جنگ بندی سے متعلق

2026-04-16
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز اور جاری ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ایران، امریکا جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا، ایران سے مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے۔ ترجمان کاکہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی خبریں غلط ہیں۔ اس کے علاوہ ترجمان وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی ناکا بندی مکمل طور پر نافذ کردی گئی ہے، ناکا بندی ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں کے خلاف کی گئی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ چینی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کو یقین دلایا کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں اگلے ہفتے کے اختتام پر ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے تیاریوں کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے جبکہ ایران کی جانب سے اسپیکرباقرقالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی وفد کی نمائندگی کریں گے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔ اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔
جنگ بندی سے متعلق
2026-04-16
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز اور جاری ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ایران، امریکا جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا، ایران سے مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے۔ ترجمان کاکہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی خبریں غلط ہیں۔ اس کے علاوہ ترجمان وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی ناکا بندی مکمل طور پر نافذ کردی گئی ہے، ناکا بندی ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں کے خلاف کی گئی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ چینی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کو یقین دلایا کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں اگلے ہفتے کے اختتام پر ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے تیاریوں کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے جبکہ ایران کی جانب سے اسپیکرباقرقالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی وفد کی نمائندگی کریں گے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔ اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔
ٹرمپ کی پوسٹیں دیکھ
2026-04-16
کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر جیفری سکس نے ایران کشیدگی، ناکام مذاکرات اور موجودہ امریکی پالیسی سازی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ے مطابق جیفری سکس نے اس صورتحال کو غیر منظم، غیر شفاف اور افراتفری پر مبنی قرار دیا اور صدر ٹرمپ کی ذات، رویے اور ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ سب کچھ کسی گہری یا انتہائی ذہین حکمت عملی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک طرح کی افراتفری شامل ہے۔ پروفیسر جیفری سکس کے مطابق درحقیقت ‘امریکا’ کہنا بھی عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ امریکا نہیں بلکہ ایک شخص ہے، وہ سمجھتا ہے کہ وہ دھمکی، دباؤ اور شور شرابے کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کر سکتا ہے، یہ جزوی طور پر ایک فریب ہے، وہ شروع سے یہی سوچتا آیا ہے کہ وہ مطالبات کرے، دھمکیاں دے، بمباری کرے اور اس کے نتیجے میں اسے کامیابی مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے وہ واقعی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ دھوکے یا طاقت کے ذریعے کامیاب ہو سکتا ہے، یہ دراصل ایک فرد کا شو ہے، میرے خیال میں ایک وہمی اور نااہل ایک شخص، یہ سب کچھ ایک شخص ڈونلڈ ٹرمپ کے گرد گھوم رہا ہے، میں اس میں کوئی گہری حقیقت نہیں دیکھتا سوائے اس کے کہ ایک نااہل، وہمی بوڑھا آدمی شور مچا رہا ہے، دھمکیاں دے رہا ہے، بمباری کر رہا ہے اور قتل کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی منوا سکے۔ ٹرمپ کی ذہنی کیفیت پر جیفری سکس نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ٹرمپ کا توازن بگڑ چکا ہو، وہ ایسے بیانات اور پوسٹس کر رہا ہے جو معمول سے بہت زیادہ ہٹ کر ہیں، ایسے جملے جو امریکی تاریخ میں کسی صدر نے نہیں کہے۔
ایران میں جنگ سے کروڑوں
2026-04-16
عالمی بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمٹ گل نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایران میں جنگ کے نتیجے میں کروڑوں انسان بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں خبر ایجنسی سے گفتگو میں انڈرمٹ گل ( Indermit Gill) کا کہنا تھا کہ ایران میں جنگ کے نتیجے میں کروڑوں انسان بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ہی دنیا میں 20کروڑ افراد غذائی قلت اور غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور حالیہ جنگ ان کی تعداد میں بیس فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔
امریکا اور ایران جنگ کے
2026-04-16
امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور امریکی اور ایرانی عہدیداروں کے درمیان مذاکرات میں منگل کے روز پیش رفت ہوئی۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق دو امریکی حکام نے بتایا کہ منگل کو ہونے والی بات چیت میں اہم پیش رفت سامنے آئی تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے باعث معاہدہ ابھی یقینی نہیں۔ امریکی ویب سائٹ کا مزید کہنا ہے کہ امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم مسلسل رابطوں اور مسودوں کے تبادلے میں مصروف ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق تیسرے امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’ہم معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ایرانی حکومت کے کچھ حصے بھی اس کے خواہاں ہیں لیکن اب اصل چیلنج یہ ہے کہ وہاں پوری حکومت کو اس پر آمادہ کیا جائے‘۔
ٹرمپ کا چین پر ایران کو
2026-04-16
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام لگا دیا تاہم چین نے صدر ٹرمپ کے الزامات کی تردید کردی۔ امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے چینی صدر کو خط میں کہا تھا خبریں ہیں کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے، چین ایسا نہ کرے۔ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر نے انہیں بہت خوب صورت جوابی خط لکھا جس میں چینی صدر نے بتایا کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔ یاد رہے پچھلے ہفتے امریکی نشریاتی ادارے نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع سے خبر دی تھی کہ چین چند ہفتوں میں ایران کو نیا فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے والا ہے۔
امریکی سینیٹ میں ایران
2026-04-16
امریکی سینیٹ میں ایران پر مزید حملوں کیلئےکانگریس کی پیشگی اجازت کی قرارداد مسترد کردی گئی۔ امریکی میڈیاکی رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ نے 47 ووٹوں کے مقابلے 52 ووٹوں سے قرار داد مسترد کی۔ یاد رہےکہ ٹرمپ انتظامیہ کو اگلے دو ہفتوں میں ایران کے خلاف جاری آپریشن ایپک فیوری کی کانگریس سے منظوری لینا ضروری تھی، منظوری نہ لینے کی صورت میں 29 اپریل تک ایران کے خلاف آپریشن بند ہونا تھا۔ 1973 کے جنگی اختیارات کے امریکی قانون کے تحت کانگریس سے منظوری نہ لینے کی صورت میں امریکی صدور کو 60 دنوں کے بعد فوجی کارروائیاں ختم کرنا ہوتی ہیں۔ امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو بموں کی فراہمی روکنے کی قرارداد منظور نہ ہوسکی امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو فوجی امداد سے متعلق قرار داد پر ووٹنگ ہوئی، اسرائیلی فوج کے لیے امریکی بلڈوزرز کی فراہمی روکنے کی قرارداد مسترد کردی گئی، 40 ڈیموکریٹ سینیٹرز نے اسرائیل کو بلڈوزرز فراہمی روکنے کے حق میں ووٹ دے دیا، 59 سینیٹرز نے مخالفت کی۔ بل سینیٹر برنی سینڈرز کی قیادت میں پیش کیا گیا، اقدام کا مقصد اسرائیل کیلئے غیر مشروط امریکی حمایت کو چیلنج کرنا تھا۔ برنی سینڈرز کا اسرائیل کو بھاری بموں کی فراہمی روکنے کا دوسرا بل بھی پیش کیا گیا، اسرائیل کو ایک ہزار پاؤنڈ بموں کی فراہمی روکنے کے حق میں 36 سینیٹرز نے ووٹ دیا جبکہ دیگر نے مخالفت کی۔
ایرانی فوج کی امریکی ناکہ
2026-04-16
تہران: ایرانی فوج نے ایرانی سمندروں کی امریکی ناکہ بندی کے جواب میں بحیرۂ احمر سے ہونے والی تجارت بند کرانے کی دھمکی دے دی ۔ ایران کی فوج نے امریکی بحریہ کی طرف سے ایرانی سمندر کی ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ ایران کی ٹاپ جوائنٹ ملٹری کمانڈ خاتم الانبیا کے سینٹرل ہیڈ کوارٹرز سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ ایران کی تمام بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا جاری رہنا جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ ایرانی فوج کا کہنا ہےکہ اگر یہ ناکہ بندی جاری رکھی گئی تو ایران کی مسلح افواج بحیرۂ احمر سے ہونے والی تجارت کی اجازت نہیں دیں گی۔ فوجی حکام کے مطابق ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں خلیج اور عمان سے ہونے والی ہر برآمدات اور درآمدات کو رکوا دیں گے۔
جنگ بندی میں توسیع
2026-04-16
دنیاجنگ بندی میں توسیع پر غور نہيں کر رہے، شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے: ٹرمپ جنگ بندی میں توسیع پر غور نہيں کر رہے، شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے: ٹرمپ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے ، ایران بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ/ فائل فوٹو واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ ایران سے جنگ بندی میں توسیع پر غور نہيں کر رہے اور شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے، ایران بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، آنے والے دو دنوں میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملے گا، امریکا کی ترجیح معاہدہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حملوں سے خلیجی ملکوں کو شدید دھچکا پہنچا، انہیں ہرگز توقع نہیں تھی کہ ایران اُن پر حملہ کردے گا، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شدید حیران ہوئے جب ایران نے ان پر حملہ کیا، ان ملکوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان پر بھی حملہ ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے جنگ بندی میں توسیع پر غور نہيں کر رہے کیونکہ شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
یورپی ممالک کا امریکی
2026-04-15
یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کیلئے وسیع اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی ممالک ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس میں مختلف ممالک کو شامل کیا جائےگا اور اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک کے منصو بے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے اور دیگر فوجی بحری جہاز بھیجنا شامل ہے تاکہ اہم سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یورپ ایک ایسا بعد از جنگ منصوبہ بھی تیار کر رہا ہے جس کے تحت امریکا کی براہ راست شمولیت کے بغیر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو بحال رکھا جا سکے۔
امریکی ناکہ بندی کے باوجود
2026-04-15
امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہرمز کی بندش کے پہلے 24 گھنٹوں میں 6 بحری جہازوں کو واپس لوٹایاگیا اور ایک بھی ایرانی جہاز ہرمز سے نہيں گزرسکا۔ سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے لیے 10 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور ائیرمین ڈیوٹی پر تعینات ہیں اور ہرمز کی بندش ایرانی پورٹ کی طرف آنے جانے والے تمام بحری جہازوں کے لیے ہے۔ سینٹ کام کا کہنا تھا کہ ایران کے علاوہ خلیج کی تمام بندرگاہیں بحری جہازوں کے لیے کھلی ہيں۔
