میر رضا کیس میں پولیس کی مزید خامیاں سامنے آگئیں    space    ایرانی دھمکیاں: ٹرمپ ترکیہ سے خفیہ طور پر کیسے نکلے؟ امریکی اخبار نے پردہ اٹھادیا    space    ویسٹ انڈیز ٹیم براہ راست ورلڈکپ 2027 میں نہ پہنچ سکی، کوالیفائر کھیلنا لازم    space    مذاکرات جاری ہیں، ایران کو تباہ کن کارروائی سے پہلے آخری موقع دینا چاہتا ہوں، صدر ٹرمپ    space    میرے بچے تصویروں پر فلٹر لگانے پر مجھ سے لڑتے ہیں: جویریہ سعود    space    ساتھی اداکارہ نے دیپیکا ککڑ کے شادی سے قبل اسلام قبول کرنے کی وجہ بتا دی    space    ملک میں سونا مزید مہنگا    space   

کراچی کے زمینی انتظام


2026-01-31

پاکستان کے معاشی حب کراچی میں بے ہنگم اور غیرقانونی تعمیرات نے شہر کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا، میگا سٹی کراچی بیک وقت کئی اداروں کے درمیان تقسیم ہے درجنوں ادارے زمین کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔ تعمیرات سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کرانے والے اداروں میں مبینہ بے انتہا کرپشن نے شہرکو کنکریٹ کا بے ہنگم جنگل بنا کررکھ دیا، رہائشی یونٹس کی قیمتیں اور کرائے آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ شہر کا ماسٹر پلان کیا تھا کہاں گم ہوگیا اور نئے ماسٹر پلان کی کیا ترجیحات ہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قانون کے مطابق کیا ذمہ داری انجام دے رہی ہے اور کرپشن سے کس طرح غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دیا جارہا ہے؟ کراچی کی زمین کتنے اداروں کے کنٹرول میں ہے؟تعمیرات کے لیے کتنے محکمے کام کررہے ہیں ؟ شہر کی زمین 24 سے زائد اداروں میں بٹی ہوئی ہے ان سوالوں کا سادہ جواب یہ ہے کہ شہر کی زمین 24 سے زائد اداروں میں بٹی ہوئی ہے، جن میں صوبائی، وفاقی اور عسکری ادارے شامل ہیں، اس کے علاوہ شہر کا انتظام 30 سے زائد اداروں کے پاس ہے۔ ماہرین انتظام کی اسی "بندربانٹ" کو شہر کی بے انتظامی کی اصل وجہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک شہر کو کسی ایک اتھارٹی کے ماتحت نہیں کیا جاتا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ کھیل کے میدانوں میں چائنا کٹنگ اور رفاہی زمین پر شاپنگ مال یا پلازہ بن جاتا ہے، سڑک بنتے ہی یا تو ٹوٹ جاتی ہے یا کوئی دوسرا ادارہ اسے پانی، گیس یا سیوریج کی لائن ڈالنے کیلئے کھود ڈالتا ہے۔ کراچی کے زمینی انتظام یا منصوبہ بندی کا اصل ذمے دار آخر کون سا ادارہ ہے؟ جواب ڈھونڈنے نکلیں تو پتا چلتا ہے اس حوالے سے شہر میں کوئی مرکزیت نہیں، مثال کے طور پر اگر کسی علاقے کی سڑک ٹوٹی ہوئی ہے تو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ آیا وہ مین روڈ ہے یا گلی محلوں میں بنی ہوئی اندرونی سڑک کیونکہ مرکزی شاہراہیں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت ہیں، جب کہ گلیاں اور اندرونی سڑکیں ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کی ذمہ داری ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھی ایک نہیں بلکہ پورے 25 ٹاؤنز ہیں، جن کی الگ الگ حدود، انتظامی ڈھانچے اور دائرہ اختیار متعین ہیں، ایک ہی شہر میں 25 بلدیاتی ادارے، درجنوں صوبائی و وفاقی محکمے، اور کئی عسکری تنظیمیں اپنی اپنی زمین اور حدود کی مالک ہیں۔ ان میں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی ، سندھ کچی آبادی اتھارٹی، سندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ، بورڈ آف ریونیو سندھ، سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، اور شہر کے چھ کینٹونمنٹ بورڈز شامل ہیں۔ یہ تمام ادارے شہر کے مختلف حصوں کے مالک ہیں، اس کے علاوہ پاک نیوی، فضائیہ اور وزارتِ دفاع کے تحت آنے والی اراضی الگ ہے، جہاں کسی سول ادارے کو مداخلت کی اجازت نہیں۔ کراچی کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی ایک مالک نہیں: شہری منصوبہ بندی کے ماہر ایک کھانا 10 باورچی بنائیں تو اُس کا خراب ہونا یقینی ہوتا ہے، کراچی بھی "انتظامی کھچڑی" کی ایک ایسی ہی مثال ہے جہاں کوئی مرکزی اتھارٹی نہیں، شہری منصوبہ بندی کے ماہر عارف حسن کا بھی یہی کہنا ہے کہ کراچی کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی ایک مالک نہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی کی زمین کا 56 فیصد صوبائی اداروں کے پاس ہے، 32 فیصد بلدیاتی اداروں کے زیر انتظام ہے، 7 فیصد عسکری ادارے کنٹرول کرتے ہیں، جب کہ وفاقی ادارے تقریباً 5 فیصد زمین کے مالک ہیں۔ حیران کن طور پر صرف 1.9 فیصد زمین نجی ملکیت میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع ہوتا ہے تو زمین کی ملکیت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ کوئی سڑک KMC کی نہیں تو KPT کی ہے، کوئی پل DHA کے قریب ہے تو نیوی کے علاقے سے گزرتا ہے، یہی بکھرا ہوا نظام کراچی کے شہری انتظامات کو دنیا کے سب سے پیچیدہ ماڈلز میں سے ایک بناتا ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کراچی کی ترقی کے لیے سب سے پہلے زمین کی ملکیت کے ریکارڈ کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا مرکزی ادارہ ہونا چاہیے جو تمام زمینوں کا ڈیٹا، حدود اور ذمہ داریاں واضح کرے، اگر یہ نہ ہوا تو کراچی ہمیشہ ایک ایسے شہر کے طور پر جانا جائے گا جہاں شہر سب کا ہے لیکن مالک کوئی نہیں کراچی میں تعمیرات کیلئے کون سے ادارے کردار ادا کرتے ہیں؟ کراچی میں رہائشی یا کمرشل پلاٹس پر تعمیرات کیلئے قانون بھی موجود ہے اور اس پر عمل کرانے والے ادارے بھی، لیکن بے لگام کرپشن کے باعث رئیل اسٹیٹ کا شعبہ تعمیر سے زیادہ، تخریب کا سبب بنا ہوا ہے، کراچی میں مختلف نوعیت کے پلاٹس پر تعمیرات کیلئے کون کون سے ادارے کردار ادا کرتے ہیں اور یہ بھی کہ ان پلاٹس پر غیرقانونی تعمیرات کیلئے کیسے اور کتنی رشوت لی جارہی ہے۔ یہ سوالات ہے تو متنازع لیکن کراچی میں رہائشی پلاٹس پر غیرقانونی تعمیرات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جو خطیر ریونیو قومی خزانے میں جانا چاہیے، وہ کرپشن مافیا کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ شہر میں 250 گز سے لے کر 2 ہزار گز تک کے کمرشل پلاٹ کی مکمل منظوری مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے سے 8 کروڑ کی رشوت کے عوض ہوتی ہے جبکہ تعمیرات کے دوران مبینہ طور پر متعلقہ پلاٹ کی ماہانہ رشوت ، ڈھائی لاکھ روپے سے لے کر ساڑھے 3 لاکھ روپے تک بلڈر کی جانب سے ادا کی جاتی ہے۔ قانونی طور پر رہائشی پلاٹس پر دو منزلوں کی تعمیر کی اجازت دوسری جانب رہائشی پلاٹ پر مکان بنانے کا طریقہ کار بہت آسان ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قانون کے مطابق رہائشی پلاٹ اگر 399 گز یا اس سے کم ہے تو اس پر گراؤنڈ پلس دو تک کی تعمیرات کرنے کی اجازت ہے، فرق صرف یہ ہے کہ دو منزل کے لیے بیٹرمنٹ چارجز کی صورت میں ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ مکان کی تعمیر کی قانونی طور پر کی جائے تو مبینہ رشوت ہزاروں میں ہی جاتی ہے، لیکن رہائشی پلاٹ پر غیرقانونی پورشن تعمیر کرنے ہوں تو اس کا طریقہ ذرا فنکارانہ ہے، یعنی پورشن مافیا رہائشی پلاٹ پر نقشہ تو مکان ہی کا منظور کراتی ہے، مگر رشوت دینے کے بعد جس رہائشی پلاٹ پر ایک رہائشی یونٹ بننا چاہیے وہاں کہیں چھ تو کہیں آٹھ آٹھ پورشن بنا لیے جاتے ہیں۔ قانونی طور پر399 گز کے رہائشی پلاٹ پر دو منزلوں کی اجازت ہے، مگر پورشن مافیا کی جانب سے دو اضافی منزلیں تعمیر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کسی بھی عمارت کی تعمیر کے دوران ایک جانب مبینہ طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران تو رشوت طلب کرتے ہی ہیں، لیکن اس گندے دھندے میں مبینہ طور پر کے ڈی اے اور کے ایم سی سمیت فارورڈنگ فراہم کرنے والے اداروں کے افسران بھی ملوث ہیں، اس کے علاوہ جعلی این او سیز، جعلی صحافی اور بعض سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی بلیک میلنگ کا سہارا لے کر رشوت لیتے ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات سے شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ کراچی میں پی ای سی ایچ ایس، بہادر آباد، شرف آباد، دھوراجی ، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا، عزیز آباد، لیاقت آباد، نارتھ کراچی، نیو کراچی اور سرجانی ٹاؤن سمیت متعدد علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ اور پانی اور سیورج کے سسٹم سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔

کراچی: سہراب گوٹھ میں کار پر فائرنگ سے نجی نیوز ویب سائٹ کا پروڈیوسر جاں بحق

2026-08-25

کراچی: سہراب گوٹھ کے علاقے میں فائرنگ سے نجی نیوز ویب سائٹ کا پروڈیوسر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ ایوب گوٹھ سادات دسترخوان کے قریب پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار شخص گردن پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمی کو تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج جانبر نہ ہو سکا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت اس کے پاس سے ملنے والے کارڈ کے ذریعے عمران گوگن کے نام سے کی گئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول کا تعلق ایک نجی نیوز ویب سائٹ سے بتایا جا رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ شخص سہراب گوٹھ سے ایوب گوٹھ کے راستے نیو کراچی کی جانب جا رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول بہادر آباد کا رہائشی اور سائٹ ایریا میں کیمیکل کی فیکٹری میں کپڑوں پر رنگ کرنے کا کام کرتا تھا، مقتول نے دو شادیاں بھی کی ہوئی تھیں۔ پولیس کے مطابق صارم برنی نے کوئی نیا شیلٹر ہوم کھولا ہے جس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی مقتول کی تھی اور امکان ہے مقتول وہیں جا رہا تھا۔

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کیخلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکمنامہ جاری

2026-08-25

کراچی: میر رضا جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور جے آئی ٹی تشکیل دینے سے متعلق درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کیلئے طلب کرلیا، کیس کی مزید سماعت 31 اگست کو ہوگی۔ تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کیا جے آئی ٹی تشکیل دینے کیلئے عدالت براہ راست ہدایت جاری کرسکتی ہے؟۔ کیا عدالت تفتیش اور رپورٹ جمع کرانے کے عمل کو تبدیل یا اس کی نگرانی کرسکتی ہے؟ سندھ ٹریبیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت گزٹ نوٹیفکیشن کے بغیر مداخلت کا کیس بنتا ہے؟۔ میر رضا کی فیملی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ میر رضا کی گمشدگی اور ہلاکت کا مقدمہ تھانہ فیروز آباد میں درج ہے، جائے وقوعہ بروقت محفوظ نہ ہونے سے تفتیش متاثر ہوئی، گواہوں کے بیانات بروقت قلمبند نہیں کیے گئے، الیکٹرانک ڈیوائسز کی مناسب جانچ اور معائنہ نہیں کیا گیا، مبینہ طور پر وقت سے پہلے خودکشی کا بیانیہ اپنایا اور پھیلایا گیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ میڈیکو لیگل ریکارڈ میں نمایاں تبدیلی آئی، پولیس سرجن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں نقائص کی نشاندہی کی، پولیس سرجن نے قبر کشائی کی سفارش کی تھی، اسپیشل میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی کے بعد لاش کا معائنہ کیا، میڈیکل بورڈ کے نتائج خودکشی کے پہلے بیانیے کے منافی تھے۔حتمی پوسٹ مارٹم اور کیمیائی معائنے کی رپورٹ نے خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا۔ درخواست کے مطابق سابق تفتیشی ٹیم کے ارکان کے طرز عمل پر سنگین الزامات سامنے آئے، شواہد کی غلط دیکھ بھال یا ضائع ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے، درخواستگزاروں کے بیانات بھی کافی تاخیر سے قلمبند کیے گئے، موجودہ تفتیشی ٹیم اب تک کسی ملزم کی نشاندہی نہیں کرسکی، 24 اگست کو چالان جمع کرانے کیلئے مزید وقت مانگا گیا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ معاملے کی آزادانہ اور جامع تفتیش کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے، جے آئی ٹی میں ایسے افسران شامل کیے جائیں جن کا کیس سے پہلے کوئی تعلق نہ ہو۔ عدالت نے کہا کہ یہ عدالت اس معاملے میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے سکتی ہے یا نہیں یہ دیکھا جائے گا، کیا یہ عدالت تفتیش کے حوالے سے کیئے گئے احکامات دے سکتی ہے اس پر بھی غور کیا جائے گا۔

خواتین کو نجی ڈیٹا اور قابل اعتراض جعلی تصاویر سے بلیک میل کرنے والا گرفتار

2026-08-24

خواتین کو نجی ڈیٹا اور قابل اعتراض جعلی تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار کرلیا گیا۔ ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب محمد علی وسیم کی ہدایات پر رحیم یار خان سے سائبر بلیک میلر محمد سلمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملزم پر بیرون ملک ملازمت کے دوران خواتین کے نجی ڈیٹا اور تصاویر تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کا الزام ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم پاکستان واپسی پر غیر ملکی خواتین کی جعل سازی سے بنائی گئی قابل اعتراض تصاویر کے ذریعے رقم کا مطالبہ کرتا تھا اور رقم نہ دینے پر تصاویر اور ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ ملزم خواتین کو ان کی تصاویر اور ذاتی معلومات اہل خانہ کو بھیجنے کی دھمکیاں بھی دیتا تھا۔ این سی سی آئی اے لاہور نے ملزم سے برآمد شدہ موبائل فون سے نجی و قابل اعتراض مواد تحویل میں لے کر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم کے ڈیجیٹل آلات کا فرانزک جائزہ جاری ہے تاکہ دیگر متاثرہ خواتین سے متعلق مزید شواہد سامنے لائے جاسکیں۔ ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب محمد علی وسیم نے خواتین کو سائبر بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

کراچی پولیس میں افسران کی ذاتی تشہیر پر پابندی، تصویری مواد ہٹانے کا حکم

2026-08-24

کراچی: کراچی پولیس نے افسران کی ذاتی تشہیر اور شخصی تشخص نمایاں کرنے والے تشہیری مواد کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی جانب سے 24 اگست 2026 کو جاری سرکلر میں تمام پولیس یونٹس اور متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سرکلر کے مطابق سرکاری تشہیر میں کسی فرد کے بجائے کراچی پولیس کے ادارہ جاتی تشخص، عوامی خدمت اور کارکردگی کو اجاگر کیا جائے گا۔ کسی بھی پولیس افسر کی تصویر یا پورٹریٹ بینرز، بل بورڈز، ہورڈنگز، پوسٹرز، اسٹینڈیز، بیک ڈراپس اور دیگر تشہیری مواد پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یہ پابندی پولیس گاڑیوں، پولیس عمارتوں کے باہر اور دیگر عوامی مقامات پر موجود تشہیری مواد کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوگی۔ سرکاری تشہیر کا مقصد کسی افسر کی ذاتی تشہیر نہیں ہوگا۔ سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری تشہیر میں پولیس کی مجموعی کارکردگی، عوامی خدمات، اہم اقدامات، کامیابیوں اور عوامی آگاہی کے پیغامات کو نمایاں کیا جائے، تاہم پولیس شہدا کی تصاویر سرکاری یادگاری تقریبات، خراجِ عقیدت، میموریلز اور دیگر مجاز مواقع پر احترام اور وقار کے ساتھ استعمال کی جاسکیں گی۔ تمام متعلقہ افسران کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق بنیادی مقصد کسی فرد کو نمایاں کرنا نہیں بلکہ ادارے کی خدمت، کارکردگی اور عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔

وزیر صحت سندھ نے کہا کہ حادثات میں لوگ زخمیوں کی مدد سے اس خوف کے باعث گریز کرتے ہیں کہ پولیس انہیں نہ پکڑ لے۔ پولیس اور عوام میں آگاہی پیدا کرکے حادثات میں زخمیوں کی مدد کرنے کا خوف دور کرنا ہے۔ عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ زخمی افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے سروسز اسپتال کے حوالے سے کہا کہ سروسز اسپتال بند نہیں ہورہا بلکہ اسے کے ایم سی اسپتال میں شفٹ کیا جارہا ہے۔ وزیر صحت سندھ نے کہا کہ سروسز اسپتال میں جو ڈاکٹرز ہوتے ہیں وہ کام نہیں کرنا چاہتے۔ وہ وہاں بیٹھنا چاہتے ہیں جہاں او پی ڈی چل رہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو 3 کمروں سے زیادہ کیا ضرورت ہے۔

2026-08-24

کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن قائم کردیا۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس عمر سیال کو جوڈیشل کمیشن کا سربراہ نامزد کردیا، کمیشن کی تشکیل سندھ ٹریبونل آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت کی گئی، سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آرز بھی طے کیے ہیں۔ دوسری جانب میر رضا کی فیملی نے سندھ حکومت کی جانب سے بنائے جوڈیشل کمیشن کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔ درخواست کی سماعت جسٹس عدنان کریم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی جہاں درخواستگزار کے وکیل جبران ناصر نے چیمبر میں درخواست سے متعلق دلائل دیے۔ قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں جبران ناصر کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود اہلخانہ کو کاپی تک نہیں دی گئی، ہمیں میڈیا کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کی اطلاع ملی۔ واضح رہے کہ میر رضا علی کی فیملی نے سندھ حکومت کی جانب سے کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اپنے تحفظات اورعدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ دریں اثنا آج (پیر کو) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے پولیس کو رپورٹ جمع کرانے کیلئے 7 ستمبر تک مہلت دے دی۔ تفتیشی افسر سراج لاشاری اور میر رضا کی فیملی کے وکلاء بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر نے رپورٹ جمع کروانے کے لیے عدالت میں مزید مہلت کی درخواست دائر کردی جو عدالت نے منظور کرلی۔ مدعی کے وکیل ایڈووکیٹ دانیال حسین نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر بتائیں اب تک کیا پروگریس کی ہے، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ موبائل فون ودیگر اشیاء کی فرانزک رپورٹ آنا باقی ہے۔

پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن؛ فتنۃ الہندوستان کے 5 دہشتگرد ہلاک

2026-08-20

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت فتنۃ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پنجگور کے علاقے کلی سوران میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں فتنۃ الہندوستان کے 5 دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگرد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر ایک بڑی دہشتگردی کی کارروائی انجام دینے جا رہے تھے۔ کارروائی کے دوران جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے استعمال سے دہشتگردوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا، جس میں 3 گاڑیاں، 2 موٹر سائیکلیں، آئی ای ڈی ڈیوائس سمیت کالعدم تنظیم کا جھنڈا بھی برآمد ہوا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ہلاک دہشتگرد مقامی افراد سے لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ سیکیورٹی فورسز بلوچستان سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

بیٹی کے قاتل کو لاک اپ میں ہنستے دیکھا، ایزل کی والدہ کا دل دہلا دینے والا بیان

2026-08-20

کراچی میں ڈیڑھ سالہ ایزل کی ریادتی کے معاملے میں بچی کی والدہ کا دردناک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ملزم کو لاک اپ میں دیکھنے کا تجربہ بیان کیا ہے۔ ایزل کی والدہ نے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جب وہ اپنی بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار 17 سالہ ملزم کو دیکھنے لاک اپ گئیں تو وہ وہاں ہنس رہا تھا۔ اپنی بیٹی کے مبینہ قاتل کو اس طرح بے فکری سے دیکھنا ان کیلئے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ والدہ کے مطابق ملزم نے بتایا کہ ایزل کے والد نے اسے صرف ایک مرتبہ مارا تھا اور وہ بھی تب جب وہ قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے ہنس رہا تھا۔ اس افسوسناک واقعے پر کئی مشہور شخصیات نے بھی آواز اٹھائی ہے۔

بلوچستان: آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت

2026-08-20

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 5 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پنجگور کلی سوران میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس دوران فتنہ الہندوستان کے 5 دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگرد موٹر سائیکلوں پرسوار ہوکر دہشتگردی کی کارروائی کرنے جارہے تھے جس میں جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سےدہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرلیا، دہشتگردوں سے 3 گاڑیاں،2 موٹرسائیکل، آئی ای ڈی ڈیوائس،کالعدم تنظیم کا جھنڈا برآمد کیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگرد لوٹ مار، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

کراچی: کئی دنوں سے لاپتہ ماں اور 2 ماہ کی بچی کو پولیس نے ڈھونڈ لیا

2026-08-17

انویسٹی گیشن پولیس اتحاد ٹاؤن نے کارروائی کرتے ہوئے 2 ماہ کی بچی سمیت لاپتہ خاتون کو بحفاظت بازیاب کر لیا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈسٹرکٹ کیماڑی مسرور احمد جتوئی کے مطابق خاتون ملائکہ عمیمہ اپنی 2 ماہ کی بچی کے ہمراہ 21 جولائی کو اتحاد ٹاؤن کے علاقے سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ خاتون اور بچی کے لاپتہ ہونے کے بعد تھانہ اتحاد ٹاؤن میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد انویسٹی گیشن پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔ پولیس کے مطابق تفتیشی ٹیم نے تکنیکی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ماں اور بیٹی کا سراغ لگایا اور دونوں کو بحفاظت بازیاب کر لیا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران خاتون نے بیان دیا کہ وہ گھریلو جھگڑوں سے ناراض ہو کر گھر چھوڑ گئی تھیں۔

خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان کی پہلی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی متعارف کرا دی

2026-08-17

خیبرپختونخوا حکومت نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی پہلی ذیلی قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی باضابطہ طور پر متعارف کرا دی۔ پالیسی کا اجرا وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ تقریب کے دوران کیا گیا۔ پالیسی جرمن حکومت کے تعاون سے تیار کی گئی ہے جس کا مقصد صوبے کو قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بہتر طور پر نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔ تقریب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے خطاب کیا انہوں نے اس دوران کہا کہ ’’صوبہ اب آفات پیش آنے کے بعد صرف امداد، ریسکیو اور بحالی پر توجہ دینے کے بجائے پیشگی تیاری، بروقت وارننگ اور خطرات میں کمی کی حکمت عملی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر استعمال ہونے والی تکنیکوں کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا حصہ بنایا جائے گا، جبکہ مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں میں قدرتی خطرات کو ابتدا ہی سے مدنظر رکھا جائے گا۔‘‘ شفیع جان نے کہا کہ ’’تیزی سے بڑھتی آبادی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات قدرتی آفات سے لاحق خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں، اس لیے نئی پالیسی کے ذریعے صوبے کو زیادہ محفوظ اور آفات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔‘‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن سفارتخانے کی ہیڈ آف کوآپریشن ڈاکٹر میریم نے خیبرپختونخوا حکومت کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’نئی پالیسی مختلف اداروں کو ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرے گی۔ پالیسی کی اصل کامیابی اس کے مؤثر نفاذ پر منحصر ہو گی، جبکہ جرمنی اس سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔‘‘۔