کراچی: لانڈھی کی فیکٹری

2026-02-07
کراچی کے علاقے لانڈھی میں واقع ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں پلاسٹک بنانے والی فیکٹری میں لگی آگ پر 11 گھنٹے بعد قابو پالیاگیا، کولنگ کا عمل جاری ہے۔ آگ پلاسٹک، پرانے کپڑے اور جوتوں کی فیکٹریوں لگی تھی۔ چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ ایک سے دوسری فیکڑی میں پھیلی جبکہ تیسری فیکڑی کو بچا لیا گیا۔ تیسرے درجے کی آگ جمعے کی رات پونے 9 بجے کے قریب لگی۔کے ایم سی، نیوی اور ریسکیو 1122 کے 20 سے زائد فائر ٹینڈر اور 3 اسنارکل نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا۔ کمشنر کراچی کا کہناہے کہ واقعےمیں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسٹاک مارکیٹ کیلیے نیا ڈیجیٹل فریم ورک متعارف؛ اکاؤنٹ ایک دن میں کھلے گا
2026-08-28
کراچی: اسٹاک مارکیٹ میں اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے نیا ڈیجیٹل آن بورڈنگ فریم ورک متعارف کرادیا گیا ہے۔ ایس ای سی پی کے مطابق نئے نظام کے تحت سہولت اکاؤنٹ ایک دن میں کھلے گا اور انویسٹر اکاؤنٹ کی درخواست پر 2 دن میں فیصلہ ہوگا۔ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق سرمایہ کار ٹریکنگ آئی ڈی کے ذریعے اپنی درخواست کا اسٹیٹس دیکھ سکیں گے۔ بروکر کو اکاؤنٹ کھولنے کی درخواست مسترد کرنے کی وجوہات بھی تحریری طور پر بتانا ہوں گی۔ نئے فریم ورک کے تحت پہلے سے تصدیق شدہ سرمایہ کار کو دوبارہ تصدیق کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایس ای سی پی کے مطابق ڈیجیٹل آن بورڈنگ اور پراسیسنگ کا عمل 24 گھنٹے، ساتوں دن ممکن ہوگا۔ ایس ای سی پی نے سرمایہ کاروں کی تعداد 25 لاکھ تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ نوجوانوں کی اسٹاک مارکیٹ میں شمولیت بڑھانا ہماری ترجیح ہے۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کو آسان بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
صارفین پر بجلی گرنے کو تیار؛ 36 ارب سے زائد کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان
2026-08-28
حکومت صارفین پر بجلی گرانے کے لیے تیار ہے، جس کے نتیجے میں 36 ارب روپے سے زائد کا اضافہ بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ پہلے سے مہنگائی کے ہاتھوں ستائے بجلی صارفین پر ستمبر میں ایک اور بڑا مالی بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس کے تحت ستمبر کے بجلی بلوں میں 36 ارب 54 کروڑ روپے اضافی وصول کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی کرنے کی تجویز پر پاور ریگولیٹر نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جس کی منظوری کی صورت میں اس اضافے کا براہِ راست اثر ستمبر میں آنے والے بجلی کے بلوں پر پڑے گا۔ یاد رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جولائی میں بجلی کی پیداوار پر آنے والے اخراجات کی بنیاد پر فی یونٹ 2 روپے 52 پیسے اضافے کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جولائی کے دوران بجلی پیدا کرنے کے لیے مختلف مہنگے ایندھن استعمال کیے گئے، جس کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا۔ اس درخواست پر سماعت کے موقع پر سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی طور پر جی ایس ٹی سمیت صارفین پر تقریباً 41 ارب روپے کے اضافی بوجھ کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم ریگولیٹری جائزے کے بعد موجودہ حساب کے مطابق اضافی فیول اخراجات کا حجم 36.54 ارب روپے بنتا ہے۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ جولائی میں درآمدی ایل این جی سے 10.78 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جس کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی۔ ایل این جی سے بجلی کی پیداوار پر مجموعی طور پر تقریباً 77 ارب 19 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ مہنگی بجلی پیدا کرنے والے دیگر ذرائع میں فرنس آئل بھی شامل رہا۔ جولائی میں فرنس آئل سے 1.42 فیصد بجلی پیدا ہوئی اور اس کی فی یونٹ لاگت 50 روپے 7 پیسے ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس مد میں تقریباً 10 ارب 77 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ ڈیزل سے بھی تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جس کی فی یونٹ لاگت 54 روپے 47 پیسے تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب بجلی کی مجموعی پیداوار میں پانی کا حصہ 39.81 فیصد، مقامی کوئلے کا 10.91 فیصد اور درآمدی کوئلے کا 14.38 فیصد رہا، جبکہ نیوکلیئر ذرائع سے 10.10 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جس کی فی یونٹ لاگت صرف 3 روپے 2 پیسے ریکارڈ کی گئی۔ درخواست پر سماعت کے بعد اب فیصلہ پاور ریگولیٹر کے پاس ہے۔ اگر 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی گئی تو ستمبر میں صارفین کو بجلی کے بلوں کی صورت میں مزید رقم ادا کرنا ہوگی، جس سے پہلے ہی مہنگائی اور بھاری بجلی بلوں کا سامنا کرنے والے عوام پر 36 ارب 54 کروڑ روپے کا نیا بوجھ منتقل ہو سکتا ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے پاکستان میں اپنا ریجنل آفس قائم کردیا
2026-08-27
کراچی: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی موبیز نے پاکستان میں اپنا ریجنل آفس قائم کردیا۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے موبیز آفس کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ موبیز پاکستانی ملکیت میں چلنے والی امریکا کی سلیکون ویلی میں قائم ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں کلاؤڈ، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں خدمات فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوان عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پاکستان میں توسیع ملکی آئی ٹی ٹیلنٹ پر اعتماد کا اظہار ہے۔ پاکستان کو علاقائی ٹیکنالوجی اور گلوبل سروسز حب بنانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی کاروبار میں آسانی کے لیے شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن اور ریگولیٹری اصلاحات پر کام کر رہا ہے، جدید ٹیکنالوجی سے کاروباری لاگت اور وقت میں کمی جبکہ شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ممکن ہے۔ پاکستان میں عالمی آئی ٹی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور عالمی سطح پر کام کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ چیئرمین ایس ای سی پی نے موبیز گلوبل کو کراچی آفس کے آغاز پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ پاکستان میں مزید توسیع کی حکمت عملی وضع کرے گی۔
باجوڑ میں گھر پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ سے بیٹی جاں بحق، باپ بیٹا زخمی
2026-08-27
باجوڑ: تحصیل سلارزئی کے علاقے ملکانہ میں نامعلوم مسلح افراد نے رات گئے گھر میں گھس کر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک لڑکی جاں بحق جبکہ اس کے والد اور بھائی شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے گھر میں داخل ہوکر امین الرحمان عرف اینزر پر فائرنگ کی، فائرنگ کی زد میں آکر ان کی بیٹی جاں بحق جبکہ امین الرحمان اور ان کا بیٹا شدید زخمی ہوگئے۔ ڈی ایس پی سلارزئی جمال شاہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہیڈ کوارٹر اسپتال خار منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
کراچی: سہراب گوٹھ میں کار پر فائرنگ سے نجی نیوز ویب سائٹ کا پروڈیوسر جاں بحق
2026-08-25
کراچی: سہراب گوٹھ کے علاقے میں فائرنگ سے نجی نیوز ویب سائٹ کا پروڈیوسر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ ایوب گوٹھ سادات دسترخوان کے قریب پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار شخص گردن پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمی کو تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج جانبر نہ ہو سکا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت اس کے پاس سے ملنے والے کارڈ کے ذریعے عمران گوگن کے نام سے کی گئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول کا تعلق ایک نجی نیوز ویب سائٹ سے بتایا جا رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ شخص سہراب گوٹھ سے ایوب گوٹھ کے راستے نیو کراچی کی جانب جا رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول بہادر آباد کا رہائشی اور سائٹ ایریا میں کیمیکل کی فیکٹری میں کپڑوں پر رنگ کرنے کا کام کرتا تھا، مقتول نے دو شادیاں بھی کی ہوئی تھیں۔ پولیس کے مطابق صارم برنی نے کوئی نیا شیلٹر ہوم کھولا ہے جس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی مقتول کی تھی اور امکان ہے مقتول وہیں جا رہا تھا۔
میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کیخلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکمنامہ جاری
2026-08-25
کراچی: میر رضا جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور جے آئی ٹی تشکیل دینے سے متعلق درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کیلئے طلب کرلیا، کیس کی مزید سماعت 31 اگست کو ہوگی۔ تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کیا جے آئی ٹی تشکیل دینے کیلئے عدالت براہ راست ہدایت جاری کرسکتی ہے؟۔ کیا عدالت تفتیش اور رپورٹ جمع کرانے کے عمل کو تبدیل یا اس کی نگرانی کرسکتی ہے؟ سندھ ٹریبیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت گزٹ نوٹیفکیشن کے بغیر مداخلت کا کیس بنتا ہے؟۔ میر رضا کی فیملی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ میر رضا کی گمشدگی اور ہلاکت کا مقدمہ تھانہ فیروز آباد میں درج ہے، جائے وقوعہ بروقت محفوظ نہ ہونے سے تفتیش متاثر ہوئی، گواہوں کے بیانات بروقت قلمبند نہیں کیے گئے، الیکٹرانک ڈیوائسز کی مناسب جانچ اور معائنہ نہیں کیا گیا، مبینہ طور پر وقت سے پہلے خودکشی کا بیانیہ اپنایا اور پھیلایا گیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ میڈیکو لیگل ریکارڈ میں نمایاں تبدیلی آئی، پولیس سرجن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں نقائص کی نشاندہی کی، پولیس سرجن نے قبر کشائی کی سفارش کی تھی، اسپیشل میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی کے بعد لاش کا معائنہ کیا، میڈیکل بورڈ کے نتائج خودکشی کے پہلے بیانیے کے منافی تھے۔حتمی پوسٹ مارٹم اور کیمیائی معائنے کی رپورٹ نے خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا۔ درخواست کے مطابق سابق تفتیشی ٹیم کے ارکان کے طرز عمل پر سنگین الزامات سامنے آئے، شواہد کی غلط دیکھ بھال یا ضائع ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے، درخواستگزاروں کے بیانات بھی کافی تاخیر سے قلمبند کیے گئے، موجودہ تفتیشی ٹیم اب تک کسی ملزم کی نشاندہی نہیں کرسکی، 24 اگست کو چالان جمع کرانے کیلئے مزید وقت مانگا گیا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ معاملے کی آزادانہ اور جامع تفتیش کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے، جے آئی ٹی میں ایسے افسران شامل کیے جائیں جن کا کیس سے پہلے کوئی تعلق نہ ہو۔ عدالت نے کہا کہ یہ عدالت اس معاملے میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے سکتی ہے یا نہیں یہ دیکھا جائے گا، کیا یہ عدالت تفتیش کے حوالے سے کیئے گئے احکامات دے سکتی ہے اس پر بھی غور کیا جائے گا۔
خواتین کو نجی ڈیٹا اور قابل اعتراض جعلی تصاویر سے بلیک میل کرنے والا گرفتار
2026-08-24
خواتین کو نجی ڈیٹا اور قابل اعتراض جعلی تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار کرلیا گیا۔ ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب محمد علی وسیم کی ہدایات پر رحیم یار خان سے سائبر بلیک میلر محمد سلمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملزم پر بیرون ملک ملازمت کے دوران خواتین کے نجی ڈیٹا اور تصاویر تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کا الزام ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم پاکستان واپسی پر غیر ملکی خواتین کی جعل سازی سے بنائی گئی قابل اعتراض تصاویر کے ذریعے رقم کا مطالبہ کرتا تھا اور رقم نہ دینے پر تصاویر اور ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ ملزم خواتین کو ان کی تصاویر اور ذاتی معلومات اہل خانہ کو بھیجنے کی دھمکیاں بھی دیتا تھا۔ این سی سی آئی اے لاہور نے ملزم سے برآمد شدہ موبائل فون سے نجی و قابل اعتراض مواد تحویل میں لے کر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم کے ڈیجیٹل آلات کا فرانزک جائزہ جاری ہے تاکہ دیگر متاثرہ خواتین سے متعلق مزید شواہد سامنے لائے جاسکیں۔ ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب محمد علی وسیم نے خواتین کو سائبر بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
کراچی پولیس میں افسران کی ذاتی تشہیر پر پابندی، تصویری مواد ہٹانے کا حکم
2026-08-24
کراچی: کراچی پولیس نے افسران کی ذاتی تشہیر اور شخصی تشخص نمایاں کرنے والے تشہیری مواد کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی جانب سے 24 اگست 2026 کو جاری سرکلر میں تمام پولیس یونٹس اور متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سرکلر کے مطابق سرکاری تشہیر میں کسی فرد کے بجائے کراچی پولیس کے ادارہ جاتی تشخص، عوامی خدمت اور کارکردگی کو اجاگر کیا جائے گا۔ کسی بھی پولیس افسر کی تصویر یا پورٹریٹ بینرز، بل بورڈز، ہورڈنگز، پوسٹرز، اسٹینڈیز، بیک ڈراپس اور دیگر تشہیری مواد پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یہ پابندی پولیس گاڑیوں، پولیس عمارتوں کے باہر اور دیگر عوامی مقامات پر موجود تشہیری مواد کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوگی۔ سرکاری تشہیر کا مقصد کسی افسر کی ذاتی تشہیر نہیں ہوگا۔ سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری تشہیر میں پولیس کی مجموعی کارکردگی، عوامی خدمات، اہم اقدامات، کامیابیوں اور عوامی آگاہی کے پیغامات کو نمایاں کیا جائے، تاہم پولیس شہدا کی تصاویر سرکاری یادگاری تقریبات، خراجِ عقیدت، میموریلز اور دیگر مجاز مواقع پر احترام اور وقار کے ساتھ استعمال کی جاسکیں گی۔ تمام متعلقہ افسران کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق بنیادی مقصد کسی فرد کو نمایاں کرنا نہیں بلکہ ادارے کی خدمت، کارکردگی اور عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیر صحت سندھ نے کہا کہ حادثات میں لوگ زخمیوں کی مدد سے اس خوف کے باعث گریز کرتے ہیں کہ پولیس انہیں نہ پکڑ لے۔ پولیس اور عوام میں آگاہی پیدا کرکے حادثات میں زخمیوں کی مدد کرنے کا خوف دور کرنا ہے۔ عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ زخمی افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے سروسز اسپتال کے حوالے سے کہا کہ سروسز اسپتال بند نہیں ہورہا بلکہ اسے کے ایم سی اسپتال میں شفٹ کیا جارہا ہے۔ وزیر صحت سندھ نے کہا کہ سروسز اسپتال میں جو ڈاکٹرز ہوتے ہیں وہ کام نہیں کرنا چاہتے۔ وہ وہاں بیٹھنا چاہتے ہیں جہاں او پی ڈی چل رہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو 3 کمروں سے زیادہ کیا ضرورت ہے۔
2026-08-24
کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن قائم کردیا۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس عمر سیال کو جوڈیشل کمیشن کا سربراہ نامزد کردیا، کمیشن کی تشکیل سندھ ٹریبونل آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت کی گئی، سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آرز بھی طے کیے ہیں۔ دوسری جانب میر رضا کی فیملی نے سندھ حکومت کی جانب سے بنائے جوڈیشل کمیشن کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔ درخواست کی سماعت جسٹس عدنان کریم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی جہاں درخواستگزار کے وکیل جبران ناصر نے چیمبر میں درخواست سے متعلق دلائل دیے۔ قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں جبران ناصر کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود اہلخانہ کو کاپی تک نہیں دی گئی، ہمیں میڈیا کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کی اطلاع ملی۔ واضح رہے کہ میر رضا علی کی فیملی نے سندھ حکومت کی جانب سے کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اپنے تحفظات اورعدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ دریں اثنا آج (پیر کو) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے پولیس کو رپورٹ جمع کرانے کیلئے 7 ستمبر تک مہلت دے دی۔ تفتیشی افسر سراج لاشاری اور میر رضا کی فیملی کے وکلاء بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر نے رپورٹ جمع کروانے کے لیے عدالت میں مزید مہلت کی درخواست دائر کردی جو عدالت نے منظور کرلی۔ مدعی کے وکیل ایڈووکیٹ دانیال حسین نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر بتائیں اب تک کیا پروگریس کی ہے، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ موبائل فون ودیگر اشیاء کی فرانزک رپورٹ آنا باقی ہے۔
پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن؛ فتنۃ الہندوستان کے 5 دہشتگرد ہلاک
2026-08-20
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت فتنۃ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پنجگور کے علاقے کلی سوران میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں فتنۃ الہندوستان کے 5 دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگرد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر ایک بڑی دہشتگردی کی کارروائی انجام دینے جا رہے تھے۔ کارروائی کے دوران جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے استعمال سے دہشتگردوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا، جس میں 3 گاڑیاں، 2 موٹر سائیکلیں، آئی ای ڈی ڈیوائس سمیت کالعدم تنظیم کا جھنڈا بھی برآمد ہوا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ہلاک دہشتگرد مقامی افراد سے لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ سیکیورٹی فورسز بلوچستان سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
