آئل کمپنیز کا ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے پر تحفظات کا اظہار، سپلائی نظام خطرے میں پڑنے کا خدشہ    space    سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر اگلے ہفتے تک مل جائیں گے: وزیر خزانہ    space    امریکی صدر چاہتے ہیں ایران سے چھوٹی نہیں جامع ڈیل ہو: جے ڈی وینس    space    گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 7جون کو ہوگی    space    مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ خود دستخط کرنےکیلئے اسلام آباد آئیں گے: مشاہد حسین سید    space    ایران کے بعد امریکا کی ترجیح بھی پاکستان بن گیا، ٹرمپ نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا    space    امریکی ثالثی میں اسرائیل لبنان مذاکرات میں پیشرفت، فریقین براہ راست مذاکرات پر رضامند    space   

ایران کسی بھی طرح ہم


2026-04-15

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔ امریکی میڈیا فاکس نیو ز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے جنگ بندی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئےکہاکہ ایران کسی بھی طرح ہم سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وہ اس صورتحال کو بہت قریب سمجھتے ہیں کہ جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائےگی۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہ دینےکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ مداخلت نہ کرتے تو اس وقت ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے اور ایران کے ایٹمی طاقت بننے سے عالمی توازن متاثر ہوتا۔ یاد رہےکہ آج نائب امریکی صدر نے یونیورسٹی آف جارجیا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ چھوٹی ڈیل نہیں چاہتے، ٹرمپ چاہتے ہیں ایران ڈیل امریکا اور دنیا میں ہر ایک کیلئے عظیم ہو، ڈیل ایسی ہوکہ ایرانی عوام عالمی معیشت کا حصہ بن سکیں، ایران نارمل بنے تو امریکا اقتصادی طور پر نارمل ملک جیسا برتاؤ کرے گا۔

یورپی ممالک کا امریکی

2026-04-15

یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کیلئے وسیع اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی ممالک ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس میں مختلف ممالک کو شامل کیا جائےگا اور اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک کے منصو بے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے اور دیگر فوجی بحری جہاز بھیجنا شامل ہے تاکہ اہم سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یورپ ایک ایسا بعد از جنگ منصوبہ بھی تیار کر رہا ہے جس کے تحت امریکا کی براہ راست شمولیت کے بغیر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو بحال رکھا جا سکے۔

امریکی ناکہ بندی کے باوجود

2026-04-15

امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہرمز کی بندش کے پہلے 24 گھنٹوں میں 6 بحری جہازوں کو واپس لوٹایاگیا اور ایک بھی ایرانی جہاز ہرمز سے نہيں گزرسکا۔ سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے لیے 10 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور ائیرمین ڈیوٹی پر تعینات ہیں اور ہرمز کی بندش ایرانی پورٹ کی طرف آنے جانے والے تمام بحری جہازوں کے لیے ہے۔ سینٹ کام کا کہنا تھا کہ ایران کے علاوہ خلیج کی تمام بندرگاہیں بحری جہازوں کے لیے کھلی ہيں۔

ایران کسی بھی طرح ہم

2026-04-15

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔ امریکی میڈیا فاکس نیو ز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے جنگ بندی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئےکہاکہ ایران کسی بھی طرح ہم سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وہ اس صورتحال کو بہت قریب سمجھتے ہیں کہ جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائےگی۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہ دینےکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ مداخلت نہ کرتے تو اس وقت ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے اور ایران کے ایٹمی طاقت بننے سے عالمی توازن متاثر ہوتا۔ یاد رہےکہ آج نائب امریکی صدر نے یونیورسٹی آف جارجیا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ چھوٹی ڈیل نہیں چاہتے، ٹرمپ چاہتے ہیں ایران ڈیل امریکا اور دنیا میں ہر ایک کیلئے عظیم ہو، ڈیل ایسی ہوکہ ایرانی عوام عالمی معیشت کا حصہ بن سکیں، ایران نارمل بنے تو امریکا اقتصادی طور پر نارمل ملک جیسا برتاؤ کرے گا۔

جے ڈی وینس مذاکرات کے

2026-04-15

امریکی ٹی وی سی این این نے امکان ظاہر کیا ہےکہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کے دوسرے راونڈ میں بھی امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ امریکی ٹی وی کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے اگر ایران سے ایک اور میٹنگ طے ہوئی تو اسکی ممکنہ قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ امریکی وفد میں صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے ایران سے بات چیت کا سلسلہ آئندہ دو روز میں بحال ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق جو معاملہ حل طلب ہے اس میں یورینئیم کی افزودگی معطل کرنے کے عمل کا ٹائم فریم بھی شامل ہے۔ امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ ایران کی نیوکلیئر افزودگی سے جڑی تنصیبات کو ختم کردیا جائے اور آبنائے ہرمز پھر سے فوراً کھولی جائے۔

پوپ کو پتا ہی نہیں دنیا میں

2026-04-15

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پوپ لیو کو ہدفِ تنقید بنا ڈالا اور اطالوی وزیراعظم کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ پوپ لیو کو ایران کے ایٹمی خطرے کا کوئی علم نہیں، پوپ کو جنگوں پر بات نہیں کرنی چاہیے، پوپ کو پتا ہی نہیں ہے کہ دنیا میں ہو کیا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر نے اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی پر بھی تنقید کی۔ ٹرمپ نے کہا میرے تبصرے نہیں ، جارجیا میلونی خود ناقابلِ قبول ہیں کیوں کہ میلونی کو فکر نہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں یا نہ ہوں، میلونی کو یہ بھِی فکر نہیں کہ ایران کو اگر موقع ملے تو وہ دو منٹ میں اٹلی کو تباہ کردے گا ۔ واضح رہے کہ ٹرمپ ماضی میں اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی تعریف کرتے رہے ہیں ۔

امریکی سینیٹر کی اسرائیل

2026-04-15

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اسرائیل کو 500 ملین ڈالر مالیت کے اسلحے کی فراہمی روکنے کی کوشش کی ہے۔ برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کے لیے رواں ہفتے ووٹنگ کرائیں گے اور اسرائیل کی مزید حمایت قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان نیتن یاہو حکومت کے جنگی اخراجات نہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ، ایران اور لبنان میں شہریوں کے قتل اور بے دخلی کی فنڈنگ بند ہونی چاہیے ۔

تہران: اسکول پر امریکی حملے

2026-04-15

ایران میں مناب اسکول پر حملے میں شہید ہونے والی معصوم بچیوں کی یاد میں دارالحکومت تہران کے تجریش اسکوائر میں شہید بچیوں کی تصاویر لگا دی گئیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق تصاویر لگا کر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا ہے۔ مناب میں بچیوں کے اسکول پر امریکی حملے میں بچیوں سمیت 160 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے ، یہ حملہ 28 فروری کو کیا گیا تھا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے مذاکرات کے لیے پاکستان آمد پر شہید بچیوں کی تصاویر اور ان کے بستے جہاز کی نشست پر رکھے تھے اور سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا یہ میرے احباب ہیں۔

امریکی ثالثی میں اسرائیل

2026-04-15

امریکی وزیر خارجہ کی صدارت میں ہونے والے اسرائیل لبنان مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے امریکا، اسرائیل اور لبنان کے سہ فریقی اجلاس کے بعد بیان میں کہا کہ اسرائیل نےلبنان کے ساتھ مل کر غیر ریاستی دہشت گردگروہوں کو غیر مسلح کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاکہ اسرائیل نے دیگر مسائل کے حل اور امن کے حصول کے لیے براہِ راست مذاکرات کے عزم کا اظہار کیا جبکہ لبنان نے جنگ بندی اور انسانی بحران سے نمٹنےکے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاکہ فریقین نے باہمی طور پر طے شدہ وقت اور مقام پر براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا، امریکی محکمہ خارجہ نے مذاکرات کے امن معاہدے تک پہنچنےکی اُمید بھی ظاہر کردی۔ دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے اب بھی جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 35 افراد جاں بحق ہوگئے۔

امریکی فوج نے ایران کے

2026-04-14

امریکی فوج نے ایران کے سمندری راستوں کی ناکہ بندی شروع کردی۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ناکہ بندی کے دوران ایرانی فائرنگ کا خدشہ ظاہر کردیا، خبردار کیا کہ ایران نے ایسا کیا تو اچھا نہیں ہوگا۔ امریکی فوج کے مطابق ناکہ بند علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے یا نکلنے والے کسی بھی جہاز کو روکا، موڑا یا قبضے میں لیا جائےگا۔ خبر ایجنسی کے مطابق ناکہ بندی کے علاقے میں جو جہاز بغیر اجازت داخل ہوگا یا نکلنے کی کوشش کرے گا اسے روکا جائے گا، ناکہ بندی کے علاقے میں جو جہاز داخل یا نکلنے کی کوشش کرے گا اس کا رُخ موڑا یا قبضے میں لیا جائے گا۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے وقت کا اعلان کیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 13 اپریل کو صبح 10 بجے ایسٹرن ٹائم کے مطابق ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، پاکستانی وقت کے مطابق یہ ناکہ بندی گزشتہ روز شام 7 بجے سے شروع ہوئی۔

آبنائے ہرمز میں کسی

2026-04-14

امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر ایرانی وزارت دفاع نے رد عمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں بیرونی طاقتوں کی طرف سے کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت بحران کو بڑھا دے گی اور عالمی توانائی کی سلامتی کو غیر مستحکم کر دے گی۔ ایران کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں فوجی مداخلت کی کسی بھی کوشش میں ناکام رہیں گے۔ ادھر ایرانی فوج نے کھلے سمندر میں جہازوں پر امریکی پابندیوں کو قزاقی قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ ہوا تو نہ صرف خلیج عمان بلکہ خلیج کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ خلیجی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں۔