ایران کی جانب سے امریکی فوج

2026-06-05
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے ایرانی قیادت، نیوی اور فضائیہ کو ختم کر دیا، ایران کی جانب سے امریکی فوج پر حملہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز بن سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کیے بغیر بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے، ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا، لیکن ایران کے ساتھ ڈیل کی صورت میں سپریم لیڈرسے ملاقات ممکن ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری کھول دی جائے گی۔ آپ جلد جان جائیں گے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، ایران کے ساتھ تنازع میں ہر صورت فتح ہماری ہوگی ۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ لبنان کی صورتحال پر نظر رکھنی ہوگی، امن قائم ہونا لبنان کے لیے اچھا ہوگا، حزب اللہ سے لبنان کی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔ علاوہ زیں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اور روسی صدر یپوٹن ملاقات کریں تو یہ بہت اچھا ہوگا، یوکرین تنازع کے حل کے لیے مصالحت ضروری ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی ڈیل جلد ممکن ہے ۔
جنگ بندی کے اعلان کے
2026-06-05
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر حملے نہ رک سکے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعرات کو جنوبی لبنان پر بمباری کی جس کے بعد دریائے زہرانی کے جنوب کے رہائشیوں کو گھروں کو واپس نہ جانے کی ہدایت کی گئی۔ اقوام متحدہ کی امن فوج کے مورچے پر مارٹر گولے گرنے سے زخمی اہل کاردم توڑگیا۔ لبنانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے بعد لبنان پر کیے گئے حملوں میں8 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 3 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوج پر راکٹوں سے حملے کیے۔ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو شرمناک قرار دے دیتے ہوئے کہاکہ جب تک ہمارے لوگ شہید ہورہے ہیں، اسرائیل بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے ۔ دونوں ممالک کا بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہو اہے۔اسرائیل اور لبنان 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔
پاکستان مخالف سوال پر روسی
2026-06-05
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان سے متعلق منفی سوال کرنے پر بھارتی صحافی کو لاجواب کر دیا۔ سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کے دوران بھارتی صحافی کے سوال پر صدر پیوٹن نےکہا یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان چین کے زیر اثر ہے، پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے مختلف ملکوں سے تعلقات ہیں۔ ولادیمیر پیوٹن کا کہنا تھا روس نے چین کے ساتھ ہمیشہ فوجی میدان میں تعاون کیا اور ایسا کرنا جاری رکھیں گے۔ ایران سے متعلق سوال پر پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس کا ایران کے ساتھ اعتماد کا تعلق ہے، بحران حل کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس نے حال ہی میں یوکرین کا 2ہزار 440 مربع کلومیٹر کا علاقہ قبضے میں لیا، ہم یوکرین کے ساتھ پرامن طریقے سے ڈیل کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔
امریکی ناکہ بندی کے باوجود
2026-06-05
ایک میری ٹائم مانیٹرنگ کمپنی کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی تیل کی ترسیل جاری ہے اور پیر کے روز ایران کے جھنڈے والے 4 آئل ٹینکرایرانی تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزرے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے میرین ٹریکنگ فرم کلپر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ 15 اپریل کے بعدایرانی آئل ٹینکروں کی جانب سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کا پہلا واقعہ ہے۔ کلپر کے مطابق جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار میں ہلڈا آئی، ایمبر، سلویہ ون اور ہیپینس آئی نامی ٹینکرز کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی جو مجموعی طور پر 70 لاکھ بیرل تیل لے جا رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان تمام جہازوں نے اپریل کے وسط میں ایران کے مرکزی آئل ٹرمینل خارگ سے تیل لوڈ کیا تھا۔ یہ جہاز پیر کے روز اپنے خودکار شناختی نظام (AIS) بند کرکے آبنائے ہرمز سے گزرے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹینکرز عموماً ایرانی خام تیل کو ملائیشیا اور سنگاپور کے ساحلوں کے قریب تک لے جاتے ہیں جہاں سمندر میں ہی تیل دیگر ٹینکرز میں منتقل کیا جاتا ہے جو اسے حتمی خریدار تک پہنچاتے ہیں جو اکثر چین ہوتا ہے۔ کلپر کے مطابق یہ چاروں ٹینکرز ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے، تاہم 13 اپریل کو امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد انہوں نے عارضی طور پر آپریشن روک دیا تھا۔ اس سے قبل 15 اپریل کو ایران سے منسلک تین دیگر آئل ٹینکرز بھی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے گزرے تھے تاہم اس کے بعد اب تک کسی اور جہاز نے ایسا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب
2026-06-05
وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی کی ایک اور ملاقات ہوئی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے داخلہ اجلاس کے لیے کرغستان میں ہیں جبکہ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی اجلاس کے لیے کرغستان میں موجود ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 4 سے 6 جون تک بشکیک میں جاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے داخلہ کی سائڈ لائن پر ملاقاتیں متوقع ہیں۔
ایران کی جانب سے امریکی فوج
2026-06-05
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے ایرانی قیادت، نیوی اور فضائیہ کو ختم کر دیا، ایران کی جانب سے امریکی فوج پر حملہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز بن سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کیے بغیر بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے، ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا، لیکن ایران کے ساتھ ڈیل کی صورت میں سپریم لیڈرسے ملاقات ممکن ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری کھول دی جائے گی۔ آپ جلد جان جائیں گے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، ایران کے ساتھ تنازع میں ہر صورت فتح ہماری ہوگی ۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ لبنان کی صورتحال پر نظر رکھنی ہوگی، امن قائم ہونا لبنان کے لیے اچھا ہوگا، حزب اللہ سے لبنان کی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔ علاوہ زیں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اور روسی صدر یپوٹن ملاقات کریں تو یہ بہت اچھا ہوگا، یوکرین تنازع کے حل کے لیے مصالحت ضروری ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی ڈیل جلد ممکن ہے ۔
ایران سے کہا ہے اب وقت آگیا ہے
2026-06-03
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران سے کہا ہے اب وقت آگیا ہے کسی نہ کسی طرح معاہدہ کرلیں۔ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ 47 سال سے ایران جو کررہا ہے اسے مزید ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اورامریکا کے درمیان بات چیت روکنے کی خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان گفتگو مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت کس سمت جائے گی، یہ کوئی نہیں جانتا۔
امریکی فوج کا بوٹسوانا کے پرچم بردارآئل
2026-06-03
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جارہا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ جہاز خالی تھا، تاہم اس کے عملے نے 24 گھنٹوں کے دوران راستہ تبدیل کرنے سے متعلق دی جانے والی متعدد وارننگز کو نظرانداز کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 13 اپریل سے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی بحری آمدورفت کی ناکہ بندی کے بعد اب تک 6 تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے جبکہ 122 جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔
ایرانی جزیرے قشم کے قریب دھماکوں
2026-06-03
ایرانی خبرایجنسی کے مطابق ایرانی جزیرے قشم کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ کویتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاع نظام میزائل و ڈرون حملے روکنے میں مصروف ہے، دھماکوں کی آوازیں میزائل و ڈرون کو مار گرانے سے آئیں۔ تاہم ایرانی میڈیا نے دعوی کیا ہےکہ کویت میں امریکی فضائی دفاع نظام میزائل روکنے میں ناکام رہا۔ میزائل کویت میں غیرفوجی علاقےپرگرا،۔ روسی میڈیا کے مطابق بحرین میں بھی فضائی دفاع نظام فعال کردیا گیا اور سائرن بجنے لگے۔ اس دوران ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ پاسداران انقلاب نے امریکااسرائیلی کارگوجہاز پرجوابی حملہ کیا ہے۔
امریکی فورسز کا ایرانی جزیرے قشم میں
2026-06-03
امریکا کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ( سینٹ کام) نے ایرانی جزیرے قشم میں فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ا یرانی جزیرے قشم پر حملے کیے، حملے ایران کی جانب سے میزائل و ڈرون حملوں کے جواب میں کیے۔ امریکی فورسز نے جزیرہ قشم میں ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے، امریکی فورسز نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون مار گرائے۔ سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران نے بیلسٹک میزائل ہمسایہ ممالک کی طرف داغے، ہدف پر نہ لگ سکے، کویت پر داغے گئے 2 میزائل راستے میں گرگئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحرین پر داغے گئے 3 میزائل امریکا اور بحرین فورسز نے مار گرائے۔ ایران نے 3 ڈرون حملے بحری جہازوں پر کیے جنہیں ناکام بنادیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی جوابی کارروائی
2026-06-03
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہےکہ جزیرہ قشم میں کمیونیکیشن ٹاور پرامریکا نے حملہ کیا جس کے جواب میں امریکی اڈوں کونشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران نے امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ائیربیس اور ہیلی کا پٹروں کو نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ کے مطابق کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاسداران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی آئل ٹینکر پر حملے کےبعد ایک جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی متاثرکرنے کی قیمت امریکا کو چکاناہوگی۔
