عراقی مزاحمت کاروں نے

2026-04-06
بغداد: عراقی مزاحمت کاروں کی جانب سے خطے میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دائرہ بڑھادیا گیا۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق عراقی مزاحمت کاروں کی جانب سے کویت، اردن اور شام میں امریکی اڈوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل کتائب حزب اللہ عراق ابوحسین الحمیداوی کا کہنا ہے سکیورٹی سب کے لیے ہوگی یا کسی کے لیے بھی نہیں ہو گی، آبنائے ہرمز طاقت سے کھولنے کی کوشش ہوئی تو تیل و گیس ناپید ہوجائےگا۔ ابوحسین الحمیداوی کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر معافی ممکن نہیں ہے۔
نیپال میں بند ٹوٹنے کی قریب، نئے سیلاب کا خطرہ، چین نے بھی وارننگ جاری کردی
2026-08-28
نیپال نے آج 28 اگست 2026 کو ایک نئی سیلابی وارننگ جاری کی ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک 26 اگست کے تباہ کن سیلاب سے ابھی تک سنبھلا نہیں ہے. میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال-چین سرحد کے قریب تبت کی جانب لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی ایک بڑی جھیل میں پانی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جھیل سے 2.5 ملین مکعب میٹر سے زیادہ پانی وابستہ ہے اور اس کے اوور فلو ہونے سے دریاؤں میں دوبارہ شدید سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ آج مزید تشویش اس وقت پیدا ہوئی جب تبت کی جانب ایک ڈیم/پانی کا بند دوبارہ ٹوٹنے کی اطلاع ملی، جس کے بعد نیپال پولیس نے دریائے بھوٹے کوشی کے ساتھ ساتھ تریشولی اور نارایانی دریاؤں کے علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیا۔ راسووا اور نوواکوت سمیت متاثرہ علاقوں میں لوگوں اور امدادی کارکنوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 26 اگست کے سیلاب میں نیپال میں کم از کم 470 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 1,400 سے زیادہ افراد لاپتا ہیں۔ نئے سیلاب کے خطرے نے جاری امدادی اور تلاش کی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ چین کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں جھیل میں مزید پانی جمع ہونے سے اس کے پھٹنے کا خطرہ برقرار ہے۔
ایران کے خلاف فوجی کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی، ٹرمپ کا بڑا بیان
2026-08-28
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی ختم کردی ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ فوجی اور معاشی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد ایران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ملک کی فوجی صلاحیت بھی محدود ہوگئی ہے۔ رمپ نے کہا کہ ایران اپنے فوجیوں کو تنخواہیں ادا کرنے کی صورتحال میں بھی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے بقول ایران ’’گہری مشکلات‘‘ میں ہے اور اس کی فوجی صلاحیت بہت کم رہ گئی ہے۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھل جانا ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے خاتمے کی ضمانت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرمز کھلا ہونے کے باوجود اس بات کا مطلب نہیں کہ امریکا نے ایران کے ساتھ فوجی معاملہ مکمل طور پر ختم کردیا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف آئندہ ممکنہ فوجی اقدامات کا آپشن اب بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر نے فوری طور پر تہران کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو بھی مسترد کیا ہے۔ ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز کا معاملہ خاص اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کے ذریعے خلیج فارس سے بڑی مقدار میں تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہونے اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے کے دوبارہ کھلنے کو عالمی منڈی کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جارہا ہے۔ تاہم ٹرمپ کے تازہ بیان نے واضح کردیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مکمل طور پر ختم ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ امریکی صدر کے مطابق ایران اس وقت فوجی اور معاشی دباؤ کا سامنا کررہا ہے، جبکہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات اور ممکنہ اقدامات کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے مستقبل، آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور خطے میں مزید ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہوسکتی ہے۔
25 سال بعد نائن الیون کیس میں بڑی پیش رفت، خالد شیخ سمیت 4 ملزمان کا ٹرائل 2028 میں ہوگا
2026-08-27
واشنگٹن: امریکی فوجی عدالت نے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد سمیت 4 ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق ملزمان کا ٹرائل 5 جون 2028 سے شروع ہوگا۔ خالد شیخ محمد کو نائن الیون حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ امریکی زیر انتظام کیوبا میں واقع گوانتانامو بے جیل میں قید ہیں۔ امریکی فوجی عدالت کے جج نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سنایا ہے جب 2001 میں ہونے والے نائن الیون حملوں کو تقریباً 25 سال مکمل ہونے والے ہیں۔ ان حملوں نے امریکا کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ عدالتی حکم کے مطابق خالد شیخ محمد اور دیگر تین ملزمان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ کارروائی جون 2028 میں شروع ہوگی۔ مقدمے میں نائن الیون حملوں میں ان ملزمان کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔ نائن الیون حملے 11 ستمبر 2001 کو ہوئے تھے۔ اس روز ہائی جیکرز نے چار مسافر بردار طیاروں پر قبضہ کیا تھا۔ ان میں سے دو طیارے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرا گئے، جبکہ ایک طیارہ واشنگٹن ڈی سی کے قریب پینٹاگون سے جا ٹکرایا۔ چوتھا طیارہ، یونائیٹڈ ایئرلائنز فلائٹ 93، مسافروں کی مزاحمت کے بعد پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک وسیع فوجی اور سکیورٹی مہم شروع کی۔ افغانستان میں امریکی فوجی کارروائی بھی اسی پس منظر میں شروع ہوئی، جبکہ امریکا نے دنیا بھر میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف گرفتاریوں اور تحقیقات کا سلسلہ تیز کیا۔ خالد شیخ محمد کی گرفتاری 2003 میں پاکستان میں عمل میں آنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں بعد ازاں انہیں امریکی تحویل میں منتقل کیا گیا اور طویل عرصے سے گوانتانامو بے میں قید رکھا گیا ہے۔ گوانتانامو بے میں قید خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کئی سال سے قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کا شکار رہی ہے۔ مقدمے سے متعلق مختلف مراحل میں شواہد، قانونی حقوق اور تفتیش کے دوران کیے گئے مبینہ سلوک جیسے معاملات پر بھی بحث ہوتی رہی ہے۔ تازہ عدالتی فیصلے کے بعد اب مقدمے کی کارروائی کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر ہوگئی ہے۔ تاہم ٹرائل شروع ہونے میں ابھی کافی وقت باقی ہے، اس لیے آئندہ قانونی کارروائی اور ممکنہ درخواستوں کے باعث شیڈول میں تبدیلی کا امکان مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی مشرق وسطیٰ تعیناتی کا فیصلہ
2026-08-27
واشنگٹن: امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ آئندہ چند ہفتوں میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہوگا، جہاں اس کی کم از کم 7 ماہ تک تعیناتی متوقع ہے۔ امریکی بحریہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق جہاز پر تقریباً 5 ہزار اہلکار موجود ہوں گے۔ امریکی میڈیا سی این این کے مطابق امریکی بحریہ کے ماسٹر چیف پیٹی آفیسر جان پیرمین نے بتایا کہ جہاز کے عملے کو 7 ماہ سے زیادہ طویل تعیناتی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق کمانڈنگ افسر نے عملے کو تقریباً 8 ماہ کی تعیناتی کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنے کا کہا ہے۔ امریکی بحریہ کی جانب سے یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی برقرار ہے اور امریکی بحریہ کو طویل تعیناتیوں کے باعث اپنے اہلکاروں پر پڑنے والے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ ایک بڑے طیارہ بردار بحری جہاز کے طور پر امریکی بحریہ کی اہم جنگی صلاحیتوں میں شامل ہے۔ اس پر تقریباً 5 ہزار اہلکاروں کے علاوہ جنگی طیارے اور دیگر فضائی و بحری وسائل بھی تعینات کیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح یہ جہاز طویل عرصے تک سمندر میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے ایک متحرک بحری اڈے کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس تعیناتی کا ایک اہم پہلو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی حالیہ طویل تعیناتی بھی ہے۔ ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ میں اپنی تعیناتی کے دوران 250 دن سے زیادہ عرصے تک کسی بندرگاہ پر رکے بغیر سمندر میں موجود رہا، جسے امریکی بحریہ کی غیر معمولی طویل سمندری تعیناتیوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے باعث امریکی فوجیوں کے آرام، ذہنی دباؤ اور خاندانوں سے طویل دوری جیسے مسائل بھی زیر بحث آئے ہیں۔ نئی تعیناتی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب امریکی بحریہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں اور عملے کے لیے طویل مدتی تعیناتیوں کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی مشرق وسطیٰ روانگی سے خطے میں امریکی بحری موجودگی مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ کو عملے کی مسلسل طویل تعیناتی اور جنگی تیاری برقرار رکھنے کے چیلنجز کا بھی سامنا رہے گا۔ امریکی حکام کی جانب سے 7 ماہ سے زائد تعیناتی کی منصوبہ بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی کو قلیل مدتی اقدام کے بجائے طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی تیاری کررہا ہے۔
بھارتی شہر کانپور میں تربیتی طیارہ خوفناک حادثے کا شکار، پائلٹ اور معاون پائلٹ ہلاک
2026-08-27
کانپور: بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں تربیتی طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا جس کے نتیجے میں پائلٹ اور معاون پائلٹ دونوں ہلاک ہوگئے۔ حادثہ جمعرات کو دریائے گنگا کے کنارے ایک کھیت کے قریب پیش آیا۔ بھارتی پولیس کے مطابق یہ جڑواں انجن والا چار نشستوں کا تربیتی طیارہ تھا، جس میں دو افراد سوار تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک تربیتی پائلٹ جبکہ دوسرا انسٹرکٹر تھا۔ حکام کے مطابق دونوں پائلٹس کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے سچن بھاٹیہ اور کرناٹک سے تعلق رکھنے والے ابھیشیک پجاری کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں نے جمعرات کو صبح تقریباً 11 بج کر 30 منٹ پر کانپور کے گارگ ایوی ایشن ٹریننگ سینٹر سے پرواز شروع کی تھی۔ پولیس کے مطابق طیارہ تقریباً 20 منٹ بعد تربیتی مرکز کی جانب واپس آرہا تھا کہ صبح تقریباً 11 بج کر 50 منٹ پر حادثے کا شکار ہوگیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرواز کے دوران طیارے کا توازن بگڑنے کے بعد یہ حادثہ پیش آیا، تاہم حادثے کی اصل وجہ ابھی معلوم نہیں ہوسکی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، امدادی ادارے اور دیگر متعلقہ حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ حادثے کے بعد علاقے کو محفوظ بنا دیا گیا تاکہ امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ طیارے کے ملبے اور دیگر شواہد کو محفوظ رکھا جاسکے۔ حادثے کے مقام سے سامنے آنے والی تصاویر میں طیارہ مکمل طور پر تباہ شدہ حالت میں دکھائی دیا۔ طیارے کے دھاتی حصے مڑے ہوئے تھے جبکہ پروں اور بیرونی حصوں کے ٹکڑے جائے وقوعہ پر بکھرے ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا تربیتی طیارہ 2023 میں ٹریننگ سینٹر میں شامل کیا گیا تھا۔ طیارے کے حادثے کی مکمل وجوہات تحقیقات کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔ حادثے کے بعد متعلقہ حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے اور طیارے کے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا عمل شروع کردیا ہے۔ ابتدائی طور پر حادثے کی حتمی وجہ کے بارے میں کوئی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
بنگلادیش بھی مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کا خواہشمند
2026-08-25
بنگلادیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے کہا ہے کہ ڈھاکا سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے کہا کہ ہم نے مکہ دفاعی معاہدے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے. ہنگلا دیش ایک تسلیم شدہ ملک ہے۔ پوری دنیا میں مسلم دنیا کے شراکت دار اب بنگلا دیش کی قیادت کو دعوت دے رہے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ اگر مغربی ایشیا میں کوئی اسلامی ممالک کے درمیان سیکورٹی معاہدہ ہے تو اس کا حصہ بننا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اس معاملے کو مثبت طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے 7 اگست کو مکہ میں سہ فریقی سربراہی اجلاس میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کا عہد کیا گیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے الصفا پیلس میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے دوران دستخط کیے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی پر ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے والے کیلئے 2 ارب روپے سے زائد انعام کا اعلان
2026-08-25
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے بیرن ٹرمپ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے سے متعلق مواد دکھائے جانے کے بعد نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ تقریباً تین منٹ کی اس رپورٹ کا محور بیرن ٹرمپ تھے جس میں گرافکس کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کرنے کی مبینہ کوششوں، نگرانی، آن لائن سرگرمیوں اور ان کے اردگرد موجود افراد سے متعلق معلومات دکھائی گئیں۔ رپورٹ میں مبینہ طور پر بیرن ٹرمپ کے سوشل روابط کا پتا لگانے اور امریکی خفیہ سروس کی سیکیورٹی کے حصار تک پہنچنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ ایک کروڑ ڈالر انعام کا ذکر رپورٹ کے اختتام پر مبینہ طور پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا ذکر بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ بہت سے لوگ یہ رقم حاصل کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر اور ان کے اہلِ خانہ سے متعلق اس نوعیت کا مواد اس سے قبل بھی ایرانی میڈیا میں سامنے آچکا ہے، مگر تازہ نشریات میں براہِ راست ٹرمپ کے بیٹے کو موضوع بنائے جانے کو دھمکی آمیز بیانیے میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے خلاف مبینہ ایرانی سازشیں امریکی حکام ماضی میں ایران سے منسلک افراد پر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر سابق امریکی عہدیداروں کے قتل کی سازشوں کے الزامات بھی عائد کر چکے ہیں۔ امریکی پراسیکیوٹرز نے 2024 میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے ایک شخص کو ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کیے گئے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ نشریات میں بھی اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ بیرن ٹرمپ تک پہنچنے کی کوئی کوشش کامیاب ہوئی ہے۔
کاجا کالس نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ ٹینڈر واپس لے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے دیگر تمام منصوبے بھی روک دے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کی مزید توسیع فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرے گی اور مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید محدود ہوسکتے ہیں۔ E1 علاقہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان واقع ایک اہم خطہ ہے۔ اس علاقے میں تعمیرات کو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین پہلے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی توسیع پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے اور اسرائیل پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
2026-08-24
عراق نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ سکیورٹی کونسل قائم کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو کم کرنا اور خطے میں سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ عراق کے وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے بتایا کہ بغداد نے یہ تجویز ایران اور سعودی عرب دونوں کے سامنے پیش کردی ہے۔ قاسم الاعرجی نے سرکاری ٹی وی عراقیا سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ اعتماد کا بحران ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ سکیورٹی کونسل کے قیام سے دونوں ممالک کو باہمی خدشات پر براہ راست بات چیت اور خطے کے سکیورٹی مسائل کے حل کے لیے تعاون کا موقع مل سکتا ہے۔ عراق کی جانب سے یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، سعودی عرب سمیت خطے کے مختلف ممالک کے درمیان سکیورٹی اور سیاسی معاملات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ سیاسیخبریں اور تجزیے پڑھنا بغداد طویل عرصے سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بہتری اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ مشترکہ سکیورٹی کونسل کی نئی تجویز بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
مغربی کنارے میں 1200 گھر بنانے کا منصوبہ، یورپی یونین کا اسرائیل کو سخت پیغام
2026-08-24
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں E1 آبادکاری منصوبہ فوری طور پر روک دے۔ کاجا کالس نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے E1 علاقے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 1,200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔ یورپی یونین کے مطابق اس منصوبے کے نتیجے میں مغربی کنارے کا شمالی حصہ جنوبی حصے سے کٹ سکتا ہے۔ کاجا کالس نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ ٹینڈر واپس لے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے دیگر تمام منصوبے بھی روک دے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کی مزید توسیع فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرے گی اور مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید محدود ہوسکتے ہیں۔ E1 علاقہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان واقع ایک اہم خطہ ہے۔ اس علاقے میں تعمیرات کو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین پہلے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی توسیع پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے اور اسرائیل پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
پاکستانی آرمی چیف کا دورہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مشترکہ امور پر توجہ مرکوز رکھے گا، ایران
2026-08-24
تہران: ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو موجودہ دور کے بہترین مراحل میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف کا طے شدہ دورہ ایران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مشترکہ امور پر توجہ مرکوز رکھے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات ’’بہترین مراحل میں سے ایک‘‘ سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک باہمی تعاون اور علاقائی معاملات پر رابطے میں ہیں۔ ایرانی ترجمان نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے کہا کہ تہران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مخالفین کی شرائط قبول نہیں کرے گا۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کسی جارح فریق کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرائط خود طے کرے۔ ان کے مطابق ایران کے ریاستی ادارے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور کسی جارحیت کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ جنگ شروع کرنے والے فریق کو اپنے اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم پر قائم ہے۔دوسری جانب اسماعیل بقائی نے بلغاریہ کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں تعاون سے گریز کرے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق بقائی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر حملے میں تعاون جارحیت کے زمرے میں آئے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کوئی ملک ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں تعاون کرتا ہے تو ایران کو اس جارحیت کے ذریعے یا اس کے منبع کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے۔ ایرانی ترجمان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور کشیدگی جاری ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال کے اثرات سے متاثر ہورہے ہیں۔
