آبنائے ہُرمز طاقت کے زور پر

2026-04-04
آبنائے ہرمز طاقت کے زور پر کھولنے سے متعلق قرارداد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج ہونے والی ووٹنگ منسوخ ہوگئی۔ قرارداد پر ووٹنگ کے لیے نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔ فرانس، چین اور روس کی جانب سے قرارداد کے مسودے کی مخالفت کی گئی۔ سلامتی کونسل کے 10 دیگر غیر مستقل اراکین میں بھی قرارداد کے مسودے پر اختلافات پائے گئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیاکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ووٹنگ جیسے اقدامات صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنادیں گے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز 28 فروری کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے بعد سے بند ہے۔
25 سال بعد نائن الیون کیس میں بڑی پیش رفت، خالد شیخ سمیت 4 ملزمان کا ٹرائل 2028 میں ہوگا
2026-08-27
واشنگٹن: امریکی فوجی عدالت نے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد سمیت 4 ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق ملزمان کا ٹرائل 5 جون 2028 سے شروع ہوگا۔ خالد شیخ محمد کو نائن الیون حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ امریکی زیر انتظام کیوبا میں واقع گوانتانامو بے جیل میں قید ہیں۔ امریکی فوجی عدالت کے جج نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سنایا ہے جب 2001 میں ہونے والے نائن الیون حملوں کو تقریباً 25 سال مکمل ہونے والے ہیں۔ ان حملوں نے امریکا کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ عدالتی حکم کے مطابق خالد شیخ محمد اور دیگر تین ملزمان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ کارروائی جون 2028 میں شروع ہوگی۔ مقدمے میں نائن الیون حملوں میں ان ملزمان کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔ نائن الیون حملے 11 ستمبر 2001 کو ہوئے تھے۔ اس روز ہائی جیکرز نے چار مسافر بردار طیاروں پر قبضہ کیا تھا۔ ان میں سے دو طیارے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرا گئے، جبکہ ایک طیارہ واشنگٹن ڈی سی کے قریب پینٹاگون سے جا ٹکرایا۔ چوتھا طیارہ، یونائیٹڈ ایئرلائنز فلائٹ 93، مسافروں کی مزاحمت کے بعد پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک وسیع فوجی اور سکیورٹی مہم شروع کی۔ افغانستان میں امریکی فوجی کارروائی بھی اسی پس منظر میں شروع ہوئی، جبکہ امریکا نے دنیا بھر میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف گرفتاریوں اور تحقیقات کا سلسلہ تیز کیا۔ خالد شیخ محمد کی گرفتاری 2003 میں پاکستان میں عمل میں آنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں بعد ازاں انہیں امریکی تحویل میں منتقل کیا گیا اور طویل عرصے سے گوانتانامو بے میں قید رکھا گیا ہے۔ گوانتانامو بے میں قید خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کئی سال سے قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کا شکار رہی ہے۔ مقدمے سے متعلق مختلف مراحل میں شواہد، قانونی حقوق اور تفتیش کے دوران کیے گئے مبینہ سلوک جیسے معاملات پر بھی بحث ہوتی رہی ہے۔ تازہ عدالتی فیصلے کے بعد اب مقدمے کی کارروائی کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر ہوگئی ہے۔ تاہم ٹرائل شروع ہونے میں ابھی کافی وقت باقی ہے، اس لیے آئندہ قانونی کارروائی اور ممکنہ درخواستوں کے باعث شیڈول میں تبدیلی کا امکان مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی مشرق وسطیٰ تعیناتی کا فیصلہ
2026-08-27
واشنگٹن: امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ آئندہ چند ہفتوں میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہوگا، جہاں اس کی کم از کم 7 ماہ تک تعیناتی متوقع ہے۔ امریکی بحریہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق جہاز پر تقریباً 5 ہزار اہلکار موجود ہوں گے۔ امریکی میڈیا سی این این کے مطابق امریکی بحریہ کے ماسٹر چیف پیٹی آفیسر جان پیرمین نے بتایا کہ جہاز کے عملے کو 7 ماہ سے زیادہ طویل تعیناتی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق کمانڈنگ افسر نے عملے کو تقریباً 8 ماہ کی تعیناتی کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنے کا کہا ہے۔ امریکی بحریہ کی جانب سے یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی برقرار ہے اور امریکی بحریہ کو طویل تعیناتیوں کے باعث اپنے اہلکاروں پر پڑنے والے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ ایک بڑے طیارہ بردار بحری جہاز کے طور پر امریکی بحریہ کی اہم جنگی صلاحیتوں میں شامل ہے۔ اس پر تقریباً 5 ہزار اہلکاروں کے علاوہ جنگی طیارے اور دیگر فضائی و بحری وسائل بھی تعینات کیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح یہ جہاز طویل عرصے تک سمندر میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے ایک متحرک بحری اڈے کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس تعیناتی کا ایک اہم پہلو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی حالیہ طویل تعیناتی بھی ہے۔ ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ میں اپنی تعیناتی کے دوران 250 دن سے زیادہ عرصے تک کسی بندرگاہ پر رکے بغیر سمندر میں موجود رہا، جسے امریکی بحریہ کی غیر معمولی طویل سمندری تعیناتیوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے باعث امریکی فوجیوں کے آرام، ذہنی دباؤ اور خاندانوں سے طویل دوری جیسے مسائل بھی زیر بحث آئے ہیں۔ نئی تعیناتی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب امریکی بحریہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں اور عملے کے لیے طویل مدتی تعیناتیوں کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی مشرق وسطیٰ روانگی سے خطے میں امریکی بحری موجودگی مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ کو عملے کی مسلسل طویل تعیناتی اور جنگی تیاری برقرار رکھنے کے چیلنجز کا بھی سامنا رہے گا۔ امریکی حکام کی جانب سے 7 ماہ سے زائد تعیناتی کی منصوبہ بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی کو قلیل مدتی اقدام کے بجائے طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی تیاری کررہا ہے۔
بھارتی شہر کانپور میں تربیتی طیارہ خوفناک حادثے کا شکار، پائلٹ اور معاون پائلٹ ہلاک
2026-08-27
کانپور: بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں تربیتی طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا جس کے نتیجے میں پائلٹ اور معاون پائلٹ دونوں ہلاک ہوگئے۔ حادثہ جمعرات کو دریائے گنگا کے کنارے ایک کھیت کے قریب پیش آیا۔ بھارتی پولیس کے مطابق یہ جڑواں انجن والا چار نشستوں کا تربیتی طیارہ تھا، جس میں دو افراد سوار تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک تربیتی پائلٹ جبکہ دوسرا انسٹرکٹر تھا۔ حکام کے مطابق دونوں پائلٹس کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے سچن بھاٹیہ اور کرناٹک سے تعلق رکھنے والے ابھیشیک پجاری کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں نے جمعرات کو صبح تقریباً 11 بج کر 30 منٹ پر کانپور کے گارگ ایوی ایشن ٹریننگ سینٹر سے پرواز شروع کی تھی۔ پولیس کے مطابق طیارہ تقریباً 20 منٹ بعد تربیتی مرکز کی جانب واپس آرہا تھا کہ صبح تقریباً 11 بج کر 50 منٹ پر حادثے کا شکار ہوگیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرواز کے دوران طیارے کا توازن بگڑنے کے بعد یہ حادثہ پیش آیا، تاہم حادثے کی اصل وجہ ابھی معلوم نہیں ہوسکی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، امدادی ادارے اور دیگر متعلقہ حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ حادثے کے بعد علاقے کو محفوظ بنا دیا گیا تاکہ امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ طیارے کے ملبے اور دیگر شواہد کو محفوظ رکھا جاسکے۔ حادثے کے مقام سے سامنے آنے والی تصاویر میں طیارہ مکمل طور پر تباہ شدہ حالت میں دکھائی دیا۔ طیارے کے دھاتی حصے مڑے ہوئے تھے جبکہ پروں اور بیرونی حصوں کے ٹکڑے جائے وقوعہ پر بکھرے ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا تربیتی طیارہ 2023 میں ٹریننگ سینٹر میں شامل کیا گیا تھا۔ طیارے کے حادثے کی مکمل وجوہات تحقیقات کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔ حادثے کے بعد متعلقہ حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے اور طیارے کے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا عمل شروع کردیا ہے۔ ابتدائی طور پر حادثے کی حتمی وجہ کے بارے میں کوئی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
بنگلادیش بھی مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کا خواہشمند
2026-08-25
بنگلادیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے کہا ہے کہ ڈھاکا سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے کہا کہ ہم نے مکہ دفاعی معاہدے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے. ہنگلا دیش ایک تسلیم شدہ ملک ہے۔ پوری دنیا میں مسلم دنیا کے شراکت دار اب بنگلا دیش کی قیادت کو دعوت دے رہے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ اگر مغربی ایشیا میں کوئی اسلامی ممالک کے درمیان سیکورٹی معاہدہ ہے تو اس کا حصہ بننا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اس معاملے کو مثبت طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے 7 اگست کو مکہ میں سہ فریقی سربراہی اجلاس میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کا عہد کیا گیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے الصفا پیلس میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے دوران دستخط کیے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی پر ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے والے کیلئے 2 ارب روپے سے زائد انعام کا اعلان
2026-08-25
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے بیرن ٹرمپ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے سے متعلق مواد دکھائے جانے کے بعد نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ تقریباً تین منٹ کی اس رپورٹ کا محور بیرن ٹرمپ تھے جس میں گرافکس کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کرنے کی مبینہ کوششوں، نگرانی، آن لائن سرگرمیوں اور ان کے اردگرد موجود افراد سے متعلق معلومات دکھائی گئیں۔ رپورٹ میں مبینہ طور پر بیرن ٹرمپ کے سوشل روابط کا پتا لگانے اور امریکی خفیہ سروس کی سیکیورٹی کے حصار تک پہنچنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ ایک کروڑ ڈالر انعام کا ذکر رپورٹ کے اختتام پر مبینہ طور پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا ذکر بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ بہت سے لوگ یہ رقم حاصل کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر اور ان کے اہلِ خانہ سے متعلق اس نوعیت کا مواد اس سے قبل بھی ایرانی میڈیا میں سامنے آچکا ہے، مگر تازہ نشریات میں براہِ راست ٹرمپ کے بیٹے کو موضوع بنائے جانے کو دھمکی آمیز بیانیے میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے خلاف مبینہ ایرانی سازشیں امریکی حکام ماضی میں ایران سے منسلک افراد پر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر سابق امریکی عہدیداروں کے قتل کی سازشوں کے الزامات بھی عائد کر چکے ہیں۔ امریکی پراسیکیوٹرز نے 2024 میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے ایک شخص کو ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کیے گئے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ نشریات میں بھی اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ بیرن ٹرمپ تک پہنچنے کی کوئی کوشش کامیاب ہوئی ہے۔
کاجا کالس نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ ٹینڈر واپس لے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے دیگر تمام منصوبے بھی روک دے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کی مزید توسیع فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرے گی اور مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید محدود ہوسکتے ہیں۔ E1 علاقہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان واقع ایک اہم خطہ ہے۔ اس علاقے میں تعمیرات کو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین پہلے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی توسیع پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے اور اسرائیل پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
2026-08-24
عراق نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ سکیورٹی کونسل قائم کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو کم کرنا اور خطے میں سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ عراق کے وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے بتایا کہ بغداد نے یہ تجویز ایران اور سعودی عرب دونوں کے سامنے پیش کردی ہے۔ قاسم الاعرجی نے سرکاری ٹی وی عراقیا سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ اعتماد کا بحران ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ سکیورٹی کونسل کے قیام سے دونوں ممالک کو باہمی خدشات پر براہ راست بات چیت اور خطے کے سکیورٹی مسائل کے حل کے لیے تعاون کا موقع مل سکتا ہے۔ عراق کی جانب سے یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، سعودی عرب سمیت خطے کے مختلف ممالک کے درمیان سکیورٹی اور سیاسی معاملات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ سیاسیخبریں اور تجزیے پڑھنا بغداد طویل عرصے سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بہتری اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ مشترکہ سکیورٹی کونسل کی نئی تجویز بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
مغربی کنارے میں 1200 گھر بنانے کا منصوبہ، یورپی یونین کا اسرائیل کو سخت پیغام
2026-08-24
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں E1 آبادکاری منصوبہ فوری طور پر روک دے۔ کاجا کالس نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے E1 علاقے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 1,200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔ یورپی یونین کے مطابق اس منصوبے کے نتیجے میں مغربی کنارے کا شمالی حصہ جنوبی حصے سے کٹ سکتا ہے۔ کاجا کالس نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ ٹینڈر واپس لے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے دیگر تمام منصوبے بھی روک دے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کی مزید توسیع فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرے گی اور مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید محدود ہوسکتے ہیں۔ E1 علاقہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان واقع ایک اہم خطہ ہے۔ اس علاقے میں تعمیرات کو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین پہلے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی توسیع پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے اور اسرائیل پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
پاکستانی آرمی چیف کا دورہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مشترکہ امور پر توجہ مرکوز رکھے گا، ایران
2026-08-24
تہران: ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو موجودہ دور کے بہترین مراحل میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف کا طے شدہ دورہ ایران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مشترکہ امور پر توجہ مرکوز رکھے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات ’’بہترین مراحل میں سے ایک‘‘ سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک باہمی تعاون اور علاقائی معاملات پر رابطے میں ہیں۔ ایرانی ترجمان نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے کہا کہ تہران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مخالفین کی شرائط قبول نہیں کرے گا۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کسی جارح فریق کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرائط خود طے کرے۔ ان کے مطابق ایران کے ریاستی ادارے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور کسی جارحیت کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ جنگ شروع کرنے والے فریق کو اپنے اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم پر قائم ہے۔دوسری جانب اسماعیل بقائی نے بلغاریہ کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں تعاون سے گریز کرے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق بقائی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر حملے میں تعاون جارحیت کے زمرے میں آئے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کوئی ملک ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں تعاون کرتا ہے تو ایران کو اس جارحیت کے ذریعے یا اس کے منبع کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے۔ ایرانی ترجمان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور کشیدگی جاری ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال کے اثرات سے متاثر ہورہے ہیں۔
بنگلادیش میں 35 سال بعد نئے صدر کا انتخاب آج ہوگا، مرزا فخر السلام مضبوط امیدوار
2026-08-20
ڈھاکا: بنگلادیش میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ آج ہوگی۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق آج بنگلادیش کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوگی، جس میں حکمران بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر رہنما مرزا فخرالسلام عالمگیر اور 11 جماعتوں کے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار کرنل (ر) اولی احمد آمنے سامنے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلادیش میں یہ صدارتی انتخاب 35 برس بعد پہلی بار حقیقی مقابلے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ صدارتی انتخاب کے سلسلے میں بنگلادیشی پارلیمنٹ (جاتیا سنگساد) میں دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک ووٹنگ ہوگی، جہاں 349 ارکان حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق صدر کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں بلکہ ارکانِ پارلیمنٹ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ حکمران جماعت بی این پی کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہے، جس کے باعث 78 سالہ مرزا فخرالسلام عالمگیر کو کامیابی کا مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ مرزا فخر السلام عالمگیر طویل عرصے سے بی این پی کی قیادت کا حصہ رہے ہیں اور موجودہ حکومت میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ اِن کے مقابلے میں جماعتِ اسلامی کے حمایت یافتہ 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد نے سابق فوجی افسر اور سیاست دان کرنل (ر) اولی احمد کو میدان میں اتارا ہے۔ اگرچہ عددی اعتبار سے اپوزیشن کمزور پوزیشن میں ہے، تاہم مبصرین اس انتخاب کو ملک میں جمہوری عمل کی بحالی کی ایک اہم علامت قرار دے رہے ہیں۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق کامیاب امیدوار جمعہ کی شام بنگابھون میں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد نئی صدراتی مدت کا آغاز ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ شہاب الدین کو معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔
ایران کا معاشی گھیراؤ امریکا کی اقتصادی دہشت گردی ہے، عباس عراقچی
2026-08-20
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کا معاشی گھیراؤ دراصل امریکا کی اقتصادی دہشت گردی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی دراصل ’اقتصادی دہشتگردی‘ ہے جو نہ صرف ایران بلکہ عالمی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں امریکی قومی قرضہ تقریباً 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنی داخلی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کے خلاف جارحانہ معاشی اقدامات کو ہوا دے رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے خلاف ’معاشی اعلانِ جنگ‘ کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کا تسلسل ہے جو ماضی میں بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ ناکام پالیسیوں کو مزید سخت بنانا مزید ناکامیوں ہی کو جنم دے گا۔ واضح رہے کہ عباس عراقچی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف غیر معمولی معاشی ج نگ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک تہران کے ساتھ مالی، تجارتی یا لاجسٹک تعاون جاری رکھیں گے انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس نئی حکمت عملی کو مبصرین ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید تنہا کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں بین الاقوامی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سپلائی چینز پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
