حزب اللہ کے حملوں سے تباہی

2026-03-27
لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے جوابی حملوں کے بعد شمالی اسرائیل علاقوں کے نمائندے نیتن یاہو حکومت پر شدید تنقید کررہے ہیں۔ اسرائیل کے شمالی علاقوں میں مقامی کونسل سربراہان نے نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے تحفظ کیلئے اقدامات ناکافی ہیں۔ حزب اللہ کےہاتھوں تباہی کا ذکرکرتےشمالی اسرائیلی شہرمارگالیوت کا میئر زار و قطار روپڑا اور کہا کہ ہر چیز تباہ ہوگئی ہے مگر کوئی بھی ملک اسرائیل کا ساتھ دینے کا تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ہماری سکیورٹی لبنان کے ہاتھ میں دیدی ہے، ہم لڑرہے ہیں مگر ریاست ہمارے ساتھ نہیں کھڑی۔ اس کے علاوہ کیرت شمونہ کے میئر نے بھی نیتن یاہو حکومت پر شدید تنقیدکرتے ہوئے کہا ایک شہر صفہ ہستی ہی سے مٹ رہا ہے، دو تہائی شہری اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں اور ایسا رہا تو مزید لوگ چھوڑ جائی گے۔
بنگلادیش بھی مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کا خواہشمند
2026-08-25
بنگلادیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے کہا ہے کہ ڈھاکا سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے کہا کہ ہم نے مکہ دفاعی معاہدے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے. ہنگلا دیش ایک تسلیم شدہ ملک ہے۔ پوری دنیا میں مسلم دنیا کے شراکت دار اب بنگلا دیش کی قیادت کو دعوت دے رہے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ اگر مغربی ایشیا میں کوئی اسلامی ممالک کے درمیان سیکورٹی معاہدہ ہے تو اس کا حصہ بننا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اس معاملے کو مثبت طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے 7 اگست کو مکہ میں سہ فریقی سربراہی اجلاس میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کا عہد کیا گیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے الصفا پیلس میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے دوران دستخط کیے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی پر ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے والے کیلئے 2 ارب روپے سے زائد انعام کا اعلان
2026-08-25
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے بیرن ٹرمپ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے سے متعلق مواد دکھائے جانے کے بعد نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ تقریباً تین منٹ کی اس رپورٹ کا محور بیرن ٹرمپ تھے جس میں گرافکس کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کرنے کی مبینہ کوششوں، نگرانی، آن لائن سرگرمیوں اور ان کے اردگرد موجود افراد سے متعلق معلومات دکھائی گئیں۔ رپورٹ میں مبینہ طور پر بیرن ٹرمپ کے سوشل روابط کا پتا لگانے اور امریکی خفیہ سروس کی سیکیورٹی کے حصار تک پہنچنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ ایک کروڑ ڈالر انعام کا ذکر رپورٹ کے اختتام پر مبینہ طور پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا ذکر بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ بہت سے لوگ یہ رقم حاصل کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر اور ان کے اہلِ خانہ سے متعلق اس نوعیت کا مواد اس سے قبل بھی ایرانی میڈیا میں سامنے آچکا ہے، مگر تازہ نشریات میں براہِ راست ٹرمپ کے بیٹے کو موضوع بنائے جانے کو دھمکی آمیز بیانیے میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے خلاف مبینہ ایرانی سازشیں امریکی حکام ماضی میں ایران سے منسلک افراد پر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر سابق امریکی عہدیداروں کے قتل کی سازشوں کے الزامات بھی عائد کر چکے ہیں۔ امریکی پراسیکیوٹرز نے 2024 میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے ایک شخص کو ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کیے گئے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ نشریات میں بھی اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ بیرن ٹرمپ تک پہنچنے کی کوئی کوشش کامیاب ہوئی ہے۔
کاجا کالس نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ ٹینڈر واپس لے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے دیگر تمام منصوبے بھی روک دے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کی مزید توسیع فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرے گی اور مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید محدود ہوسکتے ہیں۔ E1 علاقہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان واقع ایک اہم خطہ ہے۔ اس علاقے میں تعمیرات کو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین پہلے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی توسیع پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے اور اسرائیل پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
2026-08-24
عراق نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ سکیورٹی کونسل قائم کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو کم کرنا اور خطے میں سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ عراق کے وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے بتایا کہ بغداد نے یہ تجویز ایران اور سعودی عرب دونوں کے سامنے پیش کردی ہے۔ قاسم الاعرجی نے سرکاری ٹی وی عراقیا سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ اعتماد کا بحران ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ سکیورٹی کونسل کے قیام سے دونوں ممالک کو باہمی خدشات پر براہ راست بات چیت اور خطے کے سکیورٹی مسائل کے حل کے لیے تعاون کا موقع مل سکتا ہے۔ عراق کی جانب سے یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، سعودی عرب سمیت خطے کے مختلف ممالک کے درمیان سکیورٹی اور سیاسی معاملات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ سیاسیخبریں اور تجزیے پڑھنا بغداد طویل عرصے سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بہتری اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ مشترکہ سکیورٹی کونسل کی نئی تجویز بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
مغربی کنارے میں 1200 گھر بنانے کا منصوبہ، یورپی یونین کا اسرائیل کو سخت پیغام
2026-08-24
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں E1 آبادکاری منصوبہ فوری طور پر روک دے۔ کاجا کالس نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے E1 علاقے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 1,200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔ یورپی یونین کے مطابق اس منصوبے کے نتیجے میں مغربی کنارے کا شمالی حصہ جنوبی حصے سے کٹ سکتا ہے۔ کاجا کالس نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ ٹینڈر واپس لے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے دیگر تمام منصوبے بھی روک دے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کی مزید توسیع فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرے گی اور مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید محدود ہوسکتے ہیں۔ E1 علاقہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان واقع ایک اہم خطہ ہے۔ اس علاقے میں تعمیرات کو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین پہلے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی توسیع پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے اور اسرائیل پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
پاکستانی آرمی چیف کا دورہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مشترکہ امور پر توجہ مرکوز رکھے گا، ایران
2026-08-24
تہران: ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو موجودہ دور کے بہترین مراحل میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف کا طے شدہ دورہ ایران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مشترکہ امور پر توجہ مرکوز رکھے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات ’’بہترین مراحل میں سے ایک‘‘ سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک باہمی تعاون اور علاقائی معاملات پر رابطے میں ہیں۔ ایرانی ترجمان نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے کہا کہ تہران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مخالفین کی شرائط قبول نہیں کرے گا۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کسی جارح فریق کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرائط خود طے کرے۔ ان کے مطابق ایران کے ریاستی ادارے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور کسی جارحیت کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ جنگ شروع کرنے والے فریق کو اپنے اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم پر قائم ہے۔دوسری جانب اسماعیل بقائی نے بلغاریہ کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں تعاون سے گریز کرے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق بقائی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر حملے میں تعاون جارحیت کے زمرے میں آئے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کوئی ملک ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں تعاون کرتا ہے تو ایران کو اس جارحیت کے ذریعے یا اس کے منبع کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے۔ ایرانی ترجمان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور کشیدگی جاری ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال کے اثرات سے متاثر ہورہے ہیں۔
بنگلادیش میں 35 سال بعد نئے صدر کا انتخاب آج ہوگا، مرزا فخر السلام مضبوط امیدوار
2026-08-20
ڈھاکا: بنگلادیش میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ آج ہوگی۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق آج بنگلادیش کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوگی، جس میں حکمران بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر رہنما مرزا فخرالسلام عالمگیر اور 11 جماعتوں کے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار کرنل (ر) اولی احمد آمنے سامنے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلادیش میں یہ صدارتی انتخاب 35 برس بعد پہلی بار حقیقی مقابلے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ صدارتی انتخاب کے سلسلے میں بنگلادیشی پارلیمنٹ (جاتیا سنگساد) میں دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک ووٹنگ ہوگی، جہاں 349 ارکان حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق صدر کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں بلکہ ارکانِ پارلیمنٹ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ حکمران جماعت بی این پی کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہے، جس کے باعث 78 سالہ مرزا فخرالسلام عالمگیر کو کامیابی کا مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ مرزا فخر السلام عالمگیر طویل عرصے سے بی این پی کی قیادت کا حصہ رہے ہیں اور موجودہ حکومت میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ اِن کے مقابلے میں جماعتِ اسلامی کے حمایت یافتہ 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد نے سابق فوجی افسر اور سیاست دان کرنل (ر) اولی احمد کو میدان میں اتارا ہے۔ اگرچہ عددی اعتبار سے اپوزیشن کمزور پوزیشن میں ہے، تاہم مبصرین اس انتخاب کو ملک میں جمہوری عمل کی بحالی کی ایک اہم علامت قرار دے رہے ہیں۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق کامیاب امیدوار جمعہ کی شام بنگابھون میں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد نئی صدراتی مدت کا آغاز ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ شہاب الدین کو معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔
ایران کا معاشی گھیراؤ امریکا کی اقتصادی دہشت گردی ہے، عباس عراقچی
2026-08-20
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کا معاشی گھیراؤ دراصل امریکا کی اقتصادی دہشت گردی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی دراصل ’اقتصادی دہشتگردی‘ ہے جو نہ صرف ایران بلکہ عالمی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں امریکی قومی قرضہ تقریباً 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنی داخلی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کے خلاف جارحانہ معاشی اقدامات کو ہوا دے رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے خلاف ’معاشی اعلانِ جنگ‘ کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کا تسلسل ہے جو ماضی میں بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ ناکام پالیسیوں کو مزید سخت بنانا مزید ناکامیوں ہی کو جنم دے گا۔ واضح رہے کہ عباس عراقچی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف غیر معمولی معاشی ج نگ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک تہران کے ساتھ مالی، تجارتی یا لاجسٹک تعاون جاری رکھیں گے انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس نئی حکمت عملی کو مبصرین ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید تنہا کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں بین الاقوامی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سپلائی چینز پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
جنوبی لبنان پر اسرائیل کا بڑا حملہ، 3 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق؛ حزب اللہ کا جواب کا اعلان
2026-08-16
بیروت: جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے ہیں۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جاں بحق افراد میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حملے جون میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے والے معاہدوں کے بعد لبنان پر ہونے والی سب سے ہلاکت خیز کارروائی قرار دیے جارہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ جنوبی لبنان کے گاؤں انصار میں ایک گھر پر کیے گئے فضائی حملے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ دیر الزہرانی نامی علاقے میں ایک اور حملے کے نتیجے میں 4 افراد جان سے گئے اور 17 زخمی ہوئے۔ لبنانی حکام کے مطابق دونوں حملوں میں مجموعی طور پر 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی کارکنوں اور مقامی رہائشیوں نے حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کی کارروائیاں کیں۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک ’’واضح پیغام‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں براہ راست مذاکرات کا آٹھواں دور اگلے ماہ روم میں ہونے والا ہے۔ صدر جوزف عون کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی لبنان میں مسلسل اسرائیلی حملے اور جنگ بندی یا فریم ورک معاہدے کی بار بار خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت بین الاقوامی قانون کے بھی خلاف ہے۔ لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے خطرناک کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انصار میں جاں بحق ہونے والی خواتین اور بچے ’’فوجی اہداف‘‘ نہیں تھے اور نہ ہی جاں بحق افراد کو کسی فوجی تنصیب کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی حملوں کا ’’مناسب جواب‘‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات جاری رکھنے کے بجائے اپنا مؤقف سخت کرے۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کو واضح طور پر سمجھنا چاہیے کہ اس کے حملے، خلاف ورزیاں اور اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوششیں جاری نہیں رہ سکتیں اور انہیں مناسب جواب دیا جائے گا۔ حزب اللہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو داخلی سیاسی مقاصد کے لیے جنگ کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔
یران کی فضائی دفاعی پیداوار کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ جنگ میں محفوظ رہا، پاسداران انقلاب کا دعویٰ
2026-08-16
تہران: ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ایران کی فضائی دفاعی نظام تیار کرنے کی پیداواری صلاحیت کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ محفوظ رہا۔ الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کے ایک عہدیدار نے فارس کی جانب سے نشر کی گئی ایک دستاویزی فلم میں جنگ کے دوران ایران کی دفاعی پیداوار سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق جنگ کے دوران ملک کے فوجی پیداواری ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی تیاری اور فراہمی کی رفتار جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کم نہیں ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت کا بڑا حصہ پاسداران انقلاب کے اپنے ادارے کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران بعض شعبوں میں پیداوار میں کمی کے بجائے اضافہ بھی ہوا ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران کے فضائی دفاعی پیداواری مراکز کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم مجموعی پیداواری صلاحیت کا بڑا حصہ متاثر ہونے سے محفوظ رہا۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق اس وقت ایران کے پاس فعال فضائی دفاعی نظام کا ذخیرہ بھی جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران جنگ کے دوران اپنے فضائی دفاعی نظام کی پیداوار اور فراہمی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ میں فضائی حملے اور دفاعی نظام اہم موضوع رہے ہیں۔ جنگ کے دوران ایران کی فوجی تنصیبات اور دفاعی پیداوار سے متعلق کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے باوجود فضائی دفاعی نظام کی پیداوار میں نمایاں خلل نہیں آیا اور بعض شعبوں میں پیداوار مزید بڑھائی گئی۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ بیان ملک کی دفاعی پیداواری صلاحیت اور جنگ کے بعد فضائی دفاع کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی پہلی ترجیح تیل اور گیس کی قیمتوں کو کم رکھنا ہے، جے ڈی وینس
2026-08-14
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکا کی پہلی ترجیح ملک میں تیل اور گیس کی قیمتوں کو کم رکھنا ہے، جبکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا دوسری ترجیح ہے۔ انادولو کے مطابق جے ڈی وینس نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ تنازع کے ابتدائی دنوں کے مقابلے میں تیل کی قیمتیں اب نمایاں طور پر کم ہیں اور امریکا کی کوشش ہے کہ یہ قیمتیں مزید قابو میں رہیں۔ امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ جنگ کے دوران حکومت کا پہلا مقصد امریکی عوام کے لیے تیل اور گیس کو سستا رکھنا ہے۔ ان کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ امریکی عوام اور ملکی معیشت دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے، اس لیے اسے قابو میں رکھنا واشنگٹن کی اولین ترجیح ہے۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ دوسری اہم ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایک طرف توانائی کی قیمتوں کو کم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے مقصد پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ امریکی نائب صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی شدید دباؤ میں رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تنازع کے ابتدائی مرحلے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا، تاہم جے ڈی وینس کے مطابق اب قیمتیں ابتدائی بلند ترین سطح سے کافی نیچے آچکی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے لیے توانائی کی قیمتیں سیاسی طور پر بھی اہم ہیں کیونکہ پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست امریکی صارفین کے ماہانہ اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکا کی طویل عرصے سے خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ جے ڈی وینس کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ جنگ کے دوران واشنگٹن بیک وقت توانائی کی قیمتوں اور ایران کے جوہری پروگرام دونوں کو اہم معاملات کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
