آسٹریلوی کرکٹ لیجنڈ ڈیمین مارٹن تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل

2025-12-31
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 54 سالہ ڈیمین مارٹن کو باکسنگ ڈے کے روز طبیعت خراب ہونے پر اسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت کے پیش نظر انہیں انڈیوسڈ کومہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔
لارڈز اور امریکی پاکستانی شائقین
2026-08-28
لندن: ورک، ویمن اور ویدر، کہتے ہیں برطانیہ میں ان تینوں کا کوئی بھروسہ نہیں، ابتدائی دو کا تو پتا نہیں البتہ موسم کی حد تک یہ بات بالکل درست لگتی ہے۔ جب میں براستہ دبئی کراچی سے لندن پہنچا تو دھوپ نے استقبال کیا، اوبر ڈرائیور نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے سخت ترین گرمی پڑ رہی ہے، اس دوران نہ ہونے کے برابر بارش ہوئی، مجھے اس کا تھوڑا بہت اندازہ بھی تھا، البتہ ٹیسٹ میچ والے دن بارش کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا، میں عام شرٹ پہن کر ہوٹل سے نکلا لیکن موسم دیکھ کر اپر ساتھ رکھ لیا۔ لارڈز پہنچنے کے بعد میڈیا منیجر کو فون کیا تو وہ میرا ایکریڈیٹیشن کارڈ لے کر باہر آگئے، میرا ساڑھے چار سال بعد انگلینڈ آنا ہوا ہے، حسب توقع میچ میں تاخیر ہوئی، لارڈز کے دلکش ڈیزائن کے حامل کیپسول نما میڈیا سینٹر میں ایک صحافی سے ملاقات ہوئی، جب ٹیم میں تبدیلیوں پر باتیں ہوئیں تو میں نے بتایا کہ اوپننگ پیئر تو برقرار رہے گا ہاں شاید سلمان علی آغا کو ڈراپ کر دیا جائے، اس پر وہ کہنے لگے کہ گزشتہ میچ میں وہ کپتان تھا ایسا کیسے ہو سکتا ہے لیکن بعد میں یہی ہوا۔ پاکستان کرکٹ کے انداز ہی نرالے ہیں یہاں کچھ بھی ممکن ہے، البتہ سلمان کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ درست ہی لگتا ہے، جب میڈیا سینٹر کی لفٹ سے نیچے گیا تو وہاں ہر طرف شائقین کرکٹ ہی نظر آ رہے تھے، ہمارے ملک میں اتنے لوگ ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھنے نہیں آتے جتنے انگلینڈ میں ٹیسٹ میں آتے ہیں، یہاں کے لوگ کھیلوں سے بیحد محبت کرتے ہیں، انہیں اسٹیڈیمز میں سہولتیں بھی خوب ملتی ہیں، کرکٹ کے ساتھ تفریح کیلیے دیگر سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں، لارڈز میں ہر طرف کھانے پینے کی اشیا کے اسٹالز لگے ہوئے تھے۔ یہاں کی روایتی شاپ تو ہے ہی ساتھ مختلف عارضی شاپس بھی بنائی گئی ہیں جہاں شرٹس، کیپس و دیگر مرچنڈائس کی فروخت جاری تھی، سب پر بیحد رش بھی تھا، البتہ سستی ترین شرٹ بھی 40 پائونڈ (تقریبا 15 ہزار پاکستانی روپے) کی تھی، ظاہر ہے دیکھنے کے کوئی پیسے نہ تھے اسی لیے میں بھی دیکھ کر ہی باہر آ گیا، وہاں احمر نامی ایک پاکستانی کرکٹ شائق ملے جنہوں نے مجھے پہچان لیا اور بنانے لگے کہ وہ خاص طور پر کینیڈا سے لارڈز ٹیسٹ دیکھنے آئے ہیں، میں ویڈیوز بنانے کےلیے باہر گیا تو وہاں بھی مختلف پاکستانی کرکٹ شائق ملے۔ ایک لڑکا امریکا سے آیا تھا، اس نے بتایا کہ دیگر 2 دوستوں نے تو ہیڈنگلے میں شکست دیکھ کر ٹور سے انکار کر دیا لیکن اس نے پروگرام تبدیل نہ کیا، ایک اور باپ بیٹا بھی ملے وہ بھی امریکا سے میچ دیکھنے آئے تھے، ان کو یقین تھا کہ بابر اعظم کی واپسی سے ٹیم کی کارکردگی اچھی رہے گی، وہ کہنے لگے کہ پاکستان سے تو کوئی میچ دیکھنے نہیں آیا ہوگا دیکھیں ہم امریکا سے آ گئے، میں نے جواب دیا کہ آپ کے پاس ریسورسز بھی تو ہیں، پاکستانی بیچارے عام زندگی کے مسائل سے باہر آئیں تو میچ دیکھنے باہر جانے کا سوچیں، وہ کہنے لگے دیکھیں جی ہم محنت بھی تو بہت کرتے ہیں، اس پر میرا کہنا تھا کہ پاکستانی بھی بہت محنت کرتے ہیں لیکن وہ صلہ نہیں ملتا۔ واپس میڈیا سینٹر جاتے ہوئے میں نے شائقین کو دیکھا جو گرائونڈ کی جانب جاتے ہوئے راستے کے دونوں جانب ترتیب سے کھڑے تھے، انھیں انتظار تھا کہ کرکٹرز وہاں سے گزریں تو ملاقات کریں، ان کے پاس اسٹارز کو قریب سے دیکھنے کا تو موقع تھا لیکن سیکیورٹی اہلکار سیلفی کی اجازت نہیں دے رہے تھے، میں جب دوبارہ میڈیا سینٹر آیا تو ڈائنگ ایریا میں رمیز راجہ کو دیکھا جو فون پر کسی سے محو گفتگو تھے، ان کے ساتھ عروج ممتاز بھی کمنٹری کیلیے آئی ہوئی ہیں، وسیم اکرم اس بار نہیں آئے، چند روز قبل ان سے فون پر بات ہوئی تھی تب ہی انہوں نے یہ بتا دیا تھا، پاکستان سے بھی بہت کم صحافی ہی آئے ہیں، مرزا اقبال بیگ، اعجاز باکھری اور عقیل احمد میڈیا سینٹر میں نظر آئے، لنچ کے وقت لندن میں مقیم پاکستانی میڈیا پرسنز سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس وقت مجھے لارڈز کا وہ منظر یاد آ گیا جب اسی جگہ پر اس وقت کے چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی، وسیم اکرم و دیگر کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی، مرحوم صحافی قمر احمد کی بھی کمی محسوس ہوئی، میڈیا باکس کا ان کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے، اس وقت ایک بکٹ میں انرجی ڈرنکس بھرے ہوتے تھے، ایک پاکستانی صحافی روز عٹاغٹ انھیں پیے جا رہا تھا، قمر صاحب نے اسے ٹوکا کہ یہ صحت کیلیے ٹھیک نہیں ہے، وہ نہ مانا، اگلے 2 دن بیچارہ اسٹیڈیم ہی نہ پہنچا، پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے۔ کھانے میں گرل چکن و دیگر ایسی ڈشز تھیں جو میرے جیسے دیسی کو راس نہیں آتیں، میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ بیٹا جو مل رہا ہے شکر کر کے کھا لو، اب لارڈز میں تمہارے لیے بریانی، قورمہ یا چکن تکہ تھوڑی رکھا جائے گا، میں نے کھانا تو تھوڑا کھایا لیکن دلچسپ شخصیت کے مالک عقیل احمد و دیگر سے باتیں دل بھر کر ہوئیں۔ میچ شروع ہونے سے قبل روایتی طور پر گھنٹی بجانے کا موقع اس بار سابق اسٹار ظہیرعباس کو ملا ، ٹاس جیت کر پاکستان نے بولنگ کا درست فیصلہ کیا، محمد عباس نے زبردست بولنگ کی، میں جب درمیان میں ”ایکسپریس نیوز“ کے شو اسپورٹس ورلڈ کیلیے باہر گیا تو اس میں ساتھی صحافی یوسف انجم اور سابق کرکٹر عامر سہیل کا تبصرہ سنا کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنی چاہیے تھی، میں نے مذاق میں (درحقیقت سنجیدگی سے) کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو پہلے سیشن میں ہی ہمارے 6،7 بیٹرز رخصت ہو چکے ہوتے، ہماری ٹیم کا مسئلہ یہی ہے کہ ابتدا میں وکٹیں گرا کر پھر شراکتیں بنوا لیتی ہے، اب بھی ڈر ہے کہ یہی نہ ہو جائے، حسب روایت فیلڈرز بھی حریف کو خوب مواقع دے رہے ہیں، خیر اب تک تو ہماری ٹیم بہتر پوزیشن میں ہے دیکھتے ہیں آگے کیا ہوگا۔ مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔
باب وولمر نے محمد آصف کے بارے میں کیا پیشگوئی کی تھی؟ رمیز راجا کا انکشاف
2026-08-28
لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز کے دوران کمنٹری میں سابق کپتان رمیز راجا نے دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سابق کوچ باب وولمر نے محمد آصف کے بارے میں بڑی پیشگوئی کی تھی۔ رمیز راجا کے مطابق جب انہوں نے پہلی بار محمد آصف کو دیکھا تو وہ باب وولمر کے ہمراہ تھے، اس وقت آصف نے پاکستان کے لیے ایک بھی میچ نہیں کھیلا تھا۔ باب وولمر نے میرا اُن سے تعارف کروایا اور کہا کہ محمد آصف مستقبل میں ایک عظیم باؤلر بنیں گے۔ رمیز راجا نے کہا کہ میرا پہلا سوال باب وولمر سے یہی تھا کہ اس کی رفتار کتنی ہے؟ جس پر وولمر نے بتایا کہ اس وقت آصف کی رفتار تقریباً 130 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، مجھے حیرت ہوئی کیونکہ پاکستان ہمیشہ تیز رفتار باؤلرز کے لیے جانا جاتا رہا ہے، میں نے کہا کہ پھر یہ فاسٹ باؤلر کیسے ہو سکتا ہے؟۔ SouthAsians & Diaspora رمیز راجا نے کہا کہ بعد میں محمد آصف اپنی لائن اور لینتھ کی بدولت ایک بہترین باؤلر بن گیا۔ لیکن ہم تو 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار دیکھنے کے عادی تھے، اس لیے اس طرح کی باؤلنگ دیکھ کر عجیب سا لگتا تھا۔ رمیز راجا نے کہا کہ میں اُن ٹیموں کا حصہ رہا ہوں جہاں ہم صرف رفتار کے بل بوتے پر مخالف ٹیموں کو تہس نہس کر دیتے تھے۔ 95 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ریورس سوئنگ، یارکرز اور باؤنسرز کرانا ہماری باؤلنگ کی بنیادی لمبائیاں یہی ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بولرز میں باقاعدہ لینتھ پر باؤلنگ کا تصور کم ہی تھا، مخالف کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا جاتا تھا۔ ہم ہر وقت جارحانہ انداز میں کھیلتے تھے۔
پاکستان لارڈز میں فتوحات کی ہیٹ ٹرک کیلیے بےتاب
2026-08-27
ہم کوشش کریں گے کہ لارڈز میں اپنی فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کریں۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے میچ سے قبل ہونے والی پریس کانفرنس میں کیا۔ پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں آج سے دوسرے ٹیسٹ میچ میں لارڈز کے تاریخی میدان میں مدمقابل آئیں گی۔ پاکستان ٹیم کی حالیہ کارکردگی کو دیکھا جائے تو شکست یقینی نظر آتی ہے لیکن 8 سال بعد لندن میں ٹیسٹ میچ کھیلنے والی قومی ٹیم کو ماضی کی کامیابیاں کچھ حوصلہ ضرور دیں گی۔ پاکستان ٹیم دورہ انگلینڈ میں اس دوران کوئی سیریز تو نہیں جیت سکی لیکن لندن کے میدانوں میں کھیلے گئے آخری تینوں ٹیسٹ میچز میں با آسانی فاتح رہی ہے جن میں سے 2 لارڈز اور ایک اوول میں کھیلا گیا تھا۔ پاکستان نے 2016 میں لارڈز ٹیسٹ میں 75 رنز اور اوول ٹیسٹ میں 10 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں 2018 میں ہونے والے لارڈز ٹیسٹ میں بھی پاکستان نے سرفراز احمد کی قیادت میں 9 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی جس میں محمد عباس 8 شکار کرکے مین آف دی میچ قرار پائے تھے۔ یوں پاکستان کو لارڈز میں کھیلے گئے آخری دو ٹیسٹ میچز میں فتح حاصل ہے اور قومی ٹیم اب اس میدان پر فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کرنا چاہتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2018 میں قومی ٹیم کو فتح دلوانے والے کپتان سرفراز احمد موجودہ ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان نے انگلینڈ میں اب تک 13 ٹیسٹ میچز جیتے ہیں جن میں سے 10 فتوحات لندن کے لارڈز یا اوول کے میدان میں ہی ملیں۔
لارڈز ٹیسٹ: بارش کے باعث ٹاس تاخیر کا شکار
2026-08-27
لندن میں بارش کی وجہ سے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کا ٹاس تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ لندن میں دن بھر کیلیے خراب موسم کی پیشگوئی سامنے آ چکی، البتہ منتظمین کو امید ہے کہ پہلے دن کھیل کسی موقع پر شروع ہو گا۔ اس وقت پچ اور ادرگرد کے ایریا پر کورز موجود ہیں، ایک دن قبل تک پچ پر گھاس تھی اس لیے ٹیم مینجمنٹ چار پیسرز یا پھر تین فاسٹ بولرز اور ایک اسپنر کے ساتھ میدان میں اترنے پر غور کر رہی تھی، بارش رکنے پر دوبارہ پچ دیکھنے کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا۔ امام الحق اور اذان اویس پر مشتمل اوپننگ پیئر برقرار رہنے کا امکان ہے۔ کپتان بابر اعظم کیلیے سعود شکیل یا سلمان علی آغا میں سے کسی کو جگہ خالی کرنا پڑ سکتی ہے۔
میراڈونا کے ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول والی گیند 25 لاکھ پاؤنڈ میں نیلام
2026-08-25
ارجنٹائن کے لیجنڈ فٹبالر ڈیاگو میرا ڈونا کے مشہور ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول میں استعمال ہونے والی گیند 25 لاکھ پاؤنڈ میں نیلام ہوگئی۔ یہ تاریخی لمحہ 1986 کے ورلڈ کپ میں ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان کوارٹر فائنل میں پیش آیا تھا، جب میراڈونا نے انگلینڈ کے گول کیپر پیٹر شلٹن کو چکمہ دیتے ہوئے ہاتھ سے گیند جال میں پہنچائی۔ اسی میچ میں میراڈونا نے شاندار ڈرِبلنگ کے ذریعے انگلینڈ کے پانچ کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا گول کیا جسے بعد میں ’گول آف دی سنچری‘ قرار دیا گیا۔ امریکی ادارے ہیریٹیج آکشنز میں فروخت ہونے والی گیند کی قیمت 3.3 ملین ڈالر رہی حالانکہ اس کے 10 ملین ڈالر تک جانے کی توقع تھی۔ میچ کے ریفری علی بن ناصر نے گیند کئی دہائیوں تک محفوظ رکھی تھی۔
کولمبو ٹیسٹ: سری لنکن کرکٹ ٹیم کے جاپانی مداح نے سب کی توجہ حاصل کرلی
2026-08-25
بھارت اور سری لنکا کے درمیان کولمبو میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے دوران ایک جاپانی کرکٹ مداح نے سب کی توجہ حاصل کرلی۔ سنہالیز اسپورٹس کلب میں موجود مداح سری لنکن ٹیم کی شرٹ پہنے میچ میں خاصی دلچسپی لیتا دکھائی دیا جس نے کرکٹ کی روایتی ممالک سے باہر بڑھتی مقبولیت کو اجاگر کیا۔ جاپانی مداح نے کہا کہ وہ میچ دیکھ کر بہت پرجوش ہیں اور ان کے خیال میں بھارت اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے تاہم سری لنکا کم بیک کرسکتا ہے۔ جاپان میں روایتی طور پر بیس بال اور فٹبال زیادہ مقبول ہیں لیکن حالیہ برسوں میں کرکٹ کا کھیل بھی وہاں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ جاپان نے 2026 آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ مرحلے میں بھی حصہ لیا۔
لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو انگلینڈ پر نفسیاتی برتری کیوں حاصل ہوگی؟
2026-08-25
ہیڈنگلے ٹیسٹ میں اننگز کی شکست کے باجود لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو انگلینڈ پر نفسیاتی برتری حاصل ہوگی۔ پاکستان ٹیم کی حالیہ کارکردگی کو دیکھا جائے تو شکست یقینی نظر آتی ہے لیکن 8 سال بعد لندن میں ٹیسٹ میچ کھیلنے والی قومی ٹیم کو ماضی کی کامیابیاں کچھ حوصلہ ضرور دیں گی۔ پاکستان ٹیم دورہ انگلینڈ میں سیریز تو نہیں جیت سکی لیکن لندن کے لارڈز اور اوول کے میدانوں میں کھیلے گئے آخری تینوں ٹیسٹ میچز میں با آسانی فاتح رہی ہے۔ دوسری جانب پہلے میچ میں عبرتناک شکست کے بعد پاکستان ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔ کپتان بابر اعظم انجری سے صحتیاب ہوکر ٹیم میں واپس آسکتے ہیں جبکہ محمد رضوان کو بھی باہر کیے جانے کا امکان ہے۔ پاکستان نے 2016 میں لارڈز ٹیسٹ میں 75 رنز اور اوول ٹیسٹ میں 10 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں 2018 میں ہونے والے لارڈز ٹیسٹ میں بھی پاکستان نے سرفراز احمد کی قیادت میں 9 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی جس میں محمد عباس 8 شکار کرکے مین آف دی میچ قرار پائے تھے۔ پاکستان نے انگلینڈ میں اب تک 13 ٹیسٹ میچز جیتے ہیں جن میں سے 10 فتوحات لندن کے لارڈز یا اوول کے میدان میں ملیں۔
اسیتھا فرنینڈو سے تلخ کلامی کیوں ہوئی؟ جیسوال نے خاموشی توڑ دی
2026-08-24
بھارتی اوپنر یشسوی جیسوال نے سری لنکا کے فاسٹ بولر اسیتھا فرنینڈو کے ساتھ میدان میں ہونے والی تلخ کلامی کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے مؤقف کا اظہار کردیا۔ کولمبو میں دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز جیسوال اور فرنینڈو کے درمیان اس وقت گرما گرمی ہوئی جب بھارتی بیٹر 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ جیسوال نے آؤٹ ہونے سے قبل فرنینڈو کے ایک اوور میں تین چوکے لگائے تھے۔ پویلین واپس جاتے ہوئے فرنینڈو کی جانب سے مبینہ طور پر کیے گئے اشارے پر جیسوال واپس مڑے اور دونوں کھلاڑی آمنے سامنے آگئے۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب جیسوال کا ہیلمٹ فرنینڈو کے ماتھے سے چھوتا دکھائی دیا۔ تاہم سری لنکن کپتان دھننجایا ڈی سلوا اور دیگر کھلاڑیوں نے مداخلت کرکے معاملہ ختم کرادیا۔ بعدازاں ایک سوشل میڈیا ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے جیسوال نے کہا کہ اگر کسی کو یہ معلوم نہیں کہ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان کیا بات ہوئی تو اسے واقعے پر فوری فیصلہ نہیں دینا چاہیے۔ ان کے مطابق بھارت کسی بھی معاملے میں جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دوسری جانب بھارتی بیٹنگ کوچ سیتانشو کوٹک نے بھی کہا کہ جیسوال کو فرنینڈو کے اتنے قریب نہیں جانا چاہیے تھا تاہم میدان میں ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں۔
دو روزہ میکے ٹیسٹ میں بننے والے منفرد ریکارڈز
2026-08-24
آسٹریلیا اور بنگلادیش کے درمیان میکے میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ مختصر ترین ٹیسٹ میچز میں شامل ہوگیا۔ میکے میں کھیلا گیا میچ صرف 750 گیندوں میں مکمل ہوا جو مکمل ہونے والے مردوں کے ٹیسٹ میچز میں چوتھا مختصر ترین مقابلہ ہے جبکہ آسٹریلیا میں یہ دوسرا مختصر ترین ٹیسٹ ثابت ہوا۔ یہ آسٹریلیا میں گزشتہ سات ٹیسٹ میچز کے دوران تیسرا مقابلہ ہے جو صرف دو دن میں ختم ہوا۔ میچ میں دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر صرف 369 رنز بنائے جو مکمل ٹیسٹ میچز میں چھٹا کم ترین مجموعہ اور آسٹریلیا میں دوسرا کم ترین مجموعہ ہے۔بنگلادیش کی ٹیم دونوں اننگز میں 100 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کرسکی۔ پہلی اننگز میں 64 اور دوسری میں 95 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ ہوئی۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 21 سال بعد پہلا موقع ہے جب کوئی ٹیم دونوں اننگز میں 100 رنز سے کم پر آؤٹ ہوگئی۔ اس کے برعکس آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 210 رنز بنائے اور اس کم مجموعے کے باوجود اننگز سے کامیابی حاصل کی۔ یہ چوتھا کم ترین مجموعہ ہے جس پر مخالف ٹیم کو اننگز سے شکست ہوئی۔ میچ کے ہیرو مچل اسٹارک رہے جنہوں نے صرف 109 گیندوں میں 10 وکٹیں حاصل کرکے نئی تاریخ رقم کی۔ یہ آسٹریلیا کی جانب سے کسی بھی بولر کا تیز ترین 10 وکٹوں کا کارنامہ ہے۔ اسٹارک نے ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھی مرتبہ ایک میچ میں 10 یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں اور اب وہ صرف ڈینس للی سے پیچھے ہیں جنہوں نے 7 مرتبہ 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ بنگلادیش کے فاسٹ بولر شورف الاسلام نے بھی عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے آسٹریلیا کی پہلی اننگز میں 48 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں سات وکٹیں لینے والے پہلے بنگلادیشی فاسٹ بولر بن گئے جبکہ یہ کسی بھی بنگلادیشی بولر کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں تیسرا بہترین بولنگ فیگر ہے۔ شورف الاسلام 140 سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں 7 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے لیفٹ آرم فاسٹ بولر بن گئے۔
پاکستان کو ویمنز ایشیا کپ سے قبل دھچکا، نجیہہ علوی انجری کے باعث باہر
2026-08-24
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی وکٹ کیپر بیٹر نجیہہ علوی گھٹنے کی انجری کے باعث ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ سے باہر ہوگئی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نجیہہ نے بائیں گھٹنے کے پچھلے حصے میں درد کی شکایت کی تھی۔ اسکینز میں ممکنہ انجری کی نشاندہی ہوئی جس کے بعد میڈیکل ٹیم نے انہیں بحالی کے پروگرام پر ڈال دیا ہے۔ ان کی صحتیابی میں تقریباً چار ہفتے لگنے کا امکان ہے۔ نجیہہ علوی کی جگہ صدف شمس کو اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ صدف شمس دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتی ہیں اور اب تک 12 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکی ہیں۔ اگرچہ انہوں نے آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اکتوبر 2024 میں کھیلا تھاتاہم رواں سال ون ڈے کرکٹ میں ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ وہ 9 اننگز میں 488 رنز بناچکی ہیں جس میں ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ویمنز ایشیا کپ 28 اگست سے 13 ستمبر تک دبئی میں ہوگا۔ پاکستان یکم ستمبر کو تھائی لینڈ کے خلاف مہم شروع کرے گا۔
