ٹرمپ کا ایران پر مزید حملوں کا اعلان: اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 4 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی    space    عوام پر پیٹرول بم گرانے کی تیاری، فی لیٹر قیمت میں 100 روپے اضافے کا خدشہ    space    مقاصد کی تکمیل تک جنگ جاری رہےگی، ٹرمپ کا آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران پر شدید حملے کرنےکا اعلان    space    شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک    space    ایران جنگ جاری رکھنےکے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ    space    کیا ثالث امریکا کی ضمانتوں پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ پاکستان میں ایرانی سفیر کا سوال    space    ایران نے پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہونےکی تصدیق کردی    space   

بینک ایس ایم ایس کی مد میں صارفین

سینیٹ کمیٹی خزانہ میں انکشاف ہوا ہے کہ بینک ایس ایم ایس کی مد میں صارفین سے 3.40 روپے فی میسیج وصول کر رہےہیں ، بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں کی بھاری ایس ایم ایس چارجز کی ذمہ داری ایک دوسرےپر ڈالنےکی کوشش کی۔ قائمہ کمیٹی نے صارفین سے ایس ایم ایس چارجز وصولی کا ایک سال کا ڈیٹا طلب کر لیا ۔ بینکوں کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا 2021 میں ایک ایس ایم ایس کے چارجز صرف 42 پیسے تھے ، جو 2025 میں 3 روپے 40 پیسے فی میسیج کر دیئے گئے ، ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ایس ایم ایس چارجز کم کئے بغیر بینک کچھ نہیں کر سکتے ، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک عنایت حسین نے بتایا بینکوں نے ایس ایم ایس کی مد میں صارفین سے 18 ارب 70 کروڑ روپے سالانہ فیس وصول کی ۔ جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو 25 ارب 60 کروڑ روپےادائیگی کی گئی ۔ یوں بینکوں نے کمپنیوں کو 7 ارب روپے اضافی ادا کئے۔ سینیٹر عبدالقادر نےکہا بینک 400 ارب روپے سالانہ منافع کما رہےہیں ۔ اگر 7 ارب روپے دے بھی دیں تو زیادہ بڑی بات نہیں ۔ یہ دو پیسے کا ایس ایم ایس تین سو پیسےمیں کیوں بیچ رہے ہیں ۔ ٹیلی کام کمپنی کے نمائندے نے کہا ہمارے اوپر چور اچکوں کا لیبل لگا ہوا ہے ۔ لیکن ہمارا بزنس شفاف ہے ، کئی بار آڈٹ ہو چکا ۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا ٹیلی کام کمپنیوں کی فی ایس ایم ایس کاسٹ ایک سے دو پیسے ہے ۔ کمرشل بینک بھی اس میں پیسہ بنا رہے ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نےکہا صارفین سے ایس ایم ایس چارجز کی وصولی کا ایک سال کا ڈیٹا فراہم کیا جائے ۔ ڈیٹا ملنے کے بعد صارفین کو درپیش اس مسئلے کا حل نکالیں گے ۔ جب سارا ڈیٹا آ جائے گا تو فی ایس ایم ایس لاگت کا بھی تعین ہو جائے گا ۔

ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں

وفاقی حکومت مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کو 610 ارب روپے کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہ بات ایکسپریس نےبتائی۔ دستاویزات کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ ایف بی آر جولائی سے مارچ تک تقریباً 9.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کر سکا، جو کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے مقررہ ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے۔اس دوران محصولات میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا، جو سالانہ ہدف حاصل کرنے کیلیے درکار رفتار کا تقریباً نصف ہے۔ حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے بھی محصولات پر منفی اثر ڈالا، صرف مارچ کے مہینے میں تقریباً 100 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث درآمدات متاثر ہوئیں، جس سے 65 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی، جبکہ گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث کھاد کے کارخانوں نے بھی متوقع ٹیکس سے 35 ارب روپے کم ادا کیے۔ مزید برآںایف بی آر نے 447 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے، جس میں مارچ کے دوران 61 ارب روپے شامل ہیں، جس سے بھی مجموعی وصولیوں پر دباؤ پڑا۔آئی ایم ایف نے مزید رعایت دینے سے انکار کرتے ہوئے سالانہ ہدف 13.98 کھرب روپے برقرار رکھا ہے، جس کے حصول کے امکانات اب انتہائی کم دکھائی دیتے ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت محصولات میں بہتری کیلیے اصلاحات جاری رکھے گی۔مارچ کے مہینے میں بھی ایف بی آر مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکا اور 1.37 کھرب روپے کے مقابلے میں صرف 1.182 کھرب روپے جمع کیے گئے، جو 185 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ مہینوں میں بھی محصولات پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

پاک وہیلز کا نیا ٹیزر: کیا ایک

پاک وہیلز ڈاٹ کام نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک پراسرار ٹیزر شیئر کر کے پاکستان کی آٹوموٹو کمیونٹی میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمپنی ایک ممکنہ طور پر سب سے بڑے اقدام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس ٹیزر میں ایک شاندار گاڑی کو ڈھانپ کر پیش کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ کیپشن لکھا گیا ہے: وه لمحہ جس کا ہم سب کوانتظار تھا،اس پوسٹ نے شائقین اور ماہرین میں تجسس اور جوش و خروش پیدا کردیا ہے۔ مداحوں اور شائقین نے کمنٹس میں اپنے اندازے اور نظریات شیئر کرنا شروع کردیے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ پاک وہیلز اپنی گاڑی یا کار برینڈ لانچ کرنے جارہی ہے جبکہ دیگر بحث کررہے ہیں کہ یہ نئی سیڈان، نئی جنریشن کورولا یا کیا کی کوئی گاڑی ہوسکتی ہے۔ کچھ مداح مزاحیہ انداز میں مینوئل ویرینٹ کی خواہش ظاہر کررہے ہیں۔ ایم جی ، شاید ہنڈائی یا یہ تجویز دے رہے ہیں کہ برانڈ کا نام منج ہوسکتا ہے۔ یہ ہلچل ناصرف شائقین کی گاڑیوں کے شوق کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مقامی آٹو موٹو منظر نامے میں جدت کے لیے ان کی بے تابی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ پاک وہیلز نے کوئی تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں ۔ یہ ٹیزر یقینی طور پر زبردست توقعات پیدا کرچکا ہے ۔ چاہے یہ ایک ذاتی گاڑی، سٹریٹیجک تعاون یا بالکل نئے موبیلٹی تصور کی جانب اشارہ ہو۔ آن لائن جوش و خروش ظاہر کرتا ہے آٹو موٹو کمیونٹی بے صبری سے "وہ لمحہ جس کا ہم سب کو انتظار تھا" کا انتظار کررہی ہے۔

امریکا نے تیل کی پیداوار میں

کراچی: امریکا میں تیل کی پیداوار سعودی عرب اور روس کی مجموعی پیداوار سے بھی آگے نکل گئی جس کے بعد امریکا تیل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ 2026 کے بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا ایک بار پھر دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن کر ابھرا ہے، اس کی یومیہ پیداوار دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ممالک سعودی عرب اور روس کی مجموعی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں امریکا کی اوسط تیل پیداوار تقریباً13.6 ملین بیرل یومیہ رہے گی اور 2027 میں پیداوار بڑھ کر 13.8ملین بیرل یومیہ تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی درجہ بندی کے مطابق دنیا کے 10 سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں امریکا پہلے، سعودی عرب دوسرے اور روس تیسرے نمبر پر ہیں۔ تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کی یومیہ پیداوار 20.9ملین سے22.8 ملین بیرل کے درمیان ہے جو دنیا کی کل پیداوار کا 15 سے20 فیصد حصہ بنتی ہے۔ یہ مقدار نہ صرف سعودی عرب کی10.8 سے11.2ملین بیرل یومیہ پیداوار سے زیادہ ہے بلکہ روس کی10.5 سے 10.9ملین بیرل یومیہ پیداوار کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔

مارچ میں مہنگائی کی

پاکستان میں مارچ 2026 کے دوران مہنگائی کی سالانہ شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو حکومتی اندازوں سے کم ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق فروری میں یہ شرح 7 فیصد تھی، جبکہ مارچ 2025 میں مہنگائی نہایت کم سطح 0.69 فیصد پر ریکارڈ کی گئی تھی۔ جاری مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 5.65 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 5.24 فیصد تھی۔ وزارتِ خزانہ نے مارچ کیلئے مہنگائی کا تخمینہ 7.5 سے 8.5 فیصد کے درمیان لگایا تھا، تاہم اصل شرح اس سے کم رہی۔ رپورٹ کے مطابق بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافے، خصوصاً عید کے موقع پر، معاشی سرگرمیوں پر مثبت اثر ڈالنے کی توقع ہے، تاہم یہ میزبان ممالک کی معاشی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ بروکریج ہاؤسز عارف حبیب لمیٹڈ اور جے ایس گلوبل نے بھی مہنگائی کی شرح بالترتیب 7.6 اور 7.3 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔

ایران جنگ جاری رکھنے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ جاری رکھنےکے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد برطانوی خام تیل کی نئی قیمت 105.55 ڈالر فی بیرل ہوگئی، امریکی خام تیل کی قیمت بھی اضافے کے بعد 105 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس کے علاوہ یو اے ای مربن خام تیل 3 فیصد کمی کےساتھ 103 ڈالر کی سطح پر موجود ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر نے عوام سے خطاب میں ایران جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد تمام فوجی مقاصد حاصل کرلیے جائیں گے، صدر ٹرمپ نے آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران پر مزید شدید حملے کرنے کا بھی اعلان کردیا۔

عوام پر پیٹرول بم گرانے

اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں درآمدی لاگت کے مقابلے میں 100 روپے اور ڈیزل میں 200 روپے فی لیٹر سے زائد کا فرق موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے تاہم آئندہ چند روز میں نئی قیمتوں کا اعلان کردیا جائے گا۔

ٹرمپ کا ایران پر مزید

کراچی: امریکی صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے بڑھانے کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید مندی کا رجحان ہے۔ جمعرات کو کاروبار کے آغاز سے ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی جارہی ہے اور ابتدا میں ہی 100 انڈیکس 3763 پوائنٹس کم ہوکر 151748 پر چلا گیا۔ کاروبار کے دوران مارکیٹ میں مزید منفی رجحان دیکھنے میں آیا اور 100 انڈیکس 4088 پوائنٹس کم ہوکر 151423 پر چلا گیا۔ پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 2.63 فیصد کم ہوا ہے۔ واضح رہےکہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ کے ایران جنگ سے جلد نکلنے کے بیان کے بعد مارکیٹ میں بڑی تیزی دیکھی گئی تھی۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال،

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ برطانوی خام تیل کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ گئی ہے، امریکی خام تیل کی فروخت 103 ڈالر فی بیرل ہو رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز پر تقریباً 3 ہزار جہاز پھنسے ہوئے ہیں، متحدہ عرب امارات میں تیل بحران کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 سے 70 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ ڈیزل کی نئی قیمت 2.72 درہم اضافے کے بعد 4.69 درہم تک پہنچ گئی ہے ۔ سپر پیٹرول، اسپیشل نائنٹی فائیو اور ای پلس نائنٹی ون پیٹرول کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

آبنائے ہرمز میں مختلف ممالک

ایران پر جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں مختلف ممالک کے تقریباً 3 ہزار جہاز پھنس گئے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور ترسیل کا نظام شدید متاثر ہو گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ٹرانسپورٹ کمپنیاں متبادل اور طویل زمینی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے نقل و حمل کے اخراجات میں 200 فیصد تک اضافہ اور ترسیل کے وقت میں تین گنا تک تاخیر ہو گئی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ان ممالک کیلئے بند کی گئی ہے جو جارحیت میں ملوث ہیں، جبکہ دیگر ممالک ایرانی حکام سے رابطہ کرکے اپنے جہاز گزار سکتے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق کم از کم 18 بھارتی پرچم بردار جہاز، جن میں ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی لے جانے والے جہاز شامل ہیں، آبنائے ہرمز میں محصور ہیں۔ رپورٹس کے مطابق خلیج فارس کے دیگر سمندری علاقے بھی ہائی رسک زون قرار دیے جا چکے ہیں، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم تجارتی راستے کی بندش بھارت سمیت خطے کے کئی ممالک میں توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی

عالمی مارکیٹ میں ایک بار پھر سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آج قیمت گزشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں تقریباً 0.4 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد سونے کے فی اونس نرخ 4685 ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ دن کے آغاز فی اونس قیمت 4723 ڈالر کی سطح تک بھی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے، رائٹرز کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی اور صدر ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے بارے بیان سونے کے نرخ میں اضافے کی وجہ ہے۔ واضح رہے کہ جب ڈالر کی قدر کم ہوتی ہے تو دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے سونا خریدنا آسان ہو جاتا ہے، جس سے اس کی طلب اور قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مارچ کے مہینے میں عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں 11 فیصد سے زائد کمی ہوئی جو 2008 کے بعد ایک ماہ میں سب سے بڑی کمی تھی۔

ملک بھر میں سونے کی

کراچی: ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 2800 روپے سے بڑھ کر 4لاکھ78ہزار 762 روپے ہوگئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 401 روپے بڑھ کر 41 ہزار 461 روپے ہوگئی۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونا 28 ڈالر اضافے سے 4560 ڈالر فی اونس ہوگے۔

ایف بی آر کیلئے مارچ کا ٹیکس ہدف

اسلام آباد: ایف بی آر کیلئے مارچ کا ٹیکس ہدف چیلنج بن گیا اور ٹیکس وصولی میں بڑے شارٹ فال کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مارچ 2026 کے لیے 1367 ارب روپے کا ماہانہ ٹیکس جمع کرنے کا ہدف حاصل کرنے میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال یہ ظاہر کر رہی ہے کہ ٹیکس مشینری اپنے مطلوبہ ہدف کو حاصل کرنے میں ایک بڑے شارٹ فال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مارچ 2026 کیلئے 1367 ارب روپے کا ہدف مقررہ کیا گیا تھا تاہم 150 سے 200 ارب روپے کا شارٹ فال کا امکان ہے۔

یو اے ای میں پیٹرول اور ڈیزل

ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 30 فیصد سے زائد اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نئے نرخوں کے تحت سپر پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 2.59 درہم سے بڑھ کر 3.39 درہم ہوگئی ہے جب کہ اسپیشل 95 پیٹرول 2.48 درہم سے بڑھ کر 3.28 درہم فی لیٹر ہوگیا ہے۔ اسی طرح ای پلس 91 پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 2.40 درہم سے بڑھ کر 3.20 درہم ہوگئی ہے۔ دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا جہاں فی لیٹر قیمت 2.72 درہم سے بڑھ کر 4.69 درہم کردی گئی ہے۔

خا م تیل کی سپلائی پر تشویش،

خا م تیل کی سپلائی پر تشویش سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ برطانوی خام تیل برینٹ 5.29 ڈالر اضافے سے فی بیرل 118 ڈالر میں فروخت ہو رہا ہے جب کہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی 102 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا امریکا پر بھی اثر دیکھا جا رہا ہے، امریکا میں پیٹرول کی فی گیلن قیمت چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور پیٹرول کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق اس سے قبل اگست 2022 میں قیمتیں 4 ڈالر سے اوپر گئی تھیں۔ امریکن آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق فروری کے آخر میں یہ قیمت 3 ڈالر سے بھی کم تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ماضی میں وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی طور پر مہنگی ثابت ہوئی ہیں۔ ٹرمپ کو اپنی دوسری مدت صدارت کے دوران اسی سال کے آخر میں ایک بڑا انتخابی امتحان درپیش ہے، جہاں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کانگریس پر ریپبلکن کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں طویل مدت تک اضافے کے ممکنہ اثرات پر تشویش بڑھنے کے ساتھ ٹرمپ بارہا اس کے اثرات کو کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ مجموعی طور پر ملک کو اس سے فائدہ ہوگا۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور بہت آگے ہے، اس لیے جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہم بہت زیادہ پیسا کماتے ہیں۔

ایل پی جی کی قیمت میں 78

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مائع پیٹرولیم گیس ( ایل پی جی) کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں 78روپے 28 پیسے فی کلو اضافہ کر دیا گیاہے۔ اس اضافے کے بعد فی کلو ایل پی جی کی نئی قیمت 304 روپے 12 پیسے مقرر ہوگئی جبکہ قیمت میں اضافے سے ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 923 روپے 71پیسے مہنگا ہو گیا۔ ایل پی جی کے 11.8کلوگرام گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 3588 روپے 59 پیسے مقرر ہوگئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اپریل سے ہوگا۔

کراچی میں دودھ کی قیمت

کراچی میں دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 20 روپے اضافہ کر دیا گیا۔ کراچی میں دودھ کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ 20 روپے اضافے کے بعد دودھ کی نئی قیمت 240 روپے فی لیٹر مقرر ہوگئی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ڈیری فارمر کے لیے دودھ کی قیمت 215 روپےفی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہول سیلرز کے لیے دودھ کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

ایران جنگ کے خاتمے پر متضاد

ایران جنگ کے خاتمے پر متضاد خبریں سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے۔ برینٹ خام تیل118 سے کم ہو کر 106 ڈالر فی بیرل کی سطح پرآگیا اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت103 ڈالرفی بیرل پرمستحکم ہے۔ اس کے علاوہ یو اے ای مربن خام تیل3 فیصد اضافے سے 121 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے۔ دوسری جانب امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ڈاؤ انڈیکس میں ڈھائی فیصد، ایس اینڈپی میں 2.91 اور نیسڈیک میں 3.83فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سازگار کمپنی نے ہائبرڈ ایس

سازگار انجنیئرنگ ورکس نے اپنی نئی ہائبرڈ اسپورٹ یوٹیلیٹی وہیکل (SUV) “Tank-500 Hi4-T 4X4 2.0L Turbo AT” کی آزمائشی پیداوار مارچ 2026 کے اختتام تک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع کے مطابق گاڑی کا سی کے ڈی (CKD) ماڈل پلگ اِن ہائبرڈ (PHEV) اور ہائبرڈ (HEV) دونوں ورژنز میں دستیاب ہوگا، جو سازگار کی ہائبرڈ گاڑیوں کے شعبے میں پہلی باقاعدہ انٹری ہے۔ اس سے قبل کمپنی نے جنوری میں اس گاڑی کی بکنگ کا آغاز کیا تھا، جہاں HEV ورژن کی قیمت 2 کروڑ 5 لاکھ روپے جبکہ PHEV کی قیمت 2 کروڑ 25 لاکھ روپے رکھی گئی تھی۔ بکنگ رقم بالترتیب 30 لاکھ اور 35 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔ ماہرین کے مطابق PHEV گاڑیاں پٹرول انجن کے ساتھ بڑی بیٹری رکھتی ہیں، جس سے یہ محدود فاصلے تک صرف بجلی پر چل سکتی ہیں، جبکہ بعد میں ہائبرڈ موڈ پر آ جاتی ہیں۔ کمپنی نے اپنے چار پہیوں والی گاڑیوں کے پلانٹ کی توسیع بھی مکمل کر لی ہے، جس پر 6.5 ارب روپے خرچ ہوئے، جبکہ ایک جدید خودکار پینٹ شاپ اور دیگر سہولیات کیلئے مزید سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ بورڈ نے 22 ارب روپے کے نئے توسیعی منصوبے کی بھی منظوری دی ہے، جس کے بعد پلانٹ کی پیداواری صلاحیت بڑھ کر سالانہ 54 ہزار یونٹس تک پہنچ جائے گی۔

عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں نے خطرناک حد تک چھلانگ لگا دی جہاں برینٹ کروڈ ریکارڈ ماہانہ اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ جنگ کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات کو شدت دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آج برینٹ کروڈ کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 102.56 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔ صرف ایک ماہ کے دوران برینٹ میں 59 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو خلیجی جنگ 1990 کے بعد سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ہوشربا اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ جنگ کے باعث اب خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گیا۔

عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں نے خطرناک حد تک چھلانگ لگا دی جہاں برینٹ کروڈ ریکارڈ ماہانہ اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ جنگ کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات کو شدت دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آج برینٹ کروڈ کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 102.56 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔ صرف ایک ماہ کے دوران برینٹ میں 59 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو خلیجی جنگ 1990 کے بعد سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ہوشربا اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ جنگ کے باعث اب خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گیا۔

ملتان والو تیار ہو جاؤ! پاک ویلز کار

ملتان والو تیار ہو جاؤ! پاک ویلز اپنا مشہورِ زمانہ کار میلہ ملتان لا رہا ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی جلدی، صحیح قیمت پر اور براہِ راست خریداروں کو بیچنا چاہتے ہیں، تو یہ آپ کے لیے بہترین موقع ہے۔ کار میلے میں ہزاروں خریدار اور فروخت کنندگان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ بیچنے والے اپنی گاڑیاں پارک کرتے ہیں، خریدار موقع پر معائنہ کرتے ہیں، بات چیت ہوتی ہے اور ڈیل فائنل ہو جاتی ہے۔ نہ لمبا انتظار اور نہ ہی کسی پریشانی کا سامنا! ایونٹ کی تفصیلات اور رجسٹریشن کا طریقہ درج ذیل ہے: ایونٹ کی جھلکیاں * مقام: سینٹرل اسکوائر ڈی ایچ اے، ملتان * دن اور تاریخ: اتوار، 5 اپریل 2026 * وقت: صبح 10:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک گاڑی رجسٹر کرنے کا طریقہ اگر آپ کار میلے میں اپنی گاڑی لانا چاہتے ہیں، تو آپ کو پہلے سے رجسٹریشن کروانا ہوگی: 1. رجسٹریشن فارم پُر کریں۔ 2. پاک ویلز کے نمائندے کی کال کا انتظار کریں (اگر کال مس ہو جائے تو 042-111-943-357 پر رابطہ کریں)۔ 3. بینک الفلاح کے ذریعے رجسٹریشن فیس جمع کروائیں (ٹائٹل: PW A/C | آئی بی اے این: PK83ALFH0028001004507309)۔ 4. نمائندے کو ادائیگی کی تصدیق کریں۔ 5. واٹس ایپ یا ایس ایم ایس کے ذریعے اپنا منفرد رجسٹریشن کوڈ حاصل کریں۔ نوٹ: سلاٹس محدود ہیں، اس لیے جلد بکنگ کروانے کی سفارش کی جاتی ہے۔ ایونٹ کے دن کی جانے والی ادائیگیاں ناقابلِ واپسی ہو سکتی ہیں، اس لیے پہلے سے اپنی جگہ محفوظ بنائیں۔ رجسٹریشن فیس اور ڈسکاؤنٹ پری بکنگ جمعہ، 3 اپریل 2026، شام 6:00 بجے تک کھلی ہے۔ گاڑی کی کیٹیگری فیس (رعایت کے ساتھ) ڈسکاؤنٹ 1000cc تک 1,500 روپے 50% رعایت 1001cc سے 2000cc تک 2,000 روپے 40% رعایت 2000cc سے اوپر (SUVs, 4x4s، جرمن کاریں) 2,500 روپے 30% رعایت اہم بات: اگر ایونٹ کے دن کوئی سلاٹ بچی، تو رجسٹریشن فیس تمام گاڑیوں کے لیے یکساں 3,000 روپے ہوگی۔ فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

پاکستانیوں کے بیرون ملک

پاکستانیوں کے بیرون ملک موجود دولت کو واپس لانے پرغور کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق بین الاقوامی تناظر میں اعلیٰ سطح اجلاسوں میں پاکستانیوں کی بیرون ملک دولت واپس لانے پرغور کیا جارہا ہے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ اور یورپ میں پاکستانیوں کے تقریباً 20 ارب ڈالر (تقریباً 5.6 کھرب پاکستانی روپے) موجود ہیں، یہ رقم 2018 اور 2019 میں ایمنسٹی میں ظاہر کی گئی لیکن پاکستان منتقل نہ ہوئی۔ حکومتی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دونوں اسکیموں میں مجموعی طور پر 82889 گوشوارے جمع کرائے گئے تھے، مجموعی طور پر حکومت کو 194 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوا تھا، ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے پاکستانی اپنی دولت کسی محفوظ ملک منتقل کرنا چاہ رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت روشن ڈیجیٹل اسکیم میں اس رقم کو واپس لانے کیلئے غور کر رہی ہے، کسی بھی ملک کے شہری کو روشن ڈیجٹل اسکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دیے جانے پرغور بھی کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت اس اسکیم میں صرف بیرون ملک پاکستانی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں، حکومت غیرملکی کمپنیوں اورپاکستان میں مقیم شہریوں کو اسکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دے گی۔ اس کے علاوہ حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اوورسیز پاکستانیوں کو ٹیکس رعایت دینے پر بھی کام کر رہی ہے، اوورسیز پاکستانیوں سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں خریدی جانے والی جائیداد کی قیمت کے 10 فیصد پر ٹیکس وصول کیا جائے گا، یہ سہولت کالا دھن رکھنے والوں کو حاصل نہیں ہو گی، بلکہ یہ اسکیم آئندہ بجٹ یا اس سے پہلے نافذ کی جا سکتی ہے۔

عالمی تیل مارکیٹ میں

آبنائے ہرمز نے عالمی تیل مارکیٹ میں بھونچال پیدا کر دیا، قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ تاریخ کے سب سے بڑے تیل سپلائی بحران نے ایک ماہ کا سنگ میل عبور کر لیا ہے، جس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، ترقی کی پیش گوئیاں کم ہونا، اور ایشیا کے ممالک جیسے تھائی لینڈ سے پاکستان میں فیول کی قلت کے آثار سامنے آئے ہیں۔ بلوم برگ کے مطابق دنیا نے صورتحال کی سنگینی ابھی تک نہیں سمجھی۔ امریکی حکومتی عہدیداران اور وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار اب اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتیں غیر معمولی طور پر 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ کئی ماہرین نے 1970 کی دہائی کے تیل بحران کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ہرمز کی بندش ایک بڑے عالمی بحران کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔ ایشیا میں فیول کی قلت مغرب کی جانب پھیلنے کا خدشہ ہے، اور یورپ کو اگلے ہفتوں میں ڈیزل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی تیل کی سپلائی میں کمی تقریباً 11.1 ملین بیرل یومیہ ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں کے ذریعے 10.9 ملین بیرل یومیہ کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ عالمی تیل کی اوسط سپلائی جنوری اور فروری 2026 میں 106.9 ملین بیرل یومیہ تھی، لیکن بندش کے باعث 18.4 ملین بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوئی۔ سعودی عرب نے 7.3 ملین بیرل یومیہ تیل کی سپلائی متبادل راستوں سے فراہم کی، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے 2 ملین بیرل یومیہ کا ذخیرہ جاری کیا، اور دیگر اقدامات کے ذریعے 3.7 ملین بیرل یومیہ کا فرق پورا کیا گیا۔ ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پاتریک پویان نے کہااگر یہ بحران تین یا چار ماہ سے زیادہ جاری رہا تو یہ دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 20فیصد عالمی خام تیل اور ایل این جی کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے سے سنگین نتائج ہوں گے۔ آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والا روزانہ 11 ملین بیرل کا سپلائی خلا برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کی مشترکہ تیل کی کھپت سے بھی زیادہ ہے۔ کم ہوتی طلب، خاص طور پر ایشیا میں، اس خلا کو جزوی طور پر پورا کر رہی ہے۔ امریکی اور دیگر ممالک نے ریکارڈ اسٹاک آئل ریلیز کا اعلان کیا ہے تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے، جبکہ ایران نے چند غیر ملکی جہازوں کو آبنائے ہرمز گزرنے کی اجازت دی ہے، لیکن یہ اقدامات محدود اثر رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تیل کو پائپ لائن کے ذریعے متبادل راستوں سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی عرب نے 60فی تیل خلیج سے یانبُو ایکسپورٹ ٹرمینلز تک منتقل کیا ہے۔موجودہ سطح پر تیل کی قیمتیں تقریباً 112 ڈالرزفی بیرل ہیں، جو جنگ کے آغاز سے 55فی صد زیادہ ہے، مگر 2008 کے ریکارڈ 147.50 کے مقابلے میں کم ہے۔ یورپی قدرتی گیس کی قیمتیں 70فیصدبڑھ گئی ہیں، مگر 2022 کے بحران کی سطح تک نہیں پہنچیں۔ ایشیا میں طلب تقریباً 2 ملین بیرل فی دن کم ہو گئی ہے، خاص طور پر پیٹرو کیمیکل سیکٹر میں، جبکہ پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی کمی بھی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں کرکٹ شائقین کو گھر سے میچ دیکھنے کی ہدایت دی گئی تاکہ ایندھن کی بچت ہو۔یورپ میں اگلے ہفتوں میں ڈیزل کی قلت کا خدشہ ہے۔

تیل سپلائی پر تشویش کی

اسلام آباد: مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں۔ جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتےہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ ملک میں پہلے پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ 24 دن کا تھا جو اب بڑھ کر 4ہفتوں کا ہوگیا ہے۔ خرم شہزاد نے بتایا کہ مارچ اور اپریل کے لیے تیل کے ذخائر کافی ہیں اور سپلائی کے حوالے سے کسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں جب کہ ذخائر میں مزید بہتری آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کرکے سوا ارب روپے کی سپورٹ فراہم کی گئی ہے، حکومت کفایت شعاری کی مثال قائم کررہی ہے، عوام بھی قومی مفاد میں ساتھ دیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔ آئی ایم ایف کے مطابق منظوری کے بعدپاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی یعنی پاکستان کو مجموعی طور پر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ملیں گے، پاکستان کو رقم آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری ہوگی اور نئی قسط ملنے سے پاکستان کو ملنے والی رقم 4.5 ارب ڈالر ہو جائے گی۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں بہتری، منہگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے تاہم مشرق وسطیٰ کشیدگی سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں۔ اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان مالی خسارہ کم کرنے کا عزم رکھتی ہے اور اس حوالے سے ٹیکس نظام بہتر بنانے کیلئے اصلاحات جاری ہیں، غریب عوام کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی، منہگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے اسٹیٹ بینک منہگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا، ضرورت پڑنے پر شرح سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، معاشی استحکام بہتر ہوا ہے، تاہم توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ منہگائی بڑھا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد شروع ہونے سے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، پاکستان ڈیجیٹل انوائسنگ اور ٹیکس آڈٹ نظام مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، ٹیکس پالیسی آفس درمیانی مدت کی اصلاحاتی حکمت عملی تیار کر رہا ہے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی بہتر تقسیم پر کام جاری ہے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم پر کام جاری ہے۔ مالی سال 2026 میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف ہے، پاکستان کا مالی سال 2027 میں سرپلس 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے،پاکستان نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، غربت میں کمی اور سماجی تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جبکہ منہگائی سے متاثرہ طبقے کو ہدفی امداد دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بینکاری نظام کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے مستحکم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ پاکستان نے توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے روکنے کا عزم کیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری اہم ترجیح ہے، حکومت پاکستان نے مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے، پاکستان بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات تیز کیے جائیں گے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے گرین ٹرانسپورٹ اور کاربن اخراج میں کمی پر بھی زور دیا جا رہا ہے، پانی کے نظام کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کے لیے مالی نظام کی تیاری جاری ہے، پاکستان میں موسمیاتی اہداف کے مطابق توانائی اصلاحات جاری ہیں۔

پاکستان کی ایران کو چاول،

پاکستان نے ایران کو چاول، سمندری خوراک ، فارماسیوٹیکل مصنوعات سمیت متعدد اشیاء برآمد کرنےکی اجازت دے دی۔ پاکستان نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے اہم اقدام کرتے ہوئے ایران کے راستے برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دے دیا۔ اعلامیےکے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے برآمدات پر فنانشل انسٹرومنٹ سے عارضی استثنیٰ منظورکیا۔ زمینی راستے کے ذریعے ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کو برآمدات کی اجازت دے دی گئی۔ ایران کو چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور پھلوں سمیت متعدد اشیاء برآمدکی اجازت دی گئی ہے، فارماسیوٹیکل مصنوعات اور ٹینٹس کی برآمد بھی رعایت میں شامل ہیں۔ وزارت تجارت کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ضوابط سے جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے، برآمدی آمدن مقررہ مدت میں واپس لانے کی شرط برقرار ہے، اس اقدام سے خطے میں تجارتی روابط مضبوط ہوں گے۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال کے مطابق 3 ماہ کے لیے خصوصی رعایت دی گئی ہے، یہ 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذالعمل ہوگی۔ وفاقی وزیر تجارت کے مطابق ایران کے راستے تجارت سے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئےگی، برآمدات میں اضافہ کرکے ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے جائیں گے۔

ملک میں 28 روز کے دوران

ملک میں 28 دنوں کے دوران جیٹ فیول کی قیمت میں پانچویں باراضافہ ہوگیا۔ کمرشل طیاروں کےلیےجیٹ فیول کی قیمت میں 5 روپےمزید اضافہ کرد یا گیا ہے جس کے بعد جیٹ فیول کی نئی قیمت 476 روپے97پیسےکی نئی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی۔ یکم مارچ سےاب تک جیٹ فیول کی فی لیٹرقیمت میں 288 روپےکا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ یکم مارچ کو جیٹ فیول کی قیمت 188 روپے لیٹر تھی۔

ایران نے دو پاکستانی

ایران نے دو پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی خصوصی اجازت دے دی۔ شپنگ ذرائع کے مطابق پی این ایس سی جہاز ملتان اور چارٹرجہاز پی الیکی آبنائے ہرمز سے باہر نکل آئے۔ شپنگ ذرائع نے بتایاکہ چارٹر جہاز پی الیکی میں ساڑھے 8 کروڑ لیٹر خام تیل لدا ہے اور دونوں جہاز 31 مارچ کو پاکستان پہنچیں گے۔ دونوں جہاز جنگ شروع ہونے کے بعد ایک ماہ سے خلیج فارس سے پھنسے تھے، دونوں جہازوں نے کل خلیجی ممالک کے قریب سے ہرمز کا سفر شروع کیا تھا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہاز گزر کر آئے ہیں اور ایران نے خصوصی اجازت دی تھی

ایران جنگ کے بھارتی معیشت

نئی دہلی: خلیج میں جنگی صورتحال کے بھارتی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی بانڈز اور اسٹاک مارکیٹ سے ریکارڈ رفتار سے سرمایہ نکال رہے ہیں۔ خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک سرمایہ کار بھارت سے مجموعی طور پر 12.14 ارب ڈالر کا سرمایہ واپس نکال چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بھارت میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے۔

موبائل ایپ کے ذریعے

موبائل ایپ کے ذریعے سستا تیل فراہم کرنے کا معاملے پرنیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) بورڈ نے24 ہزارموبائل فون کی خریداری کیلئے اظہار دلچسپی طلب کرلیے۔ وزارت آئی ٹی کے مطابق این آئی ٹی بی موبائل فون کی خریداری کی قیمت طے کرے گا۔ وزیر آئی ٹی کا شزا فاطمہ کا کہنا تھاکہ 24 ہزارموبائل فونز کیلئے رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیاں دیں گی، موبائل فونزکی خریداری کیلیے قومی خزانے سے رقم استعمال نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایاکہ ڈیجیٹل پیمنٹس کے فروغ اورڈیٹا انٹری کیلئے اوگرا ڈیش بورڈ کو فعال کرےگا، طویل مدتی اصلاحات سے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر ہوگی، اوگرا ڈیش بورڈ توانائی شعبے میں ڈیٹا بیسڈ فیصلوں میں مددگارثابت ہوگا اور اس کے ذریعے پیٹرولیم سپلائی چین کی بہترنگرانی ممکن ہوگی۔ ذرائع کے مطابق موبائل ایپ کے ذریعے موٹرسائیکل اور رکشا کو سستا تیل دینے کی تجویز ہے، ایک ایپ صارف کے پاس دوسری متعلقہ آئل کمپنی کے پاس ہوگی، صارف کو رجسٹریشن نمبراورشناختی کارڈ کی مدد سے کوٹے کےمطابق تیل فراہم کرنے کی تجویزہے۔

مٹی کا تیل 4 روپے

عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پاکستان میں آج سے مٹی کا تیل 4 روپے 66 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت 433 روپے 40 پیسےفی لیٹر ہوگئی۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا اطلاق آج سے ہوگا۔ دوسری جانب پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 321روپے 17 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 335روپے 86 پیسے برقرار رکھی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پیٹرول پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 95 روپے 59 پیسےفی لیٹر پی ڈی سی کی مد میں اداکرے گی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت ڈیزل پرآئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 203 روپے 88 پیسےفی لیٹر پی ڈی سی کی مد میں اداکرے گی۔

حکومت نے ٹرانس شپمنٹ کے

کراچی: ٹرانس شپمنٹ کے فروغ کے لیے حکومت نے بندرگاہوں کی مجموعی گنجائش میں اضافہ کردیا۔ ذرائع کے مطابق ٹرانس شپمنٹ کے فروغ کے لیے حکومت نے بندرگاہوں کی مجموعی گنجائش میں اضافہ کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کو 20،000 ،پورٹ قاسم اتھارٹی کو12,500 ٹی ای یوزکے ساتھ فعال کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گوادر پورٹ اتھارٹی کو 5،000 ٹی ای یوزکی صلاحیت کے ساتھ فعال بنایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی پورٹ پر 8000 کنٹینرز وصول اور 3500 روانہ اور4500 کنٹینرز بیلنس میں ہیں جبکہ پورٹ قاسم پر 3،485 کنٹینرز موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسکیننگ چارجز میں 50 فیصد کمی کی گئی جس کے بعد ٹرمینل آپریٹرز نے بھی فوری طور پر 25 فیصد کمی کردی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرانس شپمنٹ کارگو لانے والے جہازوں کے لیے بندرگاہ کی فیس 60 فیصد تک کم کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے سمندر سے فضاء ٹرانس شپمنٹ کی اجازت بھی دے دی۔

حکومت کا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ

اسلام آ باد: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت پاکستان نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نئے دائرہ کار میں غیر ملکی شہریوں، کمپنیوں اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو روشن ڈیجیٹل اور حکومتی سکیورٹیز سمیت نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی۔ وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور ملک کے معاشی مستقبل کا حصہ بنیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔ آئی ایم ایف کے مطابق منظوری کے بعدپاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی یعنی پاکستان کو مجموعی طور پر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ملیں گے، پاکستان کو رقم آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری ہوگی اور نئی قسط ملنے سے پاکستان کو ملنے والی رقم 4.5 ارب ڈالر ہو جائے گی۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں بہتری، منہگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے تاہم مشرق وسطیٰ کشیدگی سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں۔ اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان مالی خسارہ کم کرنے کا عزم رکھتی ہے اور اس حوالے سے ٹیکس نظام بہتر بنانے کیلئے اصلاحات جاری ہیں، غریب عوام کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی، منہگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے اسٹیٹ بینک منہگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا، ضرورت پڑنے پر شرح سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، معاشی استحکام بہتر ہوا ہے، تاہم توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ منہگائی بڑھا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد شروع ہونے سے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، پاکستان ڈیجیٹل انوائسنگ اور ٹیکس آڈٹ نظام مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، ٹیکس پالیسی آفس درمیانی مدت کی اصلاحاتی حکمت عملی تیار کر رہا ہے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی بہتر تقسیم پر کام جاری ہے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم پر کام جاری ہے۔ مالی سال 2026 میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف ہے، پاکستان کا مالی سال 2027 میں سرپلس 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے،پاکستان نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، غربت میں کمی اور سماجی تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جبکہ منہگائی سے متاثرہ طبقے کو ہدفی امداد دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بینکاری نظام کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے مستحکم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ پاکستان نے توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے روکنے کا عزم کیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری اہم ترجیح ہے، حکومت پاکستان نے مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے، پاکستان بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات تیز کیے جائیں گے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے گرین ٹرانسپورٹ اور کاربن اخراج میں کمی پر بھی زور دیا جا رہا ہے، پانی کے نظام کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کے لیے مالی نظام کی تیاری جاری ہے، پاکستان میں موسمیاتی اہداف کے مطابق توانائی اصلاحات جاری ہیں۔

سستا پیٹرول کیسے ملے گا؟

حکومت نے توانائی بحران کے پیش نظر کم آمدن افراد کو سستا پیٹرول فراہم کرنے کیلئے ایک نیا طریقہ کار تیار کر لیا ہے، جس کے تحت موبائل ایپ کے ذریعے سبسڈی دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزارت آئی ٹی کی تیار کردہ موبائل ایپ اس وقت ٹیسٹنگ مرحلے میں ہے اور جلد ملک بھر میں متعارف کرائی جائے گی۔ اس اسکیم کا بنیادی ہدف موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان ہوں گے، جن کیلئے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول سبسڈی دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر کے تقریباً 12 ہزار پیٹرول پمپس پر سبسڈی والا پیٹرول فراہم کرنے کیلئے مخصوص نوزلز مختص کیے جائیں گے، جبکہ ہر پمپ پر دو موبائل فونز کے ذریعے ڈیجیٹل سسٹم چلایا جائے گا۔ صارفین کو موبائل ایپ کے ذریعے واؤچرز جاری کیے جائیں گے، جنہیں مخصوص پیٹرول پمپس پر دکھا کر سبسڈی والا پیٹرول حاصل کیا جا سکے گا۔ ہر صارف کا کوٹہ اس کے شناختی کارڈ اور گاڑی کے رجسٹریشن نمبر سے منسلک ہوگا تاکہ شفافیت برقرار رہے اور غلط استعمال روکا جا سکے۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سبسڈی سے باہر صارفین کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بوجھ برداشت کرنا ہوگا، جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کو شامل کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ نظام کو مؤثر بنانے کیلئے 24 گھنٹے مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے گا، جبکہ ہنگامی حالات میں سپلائی برقرار رکھنے کیلئے بیک اپ میکانزم بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ پیٹرول پمپس پر تربیتی ویڈیوز کے ذریعے صارفین اور عملے کو ایپ کے استعمال سے آگاہ کیا جائے گا۔

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر می

ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں بڑا اضافہ ہوگیا، اسٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردئیے۔ مرکزی بینک کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2کروڑ20 لاکھ ڈالرز اضافہ سے 16ارب37کروڑڈالر ہوگئے ہیں۔ اسی طرح کمرشل بینکوں کےذخائر ایک کروڑ ڈالر اضافے سے 5ارب36کروڑ ڈالرز تک پہنچ گئے ہیں۔ ملکی مجموعی ذخائر 3کروڑ20 لاکھ ڈالرز بڑھ کر 21ارب73کروڑ ڈالرز تک جا پہنچے ہیں۔

سندھ کے ضلع خیر پور

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع خیرپور سے نئی گیس دریافت کا اعلان کیا ہے ۔ ترجمان او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ گیس دریافت سہتو ون ایکسپلوریٹری کنویں سے ہوئی ہے۔ کمپنی کے مطابق کنویں سے یومیہ 1 کروڑ 72 لاکھ مکعب فٹ گیس حاصل ہو گی، گیس دریافت توانائی کے بحران اور درآمدی ایندھن پر انحصار پر کمی میں مددگار ہو گی۔ ماہرِ توانائی و معیشت محمد عارف کے مطابق او جی ڈی سی ایل کی حالیہ کارکردگی آئل اینڈ گیس کی دریافتوں کے حوالے سے بہترین ہے ۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں ردو بدل جاری ہے۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل 106ڈالر فی بیرل پر دستیاب ہے جب کہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت میں بھی معمولی کمی آئی ہے اور 93 ڈالر فی بیرل میں سودے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یو اے ای مربن خام تیل 6 فیصد اضافے سے 112 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے۔ گولڈمن ساکس کا کہنا ہے کہ بلند تیل قیمتوں سے امریکا میں ماہانہ 10 ہزار افراد بے روزگار ہوں گے۔

سونے کی قیمت میں بڑی کمی

عالمی و علاقائی سطح پر سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ صرافہ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق علاقائی سطح پرسونافی تولہ11ہزار روپے سستا ہو گیا۔سونے کی فی تولہ قیمت 4لاکھ 68ہزار262 روپے ہوگئی۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں فی اونس سونا110ڈالر کم ہو کر 4ہزار455ڈالر کا ہو گیا۔ ادھرچاندی کی قیمت 340روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،چاندی کی قیمت فی تولہ کم ہوکر7484روپے ہوگئی۔

چین کی بڑی شپنگ کمپنی

چین کی بڑی شپنگ کمپنی نے تین ہفتوں کی بندش کے بعد کچھ خلیجی ممالک سے شپمنٹس کی نئی بکنگ دوبارہ شروع کر دی۔ کمپنی کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور عراق کے لیے جنرل کارگو کنٹینروں کی نئی بکنگ فوری شروع کر دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث نئی بکنگ کے انتظامات اور سامان میں بوقت ضرورت تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ خیال رہے کہ چینی شپنگ کمپنی نے جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک سے شپمنٹس کی بکنگ روک دی تھی۔ ماہرین کے مطابق چینی شپنگ کمپنی کا مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تجارتی عمل کا دوبارہ شروع کرنا خطے کی صورتحال میں بہتری کا اشارہ ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بڑی ایکسچینج

کراچی: اسٹیٹ بینک پاکستان نے سخت کارروائی کرتے ہوئے بڑی ایکسچینج کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا۔ اعلامیہ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ایکسچینج کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا۔ مرکزی بینک نے ڈریم ایکسچینج کمپنی کا اجازت نامہ فوری طور پر ختم کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد مذکورہ کمپنی، اس کا مرکزی دفتر اور تمام برانچز اب کسی بھی قسم کی زرمبادلہ سے متعلق کاروباری سرگرمیاں انجام نہیں دے سکیں گی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق مانیٹرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں۔ اور خام تیل و ریفائنڈ مصنوعات کی سپلائی چین مستحکم ہے۔ وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ مارچ اور اپریل کے لیے پیٹرول لے کر آنے والے جہازوں کی آمد کا شیڈول بھی طے کر لیا گیا ہے۔ جس سے آئندہ ہفتوں میں رسد کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی ریفائنریوں کو پوری استعداد کے مطابق کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور بدلتے جغرافیائی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ بین الاقوامی اور مقامی قیمتوں کے فرق کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے بڑی ایکسچینج کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا، دفاتر بند انہوں نے زور دیا کہ ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اور اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایران جنگ کے اثرات:

ایران جنگ کے نتیجے میں جنوبی کوریائی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 17 سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایران جنگ کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر نظر آرہے ہیں۔ مارکیٹ میں بے یقینی کی وجہ سے جنوبی کوریائی وون کی قدر تیزی سےگری، جس کے بعد جنوبی کوریا میں ایک ڈالر 1510 وون کا ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں جنوبی کوریائی کرنسی 2009 کے بعد کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے سے امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ برینٹ خام تیل کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب ویراعظم شہباز شریف نے لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کردی۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق نچلے اور درمیانے طبقے کے زیر استعمال عام گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں، صرف لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول کی قیمت بڑھائی گئی ہے۔

ایران کے حملوں نے ایل این جی

قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) سعد الکعبی نے کہا ہےکہ ایران کے حملوں نے قطر کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداواری صلاحیت کو 5 سال کے لیے17 فیصد تک ختم کردیا ہے۔ غیر ملکی ایجنسی سے گفتگو میں سعد الکعبی نےکہا کہ ایرانی حملوں سے وہ تنصیبات متاثر ہوئیں جہاں سے 17 فیصد برآمدی ایل این جی تیار ہوتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ تنصیبات کی مرمت میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں، مرمت کے اس کام پر 26 ارب ڈالرز لاگت آئے گی اور قطر کو ممکنہ طور پر پانچ سال کے لیے اٹلی، بیلجیئم، جنوبی کوریا اور چین کے لیے ایل این جی سپلائی کے معاہدوں کو معطل کرنا پڑسکتا ہے، معاہدے معطل کرنے کی یہ شق پہلے سے معاہدےکا حصہ ہوتی ہے۔ سعد الکعبی کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قطر بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک بڑا بحران ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل این جی برآمدات میں کمی سے قطر کو سالانہ ریونیو میں 20 بلین ڈالر کمی کا خدشہ ہے، تین سے پانچ سال تک مرمت کے دوران 12.8 ٹن ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوگی۔ خیال رہے کہ قطر دنیا کو سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک ہے۔ مشرق وسطیٰ میں آئل اور گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد دنیا بھر میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یورپ اور برطانیہ میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مغربی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں گیس کی قیمتوں میں 35 فیصد تک اضافہ دیکھا جارہاہے، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے یورپ میں گیس کی قیمت تقریباً ڈبل ہوچکی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں آئل وگیس

مشرق وسطیٰ میں آئل اور گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد دنیا بھر میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک جاکر نیچے آئی اور 106 ڈالر فی بیرل پر تیل کی فروخت ہوتی نظر آئی۔ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 93 ڈالر سے زائد ہوگئی، اس کے علاوہ یورپ اور برطانیہ میں گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔ مغربی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں گیس کی قیمتوں میں 35 فیصد تک اضافہ دیکھا جارہا ہے ، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے یورپ میں گیس کی قیمت تقریباً ڈبل ہو چکی ہے ۔ دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران نےاپنی غیر فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے جواب میں طاقت کا چھوٹا سا مظاہرہ کیا، تحمل کا مظاہرہ کشیدگی میں کمی کی درخواستوں پر کیا گیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تحمل کا مظاہرہ نہیں کریں گے، جنگ کا خاتمہ کسی بھی انداز سے ہو، شہری علاقوں میں ہوئے نقصانات کا ازالہ لازمی شرط ہوگی۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی

مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کاروباری ہفتے کے چوتھے روز کاروبار کے آغاز پر شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس میں 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے باعث ایک لاکھ 51 ہزار 51 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس 4 ہزار 276 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 54 ہزار 292 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کوسپی انڈیکس میں تقریباً 3 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 225 بھی 3 فیصد مندی کا شکار ہے۔ اسی طرح تائیوان کی سٹاک مارکیٹ میں بھی گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ چین کے شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں تقریباً ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم ہانگ کانگ کے ہانگ سینگ انڈیکس میں بھی دو فیصد کے قریب مندی دیکھنے میں آئی ہے۔

توانائی تنصیبات پر حملے

اسرائیل کی جانب سے ایران کی گیس فیلڈ پر حملے اور اس کے جواب میں ایران کی قطر کی آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت 7 فیصد اضافے کے بعد 111 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں 3.1 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد امریکی خام تیل کی نئی قیمت 99.3 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

معاشی محاذ پر کیا پیش رفت ہوئی؟

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے پاکستان کی معیشت سے متعلق حالیہ مثبت اشاریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں میکرو اکنامک سطح پر بہتری کے واضح آثار سامنے آ رہے ہیں۔ ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ فروری 2026 میں پاکستان نے 447 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو حالیہ عرصے کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں ماہانہ بنیاد پر 24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ترسیلات زر میں 5 فیصد ماہانہ اور مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں 11 فیصد سالانہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی برآمدات فروری میں 365 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 19 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں، جبکہ مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں یہ برآمدات تقریباً 3 ارب ڈالر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جس سے درآمدات کے لیے کوریج میں بھی بہتری آئی ہے۔ صنعتی شعبے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں جنوری کے دوران تقریباً 12 فیصد ماہانہ اور 11 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 7 ماہ میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نرمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ ملک نے مارچ اور اپریل کے بیشتر حصے کے لیے توانائی کی فراہمی بھی یقینی بنا لی ہے۔ خرم شہزاد کے مطابق بیرونی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود مضبوط ہوتے معاشی بنیادی اشاریے مستقبل کے لیے بہتر بنیاد فراہم کر رہے ہیں اور ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

پاکستان نے توانائی کی فراہمی

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نرمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ ملک نے مارچ اور اپریل کے بیشتر حصے کے لیے توانائی کی فراہمی بھی یقینی بنا لی ہے۔ ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں پاکستان کی معیشت سے متعلق حالیہ مثبت اشاریوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں میکرو اکنامک سطح پر بہتری کے واضح آثار سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فروری 2026 میں پاکستان نے 447 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو حالیہ عرصے کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں ماہانہ بنیاد پر 24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ترسیلات زر میں 5 فیصد ماہانہ اور مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں 11 فیصد سالانہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلات جاری کر دیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں بیرونی سرمائے کا حجم 18.67 کروڑ ڈالر رہا، ملکی نجی شعبے میں فروری میں 13.55 کروڑ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ ملکی سرکاری شعبے میں فروری میں 5.1 کروڑ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں 70.41 کروڑ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ مالی سال 2025 کے ابتدائی 8 ماہ میں1.58 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری 44 فیصد کم رہی۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے یہ بھی بتایا کہ جنوری 2026 کے مقابلے میں فروری 2026 میں ملکی برآمدات میں 9.6 فیصد کمی ہوئی، مالی سال 2026 کے 8 ماہ کی برآمدات 5.4 فیصد کم ہو کر 20.74 ارب ڈالر رہ گئی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری کے مقابلے میں فروری میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 7 فیصد کمی آئی، 8 ماہ کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات 2.7 فیصد اضافے سے 11.91 ارب ڈالر رہیں۔ مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں فوڈ گروپ کی برآمدات میں 32.5 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی، 8 ماہ کے دوران چاول کی مجموعی برآمدات میں تقریباً 39.3 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ جنوری کے مقابلے فروری میں امریکا کو برآمدات میں 9 فیصد اورچین کو 14.2 فیصد کمی ہوئی۔ مزیدبراں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں چین کو ہونے والی برآمدات میں 23 فیصد کمی آئی، جولائی سے فروری کے دوران امریکا کو برآمدات میں 3.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سولر پاور کے بڑھتے رجحان نے

سولر پاور کے بڑھتے رجحان نے پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات سے محفوظ کردیا۔ غیر ملکی جریدے بلوم برگ کے مطابق انرجی امپورٹ پر انحصار کرنے والا ملک پاکستان انرجی شاکس کا عادی ہے لیکن تکنیکی ماہرین کے مطابق رواں سال پاکستان مہنگا تیل اور مہنگی گیس خریدنے کے بجائے سولر انرجی کے باعث 6 اعشاریہ 3 ارب ڈالرز کی بچت کرے گا ۔ جنگ کے بعد پاکستانی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 55 روپے فی لٹر بڑھا چکی ہے ۔ بلوم برگ کے مطابق اگر سولر پاور نہ ہوتی تو پیٹرول اور ڈیزل کہیں زیادہ مہنگے ہونے تھے ۔

عید سے قبل گھی اور کوکنگ

لاہور، عید سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گھی اور کوکنگ آئل بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔ شہر کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے ، درجہ دوم گھی اور کوکنگ آئل کی فی کلو قیمت میں 20 روپے کا اضافہ ہوگیاہے۔ اس اضافے کے بعد درجہ دوم گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت 545 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے ، قیمتوں میں اضافے سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کے

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے بعد ایل پی جی کی قیمت بھی بڑھ گئی۔ سرکاری ریٹ کے برعکس ایل پی جی کی مہنگے داموں فروخت جاری ہے، کراچی کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی 350 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔ اس کے برعکس اوگراکاریٹ 219روپے68پیسےفی کلو مقرر کیا گیا ہے لیکن اسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ میں بھی ایل پی جی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، ایل پی جی فی کلو 70 روپے مہنگی ہوگئی ہے جس کے بعد فی کلو قیمت 260 سے بڑھ کر 330 روپے ہوگئی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مٹی کا تیل فی لیٹر 39

حکومت نے مٹی کا تیل 39 روپے 20 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا، مٹی کے تیل کی نئی قیمت 358 روپے ایک پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 105روپے 37 پیسے اور ڈیزل پر 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر لیوی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھ کر 23 ارب روپے کی سبسڈی ادا کرے گی، 23 ارب روپے کی سبسڈی 14مارچ سے 20 مارچ تک کیلئے ادا کی جائے گی، پٹرول پر فی لیٹر 49 روپے 63 پیسے جبکہ ڈیزل پر فی لیٹر 75 روپے 5 پیسے سبسڈی ادا کی جائے گی۔ وزارت توانائی کاکہنا ہےکہ یہ رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرنشیل کلیمز کی مد میں ادا کی جائےگی، 23 ارب روپے کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز اوگرا کی طرف سے ادا کیے جائیں گے۔ وزارت توانائی نے بتایا کہ کابینہ سے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ قائم کرنے کی منظوری حاصل کر لی، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 27 ارب 10 کروڑ روپے اس فنڈ میں منتقل کرنے کی منظوری دی، پرائس ڈیفرینشل کی ادائیگی کے طریقہ کار میں او ایم سیز سے موصول ہونے والے بلوں کی تصدیق اور آڈٹ کا عمل بھی شامل ہوگا۔

پاکستان ایشیائی ترقیاتی

اسلام آباد: وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے 50 کروڑ ڈالرکے مساوی نیا قرض لےگا۔ حکام وزارت خزانہ کے مطابق مجوزہ قرض کا بنیادی مقصد سرکاری پنشن نظام میں اصلاحات کرناہے، وفاقی حکومت کا سالانہ پنشن بل 1055 ارب روپے تک پہنچ گیا، نئےقرض کا مقصد سرکاری پنشن اخراجات پر قابو پانا ہے۔ وزارت خزانہ حکام کے مطابق منصوبےکا نام ٹرانسفارمنگ پبلک سیکٹر پنشن پروگرام رکھاگیا ہے، سرکاری اداروں کےلیےتربیت اورآگاہی پروگرام شروع کیاجائےگا۔ اس کے علاوہ پنشن نظام میں گورننس اور نگرانی کا نظام مضبوط بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ حکام کے مطابق نئی اصلاحات سے مستقبل کے مالی بوجھ میں کمی متوقع ہے، پنشن نظام کو زیادہ مستحکم اور شفاف بنایا جائے گا۔ حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پنشن کےلیے نیا اور پائیدار نظام متعارف کرانےکی تیاری ہے، طے شدہ کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم کی نگرانی بھی بہتربنائی جائےگی۔

آبنائے ہرمز کی بندش

کاروبارآبنائے ہرمز کی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہونے کا امکان آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہونے کا امکان فوٹو: فائل آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہونے کا امکان ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق آئل انڈسٹری نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏توانائی کا بحران مزید بگڑنے کا امکان ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ تیل کمپنیوں کے مطابق آبنائے ہرمزکی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہوسکتا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ہوگیا جس کے بعد فی بیرل قیمت 102 ڈالر ہوگئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی مدد کی اپیل پر دنیا خاموش ہے۔ جاپان نے بھی آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ ادھر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے کہا کہ چین متعلقہ فریقین سے رابطے موثر بنانے پر کام کر کے تعمیری کردار ادا کرے گا۔ فرانس خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔

امریکی خام تیل کی قیمت

امریکی خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ہوگیا۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد اضافے کے بعد 102 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے۔ تیل کمپنیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ توانائی کا بحران ممکنہ طور پر مزید بگڑ جائے گا۔ امریکی اخبار کے مطابق EXXON, CHEVRON اور CONOCOPHILLIPS کمپنیوں کے سربراہوں نے خبر دار کیا کہ آبنائے ہرمزکی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہوسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سہولت اکاؤنٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کی حد 10 لاکھ سےبڑھا کر 30 لاکھ روپے کردی گئی۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ کار اب ایک سے زائد بروکرز کے ساتھ سہولت اکاؤنٹس کھول سکیں گے، تاہم ایک بروکر کے ساتھ صرف ایک سہولت اکاؤنٹ کھولا جا سکتا ہے۔ ایس ای سی پی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سہولت اکاؤنٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کی حد 10 لاکھ سےبڑھا کر 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے، سہولت اکاؤنٹ شناختی کارڈ کے ذریعے آن لائن کھولا جاسکتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں انفرادی سرمایہ کاروں کی تعداد 5 لاکھ 42 ہزار جبکہ انویسٹر اکاؤنٹس اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی تعداد 1 لاکھ 44 ہزار ہے، نوجوان سہل اکاؤنٹ کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں، اور غیرمجاز غیرملکی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز کے بجائے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کریں۔

فجیرا سے پاک نیوی کے

کراچی: متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرا سے 2 جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل کے ساتھ کراچی پہنچ گئے۔ فجیرا سے پاک نیوی کے حفاظتی حصار میں پی این ایس سی جہازوں کی کراچی منتقلی ہوئی۔ پی این ایس سی حکام کا کہنا ہے کہ فجیرا سے 2 جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل کے ساتھ کراچی منتقل ہوگئے۔ فجیرا میں جہازوں پر حملوں کے بعد جہاز منتقلی کیلئے حفاظتی حصار ضروری تھا۔ وزیر میری ٹائم جنید انور کا کہنا ہے کہ جہازوں کی محفوظ منتقلی پر پاک نیوی کے شکر گزار ہیں۔ وزیر میری ٹائم نے کہا کہ وزارت خارجہ سے خلیج فارس میں پھنسنے 2 جہاز نکالنے کیلئے بھی ایران سے رابطے کی درخواست کی ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل

تیل کے محفوظ ذخائر جاری کرنے کے اعلان سے بھی قیمتیں نیچے نہ آسکيں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، برطانوی خام تیل کی قیمت 9.29 ڈالر اضافےکے بعد 101.3 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 9.02 ڈالر اضافے کے بعد 96.27 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی تیل کی منڈی میں بڑی سپلائی رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنےکا اعلان کیا تاہم اس اعلان کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پاکستان کو رواں سال کے

اسلام آباد: پاکستان نے رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران 5.17 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کی صورت میں ڈالرز کی آمد کو یقینی بنایا ہے, ملک نے گزشتہ مالی سال 2025 کی اسی مدت کے دوران 4.584 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے حاصل کیے تھے۔ اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق حکومت نے غیر ملکی قرضوں اور گرانٹس کے اعداد و شمار جاری کرنے میں تاخیر کو ترجیح دی، جس کی ممکنہ وجہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے جائزہ مذاکرات تھے۔ مذاکرات کے اختتام پر، اقتصادی امور ڈویژن نے سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026 کے جولائی تا جنوری کے عرصے میں غیر ملکی قرضوں کی فراہمی 5.17 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال 2025 کی اسی مدت میں یہ رقم 4.6 ارب ڈالر تھی۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران چین سے حاصل کردہ گارینٹڈ قرضہ 269.42 ملین ڈالر رہا۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران مجموعی دو طرفہ قرضوں کی فراہمی 931.88 ملین ڈالر رہی، جس میں سے سعودی عرب نے 708 ملین ڈالر فراہم کیے۔ سعودی عرب نے رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت کی مد میں 700 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں، جس کے تحت ہر ماہ 100 ملین ڈالر جاری کیے گئے۔ چین نے 72.28 ملین ڈالر، ڈنمارک نے 71.15 ملین ڈالر، فرانس نے 26.73 ملین ڈالر، جرمنی نے 5.45 ملین ڈالر، جاپان نے 15.53 ملین ڈالر، کوریا نے 9.49 ملین ڈالر، کویت نے 22.06 ملین ڈالر اور امریکہ نے محض 0.49 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کاروباری ہفتہ مشرق وسطی جنگ کے زیر اثر رہا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج 100انڈیکس کاروباری ہفتے کے دوران 3629 پوائنٹس کم ہو کر 153866 پر بند ہوا۔ کاروباری ہفتے میں 100 انڈیکس 14505 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا جبکہ 100 انڈیکس کی ہفتہ وار بلند ترین سطح 158624 رہی۔ اس کے علاوہ 100 انڈیکس کی ہفتہ وار کم ترین سطح 144119 رہی، بازار میں ایک ہفتے کے دوران 2.25 ارب شیئرز کے سودے 132 ارب روپے میں طے ہوئے جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 369 ارب روپے کم ہوکر 17329 ارب روپے ہوگئی۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے

آبنائے ہرمز کی بندش سے روسی تیل کی مانگ بڑھ گئی۔ امریکا اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش سے روسی تیل کی مانگ بڑھ گئی ہے اور روس دنیا کو یومیہ 15 کروڑ ڈالر کا تیل فروخت کر رہا ہے۔ امریکا نے جنگی صورت حال اور آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتوں پر پڑنے والا دباؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے روسی تیل کی فروخت پر عائد پابندی عارضی طور پر اٹھالی ہے۔ امریکی جریدے فنانشنل ٹائمز نے لکھا ہے کہ روس نے حالیہ دنوں میں جو تیل صرف چین اور بھارت کو بیچا ہے، اس پر صرف ٹیکس کی مد میں 2 ارب ڈالرز کمائے ہیں

فجیرا سے پاک نیوی کے حفاظتی

کراچی: متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرا سے 2 جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل کے ساتھ کراچی پہنچ گئے۔ فجیرا سے پاک نیوی کے حفاظتی حصار میں پی این ایس سی جہازوں کی کراچی منتقلی ہوئی۔ پی این ایس سی حکام کا کہنا ہے کہ فجیرا سے 2 جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل کے ساتھ کراچی منتقل ہوگئے۔ فجیرا میں جہازوں پر حملوں کے بعد جہاز منتقلی کیلئے حفاظتی حصار ضروری تھا۔ وزیر میری ٹائم جنید انور کا کہنا ہے کہ جہازوں کی محفوظ منتقلی پر پاک نیوی کے شکر گزار ہیں۔ وزیر میری ٹائم نے کہا کہ وزارت خارجہ سے خلیج فارس میں پھنسنے 2 جہاز نکالنے کیلئے بھی ایران سے رابطے کی درخواست کی ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل

تیل کے محفوظ ذخائر جاری کرنے کے اعلان سے بھی قیمتیں نیچے نہ آسکيں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، برطانوی خام تیل کی قیمت 9.29 ڈالر اضافےکے بعد 101.3 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 9.02 ڈالر اضافے کے بعد 96.27 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی تیل کی منڈی میں بڑی سپلائی رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنےکا اعلان کیا تاہم اس اعلان کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پاکستان کو رواں سال کے

اسلام آباد: پاکستان نے رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران 5.17 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کی صورت میں ڈالرز کی آمد کو یقینی بنایا ہے, ملک نے گزشتہ مالی سال 2025 کی اسی مدت کے دوران 4.584 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے حاصل کیے تھے۔ اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق حکومت نے غیر ملکی قرضوں اور گرانٹس کے اعداد و شمار جاری کرنے میں تاخیر کو ترجیح دی، جس کی ممکنہ وجہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے جائزہ مذاکرات تھے۔ مذاکرات کے اختتام پر، اقتصادی امور ڈویژن نے سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026 کے جولائی تا جنوری کے عرصے میں غیر ملکی قرضوں کی فراہمی 5.17 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال 2025 کی اسی مدت میں یہ رقم 4.6 ارب ڈالر تھی۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران چین سے حاصل کردہ گارینٹڈ قرضہ 269.42 ملین ڈالر رہا۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران مجموعی دو طرفہ قرضوں کی فراہمی 931.88 ملین ڈالر رہی، جس میں سے سعودی عرب نے 708 ملین ڈالر فراہم کیے۔ سعودی عرب نے رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت کی مد میں 700 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں، جس کے تحت ہر ماہ 100 ملین ڈالر جاری کیے گئے۔ چین نے 72.28 ملین ڈالر، ڈنمارک نے 71.15 ملین ڈالر، فرانس نے 26.73 ملین ڈالر، جرمنی نے 5.45 ملین ڈالر، جاپان نے 15.53 ملین ڈالر، کوریا نے 9.49 ملین ڈالر، کویت نے 22.06 ملین ڈالر اور امریکہ نے محض 0.49 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔

مہنگائی کا طوفان، دودھ، دہی،

ملتان: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اشیاء خورونوش اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملتان میں دودھ کی فی لیٹر قیمت میں 20 روپے اضافہ ہو گیا ہے جس کے بعد دودھ 220 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ دہی کی قیمت بھی بڑھ کر 250 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ تعمیراتی سامان بھی مہنگا ہو گیا ہے، سریا 30 روپے فی کلو مہنگا ہوا جبکہ بجری کی قیمت میں 10 روپے فی فٹ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹی آر کی قیمت میں 40 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے اور اس کی نئی قیمت 210 سے 250 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ گاڈر 50 روپے فی کلو مہنگا ہو کر 260 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، سرکاری نرخنامے کے مطابق انار 600 روپے، اسٹرابری 300 روپے اور امرود 135 روپے فی کلو مقرر ہیں تاہم مارکیٹ میں انار 700 روپے، اسٹرابری 600 روپے اور امرود 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سیب کی سرکاری قیمت 230 سے 392 روپے فی کلو اور کیلے 210 روپے درجن مقرر ہیں جبکہ مارکیٹ میں سیب 250 سے 450 روپے فی کلو اور کیلے 250 روپے فی درجن میں فروخت ہو رہے ہیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف

اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان موجودہ مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ معاشی اور مالیاتی فریم ورک پر اتفاق رائے قریب آ گیا ہے۔ فریم ورک کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف کم کر کے جون 2026 تک 134.5 کھرب روپے کر دیا جائے گا۔ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) پروگرام کے تحت اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کے لیے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں۔ ایف بی آر مالی سال 2025-26 کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ جی ڈی پی کے 11 فیصد کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہنے کا خدشہ ہے۔ موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 428 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کم رہی ہے۔

اوگرا نے ایل پی جی کی قیمتوں

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ( اوگرا) نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں کو مسترد کردیا۔ اعلامیہ کے مطابق اوگرا نے ایل پی جی کی قیمتوں کا کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتیں ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے لاگو ہوتی ہیں، ایل پی جی کی قیمتیں بڑھنے سے متعلق کوئی بھی دعویٰ یا افوا غلط ہے۔ اعلامیے میں کے مطابق اوگرا نے صارفین کو مقرر کردہ قیمتوں پر ایل پی جی خریدنے اور ایل پی جی کی زیادہ قیمت وصولی پر مقامی انتظامیہ سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ اعلامیہ کے مطابق اوگرا ایل پی جی کی قیمتوں میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہے۔

خام تیل کی ترسیل میں

خام تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ اب سے کچھ دیر پہلے برینٹ آئل کی قیمت 88 ڈالر سے 92 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل پر دیکھی گئی۔ دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا بعد میں ہنڈریڈ انڈیکس 318 پوائنٹس کمی کے بعد ایک لاکھ 55 ہزار 858 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس کے علاوہ جاپان کے نکئی اور کورین انڈیکس 1.51 فیصد بڑھے جبکہ بھارتی اسٹاک ایکسچینج میں کمی آئی ، یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی کمی کا رجحان رہا۔

پی آئی اےکی نجکاری،

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے اجلاس میں قومی ائیرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزرائے خزانہ، توانائی، وزیر مملکت خزانہ، مشیر نجکاری اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اعلامیےکے مطابق قومی ائیرلائن کی نجکاری عمل میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی کو اضافی کنسورشیم رکن بنانےکی منظوری دے دی گئی۔ اعلامیےکے مطابق فوجی فرٹیلائزرکمپنی قومی ائیرلائن ایکویٹی لمیٹڈ کے 33.99 فیصد عام حصص کی سبسکرپشن کرےگی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ عارف حبیب کارپوریشن کنسورشیم کی لیڈکمپنی برقرار رہےگی، کامیاب بولی دہندہ کی قائم کردہ خصوصی کمپنی کے ذریعے قومی ائیرلائن میں سرمایہ کاری کی جائےگی۔ اعلامیےکے مطابق نجکاری کمیٹی کا فیصلہ حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوایا جائےگا۔

تیل کی قیمتوں پرکنٹرول

ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے اسٹریٹجک ذخائر کی ریکارڈ مقدار جاری کرنے کا اعلان کر دیا۔ آئی ای اے نے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔آئی اے ای اے نے اپنے فیصلےکا اعلان فرانس کی سربراہی میںG7 رہنماؤں کے ورچوئل اجلاس میں کیا۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق ہنگامی ذخائرکو ہر رکن ملک کی قومی صورتحال کے مطابق مناسب مدت میں مارکیٹ میں فراہم کیا جائےگا۔ آئی ای اے کے اقدام کا مقصد خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانا ہے۔ آئی اے ای اے کے فیصلے کی 32 رکن ممالک نے متفقہ طور پر حمایت کی ہے۔ 1970 کی دہائی میں آئی ای اے کے قیام کے بعد ایسا اقدام چھٹی بار کیا گیا ہے، آخری بار ایسا 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ ایک روز قبل آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل تنصیبات پر حملوں کے اثر کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں 30 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا تھا تاہم جی 7 ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر کے استعمال کے اشاروں کے بعد قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوگئی تھی۔ تاہم اب ایک بار پھر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور اس وقت امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی فی بیرل قیمت 5.22 ڈالر فی بیرل اضافے کے بعد 87.81 ڈالر فی بیرل ہے جب کہ برطانوی خام تیل برینٹ کی فی بیرل قیمت 5.18 ڈالر فی بیرل اضافے کے بعد 92.35 ڈالر فی بیرل ہے۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات میں

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا آغاز منفی انداز میں ہوا اور 100 انڈیکس میں 1178 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی تاہم کچھ دیر بعد کاروبار مثبت پوزیشن میں چلا گیا اور 100 انڈیکس 1036 پوائنٹس اضافے سے 156894 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے تیسرے جائزہ مذاکرات کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں اصلاحات اور ماحولیات کے شعبےمیں پاکستان کی بہترین کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے۔

عراق میں آئل ٹینکروں پر حملے

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عراقی پانیوں میں دو آئل ٹینکروں پر حملوں کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹس کے مطابق عراقی سمندری حدود کے قریب دو بین الاقوامی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔ برطانوی خام تیل کی قیمت میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد برطانوی خام تیل کی قیمت 100.50 ڈالر فی ہوگئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 8.57 فیصد اضافے کے بعد 94.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ابتدائی ایشیائی تجارت میں امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 7.5 فیصد اضافے کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیج اور آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنےکا اعلان کیا تاہم اس اعلان کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات میں

آئی ایم ایف سے مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے اثرات پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا آغاز منفی انداز میں ہوا اور 100 انڈیکس میں 1178 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی تاہم کچھ دیر بعد کاروبار مثبت پوزیشن میں چلا گیا اور 100 انڈیکس 1036 پوائنٹس اضافے سے 156894 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے تیسرے جائزہ مذاکرات کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں اصلاحات اور ماحولیات کے شعبےمیں پاکستان کی بہترین کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے اثرات عالمی اسٹاک ایکسچینجز میں دیکھے جا رہے ہیں، آسٹریلیا اے ایس ایکس 1.56 فیصد کم ہوکر 8606 پر ہے جبکہ جاپان کا نکئی 1.6 فیصد کم ہوکر 54150 پر ہے۔ چین کا شنگھائی ایکسچینج بھی 0.64 فیصد کمی سے 4106 پر ہے جبکہ تھائی لینڈ کا ایس ای ٹی 0.25 فیصد کم ہوکر 1403 پر ہے۔ کورین کاسپی 1.14 فیصد کمی سے 5546 پرہے جبکہ بمبئی کا سینسیکس بھی 1.08 فیصد کم ہوکر 76045 پر ہے۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں 100 روپے

ایل پی جی کی قیمت میں 70 سے 100 روپے فی کلو تک اضافہ کردیا گیا۔ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے رہنما علی حیدر نے کہا ہے کہ ایل پی جی کی ریٹیل قیمت 250 روپے فی کلو سے بڑھ کر 320 تا 350 روپے کلو ہوگئی ہے۔ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے کہا ہےکہ ایران جنگ کے بعد سے ایل پی جی سپلائی کم اور قیمتوں میں اضافے کا رحجان ہے۔ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت روس یا عمان سے ایل پی جی کا بندوبست کرے۔

پاکستان کی سعودی عرب

اسلام آباد: آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ایندھن کی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ 23 مارچ کو عمان کی بندرگاہ پر 2 ملین بیرل خام تیل لے کر ایک بہت بڑا آئل ٹینکر (VLCC) روانہ کیا جائے، جہاں سے چار پاکستانی جہاز اس تیل کو حاصل کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک سعودی حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا یہ جہاز عمان کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا یا براہ راست پاکستانی سمندری حدود میں تیل فراہم کرے گا، جس کی وجہ سے ایندھن کی سپلائی چین میں غیر یقینی برقرار ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق پاک عرب ریفائنری لمیٹڈپارکو کے دو جہاز، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ کا ایک جہاز اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (PRL) کا ایک جہاز اس بڑے ٹینکر سے خام تیل حاصل کریں گے۔ اس دوران چھوٹے پیمانے پر کچھ کھیپیں پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہیں۔ PARCO کی جانب سے فجیرہ، دبئی سے آنے والی 67 ہزار میٹرک ٹن خام تیل کی کھیپ پیر کی رات پاکستان پہنچ گئی۔ اسی طرح پارکو کا پی این ایس سی جہاز منگل 9 مارچ کو ینبع بندرگاہ (بحر احمر) پہنچنے والا ہے، جہاں سے وہ تقریباً 70 ہزار بیرل تیل حاصل کر کے 19 تا 20 مارچ کے درمیان واپس آئے گا۔

جنگ جلد ختم ہونے کا امکان،

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہونے کے اعلان کے دنیا کی معیشت پر بھی مثبت اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ گزشتہ روز امریکی صدر نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ایران کے خلاف جنگ خاتمے کے قریب ہے، ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فوجی صلاحیت ختم کردی ہے اور جنگ بڑی حد تک مکمل ہو گئی ہے۔ امریکی صدر کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی اورتیل کی قیمتیں 8 فیصد تک گر گئیں، برطانوی خام تیل کی قیمت بھی 8 فیصد کم ہونے کے بعد 90 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ پاکستان سمیت دنیا کی مختلف اسٹاک مارکیٹس میں بھی مثبت تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز ہوا اور 100 انڈیکس 9728 پوائنٹس اضافے سے 156209 پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایس سی 30 انڈیکس 6.7 فیصد بڑھنے پر کاروبار 45 منٹ کے لیے معطل کر دیا گیا، جب کاروبار معطل کیا گیا تو 100 انڈیکس 9303 پوائنٹس اضافے سے 155783 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ ایشیائی مارکیٹس میں بھی کاروبار کے آغاز میں تیزی دیکھنے میں آئی اور ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں 1.2 فیصد جبکہ کوریا میں 6.2 فیصد تیزی دیکھنے میں آئی۔ جاپانی اسٹاک ایکسچینج میں بھی 3.2 فیصد اضافہ ہوا۔

ایران جنگ جلد ختم ہونے کے

امریکی صدر نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ایران کے خلاف جنگ خاتمے کے قریب ہے، ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فوجی صلاحیت ختم کردی ہے اور جنگ بڑی حد تک مکمل ہو گئی ہے۔ امریکی صدر کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی اورتیل کی قیمتیں 8 فیصد تک گر گئیں، برطانوی خام تیل کی قیمت بھی 8 فیصد کم ہونے کے بعد 90 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ پاکستان سمیت دنیا کی مختلف اسٹاک مارکیٹس میں بھی مثبت تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز ہوا اور 100 انڈیکس 9728 پوائنٹس اضافے سے 156209 پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔

پاکستان میں خطے میں پیٹرولیم

پاکستان میں خطے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔ ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 1.15 ڈالر فی لیٹر کے برابر ہے، بھارت میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 1.03 ڈالرکے برابر ہے۔ ذرائع وزارت پیٹرولیم نے بتایاکہ سری لنکا میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 94 سینٹ اور بنگلادیش میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 95 سینٹ ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا اور پیٹرول و ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 55 روپے کا اضافہ کیا۔ ملک میں پیٹرول 321 روپے 17پیسے اور ڈیزل 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہے۔

مشرقِ وسطیٰ جنگ کے اثرات

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ رپورٹ کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ گئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 23فیصد اضافےسے114.36ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل 27فیصد بڑھ کر 115.11 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی تو تیل 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔

عالمی تیل کی قیمتوں میں

اسلام آباد: عالمی تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے بعد پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چیز سیکیورٹیز کی اتوار کو جاری ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جاتی ہیں، تو آنے والے مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو براہ راست پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ چیز سکیورٹیز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہتی ہیں، تو اس سے پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی افراط زر میں 2.8 سے 3.7 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، برینٹ کروڈ کی قیمت جو 2026 کے آغاز میں تقریباً 68.70 ڈالر فی بیرل تھی، 8 مارچ تک بڑھ کر 92.69 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے، جو کہ تقریباً 35 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 94.51 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو بھی چھو گئی۔ دریں اثنا، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بڑھ کر 90.90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس نے فیوچر ٹریڈنگ کی تاریخ میں تقریباً 35.6 فیصد کا اپنا سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے پاکستان کو پہلے ہی مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس کا بوجھ مقامی صارفین (عوام) پر منتقل کر دے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ اور خوراک کی لاگت کے ذریعے مرتب ہوں گے۔ سی پی آئی کی ٹوکری میں ایندھن اور ٹرانسپورٹ کا وزن تقریباً 6 فیصد ہے، اور اگر ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے، تو یہ مہنگائی کی مجموعی شرح میں تقریباً 1.2 فیصد کا اضافہ کر سکتا ہے۔

ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں،

لاہور : ترجمان اوگرا نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی خبروں کو مسترد کردیا۔ جیونیوز سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے ترجمان اوگرا عمران غزنوی نے کہا کہ ملک میں اس وقت پیٹرول اور ڈیزل وافر مقدار میں موجود ہے اور کوئی قلت نہیں ہے، لوگ قیمت بڑھنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ تیل خریدنا چاہتے تھے۔ ترجمان اوگرا نے کہا کہ مارکیٹ میں اب افواہیں دم توڑ گئی ہیں اور افراتفری ختم ہو چکی، ملک بھر کے پیٹرول پمپس کی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئل کمپنیوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ، قلت ، ذخیرہ اندوزی یا زائد قیمت میں ملوث پیٹرول پمپس کی فوری اطلاع دیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں

پاکستان ریلویز نے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ ترجمان پاکستان ریلویز کے مطابق اکانومی کلاس کے کرایوں میں 5 فیصد ، اے سی کلاسز کے کرایوں میں 10 فیصد جبکہ مال گاڑیوں کے کرایوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ اضافے کا اطلاق 9 مارچ سے تمام مسافر ٹرینوں اور مال گاڑیوں کے کرایوں پر ہو گا۔ ترجمان ریلویز کے مطابق فیصلے کا اطلاق پہلے سے کی ہوئی بکنگ پر نہیں ہو گا ۔

حکومت نے کمرشل طیاروں

کراچی: حکومت نےکمرشل طیاروں میں استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا۔ حکومت کی جانب سے ائیر لائنز کے طیاروں کے لیے جیٹ فیول کی قیمت میں 154 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد جیٹ فیول کی قیمت 188.93 روپےسے بڑھ کر342.37 روپےکی ریکارڈ سطح پرپہنچ گئی ہے۔ جیٹ فیول کی قیمت میں 82 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور جیٹ فیول کی قیمت بڑھنے سے ائیرلائنزکےکرایوں میں5 ہزار روپے تک اضافےکاامکان ہے۔

سونے کی بڑھتی قیمت کو بریک

ایران جنگ کی وجہ سے سونے کی قیمت میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ چار روز کے دوران سونے کے فی تولہ نرخ میں 30 ہزار 1 سو روپے کی کمی ہو گئی ہے۔ آج سونے کے فی تولہ نرخ میں 3 ہزار 400 روپے کمی ہوئی جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ 33 ہزار 762 روپے ہوگئی ہے۔ 10 گرام سونا 2915 روپے سستا ہوا جس کے بعد نئے نرخ 4 لاکھ 57 ہزار 614 روپے ہو گئے ہیں۔

پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن

پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے پیٹرول بحران کی خبروں کو مسترد کردیا۔ پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ پیٹرول کی قلت کی اصل وجہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی محدود سپلائی ہے۔ پیٹرول بحران کی خبروں کومسترد کرتے ہیں۔ پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کوبروقت اور وافر سپلائی یقینی بنانےکی ہدایت کرے۔ ادھر پیٹرول قلت کی خبروں کے بعد ملک بھر کے مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس پر شہریوں کا رش لگ گیا۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے کہاکہ تمام پیٹرول پمپس پر بڑی مقدار میں پیٹرول اور ڈیزل دستیاب ہے، چند پمپس پر زیادہ رش ہونے سے پیٹرول کی قلت رپورٹ ہوئی ہے، ان تمام پمپس پر ری فیلنگ کا عمل بھی جاری ہے۔ انتظامیہ نے کہا کسی پمپ پر پیٹرول دینے سے انکار کیاجائےتو لازمی آگاہ کریں، شہری پیٹرول پمپس کےخلاف بذریعہ سوشل میڈیا پر بھی آگاہ کرسکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ:

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ رپورٹ کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد خام تیل کی قیمت 9 فیصد تک بڑھ گئی ۔ عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ امریکی خام تیل 88 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی دوران قطری وزیرِ توانائی نے خبر دار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک چند ہفتوں یا دنوں میں تیل کی پیداوار روک سکتے ہیں ۔ قطری وزیر توانائی نے بتایا کہ اگر جنگ فوری طور پر ختم ہو جاتی ہے تو بھی توانائی کی ترسیلات معمول پر آنے میں ہفتوں سے مہینوں لگ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں جاری بحران

روسی میڈیا نے ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیاکہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے دوران روسی تیل پاکستان کو سپلائی کیا جائے گا روسی میڈیا نےیہ بات گلوبل انرجی امور کے ماہر ڈاکٹر ممودہ سلامے کے حوالے سے کہی۔ رپورٹ کے مطابق 7 لاکھ 33 ہزار بیرل روسی خام تیل جلد پورٹ قاسم بندرگاہ پہنچے گا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان تیل کے لیے طویل عرصے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر انحصار کررہا ہے تاہم اس سے پہلے بھی روسی خام تیل خرید چکا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کے حوالے سے یہ بھی دعوی کیا گیاکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہر 10 فیصد اضافہ پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ خسارے میں ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر کا اضافہ کردیتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچیں توسالانہ خسارہ 5 سے 7 ارب ڈالر تک بڑھ جائےگا۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی:

حکومت نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات12 بجتے ہی ہو گیا ہے۔ پیٹرول پرڈویلپمنٹ لیوی 84 روپے 40 پیسے سے بڑھا کر 105 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پرپی ڈی ایل 76.21 روپے سے کم کر کے 55روپے فی لیٹرکر دی گئی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ خطے میں جنگ کی صورتحال ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں، وزیراعظم اس متعلق بہت فکر مند ہیں اور وزیراعظم نے آج خود میٹنگ کی ہےجس میں صورتحال کاجائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ کتنا اضافہ کرنا ہے، متوازن کرکے ہم نے کوئی راستہ نکالنا تھا، ہم نے دوسرے ملکوں کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے، پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ساتھیوں کو ساتھ ملا کر کشیدگی کم کرائی جائے، اس کشیدگی کو کم کرنے میں کتنی دیر لگے گی دیکھنا ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی دوسرے ممالک سے اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ پانچ روز گزر چکے ہیں روز جائزہ لیتے ہیں، قیمتوں میں ہر روز خطیر اضافہ ہورہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ آج رات سے ہوگا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ مجبوری میں کیا ہے: وزیر پیٹرولیم وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھاکہ کوئی شک نہیں کہ ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں، پڑوس میں شروع ہونے والی صورتحال نےپورےخطےکو لپیٹ میں لے لیا ہے، ہم نے صورتحال کے مطابق اپنے ذخائر کو بڑھا لیا تھا اور ہماری کوشش ہےکہ بطور ریاست اس کام کو حکمت کے تحت آگےلےکرچلیں۔ جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے اسی پھرتی کے ساتھ قیمتیں کم کریں گے: وزیر پیٹرولیم انہوں نے علان کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا مشکل فیصلہ کیا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ مجبوری میں کیا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا فیصلہ کیا گیا جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے اسی پھرتی کے ساتھ قیمتیں کم کریں گے اور ہم ہفتہ وار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیں گے۔

سونے کی بڑھتی قیمت

ایران جنگ کی وجہ سے سونے کی قیمت میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ چار روز کے دوران سونے کے فی تولہ نرخ میں 30 ہزار 1 سو روپے کی کمی ہو گئی ہے۔ آج سونے کے فی تولہ نرخ میں 3 ہزار 400 روپے کمی ہوئی جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ 33 ہزار 762 روپے ہوگئی ہے۔ 10 گرام سونا 2915 روپے سستا ہوا جس کے بعد نئے نرخ 4 لاکھ 57 ہزار 614 روپے ہو گئے ہیں۔

پاکستان میں معاشی

پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی کا سلسلہ جاری ہے اور ملک میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق فروری کے مہینے میں ملک میں 3444 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جس کے بعد پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 287049 ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 82 نئی کمپنیوں میں غیر ملکی شراکت داری ہوئی، چین سے تعلق رکھنے والے افراد نے 44 کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ امریکا، برطانیہ، جرمنی،کینیڈا اور دیگر ممالک کے افراد نے نئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔ ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مائننگ، ٹریڈنگ اور آئی ٹی سیکٹرز میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں، پنجاب میں 1696، اسلام آباد میں 656 اور سندھ میں 555 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ آئی ٹی اور ای کامرس کے شعبے میں 723 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جبکہ ٹریڈنگ میں 531، سروسز میں 434 اور رئیل اسٹیٹ میں 323 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اس کے علاوہ مائننگ، ٹیکسٹائل، تعلیم، صحت اور کھیلوں کے سامان،کیبلز اور الیکٹرک گڈز کی کمپنیاں بھی رجسٹرڈ ہوئیں۔

توانائی بحران کا خدشہ:

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آبنائے ہرمز کی بندش اور ممکنہ توانائی بحران کے تناظر میں درآمدی پٹرولیم مصنوعات اور آرایل این جی کی طلب کم کرنے کے لیے مرحلہ وارتوانائی کی بچت کے منصوبے اور قیمتوں کے نئے طریقہ کار کو حتمی شکل دیدی، اس منصوبے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ہفتے ردوبدل کیا جائے گا۔ سرکاری اجلاس ورچوئل طریقے سے منعقد کیے جائیں گے اور پہلے مرحلے میں کووڈ 19 وبا کے دوران اپنائے گئے طریقہ کار کی طرز پر تعطیلات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ حکومت نے اس حوالے سے پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے پر مشتمل حکمت عملی تیار کی ہے اور تقریباً تین سے چار درجن تجاویز مرتب کی گئی ہیں جو آج جمعہ کو وزیر اعظم شہباز شریف کے سامنے حتمی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی، منظور شدہ اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو دی نیوز کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں حکومت سرکاری شعبے میں ان اقدامات کو نافذ کرے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں نجی اسکولوں، جامعات اور اسپتالوں میں آن لائن اسائنمنٹس کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار اضافہ کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق خطے میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا۔

ملک میں پیٹرول اور ڈیزل

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہری افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ ترجمان اوگرا کے مطابق ملک میں اس وقت پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہری افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع کی جاری کردہ معلومات پر انحصار کریں۔ ترجمان نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کریں۔ ترجمان اوگرا کا کہنا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اپنے سابقہ پیٹرن کے مطابق جاری رکھیں۔

کراچی سمیت ملک بھر

کراچی سمیت ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مہنگی کر دی گئی۔ نیپرا نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ مد میں بجلی مہنگی ہونے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق فی یونٹ بجلی 1 روپے 63 پیسے مہنگی کی گئی ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق بجلی جنوری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی، اضافہ بجلی صارفین سے مارچ کے بلوں میں وصول ہوگا۔ نیپرا نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ اضافے کا لائف لائن صارفین الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر اطلاق نہیں ہو گا۔ نیپرا نے جنوری کی فیول پرائس پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر رکھا تھا۔

ایرانی حملوں کے بعد

ایران کے حملوں کے بعد دنیا کی بڑی شپنگ لاجسٹک کمپنی نے خلیجی ممالک کے لیے کارگو بکنگ بندکردی۔ کارگوبکنگ بند ہونے سے یو اے ای ، عمان، عراق، کویت، قطر اور بحرین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ شپنگ لاجسٹک کمپنی کے مطابق سعودی عرب کے بعض شہروں کے لیے بھی بکنگ معطل ہوگئی ہے۔ شپنگ لاجسٹک کمپنی کا کہنا ہےکہ یہ فیصلہ تاحکم ثانی نافذ العمل رہےگا جب کہ جدہ اورکنگ عبداللہ بندرگاہوں پرکام جاری رہےگا، عمان کی صلالہ بندرگاہ پر سروس معمول کے مطابق رہےگی، اردن اور لبنان کے لیے بھی سامان کی بکنگ جاری رہےگی۔ دوسری جانب پاکستان سے خلیجی ممالک تجارتی مال بھیجنے کے لیے بھاری وار رِسک سرچارج کا نفاذ کیا گیا ہے۔ شپنگ کمپنی ہیپگ لوائیڈ لائن نے فی کنٹینر 1500 سے 3500 ڈالر وار رِسک سرچارج لگادیا ہے۔ شپنگ کمپنی کے مطابق نئی بکنگ پر وار رِسک سرچرج دینا ہوگا۔ اس کے علاوہ سی ایم ای شپنگ لائن نے 4 ہزار ڈالر تک ایمرجنسی سرچارج نافذ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق خلیج فارس کے علاوہ بحیرہ احمر کنٹینر جانے پر بھی رقم دینا ہوگی۔

ایران جنگ: پاکستانی ٹیکسٹائل

سلام آباد: ایران کےخلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں جاری جغرافیائی بحران کے باعث توانائی سپلائی میں ممکنہ تعطل نے پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو شدید خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت نے خبردار کیا ہے کہ تیل اور ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدی مسابقت دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ (اپٹما) نے 4 مارچ 2026 کو وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کو ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ بحران کے دوہرے اثرات سامنے آرہے ہیں۔ خط کے مطابق ایک طرف توانائی درآمدات کی ڈالر لاگت تیزی سے بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب پیداواری لاگت میں اضافے سے برآمدی صنعتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد کے مطابق ’حتیٰ کہ اگر علاقائی کشیدگی کم بھی ہو جائے تو توانائی کی سپلائی چین اور قیمتوں میں کئی ماہ تک اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے‘۔

کوہاٹ میں تیل وگیس

آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی ( او جی ڈی سی ) نے کوہاٹ میں تیل وگیس کے ایک بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ اوجی ڈی سی ایل کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے جانے والے نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل وگیس کے شعبے میں نئے سال کا سب سے بڑا ذخیرہ دریافت ہوگیا ہے۔ او جی ڈی سی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ نئے سال کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔

پاکستان میں پیٹرول مہنگا

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے اور ممکنہ قلت کے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے سیکرٹری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ڈیولوشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران میں عدم استحکام سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایندھن مہنگا ہونے کا ا مکان ہے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان کے پاس کم از کم ایک ماہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن کے ذخائر موجود ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اسٹاک رپورٹس جمع کرائے تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے کہا کہ اس وقت پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر تقریباً 28 دن کی کھپت کے برابر ہیں۔ اور پٹرول مارکیٹنگ کمپنیاں بھی سپلائی چین کے تسلسل کا یقین دلا رہی ہیں۔ فی الحال ایندھن کی قلت کا کوئی براہ راست خطرہ نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کا بحران طویل ہوا تو عالمی سطح پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک تک پہنچیں گے۔

کراچی سمیت ملک بھر

کراچی سمیت ملک بھر کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کر دی گئی ہے۔ نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ہونے والی سماعت کا محفوظ فیصلہ جاری کر دیا جس کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 35 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔ نیپرا کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی۔ نیپرا کے فیصلے میں کہا گیا کہ اطلاق مارچ سے مئی 2026 کے 3 ماہ کے لیے ہوگا، اضافے کا بجلی صارفین پر 8 ارب 67 کروڑ 40 لاکھ روپے کا بوجھ پڑے گا۔ نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوا دیا۔ یاد رہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بھی بجلی مہنگی کی گئی تھی۔ جولائی تا ستمبر 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 33 پیسے مہنگی کی گئی تھی۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق دسمبر 2025 تا فروری 2026 تک کے لیے تھا۔

امریکا اسرائیل اور ایران

امریکا، اسرائیل اور ایران کے حملوں کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل تیسرے روز بھی مندی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ہنڈریڈ انڈیکس میں کاروبار کے آغاز پر دو ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی تاہم اب 100 انڈیکس 381 پوائنٹس اضافے سے 157514 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ کورین اسٹاک ایکسچینج میں 6 اور جاپان کی منڈیوں میں 3 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔ منگل کو امریکی مارکٹس میں بھی منفی رجحان رہا۔ ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں، برینٹ خام تیل 83 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا جبکہ سونے کی فی اونس قیمت 88 ڈالر اضافے سے5 ہزار 176 ڈالر ہو گئی۔ یورپ میں بھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی صورتحال کے

پاکستان میں امریکی سفارتخانے نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اہم اعلان کرتے ہوئے 6 مارچ تک تمام ویزا اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی ہیں۔ سفارتخانے کے مطابق یہ فیصلہ حفاظتی خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور اور کراچی میں واقع امریکی قونصل خانوں میں بھی ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔ امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ نئی تاریخوں کے بارے میں متعلقہ درخواست گزاروں کو آگاہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی اور لاہور میں قائم امریکی قونصل خانوں اور سفارتی دفاتر میں تمام اپائنٹمنٹس ایک دن کے لیے منسوخ کر دی گئی تھیں۔ سفارت خانے نے واضح کیا تھا کہ یہ فیصلہ انتظامی وجوہات کی بنا پر کیا گیا اور متاثرہ درخواست دہندگان کو نئی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز بحران،

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مال بردار جہازوں کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بھی بڑھ گئیں۔ برینٹ کروڈ 1.70 ڈالر اضافے کے بعد 79.44 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ سیشن کے دوران یہ 82.37 ڈالر کی سطح بھی چھو گیا جو جنوری 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.17 ڈالر اضافے کے ساتھ 72.40 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ ماہرین کے مطابق فوری کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع طویل ہوا تو قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب ایران خطے میں توانائی کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتا ہے۔ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب Strait of Hormuz کے بارے میں ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسے بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عالمی تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس کے باعث سپلائی میں تعطل کے خدشات شدید ہو گئے ہیں۔ کئی آئل ٹینکرز اور کنٹینر بردار جہازوں نے راستہ بدل لیا ہے جبکہ انشورنس کمپنیوں نے کوریج بھی منسوخ کر دی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کچھ وقت لے سکتی ہے مگر برسوں تک جاری نہیں رہے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک تنازع برقرار رہے گا، منڈیوں میں بے یقینی چھائی رہے گی۔ ادھر سعودی عرب نے ڈرون حملے کے بعد اپنی سب سے بڑی آئل ریفائنری عارضی طور پر بند کر دی، جس سے ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتیں بھی اوپر چلی گئیں۔ امریکی ڈیزل فیوچرز دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے جبکہ یورپی گیس آئل میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایک عالمی بروکریج ادارے نے 2026 کے لیے برینٹ خام تیل کی متوقع قیمت 65 ڈالر سے بڑھا کر 80 ڈالر فی بیرل کر دی ہے، جبکہ شدید اور طویل جنگ کی صورت میں قیمتیں 120 سے 150 ڈالر تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز بند ہونے سے خام تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں تیل کی سپلائی اور شپنگ روٹس کو درپیش خطرات نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے، امریکی خام تیل کی قیمت میں 10.98 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 74.38 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ برطانوی برینٹ خام تیل 11.81 فیصد اضافے کے بعد 81.89 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حمل متاثر ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی آسکتی ہے، جس کے اثرات مزید قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ ادھر محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے اثاثوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، عالمی سطح پر سونے کی قیمت 1.53 فیصد اضافے کے بعد 5,339 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ چاندی 0.79 فیصد اضافے کے ساتھ 94.43 ڈالر فی اونس میں فروخت ہوئی۔

ایران جنگ، پاکستان اسٹاک

ایران جنگ کی وجہ سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر بھی شدید منفی اثرات پڑے ہیں۔ کاروباری ہفتے کے پہلے دن 100 انڈیکس میں 15 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 100 انڈیکس 15ہزار 71 پوائنٹس تک گراوٹ کا شکار ہوگئی، انتظامیہ نے اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار عارضی طور پر ایک گھنٹہ کے لئے بند کر دیا۔ انڈیکس میں 8 اعشاریہ 97 فیصد کمی ہوئی، انڈیکس ایک لاکھ 52ہزار 991 پوائنٹس کی سطح تک ٹریڈ ہوتے دیکھا گیا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج تاریخ میں پہلی بار15ہزارسے زائد ایک دن میں گراوٹ کا شکار ہوئی۔ مارکیٹ میں شدید مندی کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور کاروبار کے دوران فروخت کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔ ٹریڈنگ سیشن کے دوران متعدد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے مجموعی مارکیٹ ویلیو میں بھی بھاری کمی ریکارڈ کی گئی۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ

مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر بھی شدید منفی اثرات نظر آ رہے ہیں اور پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں 15 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر مارکیٹ اوپن ہی مندی انداز میں ہوئی اور 100 انڈیکس میں 15344 پوائنٹس کی شدید مندی دیکھنے میں آئی۔ 100 انڈیکس 15344 پوائنٹس کی کمی کے بعد 152717 پر پہنچ گیا لیکن کچھ دیر بعد انڈیس 14733 پوائنٹس کم ہو کر 153329 پر دیکھا گیا۔ پی ایس ایکس 100 انڈیکس 8 اعشاریہ 97 فیصد گرنے پر سرکٹ بریکر کا اطلاق کر دیا گیا جس کے بعد کاروبار 45 منٹ بند رہے گا۔ کے ایس سی 30 انڈیکس بھی 9.42 فیصد گرنے پرکاروبار 45 منٹ کے لیے روک دیا گیا۔

سونے کی قیمتوں میں

ملک میں سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے اور آج بھی نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ بازار میں فی تولہ سونا 5 لاکھ 40 ہزار 562 روپے پر مستحکم رہا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 لاکھ 63 ہزار 444 روپے پر برقرار رہی۔ جیولرز کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ نہ ہونے کے باعث مقامی سطح پر بھی نرخ مستحکم رہے۔ دوسری جانب جمعہ کے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی دیکھی گئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 830 پوائنٹس کم ہو کر 168,062 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروبار کے دوران مارکیٹ میں کافی اتار چڑھاؤ رہا۔ صبح کے وقت انڈیکس ایک ہزار سے زیادہ پوائنٹس تک گر گیا تھا، بعد میں کچھ سنبھلا، لیکن آخر میں دوبارہ نیچے چلا گیا۔ آج 22 کروڑ سے زیادہ شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن کی مالیت تقریباً 18 ارب 97 کروڑ روپے رہی۔

یکم مارچ سے پیٹرول

یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونےکا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق یکم مارچ سے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول 4 روپے58 پیسےفی لیٹر مہنگا ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ ڈیزل 4 روپے73 پیسےفی لیٹر تک مہنگا ہونےکا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مٹی کا تیل6 روپے88 پیسےفی لیٹر مہنگا ہونےکا امکان ہے اور لائٹ ڈیزل آئل 5 روپےفی لیٹر مہنگا ہوسکتا ہے۔

یکم مارچ سے پیٹرول

یکم مارچ 2026 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، جس کی حتمی منظوری حکومت دے گی۔ بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق قیمتوں میں اضافہ 6 روپے 80 پیسے فی لیٹر تک ہو سکتا ہے۔ تجاویز کے مطابق موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 5 روپے 13 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے، جس کے بعد نئی قیمت 263 روپے 30 پیسے فی لیٹر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 282 روپے 50 پیسے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی نرخ بڑھنے کا امکان ہے۔ عرب لائٹ کروڈ کی قیمت میں 2.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ درآمدی اسپریڈز میں معمولی اضافے نے بھی مجموعی قیمتوں پر اثر ڈالا۔ گزشتہ پندرہ روزہ جائزے میں وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھا کر 275 روپے 70 پیسے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کی تھی۔

10 روپے کے نوٹ کی

اسلام آ باد: وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے جس سے قومی خزانے کو 40 سے 50ارب روپے کی ممکنہ بچت کا امکان ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزیرخزانہ کی سربراہی میں کمیٹی کوٹاسک دیاتھا اور سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی تھی کہ 10 روپےکابینک نوٹ ختم کیاجائے یا نہیں ؟ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے کرنسی مینجمنٹ رپورٹ کابینہ کو بھجوادی ہے۔ ذرائع کے مطابق 10روپے کا سکہ متعارف کروانے سے حکو مت کو 40 سے 50ارب روپے کی ممکنہ بچت ہوگی، اسٹیٹ بینک اور سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن قوانین کے تحت کرنسی مینجمنٹ رپورٹ تیار کی گئی ۔ آئی سی ایم اے رپورٹ کے مطابق 10 روپے کےنوٹ کی اوسط عمر صرف 6 سے 9 ماہ ہے جبکہ 10 روپے کے سکے کی اوسط عمر 20 سے 30 سال ہے، ملک میں ہرسال چھپنے والے مجموعی نوٹوں کا تقریباً 35 فیصد حصہ 10 روپے کے نوٹ پرمشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے سے 10سال میں کم از کم 40 سے 50 ارب روپے کی بچت ہوگی، 10روپے کانوٹ ختم ہوگایا نہیں؟ فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔

اسٹاک ایکسچینج میں

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت آغاز ہوا۔ دوران کاروبار 100انڈیکس میں 189پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا، انڈیکس 1 لاکھ 64 ہزار 815 پوائنٹس کی سطح تک ٹریڈ ہوتے دیکھا گیا۔ ایکسچینج کمپنیزایسوسی ایشن پاکستان کے مطابق انٹر بینک میں کاروبار کے آغاز پر ڈالر بھی سستا ہو گیا ہے۔ سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 41 ہزار 262 روپے تولہ ہو گئی انٹربینک میں ڈالر1پیسے سستا ہونے سے 279 روپے 50 پیسے پرٹریڈ ہو رہا ہے۔

ملک میں سونے کی

کراچی: ملک بھر میں سونا آج بھی سیکڑوں روپے مہنگا ہوگیا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کا بھاؤ 1300روپے اضافے سے 5لاکھ 41 ہزار 262 روپے ہوگیا ہے۔ ایران امریکا کشیدگی پر سونے کا بھاو 18 فروری سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق10 گرام سونے کا بھاو آج 1114 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 64 ہزار 44 روپے ہوا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 13 ڈالر بڑھ کر 5 ہزار 185 ڈالر فی اونس ہوا ہے۔

ایک سال میں بجلی

ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے مالی سال 25 - 2024 میں ترسیلی اور تقسیمی نقصانات سمیت کم وصولیوں کی مد میں قومی خزانے کو 472 ارب روپے نقصان پہنچایا ۔ نیپرا نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی گزشتہ مالی سال کی کار کر دگی رپورٹ جاری کر دی ۔ نیپرا رپورٹ کے مطابق مالی سال 25 -2024 کے دوران ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے ترسیلی اور تقسیمی نقصانات کی مد میں 265 ارب روپے کا نقصان کیا ۔ سب سے زیادہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی پیسکو نے 87 ارب 48 کروڑ روپے نقصان کیا ۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی 52 ارب 41 کروڑ ، سکھر الیکٹرک پاور 36 ارب 4 کروڑ، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کا 35 ارب 17 کروڑ روپے اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کا 27 ارب ، 14 کروڑ روپے کا نقصان شامل ہے۔ نیپرا رپورٹ کے مطابق ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے 14 ارب روپے جبکہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے سب سے کم 2 ارب 97 کروڑ روپے کا نقصان کیا ۔ آئیسکو نے 4 ارب، 78 کروڑ اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کا نقصان ساڑھے 5 ارب روپے رہا ۔ کے الیکٹرک کے ترسیلی و تقسیمی نقصانات رپورٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔ اس کے علاوہ ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے مالی سال 25 -2024 میں 207 ارب روپے کے نقصانات کم وصولیوں کی مد میں کیے ۔ ان میں ڈسکوز کے نقصانات 132 ارب جبکہ کے الیکٹرک کے نقصانات 74 ارب 66 کروڑ روپےہیں۔ رپورٹ کے مطابق بجلی کی ترسیل ، تقسیم اور کم وصولیوں کی مد میں نقصانات پاور سیکٹر کے گردشی قرض میں اضافے کا بڑا سبب ہیں۔

قرض پروگرام کی چوتھی

کراچی: 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کی چوتھی قسط کی ادائیگی کے معاملے پر جائزہ مذاکرات کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچ گیا۔ کراچی میں آئی ایم ایف کا وفد اسٹیٹ بینک کے دورے پر پہنچ گیا جہاں ان کی حکام سے ملاقات جاری ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ماہرین آئی ایم ایف کو معاشی کارکردگی پر بریفنگ دیں گے، آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے مرحلے میں ٹیکنیکل ڈیٹا شیئرنگ ہوگی، مذاکرات میں آئی ایم ایف وفد کو جولائی تا جنوری معاشی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ڈیٹا شیئرنگ سیشن میں آئی ایم ایف مشن کی اسٹیٹ بینک ماہرین کیساتھ زرمبادلہ ذخائرکی بہتری پر بات چیت ہوگی، ڈیٹا شیئرنگ سیشنز میں مانیٹری پالیسی، افراط زر، بینکنگ ریگولیشنز سمیت دیگر امور پر تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے۔ آئی ایم ایف نے 30 جون تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے، اسٹیٹ بینک ماہرین آئی ایم ایف کو پالیسی ریٹ، اینٹی ٹیررفنانسنگ، اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف آئندہ مالی سال اسٹیٹ بینک کے خالص زرمبادلہ ذخائر23 ارب 30کروڑ ڈالرز رہنے کی پیشگوئی کر رہا ہے، ٹیکنیکل سیشنز میں جولائی تا دسمبر رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران متعدد اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا جبکہ رواں مالی سال پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جی ڈی پی کے منفی0.6 فیصد رہنےکا تخمینہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان کا دورہ کرے گا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی قرض پروگرام کے تحت تیسرا اقتصادی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے آر ایس ایف پروگرام کے تحت دوسرا اقتصادی جائزہ کے مذاکرات ہوں گے، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں تقریباً 20کروڑ ڈالر آر ایس ایف پروگرام کے تحت موصول ہوں گے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کرلیے ہیں، نئے مالی سال کے بجٹ سے پہلے پاکستان کواسٹاف لیول معاہدے کی توقع ہے اور 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے۔

خام تیل کی قیمتیں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ امریکا ایران کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے، برطانوی خام تیل کی قیمت میں مزید 62 سینٹ کا اضافہ ہو گیا جس کے بعد نئی فی بیرل قیمت 71 اعشاریہ 39 ڈالر ہوگئی۔ عالمی مارکیٹ میں امریکی خام تیل کی قیمت 37 سینٹ کا اضافہ ہوا جس کے بعد فی بیرل قیمت 66 اعشاریہ 21 ڈالر تک پہنچ گئی۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے معیشت تنزلی کی جانب گامزن ہے، مفتاع اسماعیل یاد رہے کہ ایران کے بارے میں امریکی صدر کے بیانات اور جنگ کے بارے میں خبروں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔

ہونڈا کا موٹرسائیکل

اٹلس ہونڈا نے موٹرسائیکل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا۔ جس کا اطلاق یکم مارچ سے ہو گا۔ اٹلس ہونڈا نے یکم مارچ 2026 سے سی ڈی 70، سی جی 125 سمیت دیگر ماڈلز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا۔ اٹلس ہونڈا لمیٹڈ نے اپنی تمام مشہور موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں کمی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ جس کا اطلاق یکم مارچ 2026 سے ہو گا۔ اٹلس ہونڈا کی جانب سے جاری کردہ ریٹیل پرائس لسٹ کے مطابق مختلف ماڈلز کی قیمتیں درج ذیل ہیں۔ جس میں ہونڈا سی ڈی 70 کی نئی قیمت ایک لاکھ 51 ہزار 900 روپے جبکہ سی ڈی 70 ڈریم کی قیمت ایک لاکھ 62 ہزار 9000 روپے رکھی گئی ہے۔ اسی طرح ہونڈا پرائیڈر کی نئی قیمت 2 لاکھ ایک ہزار 900 روپے، ہونڈا سی جی 125 کی قیمت 2 لاکھ 26 ہزار 500 روپے اور ہونڈا سی جی 125 ایس کی قیمت 2 لاکھ 71 ہزار 900 مقرر کی گئی ہے۔ ہونڈا سی جی 125 ایس گولڈ کی قیمت 2 لاکھ 79 ہزار 900 روپے، ہونڈا سی بی 125 ایف کی قیمت 3 لاکھ 75 ہزار 900 روپے، ہونڈا سی جی 150 کی قیمت 4 لاکھ 24 ہزار 900 روپے مقرر کی گئی ہے۔ ہونڈا سی بی 150 ایف کی قیمت 4 لاکھ 34 ہزار 900 روپے اور ہونڈا الیکٹرک بائیک آئیکون ای کی قیمت 3 لاکھ 95 ہزار 900 روپے رکھی گئی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہونڈا کی الیکٹرک بائیک آئیکون ای کی قیمت میں سیلز ٹیکس کی شرح صرف ایک فیصد کے قریب رکھی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی کل قیمت 395,900 روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ ماڈل ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو پٹرول کے خرچ سے بچنا چاہتے ہیں۔

امریکا ایران کشیدگی:

امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیتمیں 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں مزید 62 سینٹ کا اضافہ ہوا جس کے بعد برطانوی خام تیل کی قیمت 71 اعشاریہ 39 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 37 سینٹ اضافے کے بعد 66 اعشاریہ 21 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دوسری جانب سونے کی قیمت بھی 107 ڈالر اضافے سے 5200 ڈالر فی اونس کی سطح عبور کر گئی۔

ایس آئی ایف سی

اسلام آباد: ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری اور حکومتی پالیسیوں کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت اور ایس آئی ایف سی کی جانب سے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان اور شفاف بنانے کے اقدامات کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ماحول مزید سازگار ہوا ہے، ماہرین کے مطابق پاکستان کی مستحکم معاشی رفتار، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور کاروباری ماحول میں آسانیوں نے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 کے ابتدائی سات ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی ترسیلات 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران غیر ملکی کمپنیوں کی منافع واپسی میں 27.92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے منافع کی واپسی کے تحت 400.19 ملین ڈالر اور 371.33 ملین ڈالر کی ادائیگیاں ریکارڈ کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ منافع کی واپسی برطانیہ سے منسلک سرمایہ کاروں کی جانب سے 442.76 ملین ڈالر جبکہ چین سے متعلق کمپنیوں کی جانب سے 413.11 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ امریکا کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی بڑی پیشکش معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے منافع کی باقاعدہ واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کی معیشت پر اعتماد کر رہے ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے ملک کو ایک پرکشش منزل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

کراچی، لاہور، فیصل آباد

کراچی، لاہور، فیصل آباد میں مرغی سستی ہو گئی ہے۔ لاہور میں برائلر مرغی کا گوشت 22 روپے فی کلو سستا ہو گیا ہے، آج برائلر گوشت کا سرکاری نرخ 446 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔ لاہور میں زندہ برائلر کا تھوک ریٹ 294 روپے فی کلو جبکہ پرچون ریٹ 308 روپے فی کلو ہے۔ دکاندار سرکاری نرخوں کے برعکس مرغی کا گوشت 550 روپے کلو تک فروخت کر رہے ہیں۔ لاہور میں فارمی انڈوں کی قیمت 236 روپے فی درجن برقرار ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں مرغی کا گوشت 468 روپے کلو تھا جبکہ زندہ مرغی آج 14 روپے فی کلو سستی ہوئی ہے۔ فیصل آباد میں زندہ برائلر مرغی کے تھوک ریٹ 294 روپے کلو ہیں جبکہ پرچون فی کلو ریٹ 308 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ زندہ مرغی پانچ روپے فی کلو سستی ہوئی ہے۔ فیصل آباد میں برائلر گوشت 446 روپے کلو ہے جبکہ فی درجن انڈوں کی قیمت 236 روپے مقرر کی گئی ہے۔ فیصل آباد میں مرغی کا گوشت سات روپے سستا ہوا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی بہترین سہولت کاری، پاکستان میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کراچی میں زندہ برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 328 روپے کلو ہے جبکہ پرچون ریٹ 336 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔ آج زندہ مرغی دو روپے فی کلو سستی ہوئی ہے۔ شہر قائد میں مرغی کا گوشت 505 روپے کلو ہے، انڈے 200 روپے درجن ہیں، گزشتہ روز مرغی کا گوشت 510 روپے کلو تھا اس طرح کراچی میں مرغی کے گوشت میں پانچ روپے کی کمی ہوئی ہے

غلط پالیسیوں کی وجہ

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت تنزلی کی جانب گامزن ہے اور یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل نے ہم نیوز کے پروگرام “کوئسچن آور” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاق میں گزشتہ 4 سال سے شہباز شریف کی حکومت ہے۔ تاہم غلط پالیسیوں کی وجہ سے معیشت بہتری کی طرف نہیں جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ بہتر اور مستقل معاشی پالیسیاں نہ ہونے کے باعث ملکی معیشت ترقی نہیں کر پا رہی۔ اور ملک میں غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً بھارت اور بنگلادیش بھی معاشی میدان میں پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست دو خاندانوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ جس کے باعث حقیقی جمہوری اور معاشی اصلاحات ممکن نہیں ہو پا رہیں۔ سابق وزیر خزانہ نے زور دیا کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہو گا۔

شرح سود میں کمی

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سی ای او فرخ سبزواری نے کہا ہے کہ مارکیٹ جنوری میں اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آئی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ تقریب کے موقع پر سی ای او فرخ سبزواری نے کہا کہ شرح سود میں کمی اور سیاسی صورتحال مارکیٹ پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کی صورتحال اور کمپنیوں کے مالی نتائج بھی مارکیٹ کی سمت پر اثر ڈال رہے ہیں اور مارکیٹ جنوری میں اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آئی ہے۔ فرخ سبزواری کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کیا رخ اختیار کریں گی، فی الحال یہ بھی ایک معمہ ہے۔

بھارت نے امریکا کے

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات مؤخر کر دیے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت نے واشنگٹن بھیجے جانے والے اپنے تجارتی وفد کا دورہ اس وقت مؤخر کر دیا جب امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات کو مسترد کر دیا، جس کے بعد نئی تجارتی پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور تاحال نئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ ادھر صدر ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے کے بعد تمام ممالک سے درآمدات پر 15 فیصد عارضی محصول عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔ مجوزہ عبوری معاہدے کے تحت امریکا کچھ بھارتی برآمدات پر محصولات کم کرنے پر آمادہ تھا جبکہ بھارت آئندہ پانچ برسوں میں توانائی، طیاروں، قیمتی دھاتوں اور ٹیکنالوجی مصنوعات سمیت بڑی مالیت کی امریکی اشیا خریدنے پر تیار تھا۔ بھارتی اپوزیشن جماعت نے بھی عدالتی فیصلے کے بعد معاہدے کو مؤخر کر کے ازسرنو بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا کی پاکستان میں

واشنگٹن: امریکا نے پاکستان میں آئی ٹی، مائننگ، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کر دیا۔ جبکہ بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے رابطوں کو مزید جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی سیکرٹری کامرس ہاورڈ لٹنک سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ آئی ٹی، مائننگ، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا گیا اور ان شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یو ایس پاکستان ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فورم 31 مارچ 2026 کے انعقاد کو سراہا گیا۔ جس میں دونوں ممالک کی معروف کمپنیوں اور وزارتی سطح کی شرکت متوقع ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر خزانہ کی امریکی محکمہ تجارت کے زیر اہتمام فورم میں شرکت کا امکان بھی زیر غور ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں جانب سے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے رابطے برقرار رکھنے اور عملی پیشرفت تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ایس آئی ایف سی کی

اسلام آباد: ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری اور حکومتی پالیسیوں کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت اور ایس آئی ایف سی کی جانب سے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان اور شفاف بنانے کے اقدامات کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ماحول مزید سازگار ہوا ہے، ماہرین کے مطابق پاکستان کی مستحکم معاشی رفتار، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور کاروباری ماحول میں آسانیوں نے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 کے ابتدائی سات ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی ترسیلات 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران غیر ملکی کمپنیوں کی منافع واپسی میں 27.92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے منافع کی واپسی کے تحت 400.19 ملین ڈالر اور 371.33 ملین ڈالر کی ادائیگیاں ریکارڈ کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ منافع کی واپسی برطانیہ سے منسلک سرمایہ کاروں کی جانب سے 442.76 ملین ڈالر جبکہ چین سے متعلق کمپنیوں کی جانب سے 413.11 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ امریکا کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی بڑی پیشکش معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے منافع کی باقاعدہ واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کی معیشت پر اعتماد کر رہے ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے ملک کو ایک پرکشش منزل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

کراچی، لاہور، فیصل آباد

کراچی، لاہور، فیصل آباد میں مرغی سستی ہو گئی ہے۔ لاہور میں برائلر مرغی کا گوشت 22 روپے فی کلو سستا ہو گیا ہے، آج برائلر گوشت کا سرکاری نرخ 446 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔ لاہور میں زندہ برائلر کا تھوک ریٹ 294 روپے فی کلو جبکہ پرچون ریٹ 308 روپے فی کلو ہے۔ دکاندار سرکاری نرخوں کے برعکس مرغی کا گوشت 550 روپے کلو تک فروخت کر رہے ہیں۔ لاہور میں فارمی انڈوں کی قیمت 236 روپے فی درجن برقرار ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں مرغی کا گوشت 468 روپے کلو تھا جبکہ زندہ مرغی آج 14 روپے فی کلو سستی ہوئی ہے۔ فیصل آباد میں زندہ برائلر مرغی کے تھوک ریٹ 294 روپے کلو ہیں جبکہ پرچون فی کلو ریٹ 308 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ زندہ مرغی پانچ روپے فی کلو سستی ہوئی ہے۔ فیصل آباد میں برائلر گوشت 446 روپے کلو ہے جبکہ فی درجن انڈوں کی قیمت 236 روپے مقرر کی گئی ہے۔ فیصل آباد میں مرغی کا گوشت سات روپے سستا ہوا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی بہترین سہولت کاری، پاکستان میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کراچی میں زندہ برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 328 روپے کلو ہے جبکہ پرچون ریٹ 336 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔ آج زندہ مرغی دو روپے فی کلو سستی ہوئی ہے۔ شہر قائد میں مرغی کا گوشت 505 روپے کلو ہے، انڈے 200 روپے درجن ہیں، گزشتہ روز مرغی کا گوشت 510 روپے کلو تھا اس طرح کراچی میں مرغی کے گوشت میں پانچ روپے کی کمی ہوئی ہے۔

پنجاب حکومت کا کارپوریٹ

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں مرجرز کے نتیجے میں پراپرٹی ٹرانسفر پر اسٹامپ ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پنجاب حکومت کا یہ نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے فیصلے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق عدالت اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان( ایس ای سی پی) سے منظور شدہ مرجر اسکیمیں اسٹامپ ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کمپنیز ایکٹ کے تحت انضمام پر پراپرٹی ٹرانسفر کو استثنیٰ حاصل ہوگا اور انضمام کے نتیجے میں جائیداد کی منتقلی پر اسٹامپ ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی۔ ایس ای سی پی نے ری اسٹرکچرنگ میں رکاوٹ دور ہونے پر عدالت اور حکومتِ پنجاب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فیصلے سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

پاکستان کے ذمہ قرض

پاکستان کے ذمہ قرض اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے بڑھ گیا۔ اکنامک افئیرزڈویژن کی دستاویز کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں84 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 3 سال میں سود کا حجم بڑھ کر 3.59 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ 2022 کےمقابلے گزشتہ سال سود کی ادائیگی 1.67 ارب ڈالر بڑھ گئی، سود آئی ایم ایف، عالمی بنک، اےڈی بی اور کمرشل بینکوں کو ادا کیا گیا، سعودی عرب اور چین نے بھی سیف ڈیپازٹس پر سود وصول کیا۔ دستاویز کے مطابق سود سمیت قرضوں کی ادائیگی پر سالانہ 13 ارب 32 کروڑ ڈالرخرچ ہوئے، پاکستان کے نیٹ بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال 1.71 ارب ڈالر اضافہ ہوا جبکہ پاکستان نےگزشتہ 3 سال میں 9.73 ارب ڈالرقرض کی رقم واپس کی۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ مالی سال 10.64 ارب ڈالر کے نئے قرضےسائن کیے۔

چیئرمین نیب کی

اسلام آباد: پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی تقرری کے عمل کا جائزہ لینے، اعلیٰ سطح کے وفاقی سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے گوشواروں کو 2026میں شائع کرنے اور اثاثوں کی خطرات پر مبنی تصدیق (رسک بیسڈ ویریفکیشن) کا نظام متعارف کرانے کے لیے ایک ایکشن پلان آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ نیب چیئرمین کی تقرری کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی جائے گی اور اسے وفاقی کابینہ کے سامنے غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ طرز حکمرانی، بدعنوانی کی تشخیص اور کلیدی نگراں اداروں کے سربراہوں کی تقرری پر پاکستان کا ردعمل اور اسکی جانچ وفد دورے کا اہم مقصد ہوگا۔ میرٹ پر انتخاب کیلیے مسابقتی کمیشن، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور نیب جیسے اہم نگراں اداروں کے سربراہان کی تقرری کا قانونی فریم ورک مزید مؤثر بنایا جائے گااقدامات27 جون تک مکمل کیے جائیں گے۔ اس دورے کے دوران گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹکس (GCD) اسسمنٹ رپورٹ کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات خصوصی توجہ کا مرکز ہوں گے۔پاکستان نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور نیب جیسے اہم نگرانی کرنے والے اداروں کے سربراہان کی تقرری کے قانونی فریم ورک کا جائزہ لے کر اسے مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ میرٹ پر مبنی انتخاب کو فروغ دیا جا سکے۔ ایس ای سی پی کے چیئرمین کی براہِ راست تقرری کے عمل کو مجوزہ ایس ای سی پی ترمیمی بل میں ضابطہ بند کیا گیا ہے، جس میں ایک سلیکشن کمیٹی کی تشکیل شامل ہے جو ممکنہ امیدواروں کی نشاندہی اور سفارش کرے گی، جبکہ وفاقی حکومت ان طریقہ کار کو باضابطہ بنانے کے لیے قواعد جاری کرے گی۔ ایس ای سی پی کے قواعد کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا جس میں چیئرمین، کمشنرز اور پالیسی بورڈ ممبران کی تقرری کا مکمل طریقہ کار اور مدت مکمل ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل تقرری کے عمل کا آغاز شامل ہوگا۔ ایس ای سی پی پالیسی بورڈ سے منظور شدہ سالانہ گورننس اور شفافیت رپورٹ کی اشاعت، بہتر نگرانی اور قیادت کے خلا میں کمی کے اقدامات 27 جون تک مکمل کیے جائیں گے، جس سے ریگولیٹری استحکام، فیصلہ سازی میں تسلسل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ کمپیٹیشن ایکٹ 2010 میں ترمیم درکار ہوگی تاکہ چیئرپرسن کی علیحدہ اور خودمختار تقرری ممکن بنائی جا سکے۔ سی سی پی کے قواعد کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا جس میں چیئرمین اور ممبران کی تقرری کا مکمل طریقہ کار، مدت ختم ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل تقرری کا آغاز، اور کمیشن سے منظور شدہ سالانہ گورننس و شفافیت رپورٹ کی اشاعت شامل ہوگی۔ توقع ہے کہ 27 جون تک منڈیوں، بشمول اجناس کی منڈیوں، میں مسابقت کو یقینی بنانے کی مؤثریت میں اضافہ ہوگا۔ نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل پر باضابطہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد غور کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ 27 جون تک انسدادِ بدعنوانی ادارے کے طور پر نیب کی عوامی ساکھ میں اضافہ ہو۔

ملک بھر میں سونے کی

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 2500 روپے اضافے سے 5 لاکھ 26 ہزار 462 روپے ہوگئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 2 ہزار 144 روپے اضافے سے 4لاکھ 51 ہزار 356 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 25 ڈالر اضافے سے 5037 ڈالر فی اونس ہے۔

ہوٹلز، ریسٹورینٹس

لاہور: ملک بھرمیں کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 14 سے زائد کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کے لیے پوائنٹ آف سیلزیقینی بنانےکاحکم دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ہوٹلز، ریسٹورینٹس ،گیسٹ ہاؤسز، میرج ہالز، مارکیز اور ریس کلبز میں پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دیا گیا ہے تاہم جہاں ائیر کنڈیشنر کی سہولت نہیں وہاں پوائنٹ آف سیلزسے چھوٹ ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہےکہ شہروں میں چلنے والی گاڑیوں، کورئیر اور کارگو سروسز کو بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دیاگیا ہے، اسی طرح ڈینٹسٹ، فزیوتھراپسٹ، پلاسٹک اور ہیئرسرجنز، و یٹرنری ڈاکٹرز، میڈیکل لیب، ایکسرے، سی ٹی اور ایم آر آئی اسکین سینٹر پر پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بیوٹی پارلرز، مساج سینٹرز، پیڈی کیور سینٹرز ، پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ 500 روپے فیس لینے والے اسپتالوں کو چھوٹ ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہےکہ ہیلتھ کلبز ، جمز ، سوئمنگ پولز ، ملٹی پرپز کلبز، سول اور نان سول پولو کلب، چارٹڈ اکاؤنٹنٹس، کاسٹ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور،کراچی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں کے جمخانہ اورکلبز میں پوائنٹ آف سیلز لگانےکافیصلہ کیاگیا ہے جب کہ ریٹیلرز ، مینوفیکچررز اور امپورٹرز کے لیے بھی آن لائن انٹیگریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فارن ایکسچینج ڈیلرز،کرنسی ایکسچینج کمپنیز، نجی تعلیمی اداروں اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز کی شرط عائد ہوگی جب کہ ایک ہزار روپے ماہانہ فیس لینے والے اداروں کو چھوٹ ہوگی۔

امریکی سپریم کورٹ نے

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تجارتی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے باعث عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدرِ امریکا کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار فراہم نہیں کرتا۔ اس فیصلے کو ٹرمپ کی معاشی پالیسی کے لیے ایک بڑا عدالتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ٹیرف ان کے اقتصادی ایجنڈے کا ایک اہم ہتھیار سمجھے جاتے تھے۔ ماہرین کے مطابق فیصلے سے رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر بھی اثر پڑسکتا ہے،فیصلے نے نئی حد مقرر کردی کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کن پالیسیوں کا نفاذ کرسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیا تھا۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بیان دیا تھا کہ عدالت نے امریکا کے خلاف فیصلہ دیا تو ہم مشکل میں پڑ جائیں گے۔

گیس چوری اور لیکج

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں سوئی گیس کمپنیوں میں گیس چوری اور لیکج سے قومی خزانے کو سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت ہوا، جس میں رکن کمیٹی گل اصغر خان نے دونوں گیس کمپنیوں (ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی) کی نجکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کرنا سرکار کا کام نہیں۔ گل اصغر خان نے کہا کہ دونوں گیس کمپنیوں کے سالانہ 60 ارب روپے کے نقصانات کو ئی چھوٹی بات نہیں، یہ بوجھ عوام برداشت کرتے ہیں۔ ایم ڈی سوئی ناردرن عامر طفیل نے بتایا کہ سوئی ناردرن کے گیس نقصانات لیکج اور چوری 5.27 فیصد جو اوگرا کے اہداف سے بھی کم ہیں اور موجودہ گیس نقصانات کا گیس تخمینہ 30 ارب روپے سالانہ ہے۔ سوئی سدرن کے ایم ڈی امین راجپوت کے مطابق ان کےسوئی سدرن کمپنی کے سالانہ نقصانات بھی 30 ارب روپے ہیں جنہیں 17 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد تک لائے ہیں۔ رکن کمیٹی سید نوید قمر نے گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرض پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض بڑھ رہا ہے، اس طرح تو گیس کمپنیاں تباہ ہو جائیں گی، جس پر ڈی جی گیس نے بتا یا کہ گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرض 3283 ارب روپے ہے، جس میں 1452 ارب لیٹ پیمنٹ سرچارجز شامل ہیں۔ ڈی جی گیس نے مزید کہا کہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اور کوٹلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں لیتھیم کے ذخائر کی نشاندہی ہو ئی ہے۔ مزید براں اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے پیٹرولیم ڈویژن کے اداروں کیلئے 4 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

دکان، ہوٹل، کلب،

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمام رجسٹرڈ دکانوں کو ایک ہفتے کے اندر ایف بی آرکے نظام سے منسلک کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے تحت پوائنٹ آف سیلز مشین سے وابستہ تمام کاروبار ایف بی آر کے ساتھ منسلک کیے جائیں گے، ہوٹل، گیسٹ ہاؤس، میرج ہالز اور کلبز پر بھی اس کا اطلاق ہوگا جب کہ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، کورئیر اور کارگو سروسز بھی لازمی منسلک کرنا ہوں گے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بیوٹی پارلرز، اسلمنگ سینٹرزاور بیوٹی کلینکس لازمی ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ کرانا ہوں گے، ہئیر ٹرانسپلانٹ، پرائیویٹ کلینکس، ڈینٹل کلینکس اور پلاسٹک سرجنزکے بزنس بھی منسلک کیے جائیں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق لیبارٹریز، جانوروں کے ڈاکٹرز، ڈائیگناسٹک سینٹرز، ایکسرے سینٹرز ، پرائیویٹ اسپتال، پرائیویٹ کنسلٹنٹس، ہیلتھ کیئر سروسز، ہیلتھ کلبز،سوئمنگ پولز، فٹنس کلبز اور ملٹی پرپز کلبز کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ ایف بی آر کے مطابق کراچی جمخانہ،رائل پام، چناب کلب،اسلام آباد کلب،لاہور جمخانہ کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک کیا جائے گا، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرمز،کاسٹ اینڈ مینجمنٹ کی خدمات دینے والوں کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ماہانہ 1000 روپے فیس والے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق انکم ٹیکس کی شق 33 کے تحت ٹیکس نظام سےمنسلک ہونا بنیادی شرط ہوگی، ٹیکس نظام سے منسلک کاروبار پوائنٹ آف سیلز مشین لگانے کے پابند ہوں گے۔

رمضان المبارک کیلئے

آج یکم رمضان کو زکوٰۃ کٹوتی کی وجہ سے بینک عوامی لین دین کے لیے بند رہیں گے۔ رمضان المبارک میں بینکوں کے عوامی لین دین کے اوقات پیر تا جمعرات صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک بلاوقفہ ہوں گے۔ جمعہ کو عوام سے لین دین کے لیے کاروباری اوقات صبح 9 بجے سے دوپہر ساڑھے 12 بجے تک بلاوقفہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ آج یکم رمضان کو زکوٰۃ کٹوتی کی وجہ سے بینک عوامی لین دین کے لیے بند رہیں گے۔

پاکستان میں آج بھی

کراچی: ملک بھر میں سونا آج بھی ہزاروں روپے مہنگا ہوگیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 7 ہزار 900روپے سے بڑھ کر 5 لاکھ23ہزار962 روپے ہوگئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10گرام سونےکا بھاؤ 6 ہزار 773 روپے بڑھ کر 4لاکھ49ہزار 212 روپے ہوگیا ہے۔ دوسری جانب عالمی بازارمیں سونے کا بھاؤ 79 ڈالر اضافے سے 5012 ڈالر فی اونس ہے۔

دکان، ہوٹل، کلب،

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمام رجسٹرڈ دکانوں کو ایک ہفتے کے اندر ایف بی آرکے نظام سے منسلک کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے تحت پوائنٹ آف سیلز مشین سے وابستہ تمام کاروبار ایف بی آر کے ساتھ منسلک کیے جائیں گے، ہوٹل، گیسٹ ہاؤس، میرج ہالز اور کلبز پر بھی اس کا اطلاق ہوگا جب کہ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، کورئیر اور کارگو سروسز بھی لازمی منسلک کرنا ہوں گے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بیوٹی پارلرز، اسلمنگ سینٹرزاور بیوٹی کلینکس لازمی ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ کرانا ہوں گے، ہئیر ٹرانسپلانٹ، پرائیویٹ کلینکس، ڈینٹل کلینکس اور پلاسٹک سرجنزکے بزنس بھی منسلک کیے جائیں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق لیبارٹریز، جانوروں کے ڈاکٹرز، ڈائیگناسٹک سینٹرز، ایکسرے سینٹرز ، پرائیویٹ اسپتال، پرائیویٹ کنسلٹنٹس، ہیلتھ کیئر سروسز، ہیلتھ کلبز،سوئمنگ پولز، فٹنس کلبز اور ملٹی پرپز کلبز کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ ایف بی آر کے مطابق کراچی جمخانہ،رائل پام، چناب کلب،اسلام آباد کلب،لاہور جمخانہ کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک کیا جائے گا، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرمز،کاسٹ اینڈ مینجمنٹ کی خدمات دینے والوں کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ماہانہ 1000 روپے فیس والے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق انکم ٹیکس کی شق 33 کے تحت ٹیکس نظام سےمنسلک ہونا بنیادی شرط ہوگی، ٹیکس نظام سے منسلک کاروبار پوائنٹ آف سیلز مشین لگانے کے پابند ہوں گے۔

پاکستان کی معاشی

پاکستان نے معاشی محاذ پربڑی کامیابی حاصل کرلی ،پہلی ششماہی میں تاریخی سرپلس حاصل کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کی مؤثر معاشی حکمتِ عملی کے باعث 542 ارب روپے کا بڑا مالیاتی سرپلس حاصل ہوگیا۔ ٹیکس وصولیوں اور اسٹیٹ بینک کے منافع سے حکومتی وسائل میں ریکارڈ اضافہ ہوا،اخراجات میں کمی اور مالیاتی ڈسپلن سے معیشت کو پائیدار استحکام مل گیا۔ قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی اور پیٹرولیم لیوی سے مالیاتی پوزیشن مستحکم ہوئی،ایس آئی ایف سی کی رہنمائی میں پاکستان پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

بجلی مزید مہنگی

اسلام آباد: سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی سی پی اے) نے بجلی ایک روپے 78 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع کرا دی۔ سی پی پی اے کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ جنوری میں بجلی کمپنیوں کو 8 ارب 76 کروڑ 20 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی، جنوری میں بجلی کی فی یونٹ لاگت12 روپے17 پیسے فی یونٹ رہی۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا میں جمع کرائی گئی درخواست میں بجلی 1 روپے 78 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی منہگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ نیپرا 26 فروری کو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی درخواست پر سماعت کرے گی۔

پاکستان میں سونے

پاکستان میں آج ایک مرتبہ پھر سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوئی ہے۔ ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 9 ہزار روپے کم ہو کر 5 لاکھ 14 ہزار 762 روپے ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ 10 گرام سونے کی قیمت 7 ہزار 716 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 41 ہزار 325 روپے ہوگئی۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کی قیمت 90 ڈالرز کم ہو کر 4920 ڈالرز فی اونس ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز فی تولہ سونے کی قیمت 3 ہزار 200 روپے کم ہوئی تھی۔

سیونگ اکاؤنٹس میں

کراچی: وزارت تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے رواں سال کے لیے زکوٰۃ کا نصاب مقرر کردیا۔ ایڈمنسٹریٹر جنرل زکوٰۃ نے رواں سال کے لیے زکوٰۃ کا نصاب 5 لاکھ 3 ہزار 529 روپے مقرر کیا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر یکم رمضان کو کسی اکاؤنٹ میں موجود رقم 5 لاکھ 3 ہزار 529 روپے سے کم ہوگی تو اس پر زکوٰۃ نہیں کاٹی جائے گی۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ یکم رمضان المبارک کو تمام سیونگ اکاؤنٹس اور نفع و نقصان میں شراکت دار اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی کٹوتی کی جائے گی جب کہ زکوٰۃ کی مد میں کٹوتی کی گئی رقم اسٹیٹ بینک میں موجود سینٹرل زکوٰۃ اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ واضح رہے کہ یکم رمضان کو تمام مالیاتی ادارے عوامی لین دین کے لیے بند رہیں گے۔

رمضان کی آمد،

کمشنرکراچی نے چینی کی ہول سیل اور ریٹیل قیمت مقررکر دی۔ کمشنر کراچی نے کہا کہ چینی کی ریٹیل قیمت 141روپے فی کلو مقررکر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی ہول سیل قیمت 138روپے فی کلو مقررکی گئی ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے ہی ہو گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا واضح رہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں چینی کی فی کلو قیمت میں فرق ہے، کہیں تو قیمت مناسب ہے تو کہیں زیادہ ہے۔

اسٹیٹ بینک نے

اسٹیٹ بینک نے ملک میں سونے کے ذخائر کی مالیت سے متعلق تفصیلات جاری کردی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک میں موجود 64.76 ٹن سونے کے ذخائر کی مالیت 10.374 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ بینک کی جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2026 میں ملکی سونے کے ذخائر کی مالیت میں 1.279 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ سونا بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سستا ہو گیا اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں ملکی سونے کے ذخائر کی مالیت 3.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جون 2025 میں ملکی سونے کے ذخائر کی مالیت 6.84 ارب ڈالر تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سونے کے ذخائر 20 لاکھ 82 ہزار اونس یا 55 لاکھ 52 ہزار تولے ہیں۔

عوام پر فی لیٹر پیٹرول

اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بڑا حصہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔ وزارت توانائی کی دستاویز کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 39 فیصد ٹیکسز شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق فی لیٹر پیٹرول پر 100روپے 21 پیسے ٹیکسز ہیں جن میں 13روپے 31 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 84 روپے40 پٹرولیم لیوی جبکہ 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔ وزارت توانائی کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک لیٹر ڈیزل پر 94 روپے 93 پیسے ٹیکسز ہیں جو فی لیٹر قیمت کا 34فیصد ہیں۔ ایک لیٹر ڈیزل پر 15 روپے68 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 76 روپے 21 پیسے پٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی عائد ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر الگ الگ 7 روپے 87 پیسے وصول کرتی ہیں، ڈیلرز فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر الگ الگ 8 روپے 64 پیسے وصول کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 275 روپے 70 پیسے ہوگئی ہے۔

یونٹ کے بدلے یونٹ کا

وزیراعظم شہباز شریف کے نوٹس لینے کے بعد نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے موجودہ سولر صارفین کیلئے نیٹ میٹرنگ پالیسی جاری رکھنے کے ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ پرانے سولر صارفین کیلئے بجلی خریداری اور فروخت کے پرانے ریٹس اور طریقہ کار جاری رہے گا، یونٹ کے بدلے یونٹ کا تبادلہ ہو گا۔ وزیر اعظم کے نوٹس کے بعد نیپرا نے پرانے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی جاری رکھنے کے ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس پر 30 روز تک عوامی آراء بھی طلب کی گئی ہے۔ نیپرا نے 9 فروری کو سولر ریگولیشنز 2026 جاری کیے تھے جس پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا اور ان کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے پرانے سولر صارفین کیلئے ریگولیشنز میں تبدیلی نہ کرنے کے لیے نظر ثانی درخواست نیپرا میں جمع کرائی۔ نیٹ میٹرنگ پالیسی جاری رکھنے کے ترمیمی مسودے کے نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے سے موجود سولر صارفین کے ساتھ معاہدے اپنی مدت تک برقرار رہیں گے۔ نئے سولر صارفین کیلئے کی گئی تمام ترامیم مؤثر رہیں گی، ان کی جانب سے نیشنل گرڈ کو دی گئی بجلی کے نرخ آدھے سے بھی کم یعنی 8 روپے 13 پیسے فی یونٹ ہوں گے۔

پاکستان میں سونے کے

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں سونے کے ذخائر کی مالیت سے متعلق تفصیلات جاری کر دیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک میں موجود 64.76 ٹن سونے کے ذخائر کی مالیت 10.374 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2026 میں ملکی سونے کے ذخائر کی مالیت 1.279 ارب ڈالر بڑھی جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں ملکی سونے کے ذخائر کی مالیت 3.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2025 میں ملکی سونے کے ذخائر کی مالیت 6.84 ارب ڈالر تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سونے کے ذخائر 20 لاکھ 82 ہزار اونس یا 55 لاکھ 52 ہزار تولے ہیں۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 275 روپے 70 پیسے ہوگئی۔ پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔

عارف حبیب گروپ کا

کراچی: عارف حبیب گروپ کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) میں حکومت کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص بھی خریدنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد قومی فضائی کمپنی کا مکمل اختیار اس کے پاس آ جائے گا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر شاہد علی حبیب نےکہا ہے کہ پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کی خریداری کے بعد یہ مکمل طور پر نجی حیثیت میں کام کر سکے گی۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ’کنسورشیم نے اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ اس نے 25 فیصد باقی ماندہ حصص بھی خریدنے ہیں۔ ان کے مطابق اپریل میں یہ فیصلہ لینا ہے اور اس کے بعد اگلے 12 مہینے میں اس کی ادائیگی کرنی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کی خریداری کے بعد یہ مکمل طور پر نجی حیثیت میں کام کر سکے گی یعنی ائیر لائن کا مکمل کنٹرول نجی شعبے کے پاس ہو گا اور ائیر لائن سرکاری نامزد ارکان سے آزاد ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135ارب روپے کے عوض 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجی کاری کا مقصد خسارے میں جانے والی فضائی کمپنی کو عملی تنظیمِ نو، طیاروں کے بیڑے میں توسیع اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات میں بہتری کے ذریعے منافع بخش بنانا تھا۔ گزشتہ دسمبر میں 75 فیصد حصص کی نجکاری کے بعد حکومت نے کنسورشیم کو باقی حصص کی خریداری کے لیے 90 روز کی مہلت دی، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بتائی گئی ہے اور آخری تاریخ اپریل کے اختتام پر مقرر ہے۔ جنوری میں طے پانے والے معاہدے کے تحت رقوم کی منتقلی کے لیے 12 ماہ کی مدت رکھی گئی ہے، جس سے اسے قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔ کامیاب کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر 34.1 فیصد، فوجی فرٹیلائزر کمپنی 33.9 فیصد، لیک سٹی 16 فیصد، اور دی سٹی سکول کے ساتھ اے کے ڈی گروپ 16 فیصد شامل ہیں۔ شاہد علی نے بتایا پی آئی اے کی بہتری کے منصوبے میں سروسز جن میں سٹاف اور ٹکٹنگ کی بہتری اور سیفٹی اور سکیورٹی کو بہتر بنانا شامل ہے۔

ملک بھر میں سونا آج بھی ہزاروں روپے مہنگا ہوگیا

کراچی: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں آج بھی ہزاروں روپے کا اضافہ ہوگیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 7 ہزار روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ 26 ہزار962 روپے ہوگئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں 6 ہزارروپے سے زائدکا اضافہ ہوا جس کے بعد قیمت 4 لاکھ 51 ہزار 784 روپے ہوگئی۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونا 70 ڈالر اضافے سے 5042 ڈالر فی اونس ہے۔

پاکستان کے ساتھ مجوزہ بجلی ٹیرف میں ردوبدل پر بات چیت کررہے ہیں: آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف حکام نے بتایا کہ حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ ٹیرف میں ممکنہ ردوبدل کا بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر نہ پڑے۔ آئی ایم ایف حکام کے مطابق مذاکرات کے دوران یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم حکومتی وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔ آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم کے مہنگائی اور معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں نیٹ میٹرنگ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پرمنتقلی کی پالیسی پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اویس لغاری نے بتایاکہ پورے ملک میں صرف 4 لاکھ 66 ہزار صارفین نیٹ میٹرنگ پر ہیں ،یہ صارفین اپنے سرمائے پر ایک سال میں 50 فیصد منافع کمارہے ہیں، 5 روپے کی بجلی بنا کر گرڈ کو 27 روپےکی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسی شرح سے نیٹ میٹرنگ سے بجلی خریدتی رہی تو گرڈ کے باقی 90 فیصد صارفین کےلیے کی بجلی کی قیمت 2 سے ڈھائی روپے بڑھ جائے گی، نیٹ بلنگ پر آنے سے ان 4 لاکھ صارفین کا منافع 37فیصد پر آجائے گا جب کہ گرڈ کےباقی صارفین کےلیے بجلی ایک سے ڈیڑھ روپے سستے ہوگی، اس سے کسی کا نقصان نہیں ہوگا، یہ کہنا کہ نئی ریگولیشنز کا غریب آدمی پر اثر پڑے گا درست نہیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ریگولیشنز سے متعلق باتیں ہورہی ہیں ، نیٹ میٹرنگ سے متعلق ریگولیٹر نے 5 بار ریگولیشنز میں تبدیلی کی، نیٹ میٹرنگ کے 6 سے 7 ہزار صارفین ہیں ، نئی سولر پالیسی پر تنقید ہو رہی ہے ، میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ، اس میں سے 6 سے 7 ہزار سولر نیٹ میٹرنگ پر ہے، اس 7 ہزار میں سے 22 سو میگاواٹ انڈسٹری نےلگایا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سولر ملک کے پوش علاقوں میں لگایا گیا ہے، نیٹ میٹرنگ سے ملک کی اشرافیہ فائدہ اٹھا رہی ہے، نیٹ میٹرنگ سےنیٹ بلنگ پرمنتقلی کی پالیسی پر عملدرآمد روک دیا ہے ۔ اویس لغاری نے کہا کہ ایک سال کے اندر 780 ارب روپے گردشی قرضہ کم کیا ہے، وزیراعظم کے ایک رشتے دار کے آئی پی پی سے بھی 100ارب روپےکی کٹوتی کی گئی، شہباز شریف کی حکومت نے جو کیا وہ کوئی نہ کرسکا۔

پاکستان میں سونے کی

کراچی: پاکستان میں آج سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 8600 روپے کم ہو کر 5 لاکھ 19 ہزار 962 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 7373 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 45 ہزار 783 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 86 ڈالرز کم ہو کر 4972 ڈالرز فی اونس ہوگیا۔

سونے کے نئے نرخ،

سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافے کا سلسلہ چند روز سے جاری ہے۔ آج سونے کی قیمتوں میں استحکام رہا اور سونے کے نرخوں میں کوئی رد و بدل نہیں ہوا۔ گزشتہ روز سونے کے فی تولہ نرخ میں 2300 روپے کا اضافہ ہوا تھا، آج سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 28 ہزار 562 روپے کی سطح پر برقرار ہے۔ پنجاب میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ملکیت منتقلی کا نظام تبدیل دس گرام سونا گزشتہ روز 1972 روپے مہنگا ہوا تھا آج دس گرام سونے کے نرخ 4 لاکھ 53 ہزار 156روپے ہیں۔

نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں نیٹ میٹرنگ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پرمنتقلی کی پالیسی پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اویس لغاری نے بتایاکہ پورے ملک میں صرف 4 لاکھ 66 ہزار صارفین نیٹ میٹرنگ پر ہیں ،یہ صارفین اپنے سرمائے پر ایک سال میں 50 فیصد منافع کمارہے ہیں، 5 روپے کی بجلی بنا کر گرڈ کو 27 روپےکی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسی شرح سے نیٹ میٹرنگ سے بجلی خریدتی رہی تو گرڈ کے باقی 90 فیصد صارفین کےلیے کی بجلی کی قیمت 2 سے ڈھائی روپے بڑھ جائے گی، نیٹ بلنگ پر آنے سے ان 4 لاکھ صارفین کا منافع 37فیصد پر آجائے گا جب کہ گرڈ کےباقی صارفین کےلیے بجلی ایک سے ڈیڑھ روپے سستے ہوگی، اس سے کسی کا نقصان نہیں ہوگا، یہ کہنا کہ نئی ریگولیشنز کا غریب آدمی پر اثر پڑے گا درست نہیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ریگولیشنز سے متعلق باتیں ہورہی ہیں ، نیٹ میٹرنگ سے متعلق ریگولیٹر نے 5 بار ریگولیشنز میں تبدیلی کی، نیٹ میٹرنگ کے 6 سے 7 ہزار صارفین ہیں ، نئی سولر پالیسی پر تنقید ہو رہی ہے ، میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ، اس میں سے 6 سے 7 ہزار سولر نیٹ میٹرنگ پر ہے، اس 7 ہزار میں سے 22 سو میگاواٹ انڈسٹری نےلگایا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سولر ملک کے پوش علاقوں میں لگایا گیا ہے، نیٹ میٹرنگ سے ملک کی اشرافیہ فائدہ اٹھا رہی ہے، نیٹ میٹرنگ سےنیٹ بلنگ پرمنتقلی کی پالیسی پر عملدرآمد روک دیا ہے ۔ اویس لغاری نے کہا کہ ایک سال کے اندر 780 ارب روپے گردشی قرضہ کم کیا ہے، وزیراعظم کے ایک رشتے دار کے آئی پی پی سے بھی 100ارب روپےکی کٹوتی کی گئی، شہباز شریف کی حکومت نے جو کیا وہ کوئی نہ کرسکا۔

پاکستان میں گاڑیوں

کراچی: پاکستان کے آٹو سیکٹر نے جنوری 2026 میں نئی تاریخ رقم کر دی۔ جہاں گاڑیوں کی فروخت 43 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے مطابق شرح سود میں کمی، بینک فنانسنگ میں بہتری اور نئی ٹیکنالوجی کے تعارف نے گاڑیوں کی فروخت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2026 میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت 23 ہزار 55 یونٹس رہی۔ جو ماہانہ بنیاد پر 74 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 36 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں جنوری 2025 میں 17 ہزار 10 اور دسمبر 2025 میں 13 ہزار 280 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔ رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران مجموعی فروخت 43 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 11 ہزار 377 یونٹس تک پہنچ گئی۔ جو صارفین کے اعتماد میں بہتری اور آٹو فنانسنگ تک آسان رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت بھی نمایاں رہی۔ جنوری میں اس شعبے کی فروخت سالانہ بنیاد پر 31 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 81 ہزار 790 یونٹس تک پہنچ گئی۔ بھاری گاڑیوں کے شعبے میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی۔ جہاں ٹرکوں اور بسوں کی فروخت سالانہ بنیاد پر 77 فیصد بڑھ کر ایک ہزار 101 یونٹس ہو گئی۔ تاہم ٹریکٹر کی فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جو جنوری 2026 میں 2 ہزار 505 یونٹس رہی، جو گزشتہ ماہ اور گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔ مزید پڑھیں:مہنگا سونا مزید مہنگا ہوگیا ماہرین کے مطابق معاشی استحکام اور مالیاتی پالیسی میں نرمی آٹو انڈسٹری کے لیے مثبت اشارہ ہے۔

دنیا بھر سے سب سے

دنیا بھر کے شہروں سے پاکستان کو ترسیلات بھیجنے میں دبئی کا پہلا نمبر ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں دبئی سے پاکستان کو 54 کروڑ ڈالر سے زائد ترسیلات بھیجے گئے جبکہ متحدہ عرب امارات سے پاکستان کو مجموعی ترسیلات 69 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ دبئی نے پاکستان کے ترسیلات زر میں تین چوتھائی حصہ ڈالا جبکہ ابوظبی سے پاکستان کو 12 کروڑ 61 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔ اسی طرح شارجہ سے پاکستانیوں نے 98 لاکھ ڈالر وطن بھیجے۔ اسٹیٹ بینک نے اعداد و شمار میں بتایا کہ جنوری میں پاکستان کو مجموعی ترسیلات 3 ارب 46 کروڑ ڈالر رہیں، ملکی سطح پر ترسیلات زرکی پاکستان منتقلی میں سعودی عرب کا پہلا نمبر رہا جبکہ متحدہ عرب امارات سے پاکستان ترسیلات بھیجنے میں دوسرے نمبر پر ہے۔

نیپرا نے 300 یونٹ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 300 یونٹ ماہانہ تک کےگھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز لگادیے۔ نیپرا نے فکسڈ چارجز کے حوالے سے پاور ڈویژن کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔ فکسڈ چارجز پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین پر لگائےگئے ہیں، اس سے پہلے صرف 300 یونٹ سے زائد استعمال کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجز عائد تھے۔ نیپرا فیصلےکے مطابق ماہانہ 100یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے فکسڈ چارجز عائد کیے گئے ہیں۔ ماہانہ 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈگھریلو صارفین پر 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز عائدکیےگئے ہیں۔ 100یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 275 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز عائد کیےگئے ہیں۔ماہانہ 200 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 300 روپے فکسڈ چارجز عائد کیےگئے ہیں۔ ماہانہ 300 یونٹ تک استعمال کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 350 روپے فکسڈ چارجز عائد کیےگئے ہیں۔ نیپرا فیصلےکے مطابق ماہانہ 301 سے 400 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فسکڈ چارجز 200 روپے اضافے سے 400 روپےکردیےگئے ہیں۔ ماہانہ 401 سے 500 یونٹ استعمال کے نان پروٹیکٹد صارفین پر 100 روپے اضافے سے فکسڈ چارجز 500 روپے مقررکیےگئے ہیں۔ ماہانہ 600 یونٹ استعمال پر فکسڈ چارجز 75 روپے اضافے سے 675 روپے کردیےگئے۔ ماہانہ 700 یونٹ تک استعمال پر فکسڈ چارجز 125 روپے کمی سے 675 روپے مقررکیےگئے ہیں۔ماہانہ 700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز میں 325 روپے کمی سے 675 روپے مقرر کیےگئے ہیں۔

مہنگا سونا مزید

کاروباری ہفتے کے تیسرے روز ملک میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا مزید 2ہزار300روپے مہنگا ہوگیا جس کے بعد نئی قیمت5لاکھ28ہزار 562روپے ہوگئی۔ سونے اور چاندی سے متعلق بابا وانگا کی پیشگوئی وائرل اسی طرح 10گرام سونا بھی مزید ایک ہزار 972 روپے مہنگا ہوگیا جس کے بعد نئی قیمت 4لاکھ53ہزار156 روپےہوگئی۔ یاد رہے کاروباری ہفتے کے پہلے روز فی تولہ سونا 5300 روپے، جبکہ دوسرے روز 1500 روپے مہنگا ہوا تھا، اس طرح 3 دنوں کے دوران سونے کی فی تولہ قیمت میں 9100 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔

نئے سولر نیٹ میٹرنگ

اسلام آباد: نئے سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کے بعد پروٹیکٹڈ صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز سامنے آ گئی۔ نیپرا میں بجلی کے نئے ٹیرف کیلئے پاور ڈویژن کی درخواست پر سماعت چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی زیرصدارت ہوئی، جس دوران نئے ٹیرف میں پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹد صارفین کیلئے فکسڈ چارجز تجویز کیے گئے جبکہ کراس سبسڈی کو کم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ ماہانہ 300 یونٹ تک گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز لگانے کی تجویز پر پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے حکام کی جانب سے نیپرا سے کہا گیا کہ فکسڈ چارجز دونوں پروٹیکڈ اورنان پروٹیکڈ صارفین پر لگائے جائیں۔ نیپرا کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پہلے صرف 300 یونٹ سے زائد کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجز عائد ہیں، ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے فکسڈ چارجز کی تجویز ہے جبکہ ماہانہ 200 یونٹ کے پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز کی تجویز ہے۔ حکام کی جانب سے بریف کیا گیا کہ 100 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 275 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز کی تجویز ہے جبکہ ماہانہ 200 یونٹ تک کے نان پروٹیکڈ صارفین پر 300 روپے فکسڈ چارجز کی تجویز ہے۔ 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 350 روپے فکسڈ چارجز کی تجویز ہے جبکہ 301 تا 400 یونٹ کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فسکڈ چارجز 400 روپے کرنے کی تجویز ہے۔ نیپرا کو یہ تجویز بھی دی گئی کہ 401 سے 500 یونٹ کے نان پروٹیکٹد صارفین فکسڈ چارجز 500 روپے کرنے کی تجویز ہے جبکہ 600 یونٹ استعمال کرنے پر فکسڈ چارجز 75 روپے اضافے سے 675 روپے کرنے کی تجویز ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 700 تک یونٹ استعمال کرنے پر فکسڈ چارجز 125 روپے کمی کے بعد 675 روپے کرنے کی تجویز ہے جبکہ 700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز 325 روپے کمی کرکے 675 روپے کرنے کی تجویز ہے۔

کراچی: بجلی سبسڈی نہ

اسلام آباد:کراچی میں بجلی سبسڈی نہ ملنے سے اسٹیل سیکٹر کو 150ارب روپےکا نقصان ہوا جس سے صنعت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ اسٹیل سیکٹر کی پیداوار میں کمی اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ کے باعث ممکنہ ملازمتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز (PALSP) کا وزیر مالیات کو خط میں کہنا تھا اگر سبسڈی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو سنگین معاشی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں، پاکستان کی اسٹیل صنعت، جو ملک کی سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والی مینوفیکچرنگ صنعتوں میں سے ایک ہے جسے تقریباً 150 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے کیونکہ کراچی میں قائم صنعتوں کے لیے حکومتی اضافی بجلی سبسڈی جاری نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود حکام نے واضح کیا کہ فنڈز کی کمی کبھی اس تاخیر کی وجہ نہیں تھی۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز (PALSP) نے 9 فروری 2026 کو مالیات کے وزیر سے ایک خط میں اس مسئلے کو فوری حل کرنے کی درخواست کی۔

ملک بھر میں آج بھی سونے

کراچی: ملک بھر میں آج سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 1500 روپے سے بڑھ کر 5 لاکھ 26 ہزار 262 روپے ہوگئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 1286 روپے بڑھ کر 4لاکھ 51 ہزار 184 روپے ہوگیا ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کابھاؤ 15 ڈالر اضافے سے 5035 ڈالر فی اونس ہے۔

صارفین کو اب یونٹ کی

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری (نیپرا) نے نیا نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی ریگولیشنز کے تحت نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروادیا گیاہے، نئی نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کا اطلاق بائیوگیس صارفین پر بھی ہوگا۔ ریگولیشنز کے مطابق بلنگ سائیکل کے اختتام پربلنگ نظام کے تحت بل جاری ہوگا، نیٹ میٹرنگ صارفین سے نیشنل ایوریج انرجی پرائس کے مطابق بجلی خریدی جائے گی، صارفین کو اب یونٹ کی قیمت ادا کرنی ہوگی، یونٹ کے بدلے یونٹ کی فراہمی ختم کردی گئی۔ ریگولیشنز میں کہا گیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ صارفین کوموجودہ رائج ٹیرف کے حساب سے بجلی فراہم کی جائے گی، نیشنل گرڈ کو اضافی بجلی کی فراہمی پرصارفین کو سہ ماہی بنیادوں پر ادائیگی کی جائے گی۔ نیٹ میٹرنگ کے لیے معاہدے کی مدت 5 سال تک محدود کردی گئی ہے جبکہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد مزید 5 سال کی تجدید کی جائے گی، نئی ریگولیشنز کے بعد نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2015 معطل ہوجائیں گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آج اپنی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ میکرو اکنامک حالات اور منظرنامے میں بہتری آئی ہے، جس کی معاونت محتاط زری پالیسی رویے اور جاری مالیاتی یکجائی نے کی ہے۔ توقع ہے کہ مہنگائی مالی سال 2026 اور مالی سال 2027 کے بیشتر عرصے کے دوران 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں رہے گی، اگرچہ کچھ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جس میں تجارتی خسارہ بلند ہوگا جو مضبوط ترسیلاتِ زر اور منصوبہ بند سرکاری آمدنی سے جزوی طور پر پورا ہونے کی توقع ہے۔ اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر جون 2026 ء تک 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے اور مالی سال 2027 میں مزید اضافے سے تقریباً 3 ماہ کی درآمدی کوریج کے قریب پہنچ جائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جاری میکرو اکنامک استحکام، مالی صورتِ حال میں نرمی اور مطلوبہ نقدِ محفوظ (سی آر آر) کو حال ہی میں 5 فیصد تک کم کرنے کے دوران معاشی سرگرمی بھی مضبوط ہوئی ہے۔ چنانچہ معاشی نمو کے امکانات بہتر ہوگئے ہیں اور جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 2026 کے لیے اب 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان متوقع ہے جبکہ مالی سال 2027 میں نمو مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

پاکستان میں سونے کی

کراچی: ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 5000 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز کے مطابق 5300 روپے فی تولہ سونے کی قیمت میں اضافے سے سونا اب 5 لاکھ 24 ہزار 762 روپے تولہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ 10گرام سونے کی قیمت4544 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 49 ہزار 898 روپے ہوگئی ہے۔ عالمی بازار میں سونے کی قیمت 53 ڈالربڑھ کر5020 ڈالر فی اونس ہے۔

موڈیز نے پاکستان کے

بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے بینکنگ سسٹم کا آؤٹ لک مستحکم کر دیا۔ موڈیز کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بینکنگ ماحول بتدریج بہتر ہو رہا ہے، اگلے 12 سے 18 ماہ کے دوران بینکوں کی کارکردگی مستحکم رہے گی۔ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 2026 کے لیے حقیقی جی ڈی پی نمو 3.5 فیصد رہے گی۔

پاکستان بزنس فورم

پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے حکومت سے ڈبا پیک دودھ والی کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان بزنس فورم کا کہنا ہے کہ ڈیری مصنوعات روزمرہ کی ضرورت ہے لیکن اس پر کوئی چیک نہیں، دودھ والی کمپنیاں ریٹیل مارکیٹ میں فی لیٹر دودھ 360 روپے سے 380 تک بیچ رہی ہیں جبکہ دودھ کی قیمت خرید بمعہ لاجسٹکس چارجز ملا کر بھی 180 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ پی بی ایف کا کہنا ہے بھارت اور بنگلادیش میں ٹیٹرا پیک دودھ کی فی لیٹر قیمت پاکستانی روپے میں 250 سے 270 ہے، معروف کمپنیوں کی سال 2025 میں آمدنی 60 سے 100 ارب روپے کے درمیان ہے۔ چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم احمد جواد کا کہنا ہے حکومت ڈیری مصنوعات میں جی ایس ٹی کی شرح 7 فیصد کرے، مہنگائی کم کرنے کے حکومتی وعدے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، حکومت ٹیٹرا پیک دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 50 روپے کی فوری کمی کرائے۔

سونے اور چاندی سے

معروف بلغارین پیشگو بابا وانگا (baba vanga)کی پیشگوئیاں ایک بار پھر عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔ بابا وانگا نے اپنی پیشگوئیوں میں دعویٰ کیا تھا کہ دنیا کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور کاغذی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوگی، جس کے باعث سونا، چاندی اور تانبا لوگوں کے لیے محفوظ ترین سرمایہ کاری کے ذرائع بن جائیں گے۔ جون 2026 تک سونے کی قیمت کہاں تک جائیگی؟نئی پیشگوئی کردی گئی ان پیشگوئیوں کے بعد کئی افراد نے اپنی بچتیں قیمتی دھاتوں میں منتقل کرنا شروع کر دیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ مزید بڑھا دی۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق ایم سی ایکس پر سونے کی قیمت ایک وقت میں ایک لاکھ 80 ہزار روپے فی 10 گرام تک جا پہنچی، جب کہ ایک سال کے دوران اس کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح چاندی کی قیمت بھی تیزی سے بڑھتی ہوئی 4 لاکھ روپے فی کلوگرام کی سطح کو عبور کر گئی۔ چاندی نے بھی سرمایہ کاروں کو ایک سال میں 160 فیصد سے زائد منافع دیا، جس کے باعث اسے ایک مضبوط سرمایہ کاری آپشن کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ سونا ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟ ماہرین کے مطابق بابا وانگا کی پیشگوئیوں نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی اور لوگوں نے غیر یقینی معاشی حالات کے خدشے کے تحت قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی۔ تاہم، 30 جنوری کے بعد صورتحال میں اچانک تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور یہ گراوٹ مسلسل تقریباً تین دن تک جاری رہی۔ اس دوران دونوں دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی حالات، منڈی کے اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے باعث قیمتوں میں اس طرح کی کمی بیشی آتی رہتی ہے۔ تاہم بابا وانگا کی پیشگوئیوں کے باعث سونا اور چاندی اب بھی طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر اہمیت رکھتے ہیں۔

نئی سولر پالیسی کا

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت کی مجوزہ نئی سولر پالیسی کا اطلاق صرف نئے صارفین پر ہوگا جبکہ موجودہ صارفین کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے لیے کروڑوں صارفین کو بھاری سبسڈی فراہم کرنا ممکن نہیں رہا۔ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے باعث صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ اب خطے کے دیگر ممالک کے قریب آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے بنگلہ دیش میں چھ سے سات سینٹ فی یونٹ بجلی کے دعوے درست نہیں اور زمینی حقائق مختلف ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق ملک میں کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں 200 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد چند ملین تھی جو بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ گئی ہے، اور اس طبقے کو بھاری سبسڈی دینا ریاست کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو 70 فیصد تک سبسڈی دی جاتی رہی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ بعض صاحب حیثیت افراد سولر سسٹم لگانے کے بعد اپنی بجلی کی کھپت کم ظاہر کرتے ہیں اور رعایتی صارفین کی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے سبسڈی کا بوجھ مزید بڑھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے طبقے کو بجلی کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد رعایت دینا معاشی طور پر پائیدار نہیں۔ واضح رہے کہ حکومت ماضی میں بھی یہ عندیہ دے چکی ہے کہ سولر اور نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ایسی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں جن سے بجلی کے شعبے پر مالی دباؤ کم ہو اور دیگر صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔ توانائی ماہرین کے مطابق حکومت بجلی کے شعبے میں اصلاحات، نرخوں کو متوازن بنانے اور قومی گرڈ کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف پالیسی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

سونے کی قیمت میں

سونے کی قیمت میں ایک بار پھر ہزاروں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ سونے کے فی تولہ نرخ میں 5300 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ 24 ہزار 762 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 10گرام سونا 4 ہزار 544 روپے مہنگا ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 49 ہزار 898 روپے ہو گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 53 ڈالر مہنگا ہو گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 5020 ڈالر ہو گئی ہے۔ بنگلا دیش، سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی چاندی کی قیمت بھی مزید بڑھ گئی ہے، فی تولہ قیمت میں 346 روپے اضافہ ہونے سے نئی قیمت 8 ہزار 615 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

ملکی تاریخ میں پہلی

اسلام آباد: ملکی تاریخ میں پہلی بارکسی بھی مالی سال کی پہلی ششماہی میں سب سے زیادہ لیوی کی وصولی کا انکشاف ہواہے۔ سرکاری دستاویزات کےمطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں سالانہ بنیادوں پر پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں 273 ارب51کروڑ روپےکا اضافہ ہوا ہے، جولائی تا دسمبر2025 میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں822 ارب 93کروڑر وپےوصول کیےگئے جبکہ گزشتہ مالی سال جولائی تادسمبر2024 میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی549 ارب41 کروڑ روپے تھی۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ ماہ پیٹرول پر لیوی 4 روپے 65 پیسے اضافےکے بعد فی لیٹر 84 روپے 27 پیسے کردی تھی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 80 پیسے اضافے کے بعد فی لیٹر 76 روپے 21پیسے مقررکی گئی ۔ وفاقی حکومت کی جانب سےرواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں کاربن لیوی کی مد میں25 ارب48 کروڑ روپے کی الگ وصولی کی گئی۔

عالمی بینک کا

عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 20 ارب ڈالر کے 10 سالہ پروگرام پر عمل درآمد کا اعادہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی عرب میں عالمی بینک کی ایم ڈی سے ملاقات ہوئی۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور عالمی بینک کے ترقیاتی فریم ورک پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔ ملاقات میں توانائی، تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون پر بھی گفتگو کی گئی ، قرض کے بدلے ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی ۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق عالمی بینک نے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد بہتر بنانے پر زور دیا ، پاکستان کی معاشی اصلاحات کی حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ۔ دوسری جانب وزیر خزانہ کی سعودی وزیر سرمایہ کاری فیصل بن فاضل ابراہیم سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب پاکستانی ٹیلنٹ سے استفادے کے لیے پُرعزم ہے ۔

وفاقی حکومت کا بجلی

وفاقی حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی اور فکسڈ چارجز میں ردو بدل کا فیصلہ کرلیا۔ حکومت کی جانب سے ماہانہ 300 اور 700یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے بجلی سستی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز لگانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ فکسڈ چارجز پروٹیکڈ اورنان پروٹیکڈ دونوں صارفین پر لگانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے صرف 300 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پرفکسڈ چارجز عائد ہیں۔ حکومت کی جانب سے ماہانہ 100یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے اور ماہانہ 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر 300 روپے فکسڈ چارجزکی تجویز دی گئی ہے۔ 100یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 275 روپے جبکہ ماہانہ 200 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 300 روپے فکسڈ چارجز کی تجویز دی گئی ہے۔ ماہانہ 300یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 350روپے فکسڈ چارجز کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ماہانہ 400 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فسکڈ چارجز 200 روپے سے بڑھا کر400 روپے کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح ماہانہ 500 یونٹ استعمال کرنے والے کے نان پروٹیکٹد صارفین کے لیے فکسڈ چارجز 400 سے بڑھا کر 500 روپے کرنے جبکہ ماہانہ 600 یونٹ استعمال پر فکسڈ چارجز 600 سے بڑھا کر 675 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ماہانہ 700یونٹ تک استعمال پر فکسڈ چارجز 800 روپے سے کم کرکے 675 روپے کرنے جبکہ ماہانہ 700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز میں 325روپے کمی سے 675روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ساتھ ہی گھریلوصارفین کے لیے ماہانہ 400 یونٹ بجلی استعمال پر فی یونٹ ٹیرف میں ایک روپے 53 پیسے کمی کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ماہانہ 500یونٹ تک بجلی استعمال پر فی یونٹ ٹیرف میں ایک روپے 25 پیسے کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ماہانہ 600 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے پر فی یونٹ ٹیرف میں ایک روپے 40 پیسے جبکہ ماہانہ 700یونٹ استعمال پر فی یونٹ ٹیرف میں 91پیسے کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ ماہانہ 700یونٹ سے زائد استعمال پرٹیرف میں 49 پیسے فی یونٹ کمی کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 5کلو واٹ اور اس سے زائد لوڈ کے کمرشل صارفین کے لیے ٹیرف میں فی یونٹ ایک روپے 15پیسے کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ صنعتی شعبے کےلیے ٹیرف میں فی یونٹ 5 روپے تک کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد درخواست نیپرا میں جمع کروادی گئی ہے ، نیپرا پاور ڈویژن کی درخواست پر 10 فروری کو سماعت کرے گی۔

نیپرا نے دسمبر کی

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دسمبرکی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کردی۔ نیپرا نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی فی یونٹ 28 پیسے مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں اضافہ فروری کے بلوں میں وصول کیا جائے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین پر ہو گا جبکہ اضافہ کا اطلاق لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر نہیں ہوگا۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا میں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹممنٹ کی مد میں 48 پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کی درخواست دی تھی۔

پاکستان کے زرمبادلہ

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ماہ کے دوران 59 اعشاریہ 65 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہو گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 30 جنوری کو ختم ہوئے کاروباری ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر4.54 کروڑ ڈالر اضافے سے 21.33 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 5.61 کروڑ ڈالر اضافے سے 16.15 ارب ڈالر رہے، جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 1.07کروڑ ڈالر کم ہو کر 5.18 ارب ڈالر رہے۔ اسٹیٹ بینک کا بتانا ہے کہ جنوری 2026 میں ملکی زرمبادلہ ذخائر 59.65 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔

امریکا کی پاکستان کے

امریکا نے پاکستان کے گیم چینجر ریکوڈک منصوبے کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔ واشنگٹن میں امریکی وزیرخارجہ کی زیرِصدارت اجلاس میں اہم معدنیات کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سپلائی چین کے نئے ذرائع بنانے، محفوظ اور قابل بھروسا ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس نیٹ ورکس کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ۔ اس موقع پر امریکا نے پاکستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے والٹ پروجیکٹ کے تحت پاکستان کو یہ قرض امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک دے گا۔

پاکستان میں فی تولہ

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑی کمی ہوئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج فی تولہ سونے کی قیمت 21 ہزار 400 روپے کم ہوئی جس کے بعد سونا 5 لاکھ7ہزار 762 روپے تولہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ 10گرام سونےکی قیمت 18ہزار347 روپے کم ہوکر 4لاکھ 35ہزار 324 روپے ہوگئی ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 214 ڈالر کم ہوکر 4850 ڈالر فی اونس ہوگیا۔

بازاروں سے کلو کے

عالمی منڈی میں چاندی کی قیمتوں میں اچانک اور بھاری کمی نے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو حالیہ دنوں میں کلو کے حساب سے چاندی خرید رہے تھے۔ قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد کمی کے بعد کئی خریداروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ہفتے کے آغاز میں چاندی کی قیمت میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی تھی اور یہ بڑھ کر تقریباً 90 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی تھی۔ قیمتوں میں اضافے کے باعث بڑی تعداد میں سرمایہ کاروں نے چاندی کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے خریداری کی۔ تاہم صرف چند ہی دنوں میں صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی اور چاندی کی قیمت گر کر 65.67 ڈالر فی اونس تک آ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر طلب میں کمی، ڈالر کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے رجحان نے چاندی کی قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ قیمتوں میں اس تیز کمی کے باعث وہ افراد زیادہ متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے بلند نرخوں پر بڑی مقدار میں چاندی خریدی تھی۔ مقامی صرافہ بازاروں میں بھی اس کمی کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق خریدار اس وقت محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور نئی سرمایہ کاری سے گریز کیا جا رہا ہے۔ کئی افراد قیمتوں میں مزید کمی کے انتظار میں ہیں تاکہ کم نرخوں پر خریداری کی جا سکے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ایک عام بات ہے، تاہم اس بار کمی کی رفتار غیر معمولی رہی جس نے سرمایہ کاروں کو چونکا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں قیمتوں کا دارومدار عالمی معاشی حالات، صنعتی طلب اور کرنسی مارکیٹ کی صورتحال پر ہوگا۔ دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ کمی عارضی ہو سکتی ہے اور طویل مدت میں چاندی کی قیمت دوبارہ سنبھل سکتی ہے۔ تاہم فی الحال مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے اور حالیہ دنوں میں مہنگے داموں چاندی خریدنے والوں کو خاصا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

ایران امریکا مذاکرات

ایران امریکا مذاکرات سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل ایک اعشاریہ پانچ نو ڈالر فی بیرل سستا ہوا جس کے بعد برطانوی خام تیل کی قیمت 67 اعشاریہ 87 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی ایک اعشاریہ پانچ ایک ڈالر کمی سے 63 اعشاریہ 63 ڈالر فی بیرل ہوگئی ۔ ٹریڈنگ سیشن کے دوران ایک موقع پر دونوں عالمی بینچ مارکس کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

5 ہزار کا نوٹ ختم ہو گا

گورنر اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کر دیا۔ اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ 10 روپے سے لے کر 5 ہزار روپے تک تمام نوٹوں کے نئے ڈیزائن تیار کر لیے گئے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس حوالے سے تجاویز وزارتِ خزانہ کو بھیج دی گئی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کی کسی تجویز پر غور نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے نوٹوں پر مرکزی بینک نے تفصیلی کام کیا، جس کے بعد اسٹیٹ بینک بورڈ سے منظوری لے کر معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ سونے کی قیمت نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ نئے نوٹوں میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں تاکہ جعلی کرنسی کی روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے، ان کا کہنا تھا کہ نئے نوٹوں سے متعلق حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت

جاری مالی سال (26-2025)کے پہلے 7 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکومت نے آئندہ 15 روز کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کردیا انڈسٹری کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے 7 ماہ(جولائی تا جنوری) میں 9.67 ملین ٹن پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 9.41 ملین ٹن کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے۔ جنوری میں 1.52 ملین ٹن پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال جنوری کے 1.38 ملین ٹن کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔ دسمبر کے مقابلے میں جنوری میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ دسمبر میں ملک میں 1.35 ملین ٹن پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں 4.50 ملین ٹن پیٹرول، 4.24 ملین ٹن ہائی سپیڈ ڈیزل اور 0.26 ملین ٹن فرنس آئل کی فروخت ہوئی۔ یو اے ای، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملک میں 4.37 ملین ٹن پیٹرول، 4.06 ملین ٹن ہائی سپیڈ ڈیزل اور 0.41 ملین ٹن فرنس آئل کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی۔ پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر بالترتیب تین اور چار فیصد کا اضافہ جبکہ فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 36 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

خام تیل سستا ہو گیا

امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کی خبروں کے بعد عالمی تیل منڈی میں قیمتوں پر فوری اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، اور خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ بات چیت کی اطلاعات پر عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے رجحان میں تبدیلی آئی، جس کے نتیجے میں تیل سستا ہو گیا۔ برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 2.07 فیصد کمی کے بعد 68.02 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 2.06 فیصد کمی کے ساتھ 63.80 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ سونے کے بعد تیل کی قیمتیں بھی گر گئیں یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، تاہم امریکا–ایران مذاکرات کی خبروں کے بعد مارکیٹ کا رجحان نیچے کی جانب ہو گیا ہے۔

معاشی اصلاحات: جنوری میں

اسلام آباد: ایس آئی ایف سی کی معاشی اصلاحات سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق جنوری میں پاکستان کی برآمدات پہلی بار 3 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں جب کہ درآمدات کم ہو کر ساڑھے 5 ارب ڈالر کے قریب رہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں 35 فیصد اضافہ اور درآمدات میں 5 فیصد کمی ہوئی جب کہ مالی سال کے 7 ماہ میں برآمدات 18 ارب اور درآمدات 40 ارب ڈالر رہیں۔ ٹیکسٹائل شعبہ برآمدات میں سرفہرست رہا، ویلیو ایڈڈ سیگمنٹ میں نمایاں بہتری ہوئی جب کہ اسپورٹس، کیمیکل، فارما اور انجینئرنگ برآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔ حکام کے مطابق جنوری 2026 میں تجارتی خسارہ کم ہو کر 28 فیصد رہ گیا۔

سونے کی ایک بار پھر اونچی

ملک بھر میں سونے کی قیمتوں کی اونچی اڑان جاری ہے اور آج فی تولہ 14 ہزار 800 روپے مہنگا ہو گیا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج فی تولہ سونے کی قیمت 14 ہزار 800 روپے کے اضافے کے بعد 5 لاکھ 29 ہزار 162 روپے ہو گئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 12 ہزار 689 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 53 ہزار 671 روپے ہو گئی۔ عالمی بازار میں سونے کی قیمت 148 ڈالرز کے اضافے سے 5064 ڈالرز فی اونس ہو گئی۔

لیسکو نے نیٹ میٹرنگ

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے ایکسپورٹ ریٹ میں کمی کردی۔ لیسکو میں نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے نئی بلنگ پالیسی نافذ کی گئی ہے جس میں صارفین کے لیے ایکسپورٹ ریٹ میں 66 پیسے کمی کی گئی ہے جس کے بعد فی یونٹ ایکسپورٹ ریٹ 25.98 روپے سے کم ہو کر 25.32 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ لیسکو کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی بلنگ پالیسی جنوری 2026 کے بلنگ سائیکل سے نافذ العمل ہوگی اور منظور شدہ ڈی جی کپیسٹی سے زائد ایکسپورٹ یونٹس پر پابندی عائد ہوگی جب کہ اضافی ایکسپورٹ یونٹس کو ڈی جی کپیسٹی کے تناسب سے محدود کیا جائےگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سی پی 22 کے تحت ایکسپورٹ یونٹس کی ایڈجسٹمنٹ جاری رہے گی، نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے ایکسپورٹ ایم ڈی آئی کا درست اندراج لازمی کی جائے۔

نئےکرنسی نوٹوں کا ڈیزائن

اسلام آباد:گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہےکہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ نے منظوری کے بعد وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ نے منظوری کے بعد وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے، حکومت کی منظوری کے بعد نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جائیں گے جب کہ 5 ہزار روپے کا نوٹ ختم کرنے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اس دوران سینٹر عبدالقادر کا کہنا تھا کہ لوگ تین چار سال کا سپر ٹیکس کیسے دیں گے، اس طرح تو آپ لوگوں کو ملک سے نکال رہے ہیں، ایف بی آر جس طرح ہراساں کر رہا ہے وہ درست نہیں ہے، لوگوں سے فوری ٹیکس ادائیگی کی بجائے اس ٹیکس کی وصولی دو تین سال میں کی جائے۔ اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا آئینی عدالت نے تو کہہ دیا کہ سپر ٹیکس پارلیمان کا اختیار ہے لیکن اس سے لوگوں پر دباؤ اور بوجھ بڑھا ہے، ایک ہی کلاس سے بار بار ٹیکس ریونیو سے اضافہ کوئی ریوینیو ماڈل نہیں ہے۔ اس موقع پر چیئر مین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کچھ کیسز می سپر ٹیکس کی اقساط بھی کر دیں گے، سپر ٹیکس کی کل وصولی 217 ارب روپے بنتی ہے، ٹیکس دہندگان کا ٹیلی فون پر پیغام بھیجنے سے ان کی تعداد میں 10 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جس پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ انہیں بھی ایف بی آر کا پیغام ملا ہے۔

یو اے ای میں شہریوں

متحدہ عرب امارات میں شہریوں نے قرض اتارنے اور جائیداد خریدنے کیلئے زیورات بیچنا شروع کردیے۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سونے کی قیمت ریکارڈ سطح کے بعد تیزی سے نیچے آ گئی جبکہ دبئی گولڈ سوک میں فروخت کنندگان کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں سونے اور چاندی کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچنے اور پھر اچانک کمی آنے کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں اور سرمایہ کاروں نے اپنے زیورات اور دھاتیں فروخت کر دیں۔

ایف بی آر کی جانب

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کے نئے سرکاری ریٹ جاری کردیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کے نظرثانی شدہ ویلیوایشن جاری کیے گئے ہیں، نئے ریٹس کے مطابق جائیدادوں کے ریٹس میں 15سے 75فیصد اضافہ کیاگیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے ریٹس کے مطابق غیرمنقولہ املاک کی مارکیٹ ویلیو کا تعین نئی شرح کے مطابق کیا جائے گا اور کیپیٹل گین ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ نئے ریٹ کے مطابق 5 سال تک پرانے رہائشی تعمیر شدہ اسٹرکچر کے نئے ریٹس 3ہزار روپےفی مربع فٹ مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ 5 سال سے پرانی تعمیر شدہ جائیدادکے ریٹ 1500روپے فی مربع فٹ مقرر ہوگئے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے ایس آر او کے جاری ہونے کے بعد پرانی قیمتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔

پاکستان میں سونا مسلسل

کراچی: ملک بھر میں سونا مسلسل سستا ہونے کے بعد ہزاروں روپے مہنگا ہوگیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے سونے کے نئے بھاؤ جاری کردیے جس کے بعد ملک بھر میں فی تولہ سونا 24ہزار روپے مہنگا ہوا اور اب سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 14ہزار 362 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 20 ہزار 576 روپے اضافے سے 4لاکھ40ہزار 982 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 240 ڈالر اضافے سے 4916 ڈالر فی اونس ہے۔

73 فیصد پاکستانیوں

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر کرائے گئے سروے کے نتائج جاری کردیے۔ سروے میں عوام کی اکثریت یعنی67 فیصد نے بدعنوانی کا سامنا نہ ہونےکی تصدیق کردی۔ 5 فیصد نےکہا سرکاری ملازم کو غیر قانونی طریقے سے خود دولت بناتے دیکھا، 73 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی رشوت دینےکی نوبت پیش نہیں آئی۔ رپورٹ کے مطابق سروے میں بدعنوانی کے بارے میں "عوامی تاثر" اور "ذاتی تجربے" میں واضح فرق سامنے آگیا۔ 68 فیصد کا "تاثر" ہےکہ سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے،27 فیصد نے کہا کہ ان سے رشوت مانگی گئی۔ 56 فیصد افراد کا تاثر ہے سرکاری اداروں میں اقربا پروری عام ہے ، 24 فیصد نے کہا کہ انہوں نے ایسی صورت حال بھگتی جہاں اقربا پروری نے میرٹ کی خلاف ورزی کی۔ ایف پی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ سروے کا مقصد ملک میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس بنانا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہےکہ ایک سیاسی گروہ نے سیاسی مفاد کے لیے منفی پروپیگنڈا کیا ، سروے درست حقائق تک پہنچنے کے لیے کیا گیا ، بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں ۔

پاکستان میں سونا سستا

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی بڑی کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز کے مطابق آج کاروباری ہفتے کے پہلے روز بھی فی تولہ سونے کی قیمت 21500 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 90 ہزار 362 روپے کا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ 10گرام سونےکی قیمت18433 روپے کم ہوکر 4 لاکھ 20 ہزار 406 روپے ہوگئی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ 3 روز میں فی تولہ سونے کی قیمت 82500 روپے کم ہوچکی ہے۔ دوسری جانب عالمی بازارمیں سونے کی قیمت 215 ڈالر کم ہوکر 4676 ڈالر فی اونس ہے۔

ڈیزل مہنگا کرنے کے بعد

اوگرا نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 175 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے ہو گیا ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے سے ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے صارفین پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے، جہاں آج بھی مٹی کا تیل گھریلو استعمال، روشنی اور کھانا پکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی کی مجموعی شرح پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور مالیاتی دباؤ کے باعث کیا جا رہا ہے۔

ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مائع پیٹرولیم گیس ( ایل پی جی) کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی6 روپے 37پیسے فی کلو مہنگی کر دی گئی ہے۔ جس کے بعد ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 75 روپے 21 پیسے منہگا ہوگیا ہے۔ اوگرا کے مطابق ایل پی جی کی نئی قیمت کا اطلاق یکم فروری سے ہوگا۔

حکومت نے ڈیزل کی قیمت

اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کرتے ہوئے ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹرمقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے ہوگا۔

ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا

اسلام آباد: ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اہم دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ ذرائع کے مطابق عالمی بینک کے صدر اجے بنگا 4 فروری تک پاکستان میں قیام کریں گے جس دوران وہ اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران معاشی اصلاحات، بھارت کے ساتھ جاری آبی تنازع پر بات چیت متوقع ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اجے بنگا کی وزیراعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے علاوہ توانائی و اقتصادی امور کے حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کو پاکستان کی معاشی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات سے آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عالمی بینک کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر عملدرآمد میں پیشرفت متوقع ہے، عالمی بینک اس فریم ورک کے تحت 2035 تک پاکستان کو 20 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔

پیٹرول کی قیمت میں کمی

پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔ آج رات بارہ بجے یکم فروری سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہو جائے گا، پیٹرول 36 پیسے سستا ہونے کی توقع ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے 47 پیسے اضافہ ہو سکتا ہے۔مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 45 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں تقریباً 7 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز ہے۔ دو دن میں سونے کی قیمت میں تاریخی کمی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد ہو گا۔

جون 2026 تک سونے کی

جون 2026 تک عالمی سطح پر سونے کی قیمت کہاں تک جائیگی؟نئی پیشگوئی کردی گئی۔ یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (UBS) نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کے وسط تک عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 6 ہزار 200 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جاسکتا ہے۔ تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سونے کی قیمت دھڑم سے گر گئی قبل ازیں عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیچز(Goldman Sachs) نے سونے کی قیمت سے متعلق پیش گوئی کی تھی جس کے مطابق 2026 کے اختتام تک فی اونس سونے کی قیمت 5,400 ڈالر تک جاسکتی ہے۔ یاد رہے گزشتہ شب سونے کی قیمت 5 ہزار 594 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد اچانک 5 فیصد کمی کے ساتھ 5 ہزار 109 ڈالر تک آ گئی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مختصر مدت میں قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم مجموعی طور پر سونے کی کارکردگی اب بھی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔ سونے اور چاندی کی قیمتیں گرنے سے 3 کھرب ڈالر کا نقصان ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا ماہانہ بنیادوں پر 24 فیصد اضافے کے ساتھ سال 1980 کے بعد اپنی بہترین پوزیشن میں ہے، جو عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی معاشی اشاریوں، امریکی ڈالر کی قدر، شرح سود اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی فیصلے سے قبل احتیاط سے کام لیں۔

9 اشیاء ضروریہ سستی

ملک میں 9 اشیاء ضروریہ سستی ،18 مہنگی ہوگئیں ،24 کی قیمتوں میں استحکام رہا، ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر کمی جبکہ سالانہ بنیادوں پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دسمبر میں مہنگائی میں کمی، ادارہ شماریات کی ماہانہ رپورٹ جاری پاکستان بیورو برائے شماریات کے مطابق گذشتہ ہفتہ کے دوران آلو کی قیمت میں 7.81 فیصد، پیاز 6.66 فیصد، نمک پائوڈر 1.36 فیصد، آٹا 1.17 فیصد، دال مسور 0.75 فیصد، انڈے 0.30 فیصد، گڑ 0.24 فیصد اور باسمتی چاول کی قیمت میں 0.08 فیصد کی کمی ہوئی۔ اس کے برعکس ٹماٹر کی قیمت میں 7.53 فیصد، چکن 3.25 فیصد، کیلا 3.07 فیصد، ایل پی جی 1.56 فیصد، دال ماش 1.49 فیصد، دال چنا 1.31 فیصد، سرخ مرچ پائوڈر 0.66 فیصد، دال مونگ 0.61 فیصد، جلانے کی لکڑی 0.37 فیصد، اڑھائی کلو بناسپتی گھی 0.32 فیصد اور سگریٹ کی قیمت میں 0.24 فیصد کا اضافہ ہوا۔

بلوچستان میں گندم کی قلت

بلوچستان میں گندم کی قلت کے باعث ایک کلو آٹا 145روپے کا ہوگیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اندورن صوبہ 20 کلو آٹےکے تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپےسے تجاوزکرگئی ہے۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک کے پاس گندم کا اسٹاک موجود نہیں ہے، پنجاب اور سندھ سے گندم لانے پر پابندی ہے، نئی فصل آنے تک صوبےکے شہریوں کو مہنگے داموں آٹا خریدنا پڑے گا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر خوراک نے بتایاکہ صوبائی حکومت نےگندم نہ خریدنےکافیصلہ کیاہے۔

لاکھوں روپے لاگت والی آلو

ملک میں اس بار آلو کی گرتی قیمتوں سے کاشت کاروں کے ساتھ مڈل مین بھی پریشان ہیں اور ڈھائی تین لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت والی آلو کی فصل کے 50 ہزار دینے والا بھی کوئی نہیں جس جے باعث نئی فصل لگانا بھی نا ممکن ہو گیا۔ افغانستان اور ایران کا بارڈر بند ہونے کےباعث پنجاب میں آلو کی فصل کا خریدار کوئی نہیں، زیادہ پیدوار کی وجہ سے آلو اسٹور کرنے میں بھی گھاٹا ہے اور آلو کی فصل نہیں اٹھائی جارہی۔ اگلی فصل میں بھی تاخیر کا سامنا ہے۔ 3 لاکھ روپے والا آلو کا ایک ایکڑ 40 یا 50 ہزار روپے میں بھی نہیں بک رہا، کسان قرضے تلے دب چکے ہیں۔ آڑھتیوں کا کہنا ہے ایک وقت تھاکہ آڑھتی اور کولڈ اسٹوریج والےکسانوں سے سستا آلو خرید کر رکھ لیتے تھے اور پھر صارفین کو 100 سے 150 روپے کلو بیچتے تھے لیکن اب کوئی 10 روپے کلو بھی لینے والا نہیں۔ محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سال آلو کی پیداوار زیادہ ہے کوشش ہے زیادہ سے زیادہ ایکسپورٹ کریں۔ اسٹور مالکان کے مطابق جو کاشت کار آلورکھوا گئے تھے وہ بھی لینے نہیں آرہے، ہم مجبوراً جانوروں کے چارے کےطورپر اونے پونے داموں بیچ رہے ہیں۔ الو کے کاشت کاروں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس وقت وہ مشکلات کا شکار ہیں، مزید تباہی سے بچانے کیلئے ایکسپو رٹ کا راستہ نکالا جائے اور ان کی مدد کی جائے ورنہ نئی فصل اگانا ممکن نہیں گا۔

امریکی مالیاتی تسلط

اسلام آباد: امریکی مالیاتی تسلط کے خلاف عالمی دباؤ کے باعث بھارت، چین اور برکس نے ڈالر سے منہ موڑ لیا۔ دہائیوں تک امریکی ڈالر کی حکمرانی قائم رہی، جس نے عالمی تجارت، زرمبادلہ کے ذخائر اور اشیاء کی منڈیوں کو سہارا دیا لیکن اب یہ برتری ایک ایسے دباؤ کی زد میں ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایشیا، افریقا، لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک اب اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی ایک ملک کے زیرِ اثر واحد کرنسی پر انحصار کرنا دانشمندی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اب تیزی سے ایسے متبادل ذرائع تیار کر رہے ہیں جو عالمی مالیاتی نظام کا ڈھانچہ بدل کر رکھ سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کی قیادت چین، روس اور بھارت کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران، بھارت نے 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کیے ہیں جو کہ ان کے ذخائر میں 21 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ گزشتہ چار سالوں میں پہلی بار ہے کہ ان ذخائر میں سالانہ بنیادوں پر اتنی بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ چین نے اکتوبر 2024 اور اکتوبر 2025 کے درمیان 71 ارب ڈالر مالیت کے امریکی قرضے (ٹریژری بانڈز) فروخت کر دیے ہیں۔ برکس ممالک نے مجموعی طور پر صرف ایک ماہ کے دوران اپنے امریکی ٹریژری ذخائر میں 29 ارب ڈالر کی کمی کی ہے، جو کہ ریزرو مینجمنٹ میں ایک خاموش لیکن مربوط تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔ ڈالر کی کمزوریاں اب بالکل واضح ہو چکی ہیں۔ امریکی حکومت کا قرضہ 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، شرحِ سود میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے، بانڈز کی قیمتیں گر گئی ہیں اور قرض لینے کی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ جغرافیائی سیاسی خطرات اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ مغربی پابندیوں کے تحت روس کے ڈالر کے ذخائر کو منجمد کر دیا گیا، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ ڈالر کے اثاثوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالات کا سبق بالکل واضح ہے: تمام تر مالیاتی بھروسہ کسی ایک واحد کرنسی پر کرنا اب محفوظ نہیں رہا۔ اس کے نتیجے میں، اقوام اپنی سرمایہ کاری کو مختلف اثاثوں میں تقسیم کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ’’سونا‘‘ ایک بار پھر زرمبادلہ کے ذخائر کی حکمت عملیوں کے مرکز میں واپس آ گیا ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کے برعکس، سونے میں دیوالیہ ہونے یا پابندیوں کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا، جو بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی افراتفری میں استحکام فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح، تجارت اور ادائیگیوں کا نظام بھی تیزی سے ڈالر کے دائرہ کار سے باہر نکل رہا ہے۔ چین 40 سے زائد ممالک کے ساتھ ’’یوآن‘‘ میں لین دین کر رہا ہے، جبکہ بھارت نے 20 ممالک کے بینکوں کے ساتھ ’’روپے‘‘ کے خصوصی اکاؤنٹس قائم کر لیے ہیں۔ بھارت نے برکس پر مبنی ایک ڈیجیٹل کرنسی نیٹ ورک کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ ’پروجیکٹ ایم برج‘ کے تحت مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے تجربات کیے جا رہے ہیں، جنہیں سونے اور قومی کرنسیوں کا تحفظ حاصل ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ڈالر کی غیر چیلنج شدہ برتری کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔ جے پی مورگن کی جوائس چانگ مشاہدہ کرتی ہیں کہ امریکی ڈالر ایک اہم عالمی کرنسی کے طور پر تو برقرار رہے گا، لیکن اب یہ واحد غالب عالمی کرنسی نہیں رہے گا۔

وزیراعظم کا بڑا اعلان؛

وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری اور صنعتوں کے لیے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ویلنگ چارجز میں صنعتوں کے لیے 9 روپے کمی اور ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کی شرح ساڑھے 7 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دل تو چاہتا ہے بجلی 10 روپے سستی کی جائے، مگر بعض مجبوریوں کے باعث ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے برآمدکنندگان اور نمایاں کاروباری شخصیات کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ دیا جائے گا، جس کی تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ برآمدکنندگان اور کاروباری طبقہ ملکی معیشت کا سر کا تاج ہیں اور آئندہ معاشی پالیسیاں تاجر برادری سے مشاورت کے بعد تشکیل دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدکنندگان نے مشکل حالات میں محنت کر کے 2025 میں ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا اور اربوں ڈالر ملک میں لائے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں اور کچھ لوگوں نے ملک کو تکنیکی طور پر ڈیفالٹ قرار دے دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 میں پیرس سمٹ کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط پر بات چیت ہوئی، تاہم چین، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا گیا۔ ان کے مطابق اب معیشت مستحکم ہو چکی ہے، مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے اور پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد تک آ چکا ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ صورتحال ابھی مزید بہتری کی متقاضی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ذخائر پہلے سے دگنے ہو چکے ہیں اور حکومت اخراجات کم کرنے، نجکاری اور شفافیت کے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے شوگر سیکٹر، یوٹیلیٹی اسٹورز اور پاسکو میں کرپشن کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سخت فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام میں سیکیورٹی اداروں نے اہم کردار ادا کیا اور پیٹرول کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے معاشی اصلاحات جاری رہیں گی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے رابطے تیز کیے جا رہے ہیں۔

سیمنٹ کی فروخت میں سالانہ

جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ملک میں سیمنٹ کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر9فیصد جبکہ برآمدات میں ایک فیصداضافہ ریکارڈکیاگیاہے۔ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں 29.94ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 9فیصدزیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملک میں 27.54ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی تھی۔ جنوری میں ملک میں 4.15ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت کااندازہ ہے جوگزشتہ سال جنوری کے 4.03ملین ٹن کے مقابلہ میں 3فیصدزیادہ ہے۔ اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملک کے شمالی شہروں وعلاقوں میں 20.66ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 12فیصدزیادہ ہے،گزشتہ مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملک کے شمالی شہروں وعلاقوں میں 18.38ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی تھی۔ مالی سال کے پہلے7ماہ میں ملک کے جنوبی شہروں وعلاقوں میں 3.82ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.77ملین ٹن کے مقابلہ میں ایک فیصدزیادہ ہے۔ اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں 5.46ملین ٹن سیمنٹ کی برآمدات ریکارڈکی گئی جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 5.39ملین ٹن کے مقابلہ میں ایک فیصدزیادہ ہے۔ جنوری میں ملک سے 0.83ملین ٹن سیمنٹ کی برآمدات کااندازہ ہے جوگزشتہ سال جنوری کے 0.58ملین ٹن کے مقابلہ میں 43فیصدزیادہ ہے۔

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر

ملکی زرمبادلہ کے مجوعی ذخائر میں ساڑھے 3 کروڑ ڈالر سے زائد اضافہ ہوگیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر 1کروڑ34 لاکھ ڈالر اضافے سے 16ارب10کروڑ ڈالر ہوگئے۔ نئے کرنسی نوٹ مارکیٹ میں کب دستیاب ہوں گے؟ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا اسی طرح کمرشل بینکوں کے ذخائر 2کروڑ17لاکھ ڈالر اضافہ سے 5ارب19 کروڑ ڈالرزکی سطح پر آگئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی مجموعی ذخائر 3کروڑ51لاکھ ڈالرز اضافہ سے 21ارب29 کروڑ ڈالرز ہوگئے ہیں۔

امریکا، ایران کشیدگی؛

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج کے خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے تیار کردہ تخمینوں کے مطابق یکم فروری 2026 سے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 9.47 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکام کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 3.69 روپے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6.95 روپے فی لیٹر اضافے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑ رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی بھی اضافے سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔ حتمی فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات کی روشنی میں وفاقی حکومت کرے گی۔

سونے کے بعد چاندی

عالمی منڈی میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں سونے کے بعد چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 121 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد اچانک دباؤ کا شکار ہو گئی اور 7 ڈالر کی کمی کے ساتھ 114 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق قیمتی دھاتوں میں حالیہ دنوں میں تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر فروخت کا رجحان سامنے آیا ہے، جس کے باعث قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔ سونے کے بعد چاندی میں آنے والی اس تیز گراوٹ نے سرمایہ کاروں اور تاجروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاندی اور پلاٹینم جیسی نسبتاً چھوٹی مارکیٹوں میں قیاس آرائیوں کا عنصر زیادہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں حقیقی قدر سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی بھی بڑی حد تک قیاس آرائیوں اور شارٹ ٹرم سرمایہ کاری کا نتیجہ تھی، جس کے ختم ہوتے ہی قیمتوں میں اصلاح (Correction) دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ قلیل مدت میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، تاہم مجموعی طور پر عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور جغرافیائی سیاسی تناؤ قیمتی دھاتوں کی طلب کو سہارا دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گراوٹ کے باوجود سونا اور چاندی اب بھی طویل مدتی بنیادوں پر مضبوط پوزیشن میں سمجھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کا انحصار عالمی مالیاتی پالیسیوں، امریکی ڈالر کی قدر، شرح سود اور سرمایہ کاروں کے رویّے پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ فوری منافع کے بجائے محتاط حکمت عملی اپنائیں اور مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں اس غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتی دھاتوں سے وابستہ کاروباری حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ سرمایہ کار آئندہ رجحان کے واضح ہونے کے منتظر ہیں۔

سپر ٹیکس پر عدالتی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سپر ٹیکس پر وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد 237 ارب کی وصولی کی تیاری کرلی۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سپر ٹیکس کی مد میں 327 ارب روپے وصول کرنے ہیں۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق صرف تیل و گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں سے تقریباً 90 ارب روپے وصول ہونے ہیں کیونکہ تیل وگیس دریافت کرنے والی کمپنیاں پہلے ہی 44 سے 55 فیصد ٹیکس ادا کررہی ہیں۔ ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ قانون کے مطابق ان کمپنیوں سے اس سے زیادہ ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا لہٰذا ایف بی آر نے237 ارب روپے سپرٹیکس کی مد میں وصو ل کرنے کے لیے تیاری کرلی ہے۔ ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ بڑی کمپنیوں سے اگلے 3 دن میں 100 ارب جمع کرنے کے لیے رابطے کرلیے گئے ہیں جب کہ سپرٹیکس کے معاملے پر آئینی عدالت کے فیصلے سے آئی ایم ایف کوبھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

کراچی کےکاروباری

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کا کہنا ہےکہ کراچی کےکاروباری طبقےکا بڑا حوصلہ ہے، ناانصافیوں کے بعد بھی ڈٹا ہوا ہے،کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتارسکتے ہیں۔ کراچی میں کاروباری طبقے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقے کی پریشانیوں اورچیلنجز کا ادراک ہے،کاروباری اعتماد بہت اچھا نہیں ہے، ٹیکسوں کے مسائل ہیں، سکیورٹی بہت آئیڈیل نہیں ہے، یہ معاملات میرے نہیں ہیں لیکن یہ اعتماد پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ آپ کے معاملات حل کرائیں گے، تمام منفی چیزوں کے باوجود کچھ بہت اچھی چیزیں ہو رہی ہیں، 25 کروڑ آبادی میں 65 فیصد نوجوان ہیں، پاکستان خوراک پیدا کرنے والا امیر ملک ہے، زراعت ہماری ضرورت پوری کرلیتا ہے، ایندھن اور کھانےکا تیل منگوانا پڑتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کا کہنا تھا کہ مئی کے بعد پاکستان کی دنیا میں نئی شناخت سامنے آئی ہے، قرضوں کی وجہ سے پوری دنیا میں برے حالات ہیں، دنیا ڈالر سے دوسری کرنسیوں پر منتقل ہو رہی ہے، اگلے دو سال بہت اہم ہیں، ہمارے لیے مواقع بڑھیں گے، حکومت کا ظرف ہے کہ آئی ایم ایف سے مذکرات کی مشکل بتاتی نہیں، آئی ایم ایف سے نکلنے کا قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ کاروباری طبقے کی مشاورت سے کام کریں گے، وسائل ہم مہیا کریں گے، کراچی کا نیا چہرہ ہوگا،کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، وسط اپریل اور مئی تک آپ کے ریزرو 40 سے 48 ارب ڈالر ہوں گے، بہت سے نئے آئیڈیاز پر کام کر رہے ہیں، لوگوں کو نوکریوں سےنہ نکالیں بہت کچھ آنے والا ہے، معیشت کا پہیہ چلےگا تو سارے مسائل حل ہوں گے،کاروباری طبقے کو سہولیات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیب نے تین سال میں 12.4 ٹریلن کی ریکوری کی ہے، تین مہینوں میں 11 ہزار ارب زمزید جمع کروں گا، اس شہر کے ساتھ بہت بڑی دھوکے بازی ہوئی ہے، بنگلادیش بھائی سے بھائی کی سازش سے الگ ہوئے، سازش ناکام ہوئی اور بھائی کے ساتھ بھائی مل گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی زمینوں کا ریکارڈ ڈیجٹلائز ہوگا، ہم نے 1500 ارب کی زمینیں واہگزار کرائیں ہیں، چند روز میں اس کی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔

بھارت اور یورپی یونین تجارتی

لاہور: سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے یورپی یونین اور بھارت کے تجارتی معاہدے پر کہا ہےکہ یہ معاہدہ پاکستان کی صنعتوں کے لیے بڑا خطرہ ہے، تجارتی معاہدے سے پاکستان کی 9 ارب ڈالرز کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس متاثر ہوسکتی ہیں۔ ایک بیان میں گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ایک کروڑ افراد کا روزگار متاثر ہوسکتا ہے، یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا، پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک پر اب زیرو ٹیرف کا اطلاق ہوگا، اس سے قبل صرف پاکستان کے لیے یورپی یونین نے زیرو ٹیرف فراہم کیا ہوا تھا۔ گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ حکومت کو ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری بچانے کے لیے آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا، ٹیکسٹائل انڈسٹری کو علاقائی نرخوں پر بجلی و گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتوں پر ٹیکسز کی شرح علاقائی ممالک کے برابرکی جائے، صنعتوں کی کاروباری لاگت کو ہمسایہ ممالک کے برابر کیا جائے، ملکی صنعتیں سسٹم کی نااہلی کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتیں۔ بھارت اور یورپی یونین نے ’مدر آف آل ڈیلز‘ پر اتفاق کرلیا خیال رہےکہ بھارت اور یورپی یونین نے ایک بڑے تجارتی معاہدے پر اتفاق کرلیا ہےجسے فریقین نے ’مدر آف آل ڈیلز‘ قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق اس معاہدے کے تحت یورپی برآمدات کے تقریباً 97 فیصد پر ٹیرف کم یا ختم کر دیے جائیں گے جس سے سالانہ 4 ارب یورو تک ڈیوٹی کی بچت ہو سکےگی۔ یورپی حکام کے مطابق یہ اب تک بھارت کا سب سے جامع اور وسیع تجارتی معاہدہ ہے جس سے یورپ کے زرعی، آٹو موبائل اور خدمات کے اہم شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق معاہدے میں سکیورٹی شراکت داری بھی شامل ہے جس سے دفاعی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نریندر مودی کے مطابق اس معاہدے سے بھارت کے ٹیکسٹائل، قیمتی پتھروں اور زیورات، چمڑے کی مصنوعات اور خدمات کے شعبے کو بھی فروغ ملےگا۔

ملک میں بینکوں کی

کراچی: پاکستان میں بینکوں کی سرمایہ کاری ڈپازٹس سے بھی تجاوز کرگئی۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں بینکوں کے ڈپازٹس 5.8 فیصد بڑھ کر 37431 ارب روپے ہوگئے اور ان 12 ماہ میں بینکوں کے ڈپازٹس 23.6 فیصد بڑھے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں کی سرمایہ کاری ایک سال میں 30 فیصد بڑھی جس سے دسمبر 2025 تک بینکوں کی سرمایہ کاری کا حجم 37910ارب روپے ہوگیا۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ایک سال میں بینکوں نے 8781 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جس دوران بینکوں کے ایڈوانسز کا حجم دسمبر 2025 تک 14880 ارب روپے رہا جب کہ ایک سال میں بینکوں کے ایڈوانسز 7 فیصد کم ہوئے، ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب 53 فیصد سے کم ہو کر 39.8 فیصد پر آ گیا۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد کے مطابق انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ تناسب 96 فیصد سے بڑھ کر 101.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

یکم فروری سے پیٹرول

اسلام آباد: یکم فروری سے پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ انڈسٹری ذرائع کا کہناہےکہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیٹرول 36 پیسے فی لیٹر سستا ہوسکتا ہے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 9 روپے 47 پیسے فی لیٹرتک مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق مٹی کا تیل 3 روپے 69 پیسے فی لیٹر مہنگا اور لائٹ ڈیزل 6 روپے 95 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ انڈسٹری ذرائع نے بتایا کہ اوگرا 30 جنوری کو ورکنگ پیٹرولیم ڈویژن کو بھجوائے گا، وزارت خزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت سےکرے گی۔

2026میں پاکستان میں

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس نے پاکستان کے معاشی اشاروں کی پیشگوئی کردی ہے۔ رواں سال 2026میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 5.1 فیصد رہنے کا امکان ہے ،2027میں مہنگائی معمولی اضافے کے ساتھ 5.6 فیصد تک جاسکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا آئندہ 2 ماہ کیلئے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0.5 فیصد سے بڑھ کر 1.3 فیصد تک جاسکتا ہے ،مالی سال 2026میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی نمو 3.5 فیصد رہے گی۔ مشیر وزارت خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ایس اینڈ پی اور اسٹیٹ بینک کی پیشگوئیوں میں مجموعی طور پر ہم آہنگی ہے۔ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل، اسٹیٹ بینک اسٹیٹ بینک نے2 سالوں کیلئے مہنگائی 5 سے 7 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے ، اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0 سے 1 فیصد کی توقع کی جبکہ معاشی شرح نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔

نئے کرنسی نوٹ مارکیٹ میں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے حتمی منظوری ملتے ہی دو سے تین مختلف مالیت کے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کی چھپائی شروع کر دی جائے گی۔ یہ بات اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے تازہ مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے نوٹوں کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور کابینہ کی منظوری کے فوراً بعد چھپائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا نئے ڈیزائن کے بینک نوٹ چھاپنے کا عمل کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ کابینہ کی منظوری سے مشروط، ہم جلد ہی چھپائی شروع کر دیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹ بیک وقت چھاپے جائیں گے۔ جمیل احمد کے مطابق نئے ڈیزائن کے نوٹ فوری طور پر مارکیٹ میں نہیں آئیں گے بلکہ مرحلہ وار گردش میں لائے جائیں گے، جب اسٹیٹ بینک موجودہ نوٹوں کو تبدیل کرنے کے لیے کم از کم مطلوبہ ذخیرہ تیار کر لے گا۔ انہوں نے کہ جیسے ہی مرکزی بینک موجودہ زیرِ گردش نوٹوں کو تبدیل کرنے کے لیے کم از کم ضروری اسٹاک حاصل کر لے گا، نئے ڈیزائن کے نوٹ مرحلہ وار گردش میں لائے جائیں گے۔” تاہم گورنر نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن مالیت کے نوٹ سب سے پہلے متعارف کرائے جائیں گے۔ اس وقت پاکستان میں زیرِ گردش کرنسی نوٹوں میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1,000 اور 5,000 روپے کے نوٹ شامل ہیں۔ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل، اسٹیٹ بینک گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ حکومت کو منظوری کے لیے ارسال کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد انہیں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نئے ڈیزائن حکومت کو بھجوا دیے ہیں، اور حکومت نے انہیں کابینہ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں وزیراعظم آفس نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے پاکستانی کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا اور اس معاملے پر غور کے لیے ایک کابینہ کمیٹی قائم کی۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ کرنسی نوٹوں کا نیا ڈیزائن جدید تقاضوں کے مطابق اور بین الاقوامی ماہرین کی معاونت سے تیار کیا جا رہا ہے۔

مسلسل اضافے کے بعد

گزشتہ کئی دن سے پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، تاہم آج منگل کے روز سونے کی قیمت میں معمولی کمی ہوئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 1500 روپے کمی کے بعد 5 لاکھ 30 ہزار 562 روپے ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ 10 گرام سونے کی قیمت 1286 روپے کمی کے ساتھ 4 لاکھ 54 ہزار 871 ہوگئی ہے۔ ملک بھر میں چاندی 212 روپے اضافے سے 11640 روپے تولہ کی سطح پر موجود ہے۔

حکومت کی آئی ایم ایف

اسلام آباد: حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) سے کچھ شعبوں میں رعایتیں لینےکی تیاری کرلی ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مذاکرات میں ٹیکس وصولیوں کے ہدف اور توانائی کی قیمتیں کم کرنےکی درخواست کی جائےگی۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ازسرنو ترجیحات متعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ محکمے آئی ایم ایف سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے 2 ہفتوں میں تجاویز وزارت خزانہ کو دیں گے، وزارت صنعت و پیداوار صنعتی شعبےکی مشکلات کم کرنے کے لیے تجاویز تیار کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے آئندہ مذاکرات میں صنعتوں کی بحالی کے لیے ریلیف حاصل کرنےکی حکمت عملی بنانےکی ہدایت کی۔ ذرائع کے مطابق ایم ڈی آئی ایم ایف نے قرض پروگرام میں رہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو معاشی گروتھ کے لیے حکومتی ترجیحات سے آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق صنعتوں اور بڑی کمپنیوں کے لیے سُپر ٹیکس اور پاور ٹیرف میں کمی کی تجاویز بھی تیار کی جا رہی ہیں۔

حکومت نے آٹے کی قیمت

کراچی: سندھ حکومت نے آٹے کی نئی قیمت کا تعین کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا، آٹے کی فی کلو ریٹیل قیمت 107 روپے مقرر کی گئی ہے۔ 10 کلوآٹے کے تھیلے کے نرخ 1070 روپے مقررکئے گئے ہیں، آٹے کی ایکس مل فی کلو قیمت 104 روپے جبکہ 10 کلو تھیلا 1040 روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں آٹے کی قیمت 142 سے 145 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈھائی نمبر فائن آٹا ڈیڑھ سو روپے کلو تک پہنچ گیا ہے۔ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل، اسٹیٹ بینک پشاور میں آٹا 150 سے 160 روپے فی کلو جبکہ کوئٹہ میں فی کلو آٹا ڈیڑھ سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

سونا بلند ترین سطح کو

سونا بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سستا ہو گیا۔ گزشتہ روز سونے کے نرخ میں 10 ہزار 900 روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر چلی گئی تھی۔ آج سونے کے فی تولہ نرخ میں 1500 روپے کی کمی ہونے سے نئی قیمت 5 لاکھ 30 ہزار 562 روپے ہو گئی ہے۔ دس گرام سونا 1286 روپے سستا ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 54 ہزار 871 روپے ہوگئی ہے۔ حکومت نے آٹے کی قیمت کا تعین کر دیا عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں 15 ڈالر کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد فی اونس سونا 5082 ڈالر کا ہو گیا ہے۔ سونے کی قیمت کے برعکس چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، چاندی 212 روپے مہنگی ہوئی ہے جس کے بعد قیمت 11640 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی

بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے تعین میں مقامی ایجنٹس کا کردار ختم کردیا گیا۔ جنگ اور دی نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے درآمد کی جانے والی گاڑیوں کے حوالے سے کسٹمز جنرل آرڈر جاری کردیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق یورپ سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ہوگا۔ اس سے پہلے استعمال شدہ گاڑیوں سمیت تمام گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کا تعین مجاز مقامی ایجنٹوں کے ذریعے ہوتا تھا۔

جنوبی ایشیا میں عدم استحکام

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر پربھارت کاغیرقانونی قبضہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیاد ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں امن انصاف اور کثیر الجہتی نظام سے متعلق مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مئی کے تنازع نے اس حقیقت کوواضح کردیا۔ کشمیریوں کوحق خودارادیت سے محروم رکھنے سے امن کوشدید خطرات لاحق ہیں، عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی عالمی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام لاکھوں افراد کی زندگیوں اور روزگار کو خطرے میں ڈالتا ہے، پاکستان پانی اور دیگر قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کے عمل کو مسترد کرتا ہے۔ وزیر اعظم کا جیم اسٹون انڈسٹری کے فروغ کیلئے بڑے اقدامات کا اعلان انہوں نے کہا کہ معاہدوں کی پاسداری بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیاد ہے، عالمی قانون کا مساوی اطلاق ہونا چاہیے، طاقت کی بالادستی سے عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد دو سے تین مختلف مالیت کے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں ہے اور کابینہ کی منظوری ملتے ہی چھپائی شروع کر دی جائے گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق، “نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی چھپائی کا عمل کافی آگے بڑھ چکا ہے، کابینہ کی منظوری کے بعد جلد چھپائی شروع کر دی جائے گی، اور دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹس بیک وقت چھاپے جائیں گے۔” جمیل احمد نے کہا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں نہیں آئیں گے بلکہ مرحلہ وار گردش میں لائے جائیں گے. انہوں نے بتایا کہ نئے نوٹس اس وقت گردش میں لائے جائیں گے جب مرکزی بینک موجودہ کرنسی نوٹس کو مرحلہ وار تبدیل کرنے کے لیے مناسب اسٹاک حاصل کر لے گا۔ تاہم گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ واضح نہیں کیا کہ سب سے پہلے کن مالیت کے نوٹس متعارف کرائے جائیں گے۔ اس وقت ملک میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹس زیر گردش ہیں۔ جمیل احمد کا کہنا تھا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم آفس نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹس کے نئے ڈیزائن سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا اور اس معاملے کے لیے کابینہ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ کرنسی نوٹس کی ازسرِنو ڈیزائننگ جدید تقاضوں کے مطابق اور بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے کی جا رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کا شرح سود

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق 2 ماہ تک شرح سودساڑھے 10 فیصد پر برقرار رہےگی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح 7.4 فیصد پر برقرار ہے۔

پی ایس ایکس میں زبردست

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جاری ہے۔ پیر کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور 100 انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی۔ کاروبار کے آغاز میں انڈیکس میں 1434 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جو ٹریڈنگ کے دوران 1800 پوائنٹس تک بڑھ گیا۔ کاروبار کے دوران اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس ایک لاکھ 90 ہزار 600 کی سطح عبور کرگیا۔

مرغی کی قیمت بھی عوامی پہنچ

مرغی کی سرکاری قیمتوں کو نظرانداز کر دیا گیا، مرغی کا گوشت بھی عوامی پہنچ سے دور ہو گیا۔ لاہور میں برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 349 روپے کلو ہے جبکہ پرچون ریٹ 363 روپے مقرر کیا گیا ہے، گوشت 526 روپے کلو ہے، انڈوں کی فی درجن قیمت 337 روپے مقرر کی گئی ہے، اوپن مارکیٹ میں مرغی کا گوشت 550 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ لاہور میں گزشتہ روز سرکاری نرخنامے کے مطابق مرغی کا گوشت 533 روپے کلو تھا جبکہ آج سرکاری نرخ میں سات روپے کی کمی ہوئی ہے لیکن عام مارکیٹ میں مرغی کی مہنگے داموں فروخت جاری ہے۔ فیصل آباد میں زندہ برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 339 روپے کلو، پرچون ریٹ 353 روپے کلو ہے جبکہ گوشت 511 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ملک میں آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ ملتان میں زندہ برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 306 روپے کلو، پرچون ریٹ 320 روپے کلو جبکہ گوشت کا ریٹ 464 روپے کلو مقرر کیا گیا ہے، انڈے 338 روپے فی درجن دستیاب ہیں۔

سال 2026 میں خریدنے کے لیے

سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کی آٹو موبائل مارکیٹ میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔سوزوکی ویگن آر اور مشہور زمانہ ’’کیری ڈبہ‘‘(بولان) کی باضابطہ بندش کے بعد کم بجٹ میں گاڑی خریدنے والے صارفین اب نئی جنریشن کی انٹری لیول گاڑیوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود سوزوکی آلٹو اب بھی پاکستان کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جا رہی ہے۔ 660 سی سی انجن، بہترین فیول ایوریج اور مضبوط ری سیل ویلیو کی وجہ سے آلٹو متوسط طبقے کی پہلی ترجیح بنی ہوئی ہے۔ 2026 میں اس کی قیمت 23.3 سے 30.5 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ دوسری جانب سوزوکی ایوری نے باضابطہ طور پر بولان کی جگہ لے لی ہے۔ یہ گاڑی جدید EFI انجن، بہتر سسپنشن، مؤثر ایئر کنڈیشننگ اور اضافی سیفٹی فیچرز کے ساتھ متعارف کرائی گئی ہے۔ وسیع کیبن کے باعث یہ گاڑی بڑے خاندانوں اور کمرشل استعمال کے لیے تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جبکہ اس کی قیمت 27.5 سے 28 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ جاپانی امپورٹ گاڑیوں میں ڈائی ہاٹسو میرا اور نسان ڈیز نمایاں ہیں۔ ڈائی ہاٹسو میرا کم ایندھن خرچ، آرام دہ ڈرائیو اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے، تاہم اس کے اسپیئر پارٹس مہنگے ہیں۔اس کی قیمت 28.5 سے 32.5 لاکھ کے درمیان ہے۔ نسان ڈیز کو 660 سی سی گاڑیوں میں ’’لگژری آپشن‘‘ کہا جا رہا ہے، مگر اس کی قیمت اور مینٹیننس لاگت نسبتاً زیادہ ہے۔اس کی قیمت 32.5 لاکھ سے 39 لاکھ کے درمیان ہے۔ سوزوکی کلٹس اب بھی 1000 سی سی کی مقبول ہیچ بیک ہے، لیکن 2026 میں اس کی قیمت 40 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث یہ سستی گاڑیوں کی فہرست کے آخری کنارے پر پہنچ گئی ہے۔یہ گاڑی 40.9 لاکھ سے 45.9 لاکھ کے درمیان مل جاتی ہے۔ استعمال شدہ مارکیٹ میں ویگن آر اور ٹویوٹا وِٹز اب بھی دستیاب ہیں اور کم بجٹ مگر قدرے بڑی گاڑی کے خواہشمند افراد کے لیے بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہیں۔998 سی سی ویگن آر(استعمال شدہ) 28 لاکھ سے 34 لاکھ کے درمیان باآسانی مل جاتی ہے 1000 سی سی ٹویوٹا وِٹز(استعمال شدہ)مارکیٹ میں 26 لاکھ سے 44 لاکھ کے درمیان فروخت ہورہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر محفوظ سرمایہ کاری درکار ہو تو سوزوکی آلٹو، زیادہ جگہ کے لیے سوزوکی ایوری اور آرام و سہولت کے شوقین افراد کے لیے جاپانی امپورٹ گاڑیاں بہترین انتخاب ہیں۔

اسٹیٹ بینک آج مانیٹری پالیسی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج نئے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی جاری کرے گا، جس میں بنیادی شرح سود کے سنگل ڈیجٹ میں آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس اسٹیٹ بینک کے ہیڈ آفس کراچی میں منعقد ہوگا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے دوران معاشی اشاریوں، مہنگائی کی صورتحال اور دیگر اہم اقتصادی عوامل کا تفصیلی جائزہ لے کر بنیادی شرح سود کا تعین کرے گی۔ مانیٹری پالیسی کا باضابطہ اعلان گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پریس کانفرنس کے ذریعے کریں گے۔ یاد رہے کہ 2025 کی آخری مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود میں نصف فیصد کمی کی تھی، جس کے بعد پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ ٹریژری بلز کی نیلامی میں شرح سود میں مزید کمی کے واضح اشارے ملے ہیں۔ چار سال بعد پہلی مرتبہ بینکوں سے حاصل کیے جانے والے حکومتی قرض پر شرح سود سنگل ڈیجیٹ سطح پر آچکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کا اعلان، بنیادی شرح سود 11 سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گئی سروے رپورٹس کے مطابق ٹریژری بلز پر شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں آنے کے باعث بنیادی شرح سود میں مزید کمی کا امکان مضبوط ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام، مہنگائی پر قابو اور ترسیلات زر میں اضافے کے پیش نظر اسٹیٹ بینک بنیادی شرح سود میں آدھے سے ایک فیصد تک کمی کر سکتا ہے۔

سونے کی قیمت کا نیا ریکارڈ،

ایک روز کی کمی کے بعد ملک بھر میں سونے کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج فی تولہ سونا 9 ہزار 100 روپے مہنگا ہوا جس کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے پر ہوگئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 7 ہزار 802 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 41 ہزار 239 روپے پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یکدم 91ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 923ڈالر کی نئی بلند سطح پر آگئی ہے۔ سونے کی قیمت میں اضافے کا عالمی رجحان کب تک برقرار رہے گا؟ سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کی قیمت مالیاتی بحران یا معاشی گراوٹ کے دوران کم ہونے کے بجائے برقرار رہنے یا بڑھنے کی توقع کی جاتی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ 1970 کی دہائی کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے جو گذشتہ برس اپریل سے اب تک 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ قیمتی دھاتوں کے ڈیلر اور سٹوریج فراہم کرنے والی کمپنی سلور بلین کے بانی گریگر گریگرسن کے مطابق گذشتہ ایک سال میں ان کے صارفین کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کی غیر یقینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بہت سے سرمایہ کار، بینک اور امیر خاندان اب سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔ گریگرسن کے مطابق ہمارے زیادہ تر صارفین طویل عرصہ تک سونا اپنے پاس رکھتے ہیں۔انھوں نے وضاحت کی کہ ان کے صارفین کی اکثریت چار سال سے زیادہ عرصہ تک سونا محفوظ رکھتے ہیں۔ گریگرسن کہتے ہیں کہ کسی نہ کسی وقت پر سونے کی قیمت میں گراوٹ ہو گی لیکن میرا ماننا ہے کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں کم از کم اگلے پانچ سال تک کے لیے سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کی امید ہے۔

ملک میں آٹے کی قیمت

ملک بھر میں آٹا مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ بیس کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، سب سے زیادہ مہنگا آٹا بنوں اور پشاور کے شہری خریدنے پر مجبور ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق بنوں اور پشاور میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔اسلام آباد میں بیس کلو آٹے کاتھیلا 2960 روپے میں دستیاب ہے۔ راولپنڈی میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2933 روپے،کوئٹہ میں 2850، حیدر آباد میں 2760 روپے اور کراچی میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2700 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سرگودھا میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2667 روپے تک پہنچ گیا ہے، ملتان، فیصل آباد، سکھر اور خضدار میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2600 روپے ہے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑا اضافہ ہوگیا سیالکوٹ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2540 روپے، بہاولپور میں آٹے کا تھیلا 2506روپے، لاڑکانہ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2500 اورگوجرانوالہ میں ا2467 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ لاہور کے شہری سب سے کم قیمت میں بیس کلو آٹے کا تھیلا خرید رہے ہیں یہاں آٹا 1850 روپے میں بیس کلو فروخت ہو رہا ہے۔

کراچی: سوئی سدرن کا گھر

کراچی: سوئی سدرن نے گھریلو صارفین کو گیس کی مکمل فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئی سدرن کے مطابق گھریلو صارفین کو گیس کی مکمل فراہمی ہوگی جب کہ صنعتوں کے لیے گیس 2 دن بند رکھی جائے گی۔ سوئی سدرن کے مطابق صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنز کے لیے ہفتے کی صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک گیس بند ہوگی۔

ملک میں سونے اور چاندی

کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 9 ہزار 100 روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے کی سطح پر آ گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 7 ہزار 802 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 41 ہزار 239 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں سونا 91 ڈالر فی اونس مہنگا ہوا اور اس کی قیمت 4 ہزار 923 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی۔ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور فی تولہ چاندی کی قیمت میں 372 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ چاندی 10 ہزار 275 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

استعمال شدہ موبائل فونز کی

ایف بی آر کسٹمز ویلیو ایشن نے بیرون ملک سے درآمد کیے گئے پرانے موبائل فونز کی نظر ثانی شدہ کسٹم ویلیو جاری کردی۔ نئے اور کم ریٹس کے باعث 4 بڑے برانڈز کے مجموعی طور 62 ماڈلز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس میں کمی واقع ہوگی۔ نئے ویلیوایشن ریٹس کے تحت ایک معروف برانڈ کے فونز کی کسٹمز ویلیو میں 32 فیصد سے 89 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ ویلیو ایشن کے حکام کے مطابق سابقہ طریقہ کار میں قیمتیں بڑھا چڑھا کر دکھانے، انڈر انوائسنگ اور استعمال شدہ فونز کی گریڈنگ کے باعث کلیئرنس میں تاخیر ہوتی تھی جس کا بوجھ صارفین پر پڑتا تھا۔

سونے کی قیمت کا نیا ریکارڈ،

ایک روز کی کمی کے بعد ملک بھر میں سونے کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج فی تولہ سونا 9 ہزار 100 روپے مہنگا ہوا جس کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے پر ہوگئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 7 ہزار 802 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 41 ہزار 239 روپے پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یکدم 91ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 923ڈالر کی نئی بلند سطح پر آگئی ہے۔ سونے کی قیمت میں اضافے کا عالمی رجحان کب تک برقرار رہے گا؟ سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کی قیمت مالیاتی بحران یا معاشی گراوٹ کے دوران کم ہونے کے بجائے برقرار رہنے یا بڑھنے کی توقع کی جاتی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ 1970 کی دہائی کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے جو گذشتہ برس اپریل سے اب تک 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ قیمتی دھاتوں کے ڈیلر اور سٹوریج فراہم کرنے والی کمپنی سلور بلین کے بانی گریگر گریگرسن کے مطابق گذشتہ ایک سال میں ان کے صارفین کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کی غیر یقینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بہت سے سرمایہ کار، بینک اور امیر خاندان اب سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔ گریگرسن کے مطابق ہمارے زیادہ تر صارفین طویل عرصہ تک سونا اپنے پاس رکھتے ہیں۔انھوں نے وضاحت کی کہ ان کے صارفین کی اکثریت چار سال سے زیادہ عرصہ تک سونا محفوظ رکھتے ہیں۔ گریگرسن کہتے ہیں کہ کسی نہ کسی وقت پر سونے کی قیمت میں گراوٹ ہو گی لیکن میرا ماننا ہے کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں کم از کم اگلے پانچ سال تک کے لیے سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کی امید ہے۔

کراچی: سوئی سدرن کا

کراچی: سوئی سدرن نے گھریلو صارفین کو گیس کی مکمل فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئی سدرن کے مطابق گھریلو صارفین کو گیس کی مکمل فراہمی ہوگی جب کہ صنعتوں کے لیے گیس 2 دن بند رکھی جائے گی۔ سوئی سدرن کے مطابق صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنز کے لیے ہفتے کی صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک گیس بند ہوگی۔

آذربائیجان کی کمپنی کا

آذربائیجان کی ایک کمپنی نے پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا اعلان کردیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ڈیووس میں بزنس راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد ہوا، اجلاس میں عالمی سطح کی معروف کمپنیوں کے سی ای اوز اور سینئر حکام نے شرکت کی جہاں پاکستان کی اصلاحاتی سمت، سرمایہ کاری کے مواقعوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق آذربائیجان کی کمپنی نے پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس کا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خیر مقدم کیا اور ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ محمد اورنگزیب اور بل گیٹس کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جس میں پاکستان میں صحت اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ مزیدبراں وزیر خزانہ نے ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔

سونا بلند ترین سطح پر پہنچنے

سونا بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سستا ہو گیا۔ گزشتہ روز سونے کے نرخ پہلی پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئے تھے، جس کے بعد قیمت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ آج سونے کی قیمت میں 800 روپے فی تولہ کمی ہونے سے نئی قیمت 5 لاکھ 5 ہزار 562 روپے ہوگئی ہے۔ دس گرام سونا 686 روپے سستا ہوا ہے جس کے بعد نئے نرخ 4 لاکھ 33 ہزار 437 روپے ہو گئے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 8 ڈالر سستا ہوا ہے جس کے بعد فی اونس قیمت 4832 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ فچ نے پاکستان کی معاشی صورتحال کی رپورٹ جاری کر دی گزشتہ روز چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، آج چاندی کی قیمت 30 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ قیمت 9904 روپے ہو گئی ہے۔

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16 ملین ڈالر اضافے کے ساتھ 21.25 ارب ڈالر ہوگئے ہیں ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 16 جنوری 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تحویل میں زرمبادلہ کے ذخائر 16.08 ارب ڈالر،کمرشل بینکوں کی تحویل میں زرمبادلہ کے ذخائر 5.17 ارب ڈالر تھے ۔ نئے نوٹ تیار، اسٹیٹ بینک کو حکومت کی اجازت کا انتظار زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 21.25 ارب ڈالر ہوگئے ۔16 جنوری 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 16 ملین ڈالر کے اضافے سے 16,087.7 ملین ڈالر ہو گئے ہیں۔

حکومت نے 6 ماہ میں 1254 ارب

پاکستان نے 6 ماہ میں ایک ہزار 254 ارب روپے بیرونی قرضہ لیا۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت 29 فیصد یعنی 280 ارب روپے زیادہ قرضہ ملا، جولائی تا دسمبرپاکستان کو17ارب67 کروڑ روپےکی گرانٹ بھی ملی۔ دستاویز میں کہا ہے کہ جولائی تا دسمبر مجموعی بیرونی مالی معاونت ایک ہزار 272 ارب ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی کرنسی میں پاکستان کو 6 ماہ میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالرموصول ہوئے، ڈالر ٹرمز میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 904 ملین زیادہ ملے۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال پہلے 6 ماہ میں3 ارب60 کروڑ ڈالرحاصل ہوئے تھے، پاکستان کو اس دوران آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ اس کے علاوہ ہے، 6 ماہ میں نان پراجیکٹ ایڈ 785 ارب، پراجیکٹ ایڈ 487 ارب روپے رہی جبکہ بجٹ سپورٹ کیلئے 458 ارب 72 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 170 ارب روپے کی آئل فیسلیٹی دی، اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو137 ارب روپے قرض دیا اور پراجیکٹ ایڈ کی مد میں پاکستان کو487 ارب روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال4 ہزار507 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لینے کا ہدف ہے۔

حکومت طویل مدتی سرمایہ

ڈیووس: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہےکہ حکومت طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پر عزم ہے۔ ڈیووس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطح بزنس راؤنڈ ٹیبل اجلاس ہوا جس میں عالمی سطح کی معروف کمپنیوں کے سی ای اوز اور سینئر حکام شریک ہوئے۔ بزنس راؤنڈ ٹیبل پاکستان کی جانب سے کثیرالقومی سرمایہ کاروں سےجاری روابط کا حصہ تھی جس میں پاکستان کی اصلاحاتی سمت، سرمایہ کاری کے مواقعوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کےلیے پُر عزم ہے، اس میں وزارتِ خزانہ کے تحت قائم ٹیکس پالیسی آفس بھی شامل ہے۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ کے مواقع موجود ہیں، پاکستان کو عالمی ویلیو چینز کےلیے مسابقتی مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

سونا بلند ترین سطح پر پہنچنے

سونا بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سستا ہو گیا۔ گزشتہ روز سونے کے نرخ پہلی پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئے تھے، جس کے بعد قیمت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ آج سونے کی قیمت میں 800 روپے فی تولہ کمی ہونے سے نئی قیمت 5 لاکھ 5 ہزار 562 روپے ہوگئی ہے۔ دس گرام سونا 686 روپے سستا ہوا ہے جس کے بعد نئے نرخ 4 لاکھ 33 ہزار 437 روپے ہو گئے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 8 ڈالر سستا ہوا ہے جس کے بعد فی اونس قیمت 4832 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ فچ نے پاکستان کی معاشی صورتحال کی رپورٹ جاری کر دی گزشتہ روز چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، آج چاندی کی قیمت 30 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ قیمت 9904 روپے ہو گئی ہے۔

فچ نے پاکستان کی معاشی

اسلام آباد: عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کر دی۔ فچ نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹو برقرار رکھی ہے۔ پاکستان کے لیے ریکوری ریٹنگ بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ جبکہ سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی معیار کے حوالے سے ملک کا اسکور کمزور قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کو ڈیفالٹ کی صورت میں 31 سے 50 فیصد تک رقم واپس ملنے کا امکان ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم ہے۔ تاہم ڈیفالٹ کی صورت میں قرضوں میں اوسط درجے کی ریکوری متوقع رہے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا زیادہ ہونا پاکستان کی ریٹنگ پر دباؤ کا باعث ہے۔ اگر حکومتی قرض اور سود کی ادائیگیوں میں کمی نہ ہوئی تو مستقبل میں ریٹنگ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ فچ نے رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی معیار کے حوالے سے گورننس اسکور کمزور ہے۔ اور عالمی بینک کے گورننس انڈیکس میں پاکستان 22 فیصد کی سطح پر موجود ہے۔ جو کمزور حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان میں فی تولہ سونا

دنیا بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ جاری ہے اور پاکستان میں فی تولہ سونا تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز کے مطابق آج پاکستان میں سونا 12700 روپے فی تولہ مہنگا ہوا ہے جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے کی سطح پر آگئی۔ اس کے علاوہ 10گرام سونا 10888 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 44 ہزار 123 روپے کا ہوگیا ہے۔ ادھر عالمی مارکیٹ میں سونا 127 ڈالر فی اونس مہنگا ہوکر 4840 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگیا۔ دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت میں 64 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور قیمت 9933 روپے ہوگئی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی صنعت و پیداوار ہارون اختر نے اسٹیل مل کی بحالی کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران ہارون اختر نے کہا کہ ہم اسٹیل ملز کو بحال کر رہے ہیں، اسٹیل ملز میں صرف روس نہیں 4 مختلف پارٹیز دلچسپی رکھتی ہیں، جلد نیو انرجی وہیکل پالیسی لائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین اور سولر پالیسی بھی لا رہےہیں، پیداواری شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہےہیں، اس کے علاوہ ہوم اپلائنسز پاکستان میں بنانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

حکومت نے 6 ماہ میں

پاکستان نے 6 ماہ میں ایک ہزار 254 ارب روپے بیرونی قرضہ لیا۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت 29 فیصد یعنی 280 ارب روپے زیادہ قرضہ ملا، جولائی تا دسمبرپاکستان کو17ارب67 کروڑ روپےکی گرانٹ بھی ملی۔ دستاویز میں کہا ہے کہ جولائی تا دسمبر مجموعی بیرونی مالی معاونت ایک ہزار 272 ارب ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی کرنسی میں پاکستان کو 6 ماہ میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالرموصول ہوئے، ڈالر ٹرمز میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 904 ملین زیادہ ملے۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال پہلے 6 ماہ میں3 ارب60 کروڑ ڈالرحاصل ہوئے تھے، پاکستان کو اس دوران آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ اس کے علاوہ ہے، 6 ماہ میں نان پراجیکٹ ایڈ 785 ارب، پراجیکٹ ایڈ 487 ارب روپے رہی جبکہ بجٹ سپورٹ کیلئے 458 ارب 72 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 170 ارب روپے کی آئل فیسلیٹی دی، اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو137 ارب روپے قرض دیا اور پراجیکٹ ایڈ کی مد میں پاکستان کو487 ارب روپے حاصل ہوئے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال4 ہزار507 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لینے کا ہدف ہے۔

کے الیکٹرک کے خلیجی سرمایہ

سعودی عرب اور کویت سے تعلق رکھنے والے کے الیکٹرک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کے خلاف 2 ارب ڈالر کا بین الاقوامی ثالثی کیس دائر کردیا۔ مقدمے میں حکومت پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے اور مدعی کے مطابق ریگولیٹری مداخلت، سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی اور معاہدے میں رکاوٹ سے شدید مالی نقصان ہوا۔ کراچی کے بجلی نظام میں 4.7 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی 16 جنوری 2026 کو او آئی سی سرمایہ کاری معاہدے اور اقوامِ متحدہ کے ثالثی قوانین (UNCITRAL) کے تحت شروع کی گئی

پاکستان اور اسلامی ترقیاتی

پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 603 ملین ڈالر کے 3معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ معاہدے اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد باضابطہ طور پر طے پائے۔ اعلامیے کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) تقریباً 603 ملین ڈالر مالیت کے تین قرضے فراہم کرے گا، ان معاہدوں میں موٹروے کے ایک حصے کی تعمیر اور سماجی شعبے کے دو اہم منصوبے شامل ہیں۔ یہ قرضے ایم-6 سکھر- حیدرآباد موٹروے منصوبے، انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کے لیے غربت سے نجات کا منصوبہ (پی جی ای پی)، جو منتخب انتہائی پسماندہ اضلاع اور سیلاب متاثرہ علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے لیے اسکول سے باہر بچوں کے منصوبے کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) کی جانب سے شارٹ ٹرم فنانسنگ (قلیل مدتی مالیات) کے طور پر کموڈٹی فنانسنگ کی مد میں کیے گئے 700 ملین ڈالر کے ایک اور عہد میں سے بینک نے رواں مالی سال کے پہلے 5 مہینوں میں اب تک 383.78 ملین ڈالر جاری کر دیے ہیں۔

پاکستان میں فی تولہ سونا

دنیا بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ جاری ہے اور پاکستان میں فی تولہ سونا تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز کے مطابق آج پاکستان میں سونا 12700 روپے فی تولہ مہنگا ہوا ہے جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے کی سطح پر آگئی۔ اس کے علاوہ 10گرام سونا 10888 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 44 ہزار 123 روپے کا ہوگیا ہے۔ ادھر عالمی مارکیٹ میں سونا 127 ڈالر فی اونس مہنگا ہوکر 4840 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگیا۔ دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت میں 64 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور قیمت 9933 روپے ہوگئی ہے۔

سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ

شمالی خطے میں سیمنٹ کی قیمتوں میں آج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹوپلائن سیکیورٹیز کے مطابق سیمنٹ کی فی بوری قیمت میں 30 سے 50 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دسمبر 2025 کے دوران سیمنٹ کی برآمدات میں مجموعی طور پر 20 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی خطے سے سیمنٹ کی برآمدات دسمبر 2025 میں 7.14 فیصد کمی کے بعد 6 لاکھ 21 ہزار 685 ٹن رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ مقدار 6 لاکھ 69 ہزار 461 ٹن تھی۔ ملک میں سیمنٹ کی بوری سستی ہوگئی یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں شمالی علاقوں میں قائم سیمنٹ ملز سے کوئی برآمد نہیں ہوئی۔ اسی طرح جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران شمالی خطے سے سیمنٹ کی برآمدات میں 18.53 فیصد کمی دیکھی گئی اور برآمدات 8 لاکھ 8 ہزار 506 ٹن رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ مقدار 9 لاکھ 92 ہزار 413 ٹن تھی۔

کوہاٹ میں تیل اور گیس

اسلام آباد: آئل گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے کوہاٹ میں تیل و گیس کے نئے بڑے ذخائر کی دریافت کا اعلان کردیا۔ ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق براگزئی ایکس ون کنویں سے یومیہ 3100 بیرل خام تیل اور 81500 لاکھ مکعب فٹ یومیہ گیس بھی حاصل ہوگی۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ او جی ڈی سی ایل کی گزشتہ ایک ماہ میں نشپا بلاک میں مسلسل تیسری بڑی دریافت ہے، حالیہ 3 دریافتوں سے مجموعی طور پر یومیہ 9480بیرل خام تیل حاصل ہو رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ ملکی خام تیل کی مجموعی پیداوار میں 14.5 فیصد ہے اور یہ حالیہ کامیابیاں قومی توانائی سلامتی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہےکہ مقامی وسائل کے فروغ سے ملک میں توانائی کی طلب و رسد میں مزید بہتری آئے گی۔

آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے

وفاقی حکومت کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباری افراد کو ریلیف دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے جائیں گے۔ مشیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا کہ تنخواہ دار افراد اور دستاویزی معیشت کا حصہ بننے والے کاروباروں کے لیے ہدفی ریلیف پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت توانائی کے نرخوں میں کمی اور ٹیکس ریٹس کو مؤثر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جا سکے۔ خرم شہزاد کے مطابق رواں مالی سال میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 4 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جبکہ آئندہ سال یہ شرح تقریباً 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرونی مالی استحکام کے لیے ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔ مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ اقتصادی جائزے کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بار محتاط اور پائیدار معاشی پالیسی اپنا رہی ہے تاکہ بار بار بیلنس آف پیمنٹس کے بحران سے بچا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 24 ایسے سرکاری ادارے جو قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں، انہیں نجکاری کے عمل میں لایا جائے گا۔ افراط زر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 25 سے 30 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 5 فیصد تک آ چکی ہے۔ حکومت کا ہدف عوام کی آمدن میں اضافہ کرنا ہے، جس سے برآمدات اور طویل مدتی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کو بڑا ریلیف دیدیا گیا انہوں نے ٹیکس وصولیوں پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ گزشتہ سال وفاق نے 13 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جس سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 11.3 فیصد رہی، جبکہ عالمی معیار کے مطابق یہ شرح تقریباً 18 فیصد ہونی چاہیے۔

نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق اہم

وفاقی کابینہ کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کو نئے 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے بینک نوٹ متعارف کرانے کے معاملے پر سفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی سے خاص طور پر اس بات پر سفارشات طلب کی گئی ہیں کہ نئے بینک نوٹوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مجوزہ مواد انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔ کمیٹی نئے نوٹوں کے مواد کی حفاظت، معیار اور صحت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ کیا نئے کرنسی نوٹ آنے کے بعد پرانے نوٹ استعمال ہوں گے یا نہیں؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے واضح ہدایت دی ہے کہ نئے کرنسی نوٹوں میں استعمال ہونے والے مواد سے متعلق تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ عوام کے لیے کسی قسم کے نقصان کا باعث نہ بنے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات کی روشنی میں نئے بینک نوٹوں کے اجرا سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان چاول برآمدکرنیوالا

بین الاقوامی جریدہ گلف نیوز نے بھی پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر پذیرائی پر مہر لگادی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2026کے آغاز پر پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کنندہ ملک بن گیا ہے۔ دسمبر 2025 میں پاکستانی چاول کی برآمدات میں 14 فیصد ماہانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ باسمتی چاول کی برآمدات میں 50 فیصد سے زائد اضافے نےکامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دسمبر 2025 میں پاکستان نے 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول عالمی منڈیوں میں برآمدکیے۔ دسمبر2025 میں ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 87 ہزار ٹن رہیں۔ پاکستان نے ویتنام پر سبقت حاصل کرکے عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔ پاکستان سےسب سے زیادہ چاول یو اےای، چین، تنزانیہ،کینیا اور آئیوری کوسٹ کو برآمدکیا گیا۔

مہنگی بجلی میں کاروبار نہیں

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین کامران ارشد نے کہا ہےکہ مہنگی بجلی کےباعث 150 ملیں بند ہو چکی ہیں ہم مزید کاروبار کیسے کریں لہٰذا صنعتوں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں۔ اپٹما ہیڈ آفس میں دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کامران ارشد نے کہا کہ حکومت فوری معاشی ایمرجنسی نافذ کرے اور بیوروکریسی میں گاڑیاں بانٹنے اور سڑکیں بنانے کی بجائے عوام کو روزگار فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری زوال کی طرف جا رہی ہے، دسمبر میں مجموعی ایکسپورٹس 19.55فیصد جب کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹس 8 فیصد کم ہوئی ہیں اور 150 ملیں بند ہو چکی ہیں۔ کامران ارشد کا کہنا تھا کہ صنعتوں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں، وہ خود صنعتیں چلا لے۔ اس موقع پر چیئرمین اپٹما نارتھ زون اسد شفیع نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ 350 ارب روپے کی کراس سبسڈی واپس لی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا پہیہ رک گیا تو انڈر پاس بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، دوسروں کی بجلی چوری کا بوجھ صنعتوں پر نہ ڈالا جائے، پاور منسٹری کی ساری کیلکولیشن غلط ہے۔ اپٹما رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ صنعت کو قومی ترجیح بنایا جائے ورنہ اگلے 6 ماہ میں ایکسپورٹ مزید کم ہو جائے گی، ہمیں امریکا اور چین کی تجارتی جنگ کا فائدہ ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

چاول کی برآمدات

پاکستان نے چاول کی برآمد میں بڑا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے، بین الاقوامی جریدے نے پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر پذیرائی کی تصدیق کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 کے دوران پاکستانی چاول کی برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، خصوصاً باسمتی چاول کی برآمد میں 50 فیصد سے زائد غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول برآمدکئے، اس طرح پاکستان عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن پر پہنچ گیا۔ سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر، آٹا مزید مہنگا ہونے کا امکان پاکستانی چاول سب سے زیادہ متحدہ عرب امارات، چین، تنزانیہ، کینیا اور آئیوری کوسٹ کو برآمد کیا گیا۔ ماہرین نے چاول کی برآمدات میں مسلسل اضافے کو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیاہے۔

سونا ہزاروں روپے مہنگا

ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرافہ بازار ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 7 ہزار 500 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 89 ہزار 362 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 6 ہزار 431 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 19 ہزار 549 روپے مقرر کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سونا سستا،فی تولہ قیمت کیا ہو گئی؟ جانیے صرافہ مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی رجحان یہی رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر

کراچی: سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے آٹا مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ اس بارے میں چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عبدالجنید نے کہا کہ سرکاری گندم غذائیت سے خالی ہے جسے نئی گندم کے ساتھ مکس کرکے جو آٹا تیار ہو رہا ہے وہ قیمت کے لحاظ سے عوام کی پہنچ سے باہر ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ سندھ حکومت کی طرف سے فلور ملوں کوگندم کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے کراچی میں آٹے کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ 750 روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج جاری کر دیے گئے چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ کراچی کی فلور ملوں کو سرکاری گندم کی ترسیل بروقت نہ ہونے سے متعلق کمشنر کراچی کو بھی تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے۔

مالی سال کی پہلی ششماہی

کراچی: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جس سے ملکی تجارت اور معیشت کو بڑا دھچکا پہنچا۔ ماہرین نے اس رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف شعبوں کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ غذائی اجناس کی برآمدات میں 40.29 فیصد کمی ہوئی، جس کا حجم 2 ارب 36 کروڑ ڈالرز تک رہ گیا۔ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں غذائی اجناس کی برآمدات تقریباً 4 ارب ڈالرز تھیں۔ اسی طرح چاول کی برآمدات میں 49.90 فیصد کمی، سبزیوں کی برآمدات میں 36.80 فیصد کمی، مقامی خشک میوہ جات کی برآمدات میں 63.78 فیصد کمی اور پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں 43.66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ فارماسوٹیکل مصنوعات کی برآمدات میں 28.67 فیصد کمی جبکہ ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات میں 36.51 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس ٹیکسٹائل شعبہ اپنی برآمدات میں معمولی اضافہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور اس دوران ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 9 ارب 16 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گیا۔ تاہم مجموعی برآمدات میں کمی کے باعث معیشت پر دباؤ برقرار ہے۔ یہ بھی پڑھیں: عمرہ پر جانے والوں کیلئے خوشخبری، سعودی ریال سستا ہو گیا ماہرین کے مطابق برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات عالمی طلب میں کمی، برآمدی لاگت میں اضافہ، لاجسٹک اور مارکیٹ رسائی کے مسائل، اور عالمی منڈیوں میں مسابقتی دباؤ ہیں۔

مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت

پاکستان میں موجودہ ہفتے میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس ہفتے میں سونے کی قیمت میں 8600 روپے کا اضافہ ہوا جس سے فی تولہ سونے کی قیمت 4لاکھ ، 81 ہزار 862 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ گذشتہ ہفتے ایک تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ ، 73 ہزار 262 روپے جبکہ دس گرام سونے کی قیمت 4 لاکھ ، 13 ہزار 118 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ سونا سستا،فی تولہ قیمت کیا ہو گئی؟ جانیے صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں ہفتہ وار بنیاد پر سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ عالمی سطح پر قیمت میں اضافہ رہا ۔ موجودہ ہفتے میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4595 ڈالر فی اونس رہی۔

قانونی پیٹرول پمپس کی شناخت کیلئے

حکومت نے پیٹرولیم سیکٹر میں بہتری، شفافیت اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کیلئے جامع اصلاحات پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول پمپس اور فیول سپلائی چین میں اسمگلنگ کے سدباب کیلئے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اعلامیے کے مطابق قانونی پیٹرول پمپس سے متعلق مستند معلومات کی فراہمی کیلئے ”راہگزر“ موبائل ایپ لانچ کر دی گئی ہے، جس کے ذریعے صارفین منظور شدہ اور رجسٹرڈ فیول پمپس کی آسانی سے شناخت کر سکیں گے۔ آئل ٹینکرز کی مؤثر نگرانی کیلئے اوگرا اور پی آئی ٹی بی کے اشتراک سے مشترکہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کر لیا گیا ہے، اس نظام کے تحت فیول ٹینکرز، ٹرمینلز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس کو ایک مربوط ڈیجیٹل نیٹ ورک سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پیٹرول پمپس پر خودکار ٹینک گیجز اور ڈیجیٹل نوزلز نصب کیے جائیں گے تاکہ مقدار اور معیار کی درست نگرانی ممکن ہو سکے۔ اسی طرح ڈی جی پی سی تیل و گیس بلاکس کی شفاف بولی کیلئے نیا آن لائن پورٹل متعارف کروائے گا، جس سے ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن بلاکس کی بولی کا پورا عمل ڈیجیٹل ہو جائے گا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے مزید کہا کہ دھماکہ خیز مواد کی نگرانی کیلئے ایکسپلوسیوز ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم فعال کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ایکسپلوسیوز سپلائی چین کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور اس منصوبے کے دو مراحل کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔ سندھ حکومت کا آتشزدگی سے متاثرہ تاجروں کی مالی مدد کا اعلان غیر قانونی پیٹرولیم مصنوعات کے خلاف مؤثر کارروائی کیلئے ایکٹ 1934 میں ترامیم کی گئی ہیں، جن کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی فروخت اور ترسیل پر بھاری جرمانوں اور ضبطی کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔

ملک میں سونے کی قیمت میں

کراچی: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز کمی ہوئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 600 روپے کم ہوکر 4لاکھ81 ہزار 862 روپےہوگئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 515 روپے کم ہوکر 4لاکھ 13ہزار118 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کی قیمت 6 ڈالر کم ہوکر 4595 ڈالر فی اونس ہے۔

چاول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

شہر کی اوپن مارکیٹ میں پریمیم کوالٹی کے چاول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چاول کی قیمتیں 10 سے 20 روپے تک بڑھ کر 570 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اشیاء خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کم آمدنی والے طبقے کی خریداری کی صلاحیت متاثر کر دی ہے اور راشن خریدنا اب مشکل ہو گیا ہے۔

کیا 10روپے کانوٹ ختم کیا

دس روپے کے بینک نوٹ کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ دس روپے کا بینک نوٹ برقرار رکھا جائے یا اسے ختم کر دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ دس روپے کے بینک نوٹ کی پیداواری لاگت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی سفارشات مرتب کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کو یہ بھی جانچنے کا ٹاسک دیا گیا ہے کہ دس روپے کے بینک نوٹ کے مقابلے میں اس کا سکہ زیادہ فائدہ مند ہے یا نہیں۔ کیا نئے کرنسی نوٹ آنے کے بعد پرانے نوٹ استعمال ہوں گے یا نہیں؟ کابینہ کمیٹی اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی، جن کی روشنی میں دس روپے کے بینک نوٹ کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

سال 2025 میں بجلی تقسیم کار

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاورسیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 جاری کر دی۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق ٹیکسز، سر چارجز، ڈیوٹیز کے باعث بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہوچکی ہیں، بجلی تقسیم کار کمپنیاں نقصانات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ سال2025 میں صرف ایک بجلی کمپنی ٹیسکو مقررہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہی، ایک سال میں بجلی تقسیم کارکمپنیوں کے نقصانات سے گردشی قرض میں 397 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ سال 2025 میں کےالیکڑک،پیسکو،حیسکو سیپکو اور کیسکو کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی، ان کمپنیوں میں طویل لوڈشیڈنگ، کم وصولیاں، بڑھتے واجبات بڑے مسائل ہیں۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق سال 2025میں صرف ایک کمپنی کم نقصانات کے ہدف کو پورا کرسکی،اس عرصے میں ٹیسکو کے علاوہ تمام کمپنیاں کم نقصانات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ کےالیکڑک، ڈسکوز میں نئےکنکشنز، میٹرز کا اجرا،نیٹ میٹرنگ کنکشن میں تاخیر عام ہیں۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں تھرکول سے چلنے والے پلانٹس کو کم چلایاگیا، تھر کے کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو 23۔67 فیصد صلاحیت پر چلایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ 4 ہزار میگاواٹ کی لاہور مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کو صرف 35 فیصد تک استعمال کیا گیا، لاہور مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کو ادائیگیاں 100 فیصد بنیاد پر کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 بجلی کے ترسیلی نظام سے مکمل استفادہ نہیں کیا گیا، لاگ رپورٹس دستیاب نہ ہونے سے ترسیلی نظام کا مکمل جائزہ ممکن نہیں، بجلی کی ترسیل کے تقریباً تمام منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق پاور سیکٹر میں ترقی محددو رہی، پاورسیکٹر کی سرکاری کمپنیوں میں گورننس کے شدید مسائل ہیں۔ پاور سیکٹر کے اداروں میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی عدم موجودگی پلاننگ کیلئے بڑاچیلنج ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ مالی سال2024-25میں ٹیک اینڈ پے والی بجلی پیداوار کا کم استعمال کیا گیا، ٹیک اینڈ پے پلانٹس کے کم استعمال سے کپیسٹی پیمنٹس بڑھ گئیں۔ رپورٹ کے مطابق صارفین مہنگی بجلی اور کمپنیوں کے رویوں سے تنگ آکر متبادل بجلی ذرائع پر جا رہے ہیں۔بجلی صارفین سولر کی طرف جارہے ہیں اور اسٹوریج کے لیے بیٹری آچکی ہے۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق ڈسکوز 20 سالوں میں بطور کارپوریٹ ادارہ کام کرنے میں ناکام رہیں، ان کمپنیوں کے بورڈز کو ادارے کو مالی طور پر صحت مند بنانے میں دلچسپی نہیں، ڈسکوز میں وفاقی حکومت کی مداخلت زیادہ ہے، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی سمیت مختلف اداروں کے ذریعے ڈسکوز کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ ڈسکوز کی ناقص کار کردگی کا 233ارب روپے کا ڈیٹ سروس سرچارجز کا بوجھ صارفین نے اٹھایا۔

ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ

ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دسمبر میں 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس پیدا کی گئی، ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی جبکہ بجلی کی فی یونٹ لاگت 9.62 روپے رہی۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سی پی پی اے کی درخواست پر 29 جنوری کو سماعت کرے گی۔

اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے آخری روز تیزی کا رجحان ہے۔ جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھنے کو ملا اور ہنڈرڈ انڈیکس میں تیزی رہی۔ کاروبار کے آغاز پر ہنڈرڈ انڈیکس 1881 پوائنٹس اضافے سے 183338 پر گیا اور کچھ دیر بعد ہی اس میں مجموعی طور پر 2575 پوائنٹس کا اضافہ ہوگیا۔ کاروبار کے دوران مارکیٹ میں مزید تیزی آئی اور ہنڈرڈ انڈکس 3152 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 84 ہزار 600 سے تجاوز کرگیا۔ آج ڈیڑھ گھنٹے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 1.7 فیصد تک اوپر چلا گیا۔

کیا نئے کرنسی نوٹ آنے کے بعد

نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا کے حوالے سے عوام کے لیے اہم وضاحت سامنے آ گئی ہے کہ نئے نوٹ آنے کے بعد بھی پرانے کرنسی نوٹ فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے بلکہ مرحلہ وار ختم کئے جائیں گے۔ حکومتِ پاکستان نے 10 روپے سے لے کر 5000 روپے تک کے کرنسی نوٹ نئے ڈیزائن اور جدید سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلی مرتبہ پلاسٹک (پولیمر) کرنسی نوٹ متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق پرانے نوٹ ایک مخصوص مدت تک قابلِ استعمال رہیں گے اور انہیں مرحلہ وار تبدیل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک سمیت تمام بینکوں کو واضح ٹائم لائن دی جائے گی، جس کے دوران شہری اپنے پرانے نوٹ بینکوں میں جمع کرا کر نئے نوٹ حاصل کر سکیں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئے ڈیزائن کے حامل کرنسی نوٹ رواں سال 2026 کے دوران مارکیٹ میں آ جائیں گے۔ ملک میں اس وقت تقریباً 10 ہزار 260 ارب روپے مالیت کی کرنسی گردش میں ہے، جس کے پیش نظر حکومت تمام بینکوں کو پرانے نوٹوں کی تبدیلی کے لیے جامع ہدایات جاری کرے گی۔ نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کا فیصلہ ، ڈیزائن پر غور کیلئے کابینہ کمیٹی تشکیل حکام کے مطابق نئے کرنسی نوٹ سیکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہوں گے اور ان سے ملک میں مالی لین دین کو مزید آسان اور محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

ملک میں سونے کی قیمت میں

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 3700 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 4لاکھ 82 ہزار 462 روپے کا ہوگیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 3172 روپے کم ہوکر 4لاکھ 13 ہزار 633 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 37 ڈالر کم ہوکر 4601 ڈالر فی اونس ہے۔

حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں

وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنےکا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 253 روپے17 پیسے فی لیٹر برقرار رہےگی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر برقرار رہےگی۔

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی بڑھا دی جس کے بعد عوام ریلیف سے محروم ہوگئے۔ حکومت نے 4 روپے 65 پیسے اضافے سے پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 79 روپے 62 پیسے سے بڑھا کر 84 روپے 27 پیسے کردی۔ اس کے علاوہ ڈیزل پر فی لیٹر لیوی میں 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل پر لیوی 75 روپے 41 پیسے سے بڑھا کر 76 روپے 21 پیسے کی گئی ے جب کہ لیوی برقرار رہتی تو پیٹرول ساڑھے 4 روپے فی لیٹرسستا ہوسکتا تھا۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 31 جنوری تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنےکا فیصلہ کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 253 روپے17 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر برقرار رہےگی۔

گندم کی قیمت میں 700 روپے

لاہور سمیت صوبہ پنجاب بھر میں گندم کے ریٹس میں 700 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ دس روز کے دوران فی من گندم کی قیمت 3,700 روپے سے بڑھ کر 4,400 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے، راولپنڈی میں گندم کا فی من ریٹ 4,800 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ لاہور میں گندم کا فی من ریٹ 4,450 روپے ہو گیا ہے جبکہ لاہور کے متعدد علاقوں میں سرکاری 10 اور 20 کلو آٹے کا تھیلا نایاب ہے، 15 کلو آٹے کا تھیلا 15 سو روپے سے بڑھ 17سو 50 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے۔ گوجرانوالہ اور گجرات میں گندم کا فی من ریٹ 45 سو روپے، ملتان میں 44 سو 50 روپے، بہاولپور اور ڈی جی خان میں گندم کا فی من ریٹ 44 سو روپے ہو گیا ہے۔ سونے کے بعد چاندی کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اسلام آباد میں گندم کا فی من ریٹ 44 روپے تک پہنچ گیا ہے، مرکزی چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کا کہنا ہے کہ گندم کی قلت نے گندم مہنگی کر دی، جس کی وجہ سے آٹا مہنگا ہو رہا ہے۔

مرغی اور انڈوں کی قیمتوں

لاہور شہر کی اوپن مارکیٹ میں مرغی کے گوشت کی قیمت 595 روپے فی کلو ہے۔ صافی گوشت 700 روپے سے زائد اور بون لیس گوشت 750 روپے سے اوپر فروخت ہو رہا ہے۔ زندہ برائلر کا فارم ریٹ 383 روپے فی کلو ہے، جبکہ تھوک کی قیمت 397 روپے اور پرچون میں 411 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ مختلف شہروں میں مرغی کی قیمت میں بڑی کمی تو کہیں ہوشربا اضافہ دوسری جانب، فارمی انڈوں کا سرکاری ریٹ 330 روپے فی درجن مقرر ہے، تاہم بازار میں انڈے 350 سے 370 روپے فی درجن کے درمیان فروخت ہو رہے ہیں۔

750 روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی

نیشنل سیونگز نے 750 روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکز قومی بچت نے باضابطہ طور پر 750 روپے کے پرائز بانڈز قرعہ اندازی نمبر 105 کے نتائج جاری کیے جو 15 جنوری 2026 کو پشاور میں کی گئی۔ پہلا انعام 15 لاکھ روپے بانڈ نمبر809258 کو ملا، دوسرا انعام 5 لاکھ روپے فی کس تین خوش نصیب افراد کے حصے میں آیا جو بانڈ نمبرز 488890، 748328 اور 746418 کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں ہزاروں افراد نے 9,300 روپے کا تیسرا انعام جیتا، حکام نے کہا کہ قرعہ اندازی سخت نگرانی اور شفاف طریقہ کار کے تحت منعقد کی گئی۔ سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟ اس طرح آج ساڑھے سات سو روپے کے پرائز بانڈز رکھنے والے درج بالا افراد مالا مال ہو گئے ہیں۔ انعام جیتنے والے افراد مقررہ مدت کے اندر مجاز برانچز سے معیاری تصدیقی عمل کے تحت اپنی انعامی رقم وصول کر لیں۔

ملک میں سونے کی قیمت میں مسلسل

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 3700 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 4لاکھ 82 ہزار 462 روپے کا ہوگیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 3172 روپے کم ہوکر 4لاکھ 13 ہزار 633 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 37 ڈالر کم ہوکر 4601 ڈالر فی اونس ہے۔

عمرہ پر جانے والوں کیلئے خوشخبری

کراچی: پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ روز کے مقابلے میں سعودی ریال کی قدر میں 2 پیسے کی کمی دیکھی گئی۔ تازہ ترین اوپن مارکیٹ ریٹس کے مطابق سعودی ریال 74 روپے 80 پیسے میں خریدا جا رہا ہے۔ جبکہ اس کی فروخت 75 روپے 30 پیسے میں ہو رہی ہے۔ دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں سعودی ریال 74 روپے 63 پیسے میں خریدا اور 74 روپے 76 پیسے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ منگل 13 جنوری 2026 کو اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال 74 روپے 85 پیسے میں خریدا گیا تھا۔ جبکہ اس کی فروخت 75 روپے 50 پیسے میں ہو رہی تھی۔ یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں پیٹرول کی فی بیرول قیمت میں بڑی کمی ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی صورتحال اور زر مبادلہ کی طلب و رسد کے باعث کرنسی مارکیٹ میں معمولی اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہے۔ جبکہ آئندہ دنوں میں بھی ریٹس میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں

پاکستانی عوام کو پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے مسلسل چوتھی مرتبہ ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے، جس سے نئے سال کے آغاز پر ملنے والے بڑے ریلیف کے بعد صارفین کو مزید سہولت حاصل ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر تک کمی ہو سکتی ہے۔ اس ورکنگ کے مطابق پٹرول 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 70 پیسے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 1 روپے 82 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر تک کمی متوقع ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد پٹرولیم ڈویژن نئی قیمتوں کا اعلان کرے گا، جو آئندہ 15 روز کے لیے نافذ ہوں گی۔ سرکاری محکموں میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر پابندی کا فیصلہ واضح رہے کہ یکم جنوری 2026 کو پٹرول کی قیمت میں 10 روپے 28 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق قیمتوں میں متوقع کمی کی وجہ بین الاقوامی تیل کی منڈی میں قیمتوں میں کمی، کسٹمز ڈیوٹی میں کمی اور کرنسی ریٹ میں تبدیلیاں ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں 11 جنوری کو پٹرول کی قیمت 2.74 ڈالر فی بیرل کمی کے بعد 66.54 ڈالر فی بیرل تک آ گئی تھی۔

حکومت کون سے نوٹ تبدیل کرنے جا رہی

حکومت نے وفاقی کابینہ کی باضابطہ منظوری کے بعد نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ چھاپنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بدھ کے روز وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں 100، 500، 1,000 اور 5,000 روپے کے بینک نوٹس کے نئے ڈیزائن متعارف کرانے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹس جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں، جس کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے نئے نوٹس میں جدید اور مضبوط سکیورٹی تھریڈز شامل کیے جائیں گے۔ نئے ڈیزائن میں پاکستان کی علاقائی اور جغرافیائی تنوع کے ساتھ ساتھ تاریخی مقامات کو نمایاں کیا جائے گا، جبکہ خواتین کے قومی ترقی میں کردار اور موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ نئے کرنسی نوٹ اضافی قیمت پر فروخت ہونے لگے کرنسی نوٹس کے حتمی اجرا سے قبل مجوزہ ڈیزائنز کا مزید جائزہ لینے کے لیے کابینہ نے ایک خصوصی کابینہ کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دی۔ اجلاس کے دوران کابینہ نے نجی حج پالیسی 2027ء تا 2030ء کے مسودے کو مزید غور و خوض کے لیے دوبارہ حج پالیسی کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کی۔ مسودہ نجی حج آپریٹر کمپنیوں کی رجسٹریشن اور تھرڈ پارٹی ویریفکیشن سے متعلق امور کا احاطہ کرتا ہے۔

سونے کے بعد چاندی کی قیمت

پاکستان سمیت دنیا بھر میں چاندی کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 7.5 فیصد اضافے سے بلند ترین سطح 93 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی ہے۔ عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ چاندی کی موجودہ قیمتوں میں اضافہ 2025 میں شروع ہوا، چاندی کی قیمتوں میں صرف 13 ماہ میں 210 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح 4 لاکھ 86 ہزار 162روپے پر پہنچ چکی ہے، عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 4638 ڈالر کا ہو گیا ہے۔ ملک میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی پاکستان میں چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، گزشتہ روز فی تولہ قیمت 9575 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔

ڈالر کے 250 روپے سے نیچے آنے کے

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے تیار کردہ جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کی درآمد میں 15 ممالک کی دلچسپی کے باعث امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔ ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ڈالر کے 250 روپے سے نیچے آنے کے قوی امکانات ہیں۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فے۔ ای سی اے پی چیئرمین کے مطابق روپے کی قدر میں بہتری کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ، جے ایف 17 طیاروں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط بحالی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ 46 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکی ہے۔ لاس اینجلس میں فلاحی کنسرٹ، فلسطین اور سوڈان کے بچوں کیلئے 5.4 ملین ڈالر جمع ملک بوستان نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈالر 290 روپے سے زائد سطح سے کم ہو کر تقریباً 281 روپے پر آ گیا ہے، جو قریباً 9 روپے کی کمی ہے۔ انہوں نے روپے کی موجودہ استحکام کو عارضی قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی حقیقی قدر 250 روپے سے بھی کم ہے۔ انہوں نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ 2022 میں ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم تھے، جو اب بڑھ کر تقریباً 22 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ حکومت پر تنقید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ملک بوستان کا کہنا تھا کہ معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی اور اس کی بحالی میں وقت لگنا فطری عمل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چند سال قبل ڈالر کے 500 روپے تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، جبکہ اب توقعات 250 روپے یا اس سے بھی کم سطح کی طرف جا رہی ہیں۔

ملک میں فی تولہ سونا مزید 4300

کراچی : ملک میں سونےکی فی تولہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید 4300 کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے سے سونے کی قمیت 4لاکھ 86 ہزار 162 روپے کی تاریخ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کا بھاؤ3687 روپے اضافے سے 4 لاکھ 16 ہزار 805 روپے ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 43 ڈالر اضافے سے 4638 ڈالر فی اونس ہے۔

حکومت کا نئےکرنسی نوٹ متعارف کرانے

اسلام آباد: حکومت نے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانےکا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اعلامیے کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے جاری ہونے والے بینک نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔ وفاقی کابینہ نےکرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور کے لیےکابینہ کمیٹی تشکیل دے دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئےکرنسی نوٹوں کو جدید عصری تقاضوں کے حوالے سے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ نئےکرنسی نوٹوں کےڈیزائن کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 100، 500، 1000 اور 5000 روپےکے نئے ڈیزائن کے بینک نوٹ متعارف کروائے جائیں گے۔ نئے کرنسی نوٹوں میں زیادہ بہتر سکیورٹی تھریڈ استعمال کیا جائےگا۔ نئےکرنسی نوٹوں کی ڈیزائن میں پاکستان کی علاقائی اور جغرافیائی تنوع اور تاریخی یادگاروں کو جگہ دی گئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ خواتین کی قومی ترقی میں شمولیت کو بھی ڈیزائن کا حصہ بنایا جائےگا، ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم معاشرتی موضوعات کو بھی ڈیزائن کا حصہ بنایا جائےگا۔

حکومت نے متبادل راستوں سے کینو

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی کاوشوں کے نتیجے میں پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، وفاقی حکومت نے متبادل راستوں کے ذریعے کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف کسانوں کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی زرمبادلہ میں اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے آلو اور کینو کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔ اس درخواست پر ڈپٹی وزیراعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی، جس میں متعلقہ وفاقی وزارتوں اور تمام اہم سٹیک ہولڈرز کو نمائندگی دینے کی استدعا کی گئی ہے، تاکہ برآمدی عمل کو مزید مؤثر اور آسان بنایا جا سکے۔ پنجاب حکومت نے وفاقی سطح پر اس بات پر زور دیا کہ آلو اور کینو کی ایکسپورٹ کے لیے نئی بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش کی جائے اور برآمدی اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے حصول اور کسانوں کو بروقت فائدہ پہنچانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب آلو اور کینو کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 95 فیصد پیدا کرتا ہے۔ رواں سال پنجاب میں آلو کی پیداوار 12 ملین ٹن جبکہ کینو کی پیداوار 4 ملین ٹن تک متوقع ہے، جس کے باعث برآمدات کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا ہے کہ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی محنت کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے کھلے دل سے وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق آلو اور کینو کی ایکسپورٹ میں بہتری سے نہ صرف کسان مستحکم ہوں گے بلکہ صوبے اور ملک کی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔

وزیراعظم کی ورلڈ لبرٹی فنانشل وفد

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے وفد نے ملاقات کی جس کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل اور کراس بارڈر ادائیگیوں کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زکری وِٹکوف کی قیادت میں وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈیجیٹل پاکستان کے اپنے وژن سے آگاہ کیا، جس کا مقصد شہریوں کے لیے رابطے، رسائی، شفافیت اور سہولت میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں اور مالیاتی جدت پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بن رہا ہے۔ اس موقع پر زکری وِٹکوف نے پاکستان کے ساتھ محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام، بالخصوص کراس بارڈر ادائیگیوں اور فارن ایکسچینج کے شعبے میں تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کو عالمی ڈیجیٹل فنانس میں ایک مضبوط امیدوار بنا رہا ہے۔ بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حکومتِ پاکستان اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی (ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ادارہ) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب دیکھی۔ ایم او یو کا مقصد کراس بارڈر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نئے نظام پر تکنیکی اور پالیسی سطح پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے سی ای او زکری وِٹکوف نے دستخط کیے۔

سوزوکی سوئفٹ کے خریداروں کیلئے

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) نے اپنی آٹو فنانسنگ اسکیم UBL Drive کے تحت سوزوکی سوئفٹ کے خریداروں کے لیے ایک پرکشش پیشکش متعارف کرادی ہے، جس کے تحت صارفین گاڑی کو آسان ماہانہ اقساط پر خرید سکتے ہیں۔ اس آفر میں ریزیڈیول ویلیو (RV) فنانسنگ کا آپشن بھی شامل ہے، جس کے باعث کم ماہانہ ادائیگی کے ساتھ گاڑی حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ یو بی ایل کے مطابق یہ سہولت سوزوکی سوئفٹ کے تمام ویریئنٹس پر دستیاب ہے، جن میں سوئفٹ GL مینوئل، GL CVT اور GLX CVT شامل ہیں۔ گاڑیوں کی قیمتیں تقریباً 44 لاکھ 60 ہزار روپے سے 47 لاکھ 66 ہزار روپے کے درمیان ہیں، جبکہ خریدار مختلف ایکویٹی کنٹری بیوشن آپشنز میں سے انتخاب کرسکتے ہیں، جو تقریباً 13 لاکھ 40 ہزار روپے سے شروع ہوتی ہیں۔ سوزوکی سوئفٹ GL مینوئل کی قیمت 43 لاکھ 36 ہزار روپے ہے، جس پر 13 لاکھ 44 ہزار روپے ڈاؤن پیمنٹ کے بعد تقریباً 29 لاکھ 91 ہزار روپے فنانس کیے جا سکتے ہیں۔ اس ویریئنٹ کی ماہانہ قسط اسٹینڈرڈ پلان کے تحت تقریباً ایک لاکھ 2 ہزار 982 روپے بنتی ہے، جبکہ ریزیڈیول ویلیو پلان میں یہ قسط کم ہو کر 69 ہزار 567 روپے رہ جاتی ہے۔ اسی طرح سوئفٹ GL CVT کی قیمت 45 لاکھ 60 ہزار روپے ہے، جس پر 15 لاکھ 96 ہزار روپے ایکویٹی کے بعد ماہانہ قسط RV پلان کے تحت 68 ہزار 711 روپے سے شروع ہوتی ہے۔ ٹاپ آف دی لائن سوئفٹ GLX CVT کی قیمت 47 لاکھ 19 ہزار روپے رکھی گئی ہے، جس پر ماہانہ قسط ریزیڈیول ویلیو پلان میں تقریباً 69 ہزار 128 روپے بنتی ہے۔ یو بی ایل کے مطابق اسٹینڈرڈ فنانسنگ اسٹرکچر میں ماہانہ اقساط تقریباً ایک لاکھ 3 ہزار روپے تک ہیں، جبکہ RV پلان میں کم ماہانہ ادائیگی کے بدلے مدت کے اختتام پر ایک بڑی رقم ادا کرنا ہوگی۔ درخواست دینے کے لیے صارفین یو بی ایل ڈرائیو پورٹل وزٹ کرسکتے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ یہ آفر محدود مدت اور منتخب برانچز کے لیے ہے، جبکہ قیمتوں اور شرائط میں تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔ تمام درخواستیں بینک کی کریڈٹ پالیسی اور شرائط و ضوابط کے تحت منظور کی جائیں گی۔

ملک میں سونے کی قیمت

ملک میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ گزشتہ روز سونے کے نرخ میں 900 روپے فی تولہ اضافہ ہوا تھا جبکہ آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 4300 روپے کا اضافہ ہو گیاہے۔ 4300 کے اضافے کے بعد سونے کی نئی قیمت بلند ترین سطح 4 لاکھ 86 ہزار 162روپے پر پہنچ گئی ہے۔ دس گرام سونے کے نرخ میں 3 ہزار 687 روپے اضافہ ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 16ہزار 805 روپے ہو گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخ میں 43 ڈالر اضافہ ہونے سے فی اونس قیمت 4638 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر بڑی کمی کا امکان ملک میں چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، چاندی کی فی تولہ قیمت میں 500 روپے کا اضافہ ہونے سے قیمت 9575 روپے ہو گئی ہے۔

پنجاب میں ٹیکس نہ دینے والوں

پنجاب میں عرصہ دراز سے ٹیکس نہ دینے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی معظم اقبال سپرا کی زیر صدارت فیلڈ آپریشن کی کارکردگی بارے اجلاس ہوا، جس میں کہا گیا کہ صوبہ بھر میں سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پی آر اے سے لازمی رجسٹریشن کروانا ہوگی۔ کمپنیوں کو ای آئی ایم ایس اور ٹیکس ادائیگی بھی یقینی بنانا ہوگی، اجلاس میں محصولات کے اہداف اور ای آئی ایم ایس رجسٹریشن بارے کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری محکموں میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر پابندی کا فیصلہ مقررہ اہداف مکمل نہ کرنے پر سرگودھا اور بہاولپور ڈویژن کی کارکردگی کے بارے میں اظہار ناراضی کیا گیا، چیئرمین پی آر اے کا کہنا تھا کہ تمام فیلڈ ٹیموں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے رواں ماہ ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔

ای سی سی نے دفاعی منصوبوں کیلئے

اسلام آباد: اقصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دفاعی منصوبوں کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں دفاعی منصوبوں کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔ پنجاب میں ایس ڈی جی پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور اسلام آباد میں آٹزم سینٹر اسلام آباد کے لیے خصوصی بچوں کی ٹرانسپورٹ کے لیے 32 کروڑ روپے کی گرانٹ منظورکی گئی۔ آسان خدمت مرکز اسلام آباد کے قیام کے لیے 80 کروڑ اور ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی اور آئی ٹی منصوبوں کے لیے 3 ارب 70 کروڑ روپے منظور کیےگئے۔ ایف بی آر کے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے لیے 3 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ ایشیا پیٹرولیم لمیٹڈ پائپ لائن پر مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی۔ فلم و ڈرامہ فنانس فنڈ کے لیے 70 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، یہ رقم فلم اور ڈرامہ صنعت کے فروغ کے لیے فنڈز شفاف طریقے سے خرچ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

پیٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں بھی 16 جنوری سے قیمتوں میں کمی ہو سکتی ہے۔ یکم جنوری کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوئی تھی، پیٹرول 10 روپے 28 پیسے سستا ہوا تھا جبکہ ڈیزل 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر سستا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق سولہ جنوری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 4 روپے 59 پیسے فی لٹر تک کم ہونے کا امکان ہے، پیٹرول 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر، ڈیزل 2 روپے 70 پیسے فی لیٹر تک سستا ہو سکتا ہے۔ نیپرا نے ملک بھر کیلئے یکساں بجلی ٹیرف کی منظوری دیدی مٹی کا تیل 1 روپے 82 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر تک سستا ہونے کی توقع ہے۔ نئی قیمتوں میں ردو بدل کا حتمی اعلان وزیراعظم پاکستان کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

پاک برطانیہ تجارت

پاک برطانیہ تجارت پہلی بار ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر حکمتِ عملی سے پاکستان ترقی اور عالمی اعتماد کے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری ازسرِنو استوار کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ اعلان برطانوی وزیر ترقی کی جانب سے دورہ پاکستان کے دوران کیا گیا۔ پاکستان اور برطانیہ نے 8 برس بعد ترقیاتی مکالمہ اور سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے، پاک برطانیہ تجارت پہلی بار 5.5 ارب پاؤنڈ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ برطانوی وزیر نے کہا کہ تجارتی تعلقات روزگار اور معاشی ترقی کو فروغ دے رہی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف اور برطانوی وزیر نے کاروباری اصلاحاتی پیکج کا اجرا کیا۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال غیر ملکی سرمایہ کاری میں مثبت رجحان برقرار رہا، 731 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 524 نئی کمپنیوں کے ساتھ 1.26 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔ آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ چین، برطانیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، ویتنام، امریکہ اور یو اے ای سمیت متعدد ممالک کی کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن کرائی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں 71 فیصد حصے کے ساتھ چین سرفہرست ہے۔

نئے نوٹ تیار

پاکستان میں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، تاہم حتمی ڈیزائن کی منظوری کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو وفاقی حکومت کی اجازت کا انتظار ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ نئی کرنسی جدید اور مؤثر سکیورٹی فیچرز سے آراستہ ہوگی، تاہم اب تک نوٹوں کے حتمی ڈیزائن موصول نہیں ہوئے۔ حکام کے مطابق جیسے ہی منظوری ملے گی، نئی کرنسی کی چھپائی میں کم از کم دو ماہ کا وقت درکار ہوگا، جبکہ اس مقصد کے لیے جدید مشینری پہلے ہی دستیاب ہے۔ سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے سینئر منیجر پرنٹنگ عامر شمس نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک اور سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے درمیان نئی کرنسی کی چھپائی سے متعلق مشاورت ہو چکی ہے۔ پنشن اور تنخواہ ایک ساتھ لینے پر عائد پابندی ختم ، نوٹیفکیشن جاری ان کے مطابق نئی کرنسی کے ڈیزائن مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے یا تمام مالیتوں کے نوٹ ایک ساتھ متعارف کرائے جائیں گے، اس حوالے سے فیصلہ اسٹیٹ بینک میں زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے اسٹیٹ بینک رواں سال نئی کرنسیوں کی چھپائی کے لیے باضابطہ ٹائم لائن جاری کرے گا۔ ذرائع کے مطابق نئے ڈیزائن والے کرنسی نوٹوں کی چھپائی کا باضابطہ آرڈر وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی دیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن شارٹ لسٹ کر کے حکومت کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کابینہ کی منظوری کی صورت میں 2026 کے آخری مہینوں میں نئے ڈیزائن والی کرنسی کا اجرا ممکن ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے کھربوں مالیت معدنی

پاکستان کے کھربوں ڈالر مالیت کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کو اسٹریٹجک معاشی ترقی کی بنیاد بنانے کے لیے حکومت نے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ یہ بات دی نیشنل انٹرسٹ میں شائع ایک مضمون میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ مضمون کے مطابق پاکستان کے معدنی شعبے میں اصلاحات کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ شفافیت اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو اہم معدنیات کا اسٹریٹجک مرکز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں اپریل 2026 میں منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (PMIF26) کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معدنی معیشت میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا جا رہا ہے۔ ریکوڈک منصوبہ، جو دنیا کے بڑے کاپر اور گولڈ منصوبوں میں شامل ہے، 5.9 ارب ٹن معدنی ذخائر رکھتا ہے اور اربوں ڈالر کی آمدنی اور ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے قیمتی پتھروں کی مجموعی مالیت تقریباً 450 ارب ڈالر ہے، مگر اس کی سالانہ برآمدات صرف 5.8 ملین ڈالر ہیں، جو اس شعبے میں بڑے امکانات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ حکومت نے قیمتی پتھروں کے لیے پہلی قومی جیم اسٹون پالیسی بھی متعارف کرائی ہے جس میں جدید سرٹیفیکیشن، ویلیو ایڈیشن اور نوجوانوں کی کاروباری شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔ حکومت نے پانچ سال میں جیم اسٹون برآمدات کو 1 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ بلومبرگ نے پاکستان کی معیشت میں بہتری اور پالیسی استحکام کی تصدیق کردی پاکستان لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب زمینی عناصر کی عالمی سپلائی چین میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور معدنی اصلاحات سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معدنی اور جیم اسٹون سیکٹر کی ترقی سے آئندہ 10 سال میں سالانہ 5 سے 7 بلین ڈالر تک جی ڈی پی میں اضافہ ممکن ہے، جبکہ ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ مجموعی طور پر، پاکستان خود کو عالمی معدنی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر منوانے کی راہ پر گامزن ہے۔

پیٹرول کی فی بیرول قیمت میں بڑی کمی

اسلام آباد: عالمی منڈی میں پیٹرول کی فی بیرل قیمت میں 2 ڈالر 74 سینٹ کمی ریکارڈ ہو گئی۔ پیٹرول کی قیمت 69.27 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 66.54 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ پیٹرول پریمیم میں بھی 13 سینٹ فی بیرل کمی دیکھی گئی۔ جس کے بعد پریمیم 5 ڈالر 14 سینٹ سے کم ہو کر 5 ڈالر ایک سینٹ پر آ گیا۔ اسی طرح پیٹرول پر فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی میں 72 پیسے کمی کی گئی۔ جبکہ ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ میں 68 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں مجموعی طور پر 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی۔ جس کے بعد قیمت 145 روپے 57 پیسے سے کم ہو کر 139 روپے 6 پیسے فی لیٹر پر آ گئی۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں ڈیزل کی فی بیرل قیمت 2 ڈالر 33 سینٹ کمی کے بعد 76.32 ڈالر سے کم ہو کر 73.99 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ ڈیزل پر فی بیرل کسٹم ڈیوٹی میں 80 پیسے جبکہ ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ میں 35 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت میں 5 روپے 33 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی۔ جس کے بعد قیمت 155 روپے 33 پیسے سے کم ہو کر 149 روپے 99 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ یہ بھی پڑھیں: معروف انٹرنیشنل ائیر لائن نے کرایوں میں کمی کردی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اس کمی کے اثرات مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی جانب سے کیا جائے گ

مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے

اسلام آباد: مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔ مالی سال 25-2024کے دوران بھاری خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو 123 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جب کہ گزشتہ مالی سال 24-2023 میں یہ خسارہ 30 اعشاریہ 6 ارب روپے تھا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ، خسارے کے لحاظ سے این ایچ اے 153ارب روپے کے ساتھ سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ الیکٹرک کو 58 اعشاریہ 1 ، سکھر الیکٹرک کو 29 اعشاریہ 6 ، پاکستان ریلوے کو 26 اعشاریہ 5، پشاور الیکٹرک کو 19 اعشاریہ 7 جب کہ پاکستان اسٹیل ملز کو 15 اعشاریہ 6 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ مالی سال 2025 کی پہلے نصف میں بڑے خسارے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 343ارب روپے کے نقصان کی اطلاع دی ہے تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں خسارے میں 2 فیصد بہتری ہوئی۔

وزیراعظم کا دسمبر 2025 میں ریکارڈ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے دسمبر 2025 میں ریکارڈ ترسیلات زر بھیجنے پر سمندر پار پاکستانیوں سے اظہار تشکر کیا ہے۔ ایک بیان میں وزیر اعظم نےکہا کہ دسمبر 2025 میں سمندرپارپاکستانیوں نے 3.6 ارب ڈالر ترسیلات زربھیجے جس پر ان کے مشکور ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہےکہ ترسیلات زر میں 16.5 فیصد اضافہ اوورسیز پاکستانیوں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتمادکا مظہر ہے، سمندرپارپاکستانیوں کا وطن کی تعمیر وترقی کے لیے ترسیلات زر بھیجنا وطن سے محبت کی اعلیٰ مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندرپارپاکستانی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو ان پر فخر ہے، سمندر پار پاکستانیوں کی بہبود کے لیے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

نیپرا کا کراچی سمیت ملک بھر کیلئے

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف 2026 کے لیے بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیپرا نے ملک بھر میں بجلی کے یکساں نرخوں سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست کی منظوری دے دی، اب وفاقی حکومت اس سلسلے میں حتمی نوٹی فکیشن جاری کرے گی۔ نیپرا کے مطابق یکم جنوری سے کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی کے موجودہ نرخ برقرار رہیں گے۔اس سلسلے میں نیپرا نے وفاقی حکومت کی درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ نیپرا کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا زیادہ سے زیادہ ٹیرف 47 روپے 69 پیسے فی یونٹ برقرار رہے گا، ایک سے 100 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 10 روپے 54 پیسے پر برقرار رہے گا۔ اس کے علاوہ 101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 13 روپے ایک پیسے برقرار رہے گا۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے بجلی کے نرخوں کے تعین کا فیصلہ یکم جولائی کی بجائے یکم جنوری سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

پاکستان میں سونا مزید 7700 روپے

پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت تاریخی بلندی پر جا پہنچی۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 7700 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کےبعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 80 ہزار 962 روپے کا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ 10 گرام سونے کا بھاؤ 6602 روپے اضافے سے 4لاکھ 12ہزار347 روپے پر پہنچ گیا۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 77 ڈالر اضافے سے 4586 ڈالر فی اونس ہے۔ علاہ ازیں معاشی ماہرین نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ عالمی ماکیٹ میں چاندی کی قیمت کو بھی پر لگ گئے سونے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت بھی اضافہ ہوا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق آج کاروباری روز کے دوران چاندی کی قیمت 83.96 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح کو چھو کر 82.72 ڈالر فی اونس پر رک گئی۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج ملک میں چاندی کی فی تولہ قیمت 8 ہزار 895 روپے اور 10 گرام چاندی کی قیمت 7 ہزار 626 روپے ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں نے اربوں ڈالرز

سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں جاری مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر 10.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران سمندر پار پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 19.7 ارب ڈالر وطنِ عزیز بھجوائے، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ترسیلاتِ زر کا حجم 17.8 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دسمبر کے مہینے میں ترسیلاتِ زر کا حجم 3.6 ارب ڈالر رہا، جو نومبر کے مقابلے میں 12.6 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح دسمبر 2024 کے مقابلے میں بھی دسمبر کی ترسیلاتِ زر میں 12.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دسمبر میں مختلف ممالک سے ترسیلاتِ زر کی صورت حال کچھ یوں رہی: سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے 813.1 ملین ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 726.1 ملین ڈالر، برطانیہ سے 559.7 ملین ڈالر جبکہ امریکہ میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے 301.7 ملین ڈالر وطن منتقل کیے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کیلنڈر سال 2025 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر کا حجم 40.18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو سال 2024 کے 34.66 ارب ڈالر کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سونے کی قیمت میں آج بھی

ملک میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 3 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 73 ہزار 262 روپے کا ہو گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 172 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 5 ہزار 745 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سونا اچانک ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟ خیال رہے کہ پاکستان میں سالانہ سونے کی طلب 60 سے 90 ٹن کے درمیان ہے جس کی مالیت تقریباً 8 سے 12 ارب ڈالر بنتی ہے، لیکن اس میں سے 90 فیصد سے زیادہ کاروبار اب بھی غیر دستاویزی ہے۔ سی سی پی کی ’’پاکستان کی سونے کی مارکیٹ‘‘ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملکی سونے کی 70 فیصد طلب شادیوں اور تقریبات سے جڑی ہوتی ہے۔ پاکستان سونے کی درآمدات پر بھی انحصار کرتا ہے اور مالی سال 2024 میں 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا۔ملک کے سرکاری ذخائر 2025 کے آخر تک 64.76 ٹن ریکارڈ کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر بنتی ہے۔

مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں

اسلام آباد: مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔ مالی سال 25-2024کے دوران بھاری خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو 123 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جب کہ گزشتہ مالی سال 24-2023 میں یہ خسارہ 30 اعشاریہ 6 ارب روپے تھا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ، خسارے کے لحاظ سے این ایچ اے 153ارب روپے کے ساتھ سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ الیکٹرک کو 58 اعشاریہ 1 ، سکھر الیکٹرک کو 29 اعشاریہ 6 ، پاکستان ریلوے کو 26 اعشاریہ 5، پشاور الیکٹرک کو 19 اعشاریہ 7 جب کہ پاکستان اسٹیل ملز کو 15 اعشاریہ 6 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ مالی سال 2025 کی پہلے نصف میں بڑے خسارے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 343ارب روپے کے نقصان کی اطلاع دی ہے تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں خسارے میں 2 فیصد بہتری ہوئی۔

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

ملکی زرمبادلہ ذخائر کی 2 جنوری 2026کو ختم ہونےوالےکاروباری ہفتے کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملکی زرمبادلہ ذخائر21ارب 19کروڑ24لاکھ ڈالرز ہوگئےہیں ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر نئی بلندی پر اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14 کروڑ10 لاکھ ڈالرز اضافے سے 16ارب5کروڑ57لاکھ ڈالر رہے۔ اسی طرح کمرشل بینکوں کے ذخائر 5ارب 13کروڑ67لاکھ ڈالرز ہو گئے۔

سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

ملک میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سندھ صرافہ بار ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 3 ہزار 400 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 69 ہزار 562 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 915 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 2 ہزار 573 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سونا، اسٹاک مارکیٹ یا پلاٹ،کن پاکستانی سرمایہ کاروں کو 2025 میں زیادہ فائدہ ہوا؟

عالمی منڈی میں تیل کی

ایرانی تیل کی پیداوار میں ممکنہ خلل اور وینزویلا سے سپلائی کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 59 سینٹ کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 62.58 ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 54 سینٹ مہنگا ہو کر 58.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔ ادھر امریکا نے وینزویلا کے تیل کو غیر معینہ مدت تک کنٹرول میں رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کاراکاس میں عبوری حکام کے ساتھ طے پانے والے تیل معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

بجلی کی قیمت ایک روپے 79 پیسے بڑھادی

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر میں بجلی مہنگی کرتے ہوئے یکم جنوری سے فی یونٹ بجلی کی قیمت ایک روپے 79 پیسے بڑھا دی۔ نیپرا نے فیصلہ وفاقی حکومت کو بجھوا دیا ہے۔ اطلاق وفاقی حکومت سے منظوری کے بعد ہوگا۔ اس وقت ملک میں نافذالعمل فی یونٹ بجلی کے اوسط بنیادی نرخ 31 روپے 59 پیسے ہیں۔ دوسری جانب نیپرا نے فی یونٹ بجلی93 پیسے سستی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ نیپرا نے فی یونٹ بجلی 93 پیسےسستی کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا ہےجس میں بتایا گیا کہ بجلی نومبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں سستی کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کو جنوری کے بلوں میں ریلیف ملے گا جبکہ لائف لائن صارفین پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

تنخواہ دار طبقے نےکتنا انکم ٹیکس ادا کیا؟

جولائی تا دسمبر 2025 میں تنخواہ داروں کی انکم ٹیکس ادا کرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق جولائی تا دسمبر تنخواہ داروں نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، انہوں نے مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً 10 فیصد ادا کیا۔ تنخواہ دار کا ادا کیا گیا ٹیکس رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ادا ٹیکس سے دوگنا سے بھی زیادہ رہا، تنخواہ دارطبقے کا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہ دارطبقہ اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 38 فیصد ٹیکس کی صورت میں دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے پر علاقائی ممالک کے مقابلے میں ٹیکس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ نان کارپوریٹ ملازمین نے سب سے زیادہ 117 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، یہ انکم ٹیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 82 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو سالانہ بنیاد پر 13 فیصد زیادہ ہے، صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 39 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو پچھلے سال کے مقابلے 7 فیصد کم ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین نے 27 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کروایا، پلاٹوں کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس دوتہائی اضافے سے 87 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ پلاٹوں کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں 29 فیصد کمی ہوئی، یہ 39 ارب روپے رہی، جولائی تا دسمبر رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصول کیے، یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔

پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے ٹیکس اصلاحات

پاکستان بزنس کونسل (PBC) نے آج ٹیکس پالیسی آفس (TPO) کے نو منتخب ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نجیب احمد میمن کا خیر مقدم کیا۔ پاکستان بزنس کونسل میں ہونے والی ملاقات کے دوران ڈاکٹر نجیب احمد میمن نے ٹیکس پالیسی آفس کے مینڈیٹ، اہداف اور طریقۂ کار پر روشنی ڈالی اور صنعتی اداروں کے ساتھ بامقصد اور منظم مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان بزنس کونسل ان ابتدائی اداروں میں شامل رہی ہے جنہوں نے ٹیکس پالیسی کو ریونیو ایڈمنسٹریشن سے الگ کرنے کی سفارش کی اور اس کی بھرپور حمایت کی۔ کونسل کا مستقل مؤقف رہاہے کہ ٹیکس پالیسی طویل المدت، مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ہونی چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کے فروغ، صنعت و برآمدات کی معاونت اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کونسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ ایک مؤثر ٹیکس فریم ورک دستاویزی معیشت کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے اور قانون کی پاسداری کرنے والے کاروباری اداروں پر اضافی بوجھ نہ ڈالے۔ اس مشاورتی عمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے پی بی سی کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلف منیر نے کہا کہ ٹیکس پالیسی آفس کا قیام بامعنی اصلاحات کی جانب ایک مثبت ادارہ جاتی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ،” ہم ڈاکٹر نجیب احمد میمن کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے اختیار کیے گئے مشاورتی طریقۂ کار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر نجیب احمد میمن نے کہا کہ ،حکومتِ پاکستان اس امر پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت ایک مؤثر، قابلِ اعتبار اور ترقی دوست ٹیکس پالیسی فریم ورک کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ پاکستان بزنس کونسل نے حکومت اور اس کے اداروں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پائیدار اصلاحات صرف پالیسی سازوں، انتظامی اداروں اور صنعت کے درمیان ہم آہنگی سے ہی ممکن ہیں۔ کونسل نے مزید کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے ایک شفاف، قابل پیش گوئی اور منصفانہ ٹیکس نظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

پاکستانیوں نے 40.18 ارب ڈالر وطن بھیجے

اسٹیٹ بینک نے بیرون ملک سے بھیجی گئی ترسیلات کی تفصیلات جاری کر دیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دسمبر میں 3.58 ارب ڈالر وطن بھیجے جن میں سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے دسمبر میں 81 کروڑ ڈالر بھیجے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے 72 کروڑ، برطانیہ سے 56 کروڑ اور یورپی ممالک سے 49 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 2025 میں 40.18 ارب ڈالر وطن بھیجے۔ مرکزی بینک کا بتانا ہےکہ 2025 کی کم ترین ترسیلات زر جنوری میں 3 ارب ڈالر رہیں، مارچ 2025 میں سال کی سب سے زیادہ ترسیلات 4.05 ارب ڈالر رہیں جب کہ سال 2025 کی اوسط ماہانہ ورکرز ترسیلات 3.34 ارب ڈالر رہیں۔

سونے کی اونچی اڑان کو بریک لگ گئی ، آج بھی بڑی کمی ریکارڈ

کراچی : سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی 7 ہزار 538 روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 7538 روپے کم ہو کر 4 لاکھ37 ہزار 362 روپے ہو گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 6463 روپے کم ہو کر 3 لاکھ74ہزار967 روپے ہو گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ85 ڈالر کم ہو کر 4150 ڈالر فی اونس ہے۔

پاکستان اب غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے محفوظ ملک بن چکا ہے: وزیرخزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زيب نے کہا ہے کہ پاکستان اب غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک بن چکا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں انٹرویو دیتے ہوئے محمد اورنگ زيب کا کہنا تھاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب اور اسموگ کی فریکیونسی بڑھتی جارہی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات معیشت پر بھی پڑتے ہیں، سیلاب کے نقصانات سے قبل جی ڈی پی گروتھ اس سال 4.2 کا اندازہ تھا اور اس سال کے سیلاب سے 80 فیصد نقصان پنجاب میں ہوا، اگر موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی آبادی کے خطرات سے نمٹا نہ گیا تو ملکی معیشت کو تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں ریلیف اور ریسکیو اپنے وسائل سے کرسکتے ہیں، تعمیر نو کے لیے ضرورت پڑتی ہے تو ہوسکتا ہے ہم عالمی اداروں کے پاس جائیں، ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کوئی گرانٹ آتی ہے تو وہ لے لینی چاہیے، قرض لے کر تو ہم نے آگے جاکر واپس ہی کرنا ہے۔ وزیرخزانہ کا کہنا تھاکہ پاکستان میں سرمایہ کاروں نے پیسے بنائے تو بھجوائے ہیں، ورلڈ بینک نے ٹیکس اصلاحات پر ہماری پریزنٹیشن کی تعریف کی، ورلڈ بینک کے سامنے پریزنٹیشن میں بتایا کہ ٹیکنالوجی سے کرپشن میں کمی ہوئی ہے، مصرکے وزیرخزانہ نے کہا کہ میں اپنی ٹیم آپ کے پاس بھیجتا ہوں یا آپ اپنی ٹیم بھیجیں۔

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے، اوگرا

کاروبار ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے، اوگرا ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے، اوگرا فوٹو: فائل اسلام آباد: آئل اینڈگیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے۔ ترجمان اوگرا کا کہنا ہےکہ درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی کلیئرنس میں چند روز قبل تاخیر ہوئی تھی، ملک میں اب پیٹرولیم مصنوعات سپلائی کی صورتحال معمول کےمطابق ہے۔ ترجمان اوگرا کے مطابق آج بھی دو کمپنیوں کے پیٹرول اور ڈیزل کے دو جہاز کلیئر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے اچانک انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (cess )کے تحت 100 فیصد بینک گارنٹی کی شرط بحال کیے جانے کے بعد پیٹرولیم کارگو بندرگاہوں پر پھنس گئے ہیں جس کے باعث ملک میں ایندھن بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

چین کو پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافہ

رواں سال کے پہلے 9 ماہ میں پاکستان کی چین کو سمندری غذا کی برآمدات بڑھ کر 153 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ منگل کو جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز آف چائنا (جی اے سی سی ) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں پاکستان کی چین کو سمندری غذا کی برآمدات بڑھ کر 153 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 121.93 ملین ڈالر سے زیادہ رہی ۔ یہ مستحکم نمو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کے تحت دونوں ممالک کے درمیان گہرے زرعی اور ماہی گیری کے تعاون کے ساتھ ساتھ کولڈ چین لاجسٹکس اور سرٹیفیکیشن سسٹم کے ذریعے چینی مارکیٹ تک پاکستان کی بڑھتی ہوئی رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔ بڑے برآمدی زمروں میں، رواں سال کے پہلے 9 ماہ میں منجمد مچھلی کی برآمدات میں 40.10 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ، جو گزشتہ سال 30.19 ملین ڈالر پر رہیں ۔ اسی طرح، منجمد کٹل فش کی برآمدات گزشتہ سال کی 19.83 ملین ڈالر کی برآمد کی نسبت ان 9 ماہ میں بڑھ کر 20.29 ملین ڈالر جبکہ منجمد کیکڑوں (کریب)کی برآمدات بڑھ کر 25.68 ملین ڈالر پر آگئیں جو گزشتہ پورے سال میں 22.65 ملین ڈالر پر رہی تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں خاص طور پر، منجمد سارڈینز، سارڈینیلا، برسلنگ، یا اسپریٹس کی برآمد میں بھی قابل ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ اس زمرے میں، پاکستان روس اور انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چین کے سب سے بڑے برآمد کنندہ کے طور پر ابھرا ۔

آئی ایم ایف کا پاکستان میں معاشی اصلاحات کے تسلسل اور مالی بہتری کا اعتراف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے پاکستان میں معاشی اصلاحات کے تسلسل اور مالی بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ آئی ایم ایف کی مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجینل اکنامک آوٹ لک رپورٹ جاری کردی گئی جس کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال معاشی ترقی 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ میں پاکستان میں معاشی اصلاحات کے تسلسل اور مالی بہتری کا اعتراف کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2024-25 میں پاکستان میں ترسیلات زر،کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آئی۔ البتہ رپورٹ میں پاکستان میں سال 2025-26 میں مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجلی پرسبسڈی کے خاتمے، ٹیرف کے معمول پر آنے سے دباو بڑھے گا، علاقائی کشیدگی بھی خطے کی معاشی ترقی کو متاثرکرسکتی ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا کہ 2025 کی تیسری سہ ماہی میں سیلاب کے معیشت پر منفی اثرات کا خدشہ ہے ، پاکستان میں سیلاب کے ان منفی اثرات کی شدت تاحال غیر یقینی ہے۔

ملک میں ٹماٹر کی قیمت جلد نیچے آنے کا امکان

ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمت آئندہ چند روز میں نیچے آنے کا امکان ہے۔ مقامی تاجر کا کہنا ہے کہ بدین میں ٹماٹر کی فصل تیار ہوکر مارکیٹ میں آنے میں 15 سے 20 دن لگیں گے۔ اس وقت ملک بھر میں ٹماٹر 400 سے 500 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے جبکہ بعض شہروں میں ٹماٹر 600 روپے تک بھی فروخت ہو رہا ہے۔ مقامی تاجر کے مطابق ایران سے ٹماٹر منگوایا جا رہا ہے جو کہ مہنگا ہے جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں بھی ٹماٹر کے نرخ زیادہ ہیں، مقامی سپلائی شروع ہوتے ہی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔

سندھ حکومت سے ٹیکس تنازع: پیٹرولیم کارگو پورٹس پر پھنس گئے، ملک میں ایندھن بحران کا خدشہ

کراچی: سندھ حکومت اور آئل کمپنیوں کے درمیان ٹیکس کے تنازع پر ملک میں ایندھن بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ سندھ حکومت کی جانب سے اچانک انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (cess )کے تحت 100 فیصد بینک گارنٹی کی شرط بحال کیے جانے کے بعد پیٹرولیم کارگو بندرگاہوں پر پھنس گئے ہیں جس کے باعث ملک میں ایندھن بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ نمائندےکے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے ڈیولپمنٹ سیس 1994 میں عائد کیا گیا تھا جس کے خلاف پیٹرولیم کمپنیاں ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ گئیں جس پر سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے حق میں فیصلہ دیا، عدالتی فیصلے کے بعد سندھ حکومت نے سیس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نمائندے نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے پیٹرولیم کمپنیوں اور سندھ حکومت کے درمیان جو میکنزم چل رہا تھا اس کے تحت کمپنیاں فنش پراڈکٹ کی کارگو منواتی تھیں اور اس کے بدلے سندھ حکومت کو ادائیگی کے لیے انڈر ٹیکنگ دی جاتی تھی۔ تاہم اب کمنپیاں سیس کی ادائیاگی نہیں کر رہیں جس پر سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک سیس نہیں دیا جائے گا تو انڈرٹیکنگ کی بنیاد پر کلیئرنس نہیں ہوگی لہٰذا اب اس کے لیے 100 فیصد بینک گارنٹی دینا ہوگا۔ دوسری جانب اس حوالے سے کمپنیوں نے ہاتھ کھڑے کردیے ہیں اور وفاق سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔

تنخواہ دار طبقے نے ہول سیلرز، ریٹیلرز اور برآمد کنندگان کے مجموعی ٹیکس سے دگنا ٹیکس ادا کیا

اسلام آباد: تنخواہ دار نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں قومی خزانے میں 130 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرایا ہے جو کہ تاجروں، تھوک فروشوں اور برآمد کنندگان کی مجموعی ادائیگی سے دگنا ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں تنخواہ داروں سے 130 ارب روپے کی وصولی ہوئی، دوسری جانب جائیدادوں کے انتقال 60 ارب، برآمدکنندگان سے 45 ارب ، تھوک فروشوں سے 14.6 ارب اور ہول سیلرز سے 11.5 ارب روپے حاصل کیے جاسکے۔ اس طرح قومی خزانے میں تنخواہ داروں کی جانب سے ڈالے جانے والا یہ حصہ کہ تاجروں، تھوک فروشوں اور برآمد کنندگان کی مجموعی ادائیگی سے زیادہ ،برآمد کنندگان کے مقابلے میں تین گنا اور ریٹیل و ہول سیل سیکٹر کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔تنخواہ دارطبقے نے پچھلے سال 545ارب ٹیکس دیا۔ رواں برس رواں برس ہدف600 ارب روپےہے، برآمد کنندگان، تھوک و پرچون فروش اور پراپرٹی ٹائیکونزکی ٹیکس ادائیگی تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں نہایت کم ہے، جس سے ٹیکس نظام میں انصاف اور مساوات کے سوالات جنم لیتے ہیں۔ جائیداد کی خریداری پر 236K کے تحت ایف بی آر نے 24 ارب روپے جمع کیے، جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 18 ارب روپے تھے۔ ایف بی آر نے تنخواہ دار طبقے سے 130 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا، حالانکہ حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں چند درجہ بندیوں میں معمولی کمی کی تھی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں اس طبقے سے 110 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔ پہلی سہ ماہی میں تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادائیگی برآمد کنندگان کے مقابلے میں تین گنا اور ریٹیل و ہول سیل سیکٹر کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ رہی۔ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق جائیداد کی فروخت پر 236C کے تحت 42 ارب روپے حاصل کیے گئے، جو پچھلے سال کے 23 ارب روپے سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ بجٹ 2025-26 میں جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر 4.5 فیصد کر دی گئی تھی، اگر لین دین کی مالیت 50 ملین روپے سے کم ہو۔ جائیداد کی خریداری پر 236K کے تحت ایف بی آر نے 24 ارب روپے جمع کیے، جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 18 ارب روپے تھے۔ خریداری پر ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد مقرر کی گئی ہے جہاں منصفانہ مارکیٹ ویلیو 50 ملین روپے سے کم ہو۔ اگر خریدار ایکٹو ٹیکس دہندگان کی فہرست (ATL) میں شامل نہ ہو تو ٹیکس کی شرح 10.5 فیصد ہوگی، جبکہ اگر وہ مقررہ تاریخ کے بعد ریٹرن فائل کرے تو شرح 4.5 فیصد ہوگی۔ مجموعی طور پر، جائیداد کی خرید و فروخت سے ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 60 ارب روپے جمع کیے، جو گزشتہ سال کی 45 ارب روپے کی وصولی سے زیادہ ہیں۔ برآمد کنندگان سے انکم ٹیکس سیکشن 154 اور 147 (6C) کے تحت 45 ارب روپے وصول کیے گئے، جو گزشتہ سال 43 ارب روپے تھے۔ برآمدات پر فی الحال 1 فیصد ٹیکس سیکشن 154 کے تحت اور مزید 1 فیصد سیکشن 147 (6C) کے تحت لاگو ہے۔ ملک میں لاکھوں تھوک فروش اور پرچون فروش سرگرم ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق تھوک فروشوں نے 236G کے تحت 14.6 ارب روپے ادا کیے، جو گزشتہ سال 7 ارب روپے تھے، جبکہ 236H کے تحت پرچون فروشوں نے 11.5 ارب روپے ٹیکس دیا، جو گزشتہ سال 6.5 ارب روپے تھا۔ گزشتہ مالی سال 2024-25 میں ایف بی آر نے تنخواہ دار طبقے سے 545 ارب روپے وصول کیے تھے اور اب ہدف رکھا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں یہ رقم 600 ارب روپے تک پہنچائی جائے۔دوسری جانب، وہ طبقات جو منافع کما رہے ہیں—جیسے برآمد کنندگان، تھوک و پرچون فروش اور پراپرٹی ٹائیکونز—ان کی ٹیکس ادائیگی تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں نہایت کم ہے، جس سے ٹیکس نظام میں انصاف اور مساوات کے سوالات جنم لیتے ہیں۔

نیپرا نےکے الیکٹرک کا ٹیرف 7 روپے 60 پیسے کم کردیا، فیصلہ جاری

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں 7 روپے 60 پیسے فی یونٹ کمی کا حکم دیدیا۔ نیپرا نے کےالیکٹرک کے مالی سال 2024 تا 2030 کے ملٹی ائیرٹیرف کی نظرِثانی کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے کے تحت نیپرا نے کے الیکٹرک کا اوسط ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 32.37 روپےفی یونٹ مقرر کردیا۔ نیپرا حکام نے کہا کہ رائٹ آف کلیمز سے متعلق نیپرا کا سابقہ فیصلہ برقرار ہے جب کہ یہ فیصلہ کےالیکٹرک کے جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سپلائی سے متعلق ہے۔ نیپرا فیصلے کے تحت کے الیکٹرک ٹیرف میں 7 روپے 60 پیسے کی کمی کی گئی ہے تاہم رائٹ آف کلیمز کی مد میں صارفین پر 50 ارب روپے کا بوجھ برقرار رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب اس حوالے سے ترجمان کے الیکٹرک نے کہا ہے کہ نیپرا کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، فیصلہ کےالیکٹرک کے جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اورسپلائی بزنس کے متعدد پہلوؤں پر محیط ہے جب کہ کمپنی اس حوالے سے تمام قانونی راستے اختیار کرے گی۔

شدید بارشوں اور درآمد میں تعطل سے ٹماٹر کی قلت پیدا ہوئی: محکمہ پرائس کنٹرول

اسلام آباد: محکمہ پرائس کنٹرول کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ سپلائی میں تعطل کے باعث ہوا۔ ترجمان محکمہ پرائس کنٹرول کا کہنا ہےکہ خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کے باعث ٹماٹر کی فصل متاثر ہوئی جس کے باعث عارضی قلت پیدا ہوئی۔ ترجمان کے مطابق افغانستان اور ایران سے بھی ٹماٹر کی درآمد میں عارضی تعطل نے سپلائی پر وقتی دباؤ ڈالا اور ٹماٹرکی قیمتوں میں اضافہ موسمی تبدیلی، بارشوں، ٹرانسپورٹ مسائل کا نتیجہ ہے۔ ترجمان محکمہ پرائس کنٹرول کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ وقتی ہے، آئندہ ہفتے سپلائی معمول پر آتے ہی قیمتوں میں کمی متوقع ہے جب کہ سندھ کی فصل نومبر اور پنجاب کی فصل اپریل ، مئی میں آنے سے ٹماٹر وافر دستیاب ہوگا۔

سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت آج بھی کم

اسٹاف رپورٹر October 20, 2025 facebook twitter whatsup mail کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت آج بھی کم ہو گئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں آج 17 ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 235 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔ اسی طرح کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہزار 400 روپے کی کمی ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 44 ہزار 900 روپے فی تولہ ہو گئی۔ مقامی سطح پر فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی ایک ہزار 200 روپے کی کمی واقع ہوئی، جس سے نئی قیمت 3 لاکھ 81 ہزار 430 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ واضح رہے کہ ہفتے کے روز بھی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوئی تھی اور سونا اچانک 106 ڈالر فی اونس کم ہوکر 4252 ڈالر کی سطح پر آ گیا تھا، جس کے نتیجے میں ملکی سطح پر سونا 10 ہزار 600 روپے سستا ہوکر 4 لاکھ 46 ہزار 300 روپے فی تولہ پر پہنچ گیا تھا۔ سونے کی قیمت میں اس بڑی کمی سے ایک روز قبل جمعہ کے روزتاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا تھا، جس کے مطابق سونا عالمی مارکیٹ میں 141 ڈالر کے اضافے سے 4358 ڈالر فی اونس اور مقامی مارکیٹوں میں 14 ہزار 100 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔

مقامی کرنسی میں قرضوں کا اجرا بڑھانے کیلئے اسٹیٹ بینک اور آئی ایف سی کا معاہدہ

کاشف حسین October 20, 2025 facebook twitter whatsup mail پاکستان میں مقامی کرنسی میں قرضوں کا اجرا بڑھانے کیلئے اسٹیٹ بینک اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے۔ بینک دولت پاکستان نے ورلڈ بینک گروپ کے نجی شعبے کے ادارے آئی ایف سی کے ساتھ شراکت داری کی ہے جس کا مقصد مقامی کرنسی میں قرضوں کا اجرا بڑھانا اور پاکستان میں نجی شعبے کی نمو میں معاونت کرنا ہے۔ آئی ایس ڈی اے معاہدے کے تحت، اس شراکت داری سے آئی ایف سی کرنسی کے خطرات کا مؤثرانتظام اور پاکستانی روپے میں سرمایہ کاریاں بڑھا سکے گا ۔ یہ معاہدہ پاکستانی معیشت کے اہم شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور ملک بھر میں ملازمتیں پیدا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر، جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کی نمو کو فروغ دینا ملک کی کامیاب اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ آئی ایف سی کے ساتھ اس شراکت داری کا مقصد نجی شعبے کے لیے قرضوں کے مواقع میں اضافہ ہے۔ آئی ایف سی کے نائب صدر اور ٹریژری اورموبلائزیشن کے ٹریژرر جان گینڈولفو نے کہا کہ کرنسیوں میں اتار چڑھاؤ ترقی پذیر معیشتوں کو لاحق نمایاں خطرات میں سے ہے اور مقامی کرنسی میں قرضوں کا اجرا پہلے کے مقابلے میں اب بہت زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ ورلڈ بینک گروپ ایسے قرضوں کے فروغ کو اسٹریٹجک ترجیح دیتا ہے اور اس سے پاکستان میں معاشی نمو کو تحریک ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرح مبادلہ کے خطرات ترقی پذیر ملکوں کی کمپنیوں کے لیے سنگین چیلنج ہیں جو امریکی ڈالر جیسی مستحکم کرنسیوں میں قرض لیتی ہیں جبکہ اپنی آمدنی مقامی کرنسی میں حاصل کرتی ہیں۔ کرنسی کی اس عدم مطابقت کو دور کرنا نہ صرف خطرات کم کرنے اور مالی لچک برقرار رکھنے کی مقامی کاروباری اداروں کی صلاحیت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ وسیع تر معاشی استحکام کو سہارا دینے کے لیے بھی اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایف سی جدید مالی آلات کے استعمال اور شراکت داریوں کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں مقامی کرنسی میں مالکاری کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ آئی ایف سی کے ساتھ اس شراکت سے اسٹیٹ بینک کا مقصد یہ ہے کہ ملک کی معاشی مضبوطی کو بڑھایاجائے، نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دیا جائے اور پاکستان میں زرِ مبادلہ کی سیالیت کو بہتر بنایا جائے۔

آئی ایم ایف پاکستان پر قومی مفاد کیخلاف شرط عائد نہیں کرسکتا، وزیر خزانہ

خبر ایجنسیاں October 20, 2025 facebook twitter whatsup mail فائل فوٹو واشنگٹن: وفاقی وزیر خزانہ سینٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 1.2 ارب ڈالر کی اگلی آئی ایم ایف قسط دسمبر تک ملنے کی توقع ہے۔ وزیر خزانہ دورہ امریکا پر ہیں جہاں انہوں نے 20 وزارتی اجلاس میں شرکت کی اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فوری طور پر فعال کرنے پر زور دیا۔ وزیر خزانہ کی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر مختار ڈیوپ سے ملاقات ہوئی جس دوران وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ ایگزِم بینک جلد ریکوڈک منصوبے میں شمولیت اختیار کرے گا۔ محمد اورنگزیب کی جے پی مورگن کے سینئر انتظامی وفد سے بھی ملاقات ہوئی جس دوران دوطرفہ شراکت داری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ محمد نے کہا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ جلد اجلاس میں معاہدے کی منظوری دے گا اور پاکستان کو 31 دسمبر تک آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان پر قومی مفاد کے خلاف کوئی شرط عائد نہیں کر سکتا، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کی گئی اصلاحات نے معیشت کو مستحکم کیا اور اب تک تمام اصلاحات پاکستان کی اپنی معاشی ترجیحات کے مطابق ہیں۔

کراچی میں ٹماٹر مرغی کے گوشت سے بھی مہنگا

کاشف حسین October 19, 2025 facebook twitter whatsup mail بلاشبہ حکومتی منصوبے صائب ہیں لیکن ساتھ ساتھ روزگارکی فراہمی کے لیے بھی قابل عمل منصوبہ بندی ضروری ہے۔ فوٹو: فائل کراچی: شہر قائد میں فی کلو ٹماٹر مرغی کے گوشت سے بھی مہنگا ہو گیا۔ کراچی میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت 500 روپے سے تجاوز کرگئی ہے، جب کہ مرغی کا گوشت 450 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں اور گلی محلوں میں ٹماٹر 450 سے 550 روپے فی کلو کے درمیان دستیاب ہے۔ دکانداروں کے مطابق افغانستان سے ٹماٹر کی آمد بند ہونے اور پنجاب سے سپلائی محدود ہونے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت کراچی میں ٹماٹر کی 90 فیصد طلب ایرانی ٹماٹر سے پوری کی جا رہی ہے، تاہم اس کی رسد بھی ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے ٹماٹر کے سرکاری نرخ 280 روپے فی کلو مقرر کیے ہیں، مگر بچت بازاروں سمیت عام مارکیٹوں میں دکاندار سرکاری نرخوں پر فروخت سے انکار کر رہے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ منڈی سے ٹماٹر مہنگا ملنے کی وجہ سے وہ سستا فروخت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق اگر انتظامیہ چاہتی ہے کہ سرکاری نرخ پر فروخت ہو تو پہلے منڈی میں جا کر نرخنامے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ بچت بازار انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر دکاندار سرکاری نرخوں پر عمل نہیں کرسکتے تو انہیں فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سندھ نے پیٹرولیم درآمدات کی کلیئرنس کیلئے بینک گارنٹی لازمی قرار دیدی

اسلام آباد: سندھ نے پیٹرولیم درآمدات کی کلیئرنس کیلئے بینک گارنٹی لازمی قرار دے دی۔ سندھ حکومت نے باضابطہ طور پر پیٹرولیم ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ تمام پیٹرولیم درآمد کنندہ کمپنیاں، بشمول پاکستان اسٹیٹ آئل ، اپنی کنسائنمنٹس جاری کروانے کے لیے اب پہلے سے قبول شدہ انڈرٹیکنگز (ضمانتی دستاویزات) کے بجائے بینک گارنٹی جمع کرائیں۔ یہ اقدام پاکستان کی سپریم کورٹ کے یکم ستمبر 2021 کے حکم (سی پی ایل اے نمبر 4288 آف 2021) کی تعمیل میں کیا گیا ہے، جس میں یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ سندھ انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے تحت درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی کلیئرنس کے لیے بینک گارنٹیز کی جمع آوری ایک لازمی شرط ہوگی، عدم تعمیل کو سرکشی سمجھا جائے گا۔

استعمال شدہ ملبوسات کی درآمد پر فی کلو 200 روپے کا ٹیکس، تاجر بلبلا اٹھے

رواں برس حکومت کی جانب سے استعمال شدہ پرانے کپڑوں کی درآمد پر 200 روپے فی کلو گرام ٹیکس پر تاجر بلبلا اٹھے۔ تاجروں کے مطابق حکومت کی جانب سے استعمال شدہ پرانے کپڑوں کی درآمد پر 200 روپے فی کلو گرام کا عائد ٹیکس کیا گیا ہے، اس سے استعمال شدہ گرم ملبوسات کی فی عدد قیمت میں 500 سے 1500 روپے تک ہونے والا اضافہ سفید پوش اور غریب طبقے کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس بار استعمال شدہ گرم ملبوسات کی قیمتیں زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود کوشش ہے کہ جتنی قیمت کم کرسکتے ہیں کی جائیں۔ تاجروں کے مطابق ڈیوٹیز زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم نے مال پر بہت زیادہ انویسٹ کیا ہوا ہے پہلے جو ہمارا مال آتا تھا کنٹینر کے حساب سے اس پر اتنی ڈیوٹیز لگ چکی ہیں کہ اب یہ مال کسٹمر کی پہنچ سے بھی آہستہ آہستہ دور ہوتا جا رہا ہے۔ تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت استعمال شدہ ملبوسات کی درآمد پر ٹیکسوں کی شرح کو کم کرے تاکہ سفید پوش اور غریب طبقہ افراد لنڈا بازاروں سے سستے داموں خرید اری کر سکیں۔

وزیر خزانہ کا پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو B- کے ساتھ مستحکم آؤٹ لک دینے پر فچ سے اظہار تشکر

واشنگٹن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو B- کے ساتھ مستحکم آؤٹ لک دینے پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دورہ امریکا کے دوران فچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات کی اور پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے تینوں بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی درجہ بندی میں ہم آہنگی پر اطمینان کا اظہار کیا، انہوں نے فچ ٹیم کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدےسے آگاہ کیا۔ وزیر خزانہ نے حکومت کے نجکاری کے عمل کو تیز کرنے، مالی استحکام اور کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا جب کہ انہوں نے ٹیکس نظام، توانائی، نجکاری اور سرکاری اداروں میں کی جانے والی اصلاحات پر روشنی بھی ڈالی۔ محمد اورنگزیب نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و ٹیرف مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و ٹیرف مذاکرات کے بارے میں بھی بتایا۔ وزیر خزانہ نے فچ ٹیم کے سوالات کے جوابات دیے جس میں انہوں نے پاکستان کی معیشت میں استحکام اور اصلاحاتی عمل کے تسلسل کے عزم کا اعادہ کیا۔

سونے کی آسمان کو چھوتی قیمت کو بریک لگ گئی، ہزاروں روپے کی بڑی کمی

کراچی: سونے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت کو بریک لگ گئی اور فی تولہ قیمت میں 10 ہزار روپے سے زائد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 10600 روپے کم ہو کر 4 لاکھ46 ہزار 300 روپے ہو گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 9088 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 82 ہزار630 روپے ہو گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 106 ڈالر کم ہو کر 4252 ڈالر فی اونس ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 14 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہوا تھا جبکہ دو روز قبل سونے کی فی تولہ قیمت 1900 روپے بڑھی تھی۔

پی ایس ایکس: رواں ہفتے کاروبار کی مالیت 277.87 ارب روپے رہی

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے ہونے والے کاروبار کے اعداد و شمار سامنے آگئے۔ پی ایس ایکس 100 انڈیکس ایک ہفتے میں 708 پوائنٹس اضافے سے 163806 پر بند ہوا جب کہ کاروباری ہفتے میں انڈیکس 9883 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ 100 انڈیکس کی ہفتہ وار بلند ترین سطح 167561 اورہفتہ وار کم ترین سطح 157678 رہی۔ اس کے علاوہ کاروباری بازار میں ایک ہفتے میں 9.13 ارب شیئرز کے سودے ہوئے اور شیئرز بازار کے ہفتہ وار کاروبار کی مالیت 277.87 ارب روپے رہی۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن ایک ہفتے میں 57 ارب روپے اضافے سے 18968 ارب روپے ہوگئی۔

پاکستان سے تنازع پر افغان تاجر پریشان، ٹرکوں پر لدے سبزیاں اور پھل خراب ہونے لگے

کاروبار پاکستان سے تنازع پر افغان تاجر پریشان، ٹرکوں پر لدے سبزیاں اور پھل خراب ہونے لگے پاکستان سے تنازع پر افغان تاجر پریشان، ٹرکوں پر لدے سبزیاں اور پھل خراب ہونے لگے بتایا جارہا ہے کہ ٹنوں کے حساب سے انگور خراب ہونے پر تاجروں کوبڑا نقصان ہورہا ہے/ فائل فوٹو افغان طالبان کا پاکستان سے تنازع افغان تاجروں کے لیے پریشان کا سبب بن گیا۔ پاکستان میں داخلےکے منتظر ٹرکوں پر لدی سبزیاں اور پھل گلنے سڑنے لگے ، نقصان کے پیش نظر تاجر افغانستان کی مارکیٹوں میں اپنا مال اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ٹنوں کے حساب سے انگور خراب ہونے پر تاجروں کوبڑا نقصان ہورہا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان سےتعلقات بہتر کرکے تجارت بحال کرنے کامطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کراچی پورٹس سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ٹرانسپورٹیشن روکنے کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد کنٹینرز کی طویل قطاریں لگی ہو ئی ہیں۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ سیکڑوں کنیٹنرز گاڑیوں پر لوڈ کھڑے ہیں اور سیکڑوں کوئٹہ اور پشاور کے راستوں میں کھڑے ہیں جب کہ ڈرائیور بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

حکومت اور آئی ایم ایف کا سولر پینلز اور انٹرنیٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور

کاروبار حکومت اور آئی ایم ایف کا سولر پینلز اور انٹرنیٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور حکومت اور آئی ایم ایف کا سولر پینلز اور انٹرنیٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور ’’ہنگامی ٹیکس اقدامات‘‘آئی ایم ایف کے دوسرے جائزہ رپورٹ کا حصہ ہوں گے: ذرائع۔ فوٹو فائل اسلام آباد: کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز مسترد ہونے کے بعد، پاکستان اور آئی ایم ایف اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ متبادل طور پر شمسی پینلز (سولر)، انٹرنیٹ اور دیگر شعبوں پر ٹیکس کی شرحیں کیسے بڑھائی جائیں تاکہ اگر ریونیو میں کمی بڑھے تو ہنگامی بنیادوں پر اضافی محصولات حاصل کیے جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ ’’ہنگامی ٹیکس اقدامات‘‘آئی ایم ایف کے دوسرے جائزہ رپورٹ کا حصہ ہوں گے، جو فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی۔ ان اقدامات کو اُس صورت میں لاگو کیا جائے گا جب مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں ریونیو کی کمی مقررہ حد سے بڑھ جائے یا وزارتِ خزانہ اخراجات میں کمی نہ کر سکے۔ ایف بی آر کی جانب سے آئی ایم ایف کو پیش کی گئی تجاویز میں بتایا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر درآمدی سولر پینلز پر جی ایس ٹی کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے، جو جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر ودہولڈنگ ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 18 یا 20 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ ایف بی آر کے اندازوں کے مطابق، آئندہ برسوں میں درآمدی سولر پینلز سے 25 سے 30 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ فی الحال چھتوں پر نصب سولر پینلز 6000 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، جو کسی بھی وقت دوگنی ہو سکتی ہے۔

سندھ: ڈھرکی سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت

گھوٹکی: ماڑی انرجیز نے سندھ کے شہر ڈھرکی سے تیل اور گیس کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ ماڑی انرجیز کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر ڈھرکی سے تیل اور گیس کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے۔ ماڑی انرجیز کا کہنا ہے کہ دریافت ماڑی غزیج سی ایف بی ون ایکسپلوریشن ویل سے ہوئی، ماڑی انرجیز، ماڑی ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز کی100 فیصد حقوق کے ساتھ آپریٹر ہے۔ اعلامیے کے مطابق ایف بی ون ایکسپلوریشن کنواں تیل سے بھرپور زونز کو ہدف بنا کر کھودا گیا تھا، ٹیسٹنگ کے دوران کنویں سے 305 بیرل یومیہ تیل حاصل ہوا جب کہ یومیہ 30 لاکھ مکعب فٹ گیس حاصل ہوئی۔ ماڑی انرجیز کے مطابق کمپنی ڈھرکی ماڑی فیلڈ میں پاکستان کے سب سے بڑے گیس ذخیرے کو چلارہی ہے اور ماڑی انرجیز تقریباً 30 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ ملک کی گیس پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ، مجموعی سالانہ شرح 4.57 فیصد ہوگئی

اسلام آباد: ملک میں ہفتہ وار منہگائی میں 0.49 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں 0.49 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 4.57 فیصد ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 24 اشیائے ضروریہ مہنگی اور 8 سستی ہوئیں، 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں ٹماٹر 33.20 فیصد، پیاز 8.70 ، انڈے 2.18 اور آٹا 1.42 فیصد مہنگے ہوئے جبکہ چینی،گھی،کوکنگ آئل، لہسن اور آلو سمیت دیگر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں چکن 6.38 اور کیلے 4.70 فیصد سستے ہوئے جبکہ پیٹرول، ڈیزل، دالیں اور چاول کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی۔

سونے کی مزید اونچی اڑان، فی تولہ قیمت میں 14 ہزار سے زائدکا بڑا اضافہ

کراچی: سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی 14 ہزار روپے سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت آج 14100 روپےبڑھ کر 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپےہوگئی ہے۔ ایسوسی ایشن کا بتانا ہے کہ 10 گرام سونے کی قیمت 12089 روپےبڑھ کر 3 لاکھ 91ہزار 718 روپےہوگئی ہے۔ مزید برآں عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 141 ڈالر اضافے سے 4358 ڈالر فی اونس ہے۔

وزیراعظم عمران خان کئی سالوں سے افغان طالبان کو افغانستان میں کسی بھی مذاکراتی اور سیاسی عمل کا حصہ بنائے جانے پر زور دیتے رہے ہیں

وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اس سے خطے اور پوری دنیا میں ایک پرامن اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کئی سالوں سے افغان طالبان کو افغانستان میں کسی بھی مذاکراتی اور سیاسی عمل کا حصہ بنائے جانے پر زور دیتے رہے ہیں، لیکن مقتدر حلقوں نے ہمیشہ انہیں طالبان خان کا طعنہ دیا۔ آج یہ بات ثابت ہوگیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک دور اندیش سیاستدان ہیں اور نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں امن کے داعی اور سفیر ہیں۔