر تک سستا ہو سکتا ہے۔ نیپرا نے ملک بھر کیلئے یکساں بجلی ٹیرف کی منظوری دیدی مٹی کا تیل 1 روپے 82 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر تک سستا ہونے کی توقع ہے۔ نئی قیمتوں میں ردو بدل کا حتمی اعلان وزیراعظم پاکستان کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
پاک برطانیہ تجارت
پاک برطانیہ تجارت پہلی بار ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر حکمتِ عملی سے پاکستان ترقی اور عالمی اعتماد کے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری ازسرِنو استوار کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ اعلان برطانوی وزیر ترقی کی جانب سے دورہ پاکستان کے دوران کیا گیا۔ پاکستان اور برطانیہ نے 8 برس بعد ترقیاتی مکالمہ اور سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے، پاک برطانیہ تجارت پہلی بار 5.5 ارب پاؤنڈ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ برطانوی وزیر نے کہا کہ تجارتی تعلقات روزگار اور معاشی ترقی کو فروغ دے رہی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف اور برطانوی وزیر نے کاروباری اصلاحاتی پیکج کا اجرا کیا۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال غیر ملکی سرمایہ کاری میں مثبت رجحان برقرار رہا، 731 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 524 نئی کمپنیوں کے ساتھ 1.26 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔ آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ چین، برطانیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، ویتنام، امریکہ اور یو اے ای سمیت متعدد ممالک کی کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن کرائی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں 71 فیصد حصے کے ساتھ چین سرفہرست ہے۔
نئے نوٹ تیار
پاکستان میں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، تاہم حتمی ڈیزائن کی منظوری کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو وفاقی حکومت کی اجازت کا انتظار ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ نئی کرنسی جدید اور مؤثر سکیورٹی فیچرز سے آراستہ ہوگی، تاہم اب تک نوٹوں کے حتمی ڈیزائن موصول نہیں ہوئے۔ حکام کے مطابق جیسے ہی منظوری ملے گی، نئی کرنسی کی چھپائی میں کم از کم دو ماہ کا وقت درکار ہوگا، جبکہ اس مقصد کے لیے جدید مشینری پہلے ہی دستیاب ہے۔ سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے سینئر منیجر پرنٹنگ عامر شمس نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک اور سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے درمیان نئی کرنسی کی چھپائی سے متعلق مشاورت ہو چکی ہے۔ پنشن اور تنخواہ ایک ساتھ لینے پر عائد پابندی ختم ، نوٹیفکیشن جاری ان کے مطابق نئی کرنسی کے ڈیزائن مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے یا تمام مالیتوں کے نوٹ ایک ساتھ متعارف کرائے جائیں گے، اس حوالے سے فیصلہ اسٹیٹ بینک میں زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے اسٹیٹ بینک رواں سال نئی کرنسیوں کی چھپائی کے لیے باضابطہ ٹائم لائن جاری کرے گا۔ ذرائع کے مطابق نئے ڈیزائن والے کرنسی نوٹوں کی چھپائی کا باضابطہ آرڈر وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی دیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن شارٹ لسٹ کر کے حکومت کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کابینہ کی منظوری کی صورت میں 2026 کے آخری مہینوں میں نئے ڈیزائن والی کرنسی کا اجرا ممکن ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے کھربوں مالیت معدنی
پاکستان کے کھربوں ڈالر مالیت کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کو اسٹریٹجک معاشی ترقی کی بنیاد بنانے کے لیے حکومت نے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ یہ بات دی نیشنل انٹرسٹ میں شائع ایک مضمون میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ مضمون کے مطابق پاکستان کے معدنی شعبے میں اصلاحات کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ شفافیت اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو اہم معدنیات کا اسٹریٹجک مرکز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں اپریل 2026 میں منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (PMIF26) کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معدنی معیشت میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا جا رہا ہے۔ ریکوڈک منصوبہ، جو دنیا کے بڑے کاپر اور گولڈ منصوبوں میں شامل ہے، 5.9 ارب ٹن معدنی ذخائر رکھتا ہے اور اربوں ڈالر کی آمدنی اور ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے قیمتی پتھروں کی مجموعی مالیت تقریباً 450 ارب ڈالر ہے، مگر اس کی سالانہ برآمدات صرف 5.8 ملین ڈالر ہیں، جو اس شعبے میں بڑے امکانات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ حکومت نے قیمتی پتھروں کے لیے پہلی قومی جیم اسٹون پالیسی بھی متعارف کرائی ہے جس میں جدید سرٹیفیکیشن، ویلیو ایڈیشن اور نوجوانوں کی کاروباری شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔ حکومت نے پانچ سال میں جیم اسٹون برآمدات کو 1 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ بلومبرگ نے پاکستان کی معیشت میں بہتری اور پالیسی استحکام کی تصدیق کردی پاکستان لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب زمینی عناصر کی عالمی سپلائی چین میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور معدنی اصلاحات سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معدنی اور جیم اسٹون سیکٹر کی ترقی سے آئندہ 10 سال میں سالانہ 5 سے 7 بلین ڈالر تک جی ڈی پی میں اضافہ ممکن ہے، جبکہ ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ مجموعی طور پر، پاکستان خود کو عالمی معدنی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر منوانے کی راہ پر گامزن ہے۔
پیٹرول کی فی بیرول قیمت میں بڑی کمی
اسلام آباد: عالمی منڈی میں پیٹرول کی فی بیرل قیمت میں 2 ڈالر 74 سینٹ کمی ریکارڈ ہو گئی۔ پیٹرول کی قیمت 69.27 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 66.54 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ پیٹرول پریمیم میں بھی 13 سینٹ فی بیرل کمی دیکھی گئی۔ جس کے بعد پریمیم 5 ڈالر 14 سینٹ سے کم ہو کر 5 ڈالر ایک سینٹ پر آ گیا۔ اسی طرح پیٹرول پر فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی میں 72 پیسے کمی کی گئی۔ جبکہ ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ میں 68 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں مجموعی طور پر 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی۔ جس کے بعد قیمت 145 روپے 57 پیسے سے کم ہو کر 139 روپے 6 پیسے فی لیٹر پر آ گئی۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں ڈیزل کی فی بیرل قیمت 2 ڈالر 33 سینٹ کمی کے بعد 76.32 ڈالر سے کم ہو کر 73.99 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ ڈیزل پر فی بیرل کسٹم ڈیوٹی میں 80 پیسے جبکہ ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ میں 35 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت میں 5 روپے 33 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی۔ جس کے بعد قیمت 155 روپے 33 پیسے سے کم ہو کر 149 روپے 99 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ یہ بھی پڑھیں: معروف انٹرنیشنل ائیر لائن نے کرایوں میں کمی کردی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اس کمی کے اثرات مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی جانب سے کیا جائے گ
مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے
اسلام آباد: مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔ مالی سال 25-2024کے دوران بھاری خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو 123 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جب کہ گزشتہ مالی سال 24-2023 میں یہ خسارہ 30 اعشاریہ 6 ارب روپے تھا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ، خسارے کے لحاظ سے این ایچ اے 153ارب روپے کے ساتھ سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ الیکٹرک کو 58 اعشاریہ 1 ، سکھر الیکٹرک کو 29 اعشاریہ 6 ، پاکستان ریلوے کو 26 اعشاریہ 5، پشاور الیکٹرک کو 19 اعشاریہ 7 جب کہ پاکستان اسٹیل ملز کو 15 اعشاریہ 6 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ مالی سال 2025 کی پہلے نصف میں بڑے خسارے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 343ارب روپے کے نقصان کی اطلاع دی ہے تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں خسارے میں 2 فیصد بہتری ہوئی۔
وزیراعظم کا دسمبر 2025 میں ریکارڈ
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے دسمبر 2025 میں ریکارڈ ترسیلات زر بھیجنے پر سمندر پار پاکستانیوں سے اظہار تشکر کیا ہے۔ ایک بیان میں وزیر اعظم نےکہا کہ دسمبر 2025 میں سمندرپارپاکستانیوں نے 3.6 ارب ڈالر ترسیلات زربھیجے جس پر ان کے مشکور ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہےکہ ترسیلات زر میں 16.5 فیصد اضافہ اوورسیز پاکستانیوں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتمادکا مظہر ہے، سمندرپارپاکستانیوں کا وطن کی تعمیر وترقی کے لیے ترسیلات زر بھیجنا وطن سے محبت کی اعلیٰ مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندرپارپاکستانی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو ان پر فخر ہے، سمندر پار پاکستانیوں کی بہبود کے لیے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
نیپرا کا کراچی سمیت ملک بھر کیلئے
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف 2026 کے لیے بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیپرا نے ملک بھر میں بجلی کے یکساں نرخوں سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست کی منظوری دے دی، اب وفاقی حکومت اس سلسلے میں حتمی نوٹی فکیشن جاری کرے گی۔ نیپرا کے مطابق یکم جنوری سے کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی کے موجودہ نرخ برقرار رہیں گے۔اس سلسلے میں نیپرا نے وفاقی حکومت کی درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ نیپرا کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا زیادہ سے زیادہ ٹیرف 47 روپے 69 پیسے فی یونٹ برقرار رہے گا، ایک سے 100 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 10 روپے 54 پیسے پر برقرار رہے گا۔ اس کے علاوہ 101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 13 روپے ایک پیسے برقرار رہے گا۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے بجلی کے نرخوں کے تعین کا فیصلہ یکم جولائی کی بجائے یکم جنوری سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
پاکستان میں سونا مزید 7700 روپے
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت تاریخی بلندی پر جا پہنچی۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 7700 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کےبعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 80 ہزار 962 روپے کا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ 10 گرام سونے کا بھاؤ 6602 روپے اضافے سے 4لاکھ 12ہزار347 روپے پر پہنچ گیا۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 77 ڈالر اضافے سے 4586 ڈالر فی اونس ہے۔ علاہ ازیں معاشی ماہرین نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ عالمی ماکیٹ میں چاندی کی قیمت کو بھی پر لگ گئے سونے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت بھی اضافہ ہوا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق آج کاروباری روز کے دوران چاندی کی قیمت 83.96 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح کو چھو کر 82.72 ڈالر فی اونس پر رک گئی۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج ملک میں چاندی کی فی تولہ قیمت 8 ہزار 895 روپے اور 10 گرام چاندی کی قیمت 7 ہزار 626 روپے ہے۔
سمندر پار پاکستانیوں نے اربوں ڈالرز
سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں جاری مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر 10.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران سمندر پار پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 19.7 ارب ڈالر وطنِ عزیز بھجوائے، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ترسیلاتِ زر کا حجم 17.8 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دسمبر کے مہینے میں ترسیلاتِ زر کا حجم 3.6 ارب ڈالر رہا، جو نومبر کے مقابلے میں 12.6 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح دسمبر 2024 کے مقابلے میں بھی دسمبر کی ترسیلاتِ زر میں 12.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دسمبر میں مختلف ممالک سے ترسیلاتِ زر کی صورت حال کچھ یوں رہی: سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے 813.1 ملین ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 726.1 ملین ڈالر، برطانیہ سے 559.7 ملین ڈالر جبکہ امریکہ میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے 301.7 ملین ڈالر وطن منتقل کیے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کیلنڈر سال 2025 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر کا حجم 40.18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو سال 2024 کے 34.66 ارب ڈالر کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سونے کی قیمت میں آج بھی
ملک میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 3 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 73 ہزار 262 روپے کا ہو گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 172 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 5 ہزار 745 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سونا اچانک ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟ خیال رہے کہ پاکستان میں سالانہ سونے کی طلب 60 سے 90 ٹن کے درمیان ہے جس کی مالیت تقریباً 8 سے 12 ارب ڈالر بنتی ہے، لیکن اس میں سے 90 فیصد سے زیادہ کاروبار اب بھی غیر دستاویزی ہے۔ سی سی پی کی ’’پاکستان کی سونے کی مارکیٹ‘‘ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملکی سونے کی 70 فیصد طلب شادیوں اور تقریبات سے جڑی ہوتی ہے۔ پاکستان سونے کی درآمدات پر بھی انحصار کرتا ہے اور مالی سال 2024 میں 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا۔ملک کے سرکاری ذخائر 2025 کے آخر تک 64.76 ٹن ریکارڈ کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر بنتی ہے۔
مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں
اسلام آباد: مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔ مالی سال 25-2024کے دوران بھاری خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو 123 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جب کہ گزشتہ مالی سال 24-2023 میں یہ خسارہ 30 اعشاریہ 6 ارب روپے تھا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ، خسارے کے لحاظ سے این ایچ اے 153ارب روپے کے ساتھ سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ الیکٹرک کو 58 اعشاریہ 1 ، سکھر الیکٹرک کو 29 اعشاریہ 6 ، پاکستان ریلوے کو 26 اعشاریہ 5، پشاور الیکٹرک کو 19 اعشاریہ 7 جب کہ پاکستان اسٹیل ملز کو 15 اعشاریہ 6 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ مالی سال 2025 کی پہلے نصف میں بڑے خسارے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 343ارب روپے کے نقصان کی اطلاع دی ہے تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں خسارے میں 2 فیصد بہتری ہوئی۔
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا
ملکی زرمبادلہ ذخائر کی 2 جنوری 2026کو ختم ہونےوالےکاروباری ہفتے کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملکی زرمبادلہ ذخائر21ارب 19کروڑ24لاکھ ڈالرز ہوگئےہیں ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر نئی بلندی پر اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14 کروڑ10 لاکھ ڈالرز اضافے سے 16ارب5کروڑ57لاکھ ڈالر رہے۔ اسی طرح کمرشل بینکوں کے ذخائر 5ارب 13کروڑ67لاکھ ڈالرز ہو گئے۔
سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
ملک میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سندھ صرافہ بار ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 3 ہزار 400 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 69 ہزار 562 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 915 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 2 ہزار 573 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سونا، اسٹاک مارکیٹ یا پلاٹ،کن پاکستانی سرمایہ کاروں کو 2025 میں زیادہ فائدہ ہوا؟
عالمی منڈی میں تیل کی
ایرانی تیل کی پیداوار میں ممکنہ خلل اور وینزویلا سے سپلائی کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 59 سینٹ کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 62.58 ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 54 سینٹ مہنگا ہو کر 58.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔ ادھر امریکا نے وینزویلا کے تیل کو غیر معینہ مدت تک کنٹرول میں رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کاراکاس میں عبوری حکام کے ساتھ طے پانے والے تیل معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
بجلی کی قیمت ایک روپے 79 پیسے بڑھادی
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر میں بجلی مہنگی کرتے ہوئے یکم جنوری سے فی یونٹ بجلی کی قیمت ایک روپے 79 پیسے بڑھا دی۔ نیپرا نے فیصلہ وفاقی حکومت کو بجھوا دیا ہے۔ اطلاق وفاقی حکومت سے منظوری کے بعد ہوگا۔ اس وقت ملک میں نافذالعمل فی یونٹ بجلی کے اوسط بنیادی نرخ 31 روپے 59 پیسے ہیں۔ دوسری جانب نیپرا نے فی یونٹ بجلی93 پیسے سستی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ نیپرا نے فی یونٹ بجلی 93 پیسےسستی کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا ہےجس میں بتایا گیا کہ بجلی نومبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں سستی کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کو جنوری کے بلوں میں ریلیف ملے گا جبکہ لائف لائن صارفین پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔
تنخواہ دار طبقے نےکتنا انکم ٹیکس ادا کیا؟
جولائی تا دسمبر 2025 میں تنخواہ داروں کی انکم ٹیکس ادا کرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق جولائی تا دسمبر تنخواہ داروں نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، انہوں نے مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً 10 فیصد ادا کیا۔ تنخواہ دار کا ادا کیا گیا ٹیکس رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ادا ٹیکس سے دوگنا سے بھی زیادہ رہا، تنخواہ دارطبقے کا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہ دارطبقہ اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 38 فیصد ٹیکس کی صورت میں دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے پر علاقائی ممالک کے مقابلے میں ٹیکس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ نان کارپوریٹ ملازمین نے سب سے زیادہ 117 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، یہ انکم ٹیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 82 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو سالانہ بنیاد پر 13 فیصد زیادہ ہے، صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 39 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو پچھلے سال کے مقابلے 7 فیصد کم ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین نے 27 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کروایا، پلاٹوں کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس دوتہائی اضافے سے 87 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ پلاٹوں کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں 29 فیصد کمی ہوئی، یہ 39 ارب روپے رہی، جولائی تا دسمبر رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصول کیے، یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔
پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے ٹیکس اصلاحات
پاکستان بزنس کونسل (PBC) نے آج ٹیکس پالیسی آفس (TPO) کے نو منتخب ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نجیب احمد میمن کا خیر مقدم کیا۔ پاکستان بزنس کونسل میں ہونے والی ملاقات کے دوران ڈاکٹر نجیب احمد میمن نے ٹیکس پالیسی آفس کے مینڈیٹ، اہداف اور طریقۂ کار پر روشنی ڈالی اور صنعتی اداروں کے ساتھ بامقصد اور منظم مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان بزنس کونسل ان ابتدائی اداروں میں شامل رہی ہے جنہوں نے ٹیکس پالیسی کو ریونیو ایڈمنسٹریشن سے الگ کرنے کی سفارش کی اور اس کی بھرپور حمایت کی۔ کونسل کا مستقل مؤقف رہاہے کہ ٹیکس پالیسی طویل المدت، مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ہونی چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کے فروغ، صنعت و برآمدات کی معاونت اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کونسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ ایک مؤثر ٹیکس فریم ورک دستاویزی معیشت کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے اور قانون کی پاسداری کرنے والے کاروباری اداروں پر اضافی بوجھ نہ ڈالے۔ اس مشاورتی عمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے پی بی سی کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلف منیر نے کہا کہ ٹیکس پالیسی آفس کا قیام بامعنی اصلاحات کی جانب ایک مثبت ادارہ جاتی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ،” ہم ڈاکٹر نجیب احمد میمن کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے اختیار کیے گئے مشاورتی طریقۂ کار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر نجیب احمد میمن نے کہا کہ ،حکومتِ پاکستان اس امر پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت ایک مؤثر، قابلِ اعتبار اور ترقی دوست ٹیکس پالیسی فریم ورک کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ پاکستان بزنس کونسل نے حکومت اور اس کے اداروں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پائیدار اصلاحات صرف پالیسی سازوں، انتظامی اداروں اور صنعت کے درمیان ہم آہنگی سے ہی ممکن ہیں۔ کونسل نے مزید کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے ایک شفاف، قابل پیش گوئی اور منصفانہ ٹیکس نظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستانیوں نے 40.18 ارب ڈالر وطن بھیجے
اسٹیٹ بینک نے بیرون ملک سے بھیجی گئی ترسیلات کی تفصیلات جاری کر دیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دسمبر میں 3.58 ارب ڈالر وطن بھیجے جن میں سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے دسمبر میں 81 کروڑ ڈالر بھیجے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے 72 کروڑ، برطانیہ سے 56 کروڑ اور یورپی ممالک سے 49 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 2025 میں 40.18 ارب ڈالر وطن بھیجے۔ مرکزی بینک کا بتانا ہےکہ 2025 کی کم ترین ترسیلات زر جنوری میں 3 ارب ڈالر رہیں، مارچ 2025 میں سال کی سب سے زیادہ ترسیلات 4.05 ارب ڈالر رہیں جب کہ سال 2025 کی اوسط ماہانہ ورکرز ترسیلات 3.34 ارب ڈالر رہیں۔
سونے کی اونچی اڑان کو بریک لگ گئی ، آج بھی بڑی کمی ریکارڈ
کراچی : سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی 7 ہزار 538 روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 7538 روپے کم ہو کر 4 لاکھ37 ہزار 362 روپے ہو گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 6463 روپے کم ہو کر 3 لاکھ74ہزار967 روپے ہو گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ85 ڈالر کم ہو کر 4150 ڈالر فی اونس ہے۔
پاکستان اب غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے محفوظ ملک بن چکا ہے: وزیرخزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زيب نے کہا ہے کہ پاکستان اب غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک بن چکا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں انٹرویو دیتے ہوئے محمد اورنگ زيب کا کہنا تھاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب اور اسموگ کی فریکیونسی بڑھتی جارہی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات معیشت پر بھی پڑتے ہیں، سیلاب کے نقصانات سے قبل جی ڈی پی گروتھ اس سال 4.2 کا اندازہ تھا اور اس سال کے سیلاب سے 80 فیصد نقصان پنجاب میں ہوا، اگر موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی آبادی کے خطرات سے نمٹا نہ گیا تو ملکی معیشت کو تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں ریلیف اور ریسکیو اپنے وسائل سے کرسکتے ہیں، تعمیر نو کے لیے ضرورت پڑتی ہے تو ہوسکتا ہے ہم عالمی اداروں کے پاس جائیں، ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کوئی گرانٹ آتی ہے تو وہ لے لینی چاہیے، قرض لے کر تو ہم نے آگے جاکر واپس ہی کرنا ہے۔ وزیرخزانہ کا کہنا تھاکہ پاکستان میں سرمایہ کاروں نے پیسے بنائے تو بھجوائے ہیں، ورلڈ بینک نے ٹیکس اصلاحات پر ہماری پریزنٹیشن کی تعریف کی، ورلڈ بینک کے سامنے پریزنٹیشن میں بتایا کہ ٹیکنالوجی سے کرپشن میں کمی ہوئی ہے، مصرکے وزیرخزانہ نے کہا کہ میں اپنی ٹیم آپ کے پاس بھیجتا ہوں یا آپ اپنی ٹیم بھیجیں۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے، اوگرا
کاروبار ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے، اوگرا ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے، اوگرا فوٹو: فائل اسلام آباد: آئل اینڈگیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے۔ ترجمان اوگرا کا کہنا ہےکہ درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی کلیئرنس میں چند روز قبل تاخیر ہوئی تھی، ملک میں اب پیٹرولیم مصنوعات سپلائی کی صورتحال معمول کےمطابق ہے۔ ترجمان اوگرا کے مطابق آج بھی دو کمپنیوں کے پیٹرول اور ڈیزل کے دو جہاز کلیئر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے اچانک انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (cess )کے تحت 100 فیصد بینک گارنٹی کی شرط بحال کیے جانے کے بعد پیٹرولیم کارگو بندرگاہوں پر پھنس گئے ہیں جس کے باعث ملک میں ایندھن بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
چین کو پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافہ
رواں سال کے پہلے 9 ماہ میں پاکستان کی چین کو سمندری غذا کی برآمدات بڑھ کر 153 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ منگل کو جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز آف چائنا (جی اے سی سی ) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں پاکستان کی چین کو سمندری غذا کی برآمدات بڑھ کر 153 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 121.93 ملین ڈالر سے زیادہ رہی ۔ یہ مستحکم نمو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کے تحت دونوں ممالک کے درمیان گہرے زرعی اور ماہی گیری کے تعاون کے ساتھ ساتھ کولڈ چین لاجسٹکس اور سرٹیفیکیشن سسٹم کے ذریعے چینی مارکیٹ تک پاکستان کی بڑھتی ہوئی رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔ بڑے برآمدی زمروں میں، رواں سال کے پہلے 9 ماہ میں منجمد مچھلی کی برآمدات میں 40.10 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ، جو گزشتہ سال 30.19 ملین ڈالر پر رہیں ۔ اسی طرح، منجمد کٹل فش کی برآمدات گزشتہ سال کی 19.83 ملین ڈالر کی برآمد کی نسبت ان 9 ماہ میں بڑھ کر 20.29 ملین ڈالر جبکہ منجمد کیکڑوں (کریب)کی برآمدات بڑھ کر 25.68 ملین ڈالر پر آگئیں جو گزشتہ پورے سال میں 22.65 ملین ڈالر پر رہی تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں خاص طور پر، منجمد سارڈینز، سارڈینیلا، برسلنگ، یا اسپریٹس کی برآمد میں بھی قابل ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ اس زمرے میں، پاکستان روس اور انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چین کے سب سے بڑے برآمد کنندہ کے طور پر ابھرا ۔
آئی ایم ایف کا پاکستان میں معاشی اصلاحات کے تسلسل اور مالی بہتری کا اعتراف
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے پاکستان میں معاشی اصلاحات کے تسلسل اور مالی بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ آئی ایم ایف کی مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجینل اکنامک آوٹ لک رپورٹ جاری کردی گئی جس کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال معاشی ترقی 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ میں پاکستان میں معاشی اصلاحات کے تسلسل اور مالی بہتری کا اعتراف کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2024-25 میں پاکستان میں ترسیلات زر،کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آئی۔ البتہ رپورٹ میں پاکستان میں سال 2025-26 میں مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجلی پرسبسڈی کے خاتمے، ٹیرف کے معمول پر آنے سے دباو بڑھے گا، علاقائی کشیدگی بھی خطے کی معاشی ترقی کو متاثرکرسکتی ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا کہ 2025 کی تیسری سہ ماہی میں سیلاب کے معیشت پر منفی اثرات کا خدشہ ہے ، پاکستان میں سیلاب کے ان منفی اثرات کی شدت تاحال غیر یقینی ہے۔
ملک میں ٹماٹر کی قیمت جلد نیچے آنے کا امکان
ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمت آئندہ چند روز میں نیچے آنے کا امکان ہے۔ مقامی تاجر کا کہنا ہے کہ بدین میں ٹماٹر کی فصل تیار ہوکر مارکیٹ میں آنے میں 15 سے 20 دن لگیں گے۔ اس وقت ملک بھر میں ٹماٹر 400 سے 500 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے جبکہ بعض شہروں میں ٹماٹر 600 روپے تک بھی فروخت ہو رہا ہے۔ مقامی تاجر کے مطابق ایران سے ٹماٹر منگوایا جا رہا ہے جو کہ مہنگا ہے جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں بھی ٹماٹر کے نرخ زیادہ ہیں، مقامی سپلائی شروع ہوتے ہی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔
سندھ حکومت سے ٹیکس تنازع: پیٹرولیم کارگو پورٹس پر پھنس گئے، ملک میں ایندھن بحران کا خدشہ
کراچی: سندھ حکومت اور آئل کمپنیوں کے درمیان ٹیکس کے تنازع پر ملک میں ایندھن بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ سندھ حکومت کی جانب سے اچانک انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (cess )کے تحت 100 فیصد بینک گارنٹی کی شرط بحال کیے جانے کے بعد پیٹرولیم کارگو بندرگاہوں پر پھنس گئے ہیں جس کے باعث ملک میں ایندھن بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ نمائندےکے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے ڈیولپمنٹ سیس 1994 میں عائد کیا گیا تھا جس کے خلاف پیٹرولیم کمپنیاں ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ گئیں جس پر سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے حق میں فیصلہ دیا، عدالتی فیصلے کے بعد سندھ حکومت نے سیس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نمائندے نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے پیٹرولیم کمپنیوں اور سندھ حکومت کے درمیان جو میکنزم چل رہا تھا اس کے تحت کمپنیاں فنش پراڈکٹ کی کارگو منواتی تھیں اور اس کے بدلے سندھ حکومت کو ادائیگی کے لیے انڈر ٹیکنگ دی جاتی تھی۔ تاہم اب کمنپیاں سیس کی ادائیاگی نہیں کر رہیں جس پر سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک سیس نہیں دیا جائے گا تو انڈرٹیکنگ کی بنیاد پر کلیئرنس نہیں ہوگی لہٰذا اب اس کے لیے 100 فیصد بینک گارنٹی دینا ہوگا۔ دوسری جانب اس حوالے سے کمپنیوں نے ہاتھ کھڑے کردیے ہیں اور وفاق سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔
تنخواہ دار طبقے نے ہول سیلرز، ریٹیلرز اور برآمد کنندگان کے مجموعی ٹیکس سے دگنا ٹیکس ادا کیا
اسلام آباد: تنخواہ دار نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں قومی خزانے میں 130 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرایا ہے جو کہ تاجروں، تھوک فروشوں اور برآمد کنندگان کی مجموعی ادائیگی سے دگنا ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں تنخواہ داروں سے 130 ارب روپے کی وصولی ہوئی، دوسری جانب جائیدادوں کے انتقال 60 ارب، برآمدکنندگان سے 45 ارب ، تھوک فروشوں سے 14.6 ارب اور ہول سیلرز سے 11.5 ارب روپے حاصل کیے جاسکے۔ اس طرح قومی خزانے میں تنخواہ داروں کی جانب سے ڈالے جانے والا یہ حصہ کہ تاجروں، تھوک فروشوں اور برآمد کنندگان کی مجموعی ادائیگی سے زیادہ ،برآمد کنندگان کے مقابلے میں تین گنا اور ریٹیل و ہول سیل سیکٹر کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔تنخواہ دارطبقے نے پچھلے سال 545ارب ٹیکس دیا۔ رواں برس رواں برس ہدف600 ارب روپےہے، برآمد کنندگان، تھوک و پرچون فروش اور پراپرٹی ٹائیکونزکی ٹیکس ادائیگی تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں نہایت کم ہے، جس سے ٹیکس نظام میں انصاف اور مساوات کے سوالات جنم لیتے ہیں۔ جائیداد کی خریداری پر 236K کے تحت ایف بی آر نے 24 ارب روپے جمع کیے، جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 18 ارب روپے تھے۔ ایف بی آر نے تنخواہ دار طبقے سے 130 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا، حالانکہ حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں چند درجہ بندیوں میں معمولی کمی کی تھی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں اس طبقے سے 110 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔ پہلی سہ ماہی میں تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادائیگی برآمد کنندگان کے مقابلے میں تین گنا اور ریٹیل و ہول سیل سیکٹر کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ رہی۔ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق جائیداد کی فروخت پر 236C کے تحت 42 ارب روپے حاصل کیے گئے، جو پچھلے سال کے 23 ارب روپے سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ بجٹ 2025-26 میں جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر 4.5 فیصد کر دی گئی تھی، اگر لین دین کی مالیت 50 ملین روپے سے کم ہو۔ جائیداد کی خریداری پر 236K کے تحت ایف بی آر نے 24 ارب روپے جمع کیے، جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 18 ارب روپے تھے۔ خریداری پر ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد مقرر کی گئی ہے جہاں منصفانہ مارکیٹ ویلیو 50 ملین روپے سے کم ہو۔ اگر خریدار ایکٹو ٹیکس دہندگان کی فہرست (ATL) میں شامل نہ ہو تو ٹیکس کی شرح 10.5 فیصد ہوگی، جبکہ اگر وہ مقررہ تاریخ کے بعد ریٹرن فائل کرے تو شرح 4.5 فیصد ہوگی۔ مجموعی طور پر، جائیداد کی خرید و فروخت سے ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 60 ارب روپے جمع کیے، جو گزشتہ سال کی 45 ارب روپے کی وصولی سے زیادہ ہیں۔ برآمد کنندگان سے انکم ٹیکس سیکشن 154 اور 147 (6C) کے تحت 45 ارب روپے وصول کیے گئے، جو گزشتہ سال 43 ارب روپے تھے۔ برآمدات پر فی الحال 1 فیصد ٹیکس سیکشن 154 کے تحت اور مزید 1 فیصد سیکشن 147 (6C) کے تحت لاگو ہے۔ ملک میں لاکھوں تھوک فروش اور پرچون فروش سرگرم ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق تھوک فروشوں نے 236G کے تحت 14.6 ارب روپے ادا کیے، جو گزشتہ سال 7 ارب روپے تھے، جبکہ 236H کے تحت پرچون فروشوں نے 11.5 ارب روپے ٹیکس دیا، جو گزشتہ سال 6.5 ارب روپے تھا۔ گزشتہ مالی سال 2024-25 میں ایف بی آر نے تنخواہ دار طبقے سے 545 ارب روپے وصول کیے تھے اور اب ہدف رکھا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں یہ رقم 600 ارب روپے تک پہنچائی جائے۔دوسری جانب، وہ طبقات جو منافع کما رہے ہیں—جیسے برآمد کنندگان، تھوک و پرچون فروش اور پراپرٹی ٹائیکونز—ان کی ٹیکس ادائیگی تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں نہایت کم ہے، جس سے ٹیکس نظام میں انصاف اور مساوات کے سوالات جنم لیتے ہیں۔
نیپرا نےکے الیکٹرک کا ٹیرف 7 روپے 60 پیسے کم کردیا، فیصلہ جاری
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں 7 روپے 60 پیسے فی یونٹ کمی کا حکم دیدیا۔ نیپرا نے کےالیکٹرک کے مالی سال 2024 تا 2030 کے ملٹی ائیرٹیرف کی نظرِثانی کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے کے تحت نیپرا نے کے الیکٹرک کا اوسط ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 32.37 روپےفی یونٹ مقرر کردیا۔ نیپرا حکام نے کہا کہ رائٹ آف کلیمز سے متعلق نیپرا کا سابقہ فیصلہ برقرار ہے جب کہ یہ فیصلہ کےالیکٹرک کے جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سپلائی سے متعلق ہے۔ نیپرا فیصلے کے تحت کے الیکٹرک ٹیرف میں 7 روپے 60 پیسے کی کمی کی گئی ہے تاہم رائٹ آف کلیمز کی مد میں صارفین پر 50 ارب روپے کا بوجھ برقرار رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب اس حوالے سے ترجمان کے الیکٹرک نے کہا ہے کہ نیپرا کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، فیصلہ کےالیکٹرک کے جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اورسپلائی بزنس کے متعدد پہلوؤں پر محیط ہے جب کہ کمپنی اس حوالے سے تمام قانونی راستے اختیار کرے گی۔
شدید بارشوں اور درآمد میں تعطل سے ٹماٹر کی قلت پیدا ہوئی: محکمہ پرائس کنٹرول
اسلام آباد: محکمہ پرائس کنٹرول کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ سپلائی میں تعطل کے باعث ہوا۔ ترجمان محکمہ پرائس کنٹرول کا کہنا ہےکہ خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کے باعث ٹماٹر کی فصل متاثر ہوئی جس کے باعث عارضی قلت پیدا ہوئی۔ ترجمان کے مطابق افغانستان اور ایران سے بھی ٹماٹر کی درآمد میں عارضی تعطل نے سپلائی پر وقتی دباؤ ڈالا اور ٹماٹرکی قیمتوں میں اضافہ موسمی تبدیلی، بارشوں، ٹرانسپورٹ مسائل کا نتیجہ ہے۔ ترجمان محکمہ پرائس کنٹرول کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ وقتی ہے، آئندہ ہفتے سپلائی معمول پر آتے ہی قیمتوں میں کمی متوقع ہے جب کہ سندھ کی فصل نومبر اور پنجاب کی فصل اپریل ، مئی میں آنے سے ٹماٹر وافر دستیاب ہوگا۔
سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت آج بھی کم
اسٹاف رپورٹر October 20, 2025 facebook twitter whatsup mail کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت آج بھی کم ہو گئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں آج 17 ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 235 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔ اسی طرح کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہزار 400 روپے کی کمی ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 44 ہزار 900 روپے فی تولہ ہو گئی۔ مقامی سطح پر فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی ایک ہزار 200 روپے کی کمی واقع ہوئی، جس سے نئی قیمت 3 لاکھ 81 ہزار 430 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ واضح رہے کہ ہفتے کے روز بھی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوئی تھی اور سونا اچانک 106 ڈالر فی اونس کم ہوکر 4252 ڈالر کی سطح پر آ گیا تھا، جس کے نتیجے میں ملکی سطح پر سونا 10 ہزار 600 روپے سستا ہوکر 4 لاکھ 46 ہزار 300 روپے فی تولہ پر پہنچ گیا تھا۔ سونے کی قیمت میں اس بڑی کمی سے ایک روز قبل جمعہ کے روزتاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا تھا، جس کے مطابق سونا عالمی مارکیٹ میں 141 ڈالر کے اضافے سے 4358 ڈالر فی اونس اور مقامی مارکیٹوں میں 14 ہزار 100 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔
مقامی کرنسی میں قرضوں کا اجرا بڑھانے کیلئے اسٹیٹ بینک اور آئی ایف سی کا معاہدہ
کاشف حسین October 20, 2025 facebook twitter whatsup mail پاکستان میں مقامی کرنسی میں قرضوں کا اجرا بڑھانے کیلئے اسٹیٹ بینک اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے۔ بینک دولت پاکستان نے ورلڈ بینک گروپ کے نجی شعبے کے ادارے آئی ایف سی کے ساتھ شراکت داری کی ہے جس کا مقصد مقامی کرنسی میں قرضوں کا اجرا بڑھانا اور پاکستان میں نجی شعبے کی نمو میں معاونت کرنا ہے۔ آئی ایس ڈی اے معاہدے کے تحت، اس شراکت داری سے آئی ایف سی کرنسی کے خطرات کا مؤثرانتظام اور پاکستانی روپے میں سرمایہ کاریاں بڑھا سکے گا ۔ یہ معاہدہ پاکستانی معیشت کے اہم شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور ملک بھر میں ملازمتیں پیدا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر، جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کی نمو کو فروغ دینا ملک کی کامیاب اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ آئی ایف سی کے ساتھ اس شراکت داری کا مقصد نجی شعبے کے لیے قرضوں کے مواقع میں اضافہ ہے۔ آئی ایف سی کے نائب صدر اور ٹریژری اورموبلائزیشن کے ٹریژرر جان گینڈولفو نے کہا کہ کرنسیوں میں اتار چڑھاؤ ترقی پذیر معیشتوں کو لاحق نمایاں خطرات میں سے ہے اور مقامی کرنسی میں قرضوں کا اجرا پہلے کے مقابلے میں اب بہت زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ ورلڈ بینک گروپ ایسے قرضوں کے فروغ کو اسٹریٹجک ترجیح دیتا ہے اور اس سے پاکستان میں معاشی نمو کو تحریک ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرح مبادلہ کے خطرات ترقی پذیر ملکوں کی کمپنیوں کے لیے سنگین چیلنج ہیں جو امریکی ڈالر جیسی مستحکم کرنسیوں میں قرض لیتی ہیں جبکہ اپنی آمدنی مقامی کرنسی میں حاصل کرتی ہیں۔ کرنسی کی اس عدم مطابقت کو دور کرنا نہ صرف خطرات کم کرنے اور مالی لچک برقرار رکھنے کی مقامی کاروباری اداروں کی صلاحیت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ وسیع تر معاشی استحکام کو سہارا دینے کے لیے بھی اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایف سی جدید مالی آلات کے استعمال اور شراکت داریوں کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں مقامی کرنسی میں مالکاری کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ آئی ایف سی کے ساتھ اس شراکت سے اسٹیٹ بینک کا مقصد یہ ہے کہ ملک کی معاشی مضبوطی کو بڑھایاجائے، نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دیا جائے اور پاکستان میں زرِ مبادلہ کی سیالیت کو بہتر بنایا جائے۔
آئی ایم ایف پاکستان پر قومی مفاد کیخلاف شرط عائد نہیں کرسکتا، وزیر خزانہ
خبر ایجنسیاں October 20, 2025 facebook twitter whatsup mail فائل فوٹو واشنگٹن: وفاقی وزیر خزانہ سینٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 1.2 ارب ڈالر کی اگلی آئی ایم ایف قسط دسمبر تک ملنے کی توقع ہے۔ وزیر خزانہ دورہ امریکا پر ہیں جہاں انہوں نے 20 وزارتی اجلاس میں شرکت کی اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فوری طور پر فعال کرنے پر زور دیا۔ وزیر خزانہ کی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر مختار ڈیوپ سے ملاقات ہوئی جس دوران وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ ایگزِم بینک جلد ریکوڈک منصوبے میں شمولیت اختیار کرے گا۔ محمد اورنگزیب کی جے پی مورگن کے سینئر انتظامی وفد سے بھی ملاقات ہوئی جس دوران دوطرفہ شراکت داری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ محمد نے کہا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ جلد اجلاس میں معاہدے کی منظوری دے گا اور پاکستان کو 31 دسمبر تک آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان پر قومی مفاد کے خلاف کوئی شرط عائد نہیں کر سکتا، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کی گئی اصلاحات نے معیشت کو مستحکم کیا اور اب تک تمام اصلاحات پاکستان کی اپنی معاشی ترجیحات کے مطابق ہیں۔
کراچی میں ٹماٹر مرغی کے گوشت سے بھی مہنگا
کاشف حسین October 19, 2025 facebook twitter whatsup mail بلاشبہ حکومتی منصوبے صائب ہیں لیکن ساتھ ساتھ روزگارکی فراہمی کے لیے بھی قابل عمل منصوبہ بندی ضروری ہے۔ فوٹو: فائل کراچی: شہر قائد میں فی کلو ٹماٹر مرغی کے گوشت سے بھی مہنگا ہو گیا۔ کراچی میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت 500 روپے سے تجاوز کرگئی ہے، جب کہ مرغی کا گوشت 450 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں اور گلی محلوں میں ٹماٹر 450 سے 550 روپے فی کلو کے درمیان دستیاب ہے۔ دکانداروں کے مطابق افغانستان سے ٹماٹر کی آمد بند ہونے اور پنجاب سے سپلائی محدود ہونے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت کراچی میں ٹماٹر کی 90 فیصد طلب ایرانی ٹماٹر سے پوری کی جا رہی ہے، تاہم اس کی رسد بھی ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے ٹماٹر کے سرکاری نرخ 280 روپے فی کلو مقرر کیے ہیں، مگر بچت بازاروں سمیت عام مارکیٹوں میں دکاندار سرکاری نرخوں پر فروخت سے انکار کر رہے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ منڈی سے ٹماٹر مہنگا ملنے کی وجہ سے وہ سستا فروخت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق اگر انتظامیہ چاہتی ہے کہ سرکاری نرخ پر فروخت ہو تو پہلے منڈی میں جا کر نرخنامے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ بچت بازار انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر دکاندار سرکاری نرخوں پر عمل نہیں کرسکتے تو انہیں فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سندھ نے پیٹرولیم درآمدات کی کلیئرنس کیلئے بینک گارنٹی لازمی قرار دیدی
اسلام آباد: سندھ نے پیٹرولیم درآمدات کی کلیئرنس کیلئے بینک گارنٹی لازمی قرار دے دی۔ سندھ حکومت نے باضابطہ طور پر پیٹرولیم ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ تمام پیٹرولیم درآمد کنندہ کمپنیاں، بشمول پاکستان اسٹیٹ آئل ، اپنی کنسائنمنٹس جاری کروانے کے لیے اب پہلے سے قبول شدہ انڈرٹیکنگز (ضمانتی دستاویزات) کے بجائے بینک گارنٹی جمع کرائیں۔ یہ اقدام پاکستان کی سپریم کورٹ کے یکم ستمبر 2021 کے حکم (سی پی ایل اے نمبر 4288 آف 2021) کی تعمیل میں کیا گیا ہے، جس میں یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ سندھ انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے تحت درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی کلیئرنس کے لیے بینک گارنٹیز کی جمع آوری ایک لازمی شرط ہوگی، عدم تعمیل کو سرکشی سمجھا جائے گا۔
استعمال شدہ ملبوسات کی درآمد پر فی کلو 200 روپے کا ٹیکس، تاجر بلبلا اٹھے
رواں برس حکومت کی جانب سے استعمال شدہ پرانے کپڑوں کی درآمد پر 200 روپے فی کلو گرام ٹیکس پر تاجر بلبلا اٹھے۔ تاجروں کے مطابق حکومت کی جانب سے استعمال شدہ پرانے کپڑوں کی درآمد پر 200 روپے فی کلو گرام کا عائد ٹیکس کیا گیا ہے، اس سے استعمال شدہ گرم ملبوسات کی فی عدد قیمت میں 500 سے 1500 روپے تک ہونے والا اضافہ سفید پوش اور غریب طبقے کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس بار استعمال شدہ گرم ملبوسات کی قیمتیں زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود کوشش ہے کہ جتنی قیمت کم کرسکتے ہیں کی جائیں۔ تاجروں کے مطابق ڈیوٹیز زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم نے مال پر بہت زیادہ انویسٹ کیا ہوا ہے پہلے جو ہمارا مال آتا تھا کنٹینر کے حساب سے اس پر اتنی ڈیوٹیز لگ چکی ہیں کہ اب یہ مال کسٹمر کی پہنچ سے بھی آہستہ آہستہ دور ہوتا جا رہا ہے۔ تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت استعمال شدہ ملبوسات کی درآمد پر ٹیکسوں کی شرح کو کم کرے تاکہ سفید پوش اور غریب طبقہ افراد لنڈا بازاروں سے سستے داموں خرید اری کر سکیں۔
وزیر خزانہ کا پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو B- کے ساتھ مستحکم آؤٹ لک دینے پر فچ سے اظہار تشکر
واشنگٹن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو B- کے ساتھ مستحکم آؤٹ لک دینے پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دورہ امریکا کے دوران فچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات کی اور پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے تینوں بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی درجہ بندی میں ہم آہنگی پر اطمینان کا اظہار کیا، انہوں نے فچ ٹیم کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدےسے آگاہ کیا۔ وزیر خزانہ نے حکومت کے نجکاری کے عمل کو تیز کرنے، مالی استحکام اور کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا جب کہ انہوں نے ٹیکس نظام، توانائی، نجکاری اور سرکاری اداروں میں کی جانے والی اصلاحات پر روشنی بھی ڈالی۔ محمد اورنگزیب نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و ٹیرف مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و ٹیرف مذاکرات کے بارے میں بھی بتایا۔ وزیر خزانہ نے فچ ٹیم کے سوالات کے جوابات دیے جس میں انہوں نے پاکستان کی معیشت میں استحکام اور اصلاحاتی عمل کے تسلسل کے عزم کا اعادہ کیا۔
سونے کی آسمان کو چھوتی قیمت کو بریک لگ گئی، ہزاروں روپے کی بڑی کمی
کراچی: سونے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت کو بریک لگ گئی اور فی تولہ قیمت میں 10 ہزار روپے سے زائد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 10600 روپے کم ہو کر 4 لاکھ46 ہزار 300 روپے ہو گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 9088 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 82 ہزار630 روپے ہو گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 106 ڈالر کم ہو کر 4252 ڈالر فی اونس ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 14 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہوا تھا جبکہ دو روز قبل سونے کی فی تولہ قیمت 1900 روپے بڑھی تھی۔
پی ایس ایکس: رواں ہفتے کاروبار کی مالیت 277.87 ارب روپے رہی
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے ہونے والے کاروبار کے اعداد و شمار سامنے آگئے۔ پی ایس ایکس 100 انڈیکس ایک ہفتے میں 708 پوائنٹس اضافے سے 163806 پر بند ہوا جب کہ کاروباری ہفتے میں انڈیکس 9883 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ 100 انڈیکس کی ہفتہ وار بلند ترین سطح 167561 اورہفتہ وار کم ترین سطح 157678 رہی۔ اس کے علاوہ کاروباری بازار میں ایک ہفتے میں 9.13 ارب شیئرز کے سودے ہوئے اور شیئرز بازار کے ہفتہ وار کاروبار کی مالیت 277.87 ارب روپے رہی۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن ایک ہفتے میں 57 ارب روپے اضافے سے 18968 ارب روپے ہوگئی۔
پاکستان سے تنازع پر افغان تاجر پریشان، ٹرکوں پر لدے سبزیاں اور پھل خراب ہونے لگے
کاروبار پاکستان سے تنازع پر افغان تاجر پریشان، ٹرکوں پر لدے سبزیاں اور پھل خراب ہونے لگے پاکستان سے تنازع پر افغان تاجر پریشان، ٹرکوں پر لدے سبزیاں اور پھل خراب ہونے لگے بتایا جارہا ہے کہ ٹنوں کے حساب سے انگور خراب ہونے پر تاجروں کوبڑا نقصان ہورہا ہے/ فائل فوٹو افغان طالبان کا پاکستان سے تنازع افغان تاجروں کے لیے پریشان کا سبب بن گیا۔ پاکستان میں داخلےکے منتظر ٹرکوں پر لدی سبزیاں اور پھل گلنے سڑنے لگے ، نقصان کے پیش نظر تاجر افغانستان کی مارکیٹوں میں اپنا مال اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ٹنوں کے حساب سے انگور خراب ہونے پر تاجروں کوبڑا نقصان ہورہا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان سےتعلقات بہتر کرکے تجارت بحال کرنے کامطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کراچی پورٹس سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ٹرانسپورٹیشن روکنے کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد کنٹینرز کی طویل قطاریں لگی ہو ئی ہیں۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ سیکڑوں کنیٹنرز گاڑیوں پر لوڈ کھڑے ہیں اور سیکڑوں کوئٹہ اور پشاور کے راستوں میں کھڑے ہیں جب کہ ڈرائیور بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
حکومت اور آئی ایم ایف کا سولر پینلز اور انٹرنیٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور
کاروبار حکومت اور آئی ایم ایف کا سولر پینلز اور انٹرنیٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور حکومت اور آئی ایم ایف کا سولر پینلز اور انٹرنیٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور ’’ہنگامی ٹیکس اقدامات‘‘آئی ایم ایف کے دوسرے جائزہ رپورٹ کا حصہ ہوں گے: ذرائع۔ فوٹو فائل اسلام آباد: کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز مسترد ہونے کے بعد، پاکستان اور آئی ایم ایف اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ متبادل طور پر شمسی پینلز (سولر)، انٹرنیٹ اور دیگر شعبوں پر ٹیکس کی شرحیں کیسے بڑھائی جائیں تاکہ اگر ریونیو میں کمی بڑھے تو ہنگامی بنیادوں پر اضافی محصولات حاصل کیے جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ ’’ہنگامی ٹیکس اقدامات‘‘آئی ایم ایف کے دوسرے جائزہ رپورٹ کا حصہ ہوں گے، جو فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی۔ ان اقدامات کو اُس صورت میں لاگو کیا جائے گا جب مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں ریونیو کی کمی مقررہ حد سے بڑھ جائے یا وزارتِ خزانہ اخراجات میں کمی نہ کر سکے۔ ایف بی آر کی جانب سے آئی ایم ایف کو پیش کی گئی تجاویز میں بتایا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر درآمدی سولر پینلز پر جی ایس ٹی کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے، جو جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر ودہولڈنگ ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 18 یا 20 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ ایف بی آر کے اندازوں کے مطابق، آئندہ برسوں میں درآمدی سولر پینلز سے 25 سے 30 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ فی الحال چھتوں پر نصب سولر پینلز 6000 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، جو کسی بھی وقت دوگنی ہو سکتی ہے۔
سندھ: ڈھرکی سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت
گھوٹکی: ماڑی انرجیز نے سندھ کے شہر ڈھرکی سے تیل اور گیس کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ ماڑی انرجیز کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر ڈھرکی سے تیل اور گیس کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے۔ ماڑی انرجیز کا کہنا ہے کہ دریافت ماڑی غزیج سی ایف بی ون ایکسپلوریشن ویل سے ہوئی، ماڑی انرجیز، ماڑی ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز کی100 فیصد حقوق کے ساتھ آپریٹر ہے۔ اعلامیے کے مطابق ایف بی ون ایکسپلوریشن کنواں تیل سے بھرپور زونز کو ہدف بنا کر کھودا گیا تھا، ٹیسٹنگ کے دوران کنویں سے 305 بیرل یومیہ تیل حاصل ہوا جب کہ یومیہ 30 لاکھ مکعب فٹ گیس حاصل ہوئی۔ ماڑی انرجیز کے مطابق کمپنی ڈھرکی ماڑی فیلڈ میں پاکستان کے سب سے بڑے گیس ذخیرے کو چلارہی ہے اور ماڑی انرجیز تقریباً 30 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ ملک کی گیس پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔
ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ، مجموعی سالانہ شرح 4.57 فیصد ہوگئی
اسلام آباد: ملک میں ہفتہ وار منہگائی میں 0.49 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں 0.49 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 4.57 فیصد ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 24 اشیائے ضروریہ مہنگی اور 8 سستی ہوئیں، 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں ٹماٹر 33.20 فیصد، پیاز 8.70 ، انڈے 2.18 اور آٹا 1.42 فیصد مہنگے ہوئے جبکہ چینی،گھی،کوکنگ آئل، لہسن اور آلو سمیت دیگر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں چکن 6.38 اور کیلے 4.70 فیصد سستے ہوئے جبکہ پیٹرول، ڈیزل، دالیں اور چاول کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی۔
سونے کی مزید اونچی اڑان، فی تولہ قیمت میں 14 ہزار سے زائدکا بڑا اضافہ
کراچی: سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی 14 ہزار روپے سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت آج 14100 روپےبڑھ کر 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپےہوگئی ہے۔ ایسوسی ایشن کا بتانا ہے کہ 10 گرام سونے کی قیمت 12089 روپےبڑھ کر 3 لاکھ 91ہزار 718 روپےہوگئی ہے۔ مزید برآں عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 141 ڈالر اضافے سے 4358 ڈالر فی اونس ہے۔
وزیراعظم عمران خان کئی سالوں سے افغان طالبان کو افغانستان میں کسی بھی مذاکراتی اور سیاسی عمل کا حصہ بنائے جانے پر زور دیتے رہے ہیں
وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اس سے خطے اور پوری دنیا میں ایک پرامن اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کئی سالوں سے افغان طالبان کو افغانستان میں کسی بھی مذاکراتی اور سیاسی عمل کا حصہ بنائے جانے پر زور دیتے رہے ہیں، لیکن مقتدر حلقوں نے ہمیشہ انہیں طالبان خان کا طعنہ دیا۔ آج یہ بات ثابت ہوگیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک دور اندیش سیاستدان ہیں اور نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں امن کے داعی اور سفیر ہیں۔
