ضلع چاغی اور صوابی میں

2026-01-27
بلوچستان کے ضلع چاغی اور خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں ٹریفک حادثات میں 9 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بلوچستان کے ضلع چاغی کےعلاقے یک مچ کے قریب دو گاڑیوں میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کو دالبدین اسپتال منتقل کردیا گیا۔ دوسری جانب صوابی میں حادثہ موٹر وےایم ون پر انبار انٹرچینج کے قریب پیش آیا جہاں 5 گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں جس کے نتیجے میں2 افرادجاں بحق اور10 زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کو باچا خان میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا، حادثے کا شکار گاڑیاں پشاور سے اسلام آباد جا رہی تھیں۔ حادثے کے وقت موٹروے پر ٹریفک کی روانی کچھ دیر کےلیے متاثر رہی۔ ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔
پاکستان نے تاریخ میں پہلی
2026-01-31
اسلام آباد: پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار قرضہ قبل از وقت واپس کردیا۔ پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر قرضے میعاد سے پہلے واپس کرکے ایک اہم معاشی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اواخر 2024 سے جنوری 2026 تک صرف 14 ماہ کے دوران حکومتِ پاکستان نے مجموعی طور پر 3 ہزار 654 ارب روپے کا اندرونی قرض قبل از وقت واپس کیا جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔
کراچی کے زمینی انتظام
2026-01-31
پاکستان کے معاشی حب کراچی میں بے ہنگم اور غیرقانونی تعمیرات نے شہر کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا، میگا سٹی کراچی بیک وقت کئی اداروں کے درمیان تقسیم ہے درجنوں ادارے زمین کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔ تعمیرات سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کرانے والے اداروں میں مبینہ بے انتہا کرپشن نے شہرکو کنکریٹ کا بے ہنگم جنگل بنا کررکھ دیا، رہائشی یونٹس کی قیمتیں اور کرائے آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ شہر کا ماسٹر پلان کیا تھا کہاں گم ہوگیا اور نئے ماسٹر پلان کی کیا ترجیحات ہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قانون کے مطابق کیا ذمہ داری انجام دے رہی ہے اور کرپشن سے کس طرح غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دیا جارہا ہے؟ کراچی کی زمین کتنے اداروں کے کنٹرول میں ہے؟تعمیرات کے لیے کتنے محکمے کام کررہے ہیں ؟ شہر کی زمین 24 سے زائد اداروں میں بٹی ہوئی ہے ان سوالوں کا سادہ جواب یہ ہے کہ شہر کی زمین 24 سے زائد اداروں میں بٹی ہوئی ہے، جن میں صوبائی، وفاقی اور عسکری ادارے شامل ہیں، اس کے علاوہ شہر کا انتظام 30 سے زائد اداروں کے پاس ہے۔ ماہرین انتظام کی اسی "بندربانٹ" کو شہر کی بے انتظامی کی اصل وجہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک شہر کو کسی ایک اتھارٹی کے ماتحت نہیں کیا جاتا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ کھیل کے میدانوں میں چائنا کٹنگ اور رفاہی زمین پر شاپنگ مال یا پلازہ بن جاتا ہے، سڑک بنتے ہی یا تو ٹوٹ جاتی ہے یا کوئی دوسرا ادارہ اسے پانی، گیس یا سیوریج کی لائن ڈالنے کیلئے کھود ڈالتا ہے۔ کراچی کے زمینی انتظام یا منصوبہ بندی کا اصل ذمے دار آخر کون سا ادارہ ہے؟ جواب ڈھونڈنے نکلیں تو پتا چلتا ہے اس حوالے سے شہر میں کوئی مرکزیت نہیں، مثال کے طور پر اگر کسی علاقے کی سڑک ٹوٹی ہوئی ہے تو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ آیا وہ مین روڈ ہے یا گلی محلوں میں بنی ہوئی اندرونی سڑک کیونکہ مرکزی شاہراہیں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت ہیں، جب کہ گلیاں اور اندرونی سڑکیں ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کی ذمہ داری ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھی ایک نہیں بلکہ پورے 25 ٹاؤنز ہیں، جن کی الگ الگ حدود، انتظامی ڈھانچے اور دائرہ اختیار متعین ہیں، ایک ہی شہر میں 25 بلدیاتی ادارے، درجنوں صوبائی و وفاقی محکمے، اور کئی عسکری تنظیمیں اپنی اپنی زمین اور حدود کی مالک ہیں۔ ان میں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی ، سندھ کچی آبادی اتھارٹی، سندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ، بورڈ آف ریونیو سندھ، سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، اور شہر کے چھ کینٹونمنٹ بورڈز شامل ہیں۔ یہ تمام ادارے شہر کے مختلف حصوں کے مالک ہیں، اس کے علاوہ پاک نیوی، فضائیہ اور وزارتِ دفاع کے تحت آنے والی اراضی الگ ہے، جہاں کسی سول ادارے کو مداخلت کی اجازت نہیں۔ کراچی کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی ایک مالک نہیں: شہری منصوبہ بندی کے ماہر ایک کھانا 10 باورچی بنائیں تو اُس کا خراب ہونا یقینی ہوتا ہے، کراچی بھی "انتظامی کھچڑی" کی ایک ایسی ہی مثال ہے جہاں کوئی مرکزی اتھارٹی نہیں، شہری منصوبہ بندی کے ماہر عارف حسن کا بھی یہی کہنا ہے کہ کراچی کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی ایک مالک نہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی کی زمین کا 56 فیصد صوبائی اداروں کے پاس ہے، 32 فیصد بلدیاتی اداروں کے زیر انتظام ہے، 7 فیصد عسکری ادارے کنٹرول کرتے ہیں، جب کہ وفاقی ادارے تقریباً 5 فیصد زمین کے مالک ہیں۔ حیران کن طور پر صرف 1.9 فیصد زمین نجی ملکیت میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع ہوتا ہے تو زمین کی ملکیت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ کوئی سڑک KMC کی نہیں تو KPT کی ہے، کوئی پل DHA کے قریب ہے تو نیوی کے علاقے سے گزرتا ہے، یہی بکھرا ہوا نظام کراچی کے شہری انتظامات کو دنیا کے سب سے پیچیدہ ماڈلز میں سے ایک بناتا ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کراچی کی ترقی کے لیے سب سے پہلے زمین کی ملکیت کے ریکارڈ کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا مرکزی ادارہ ہونا چاہیے جو تمام زمینوں کا ڈیٹا، حدود اور ذمہ داریاں واضح کرے، اگر یہ نہ ہوا تو کراچی ہمیشہ ایک ایسے شہر کے طور پر جانا جائے گا جہاں شہر سب کا ہے لیکن مالک کوئی نہیں کراچی میں تعمیرات کیلئے کون سے ادارے کردار ادا کرتے ہیں؟ کراچی میں رہائشی یا کمرشل پلاٹس پر تعمیرات کیلئے قانون بھی موجود ہے اور اس پر عمل کرانے والے ادارے بھی، لیکن بے لگام کرپشن کے باعث رئیل اسٹیٹ کا شعبہ تعمیر سے زیادہ، تخریب کا سبب بنا ہوا ہے، کراچی میں مختلف نوعیت کے پلاٹس پر تعمیرات کیلئے کون کون سے ادارے کردار ادا کرتے ہیں اور یہ بھی کہ ان پلاٹس پر غیرقانونی تعمیرات کیلئے کیسے اور کتنی رشوت لی جارہی ہے۔ یہ سوالات ہے تو متنازع لیکن کراچی میں رہائشی پلاٹس پر غیرقانونی تعمیرات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جو خطیر ریونیو قومی خزانے میں جانا چاہیے، وہ کرپشن مافیا کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ شہر میں 250 گز سے لے کر 2 ہزار گز تک کے کمرشل پلاٹ کی مکمل منظوری مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے سے 8 کروڑ کی رشوت کے عوض ہوتی ہے جبکہ تعمیرات کے دوران مبینہ طور پر متعلقہ پلاٹ کی ماہانہ رشوت ، ڈھائی لاکھ روپے سے لے کر ساڑھے 3 لاکھ روپے تک بلڈر کی جانب سے ادا کی جاتی ہے۔ قانونی طور پر رہائشی پلاٹس پر دو منزلوں کی تعمیر کی اجازت دوسری جانب رہائشی پلاٹ پر مکان بنانے کا طریقہ کار بہت آسان ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قانون کے مطابق رہائشی پلاٹ اگر 399 گز یا اس سے کم ہے تو اس پر گراؤنڈ پلس دو تک کی تعمیرات کرنے کی اجازت ہے، فرق صرف یہ ہے کہ دو منزل کے لیے بیٹرمنٹ چارجز کی صورت میں ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ مکان کی تعمیر کی قانونی طور پر کی جائے تو مبینہ رشوت ہزاروں میں ہی جاتی ہے، لیکن رہائشی پلاٹ پر غیرقانونی پورشن تعمیر کرنے ہوں تو اس کا طریقہ ذرا فنکارانہ ہے، یعنی پورشن مافیا رہائشی پلاٹ پر نقشہ تو مکان ہی کا منظور کراتی ہے، مگر رشوت دینے کے بعد جس رہائشی پلاٹ پر ایک رہائشی یونٹ بننا چاہیے وہاں کہیں چھ تو کہیں آٹھ آٹھ پورشن بنا لیے جاتے ہیں۔ قانونی طور پر399 گز کے رہائشی پلاٹ پر دو منزلوں کی اجازت ہے، مگر پورشن مافیا کی جانب سے دو اضافی منزلیں تعمیر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کسی بھی عمارت کی تعمیر کے دوران ایک جانب مبینہ طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران تو رشوت طلب کرتے ہی ہیں، لیکن اس گندے دھندے میں مبینہ طور پر کے ڈی اے اور کے ایم سی سمیت فارورڈنگ فراہم کرنے والے اداروں کے افسران بھی ملوث ہیں، اس کے علاوہ جعلی این او سیز، جعلی صحافی اور بعض سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی بلیک میلنگ کا سہارا لے کر رشوت لیتے ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات سے شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ کراچی میں پی ای سی ایچ ایس، بہادر آباد، شرف آباد، دھوراجی ، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا، عزیز آباد، لیاقت آباد، نارتھ کراچی، نیو کراچی اور سرجانی ٹاؤن سمیت متعدد علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ اور پانی اور سیورج کے سسٹم سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔
35 ہزار روپے کمی کے
2026-01-31
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد بڑی کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت 25 ہزار 500 روپے کم ہوکر 5 لاکھ 11ہزار 862 روپےہوگئی ہے۔ اسی طرح 10گرام سونے کی قیمت21ہزار 862 روپے کم ہوکر 4لاکھ38ہزار 839 روپے ہوگئی ہے۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کی قیمت 255 ڈالر کم ہوکر 4895 ڈالر فی اونس ہے۔ ملک میں گزشتہ روز فی تولہ سونا 35500 سستا ہوا تھا اور آج 25500 روپے کمی کے بعد دو روز میں سونا مجموعی طور پر 61 ہزار روپے سستا ہوا ہے۔
بلوچستان کے 12 مقامات
2026-01-31
سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان کے 12 مقامات پر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے بزدلانہ حملے ناکام بناتے ہوئے 37 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنتہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائیاں کیں، فورسز نے دہشتگردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردانہ کارروائیوں میں اب تک فتنہ الہندوستان کے 37 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ مقابلوں میں سکیورٹی اداروں اور پولیس کے 10 جوان شہید ہوئے۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا مختلف لوکیشنز پر دہشتگردوں کا تعاقب تاحال جاری ہے، کاروائیوں میں مزید دہشتگردوں کی ہلاکتیں اور نقصانات کی بھی اطالاعات ہیں۔
ایران نے یورپی ممالک کی
2026-01-31
ایران نے یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیدیا۔ پاسداران انقلاب کیخلاف یورپی اقدام پر ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کا رد عمل سامنے آگیا۔ علی لاریجانی نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین ایران کے داخلی قانون سے یقینا آگاہ ہے اور وہ تمام ممالک جنہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے خلاف یورپی یونین کی حالیہ قرارداد میں حصہ لیا، ان کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جاتا ہے۔ علی لاریجانی نے کہا کہ اس اقدام کے نتائج کی ذمہ داری ان ہی یورپی ممالک پر عائد ہوگی جنہوں نے اس قسم کے فیصلے کیے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ نے پاسداران انقلاب سے متعلق قانون اپریل2019 میں منظور کیا تھا، ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی قانون پاسدارن کوبلیک لسٹ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ ایک روز قبل یورپی یونین نے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایران کی مسلح افواج نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر منطقی، غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ پاسداران انقلاب ایران کی مسلح افواج کا ایک اہم حصہ ہے جسے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایرانی فوج کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور براہ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔
پی ٹی آئی کو پمز پر اعتماد
2026-01-31
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو پمز پر اعتماد نہیں ہے تو عدالت میں اس کا اظہار کر سکتے ہیں۔ جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے ایک سیاسی جماعت کی طرح برتاؤ کرے، عدالت میں جائے اور وہاں اپنا مؤقف رکھے۔ رانا ثنا نے پاکستان تحریک انصاف کو ایک سال پہلے الیکشن کی آفر دینے کی خبروں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیدیا۔ رانا ثنا بولے وزیراعظم نے یوم آزادی پر میثاق استحکام پاکستان کی پیشکش کی تھی۔ رانا ثنا اللّٰہ نے مزید کہا کہ ملاقاتوں اور ملاقاتیوں کے ذریعے پی ٹی آئی نے امریکا میں مہم چلائی، پی ٹی آئی کا رویہ ریاست کو بلڈوز اور بلیک میل کرنا ہے۔
عمران خان کی صحت اتنی
2026-01-31
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ وہ یہ بات دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کی صحت اتنی خراب نہیں جتنا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد بیان دیتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ ہم نے احتجاج کا اعلان کیااور اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بیماری کارکنوں کے ذہنوں میں ڈال دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کسی سے دشمنی نہیں لیکن اصل میں ہمیں ہمارے مقصد سے ہٹایا جارہا ہے۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ ہم آزاد الیکشن کمیشن اور عام انتخابات چاہتے ہیں۔ ۔ادارے آئینی حدود میں رہیں اور پاکستان کی تشکیل نو کریں۔
کانگو میں کان بیٹھنے سے
2026-01-31
وسطی افریقی ملک کانگو میں کالٹن دھات کی کان بیٹھ گئی جس کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقی کانگو کے علاقے ربایا میں باغی گروپ کے زیر اثر صوبے میں بدھ کے روز کالٹن کی کان بیٹھی جس کے نتیجے میں 200 سے زائد اموات ہوئیں تاہم جعمے تک ہلاک افراد کی صحیح تعداد کا تعین نہ ہوسکا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بیٹھنے والی کان کے متاثرین میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جبکہ حادثے میں 20 افراد شدید زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی مراکز میں امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ متاثرہ ربایا صوبے کے حکام کے مطابق بارشوں کے سیزن کے باعث زمین بہت زیادہ نرم ہونے کی وجہ سے کان بیٹھ گئی اور کان میں موجود افراد دب گئے۔ خیال رہے کہ ربایا دنیا کے کالٹن کا 15 فیصد پروڈیوس کرتا ہے جس سے موبائل فونز، کمپیوٹرز، ایرواسپیس اور ٹربائز کی تیاری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی ٹینٹالم دھات تیار کی جاتی ہے۔
پاسداران انقلاب اشتعال
2026-01-31
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے خبر دار کیا کہ وہ پاسداران انقلاب کےکسی بھی غیر محفوظ اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔ سینٹکام نے بیان میں کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اتوار سے 2 روزہ بجری مشقوں کا اعلان کیا ہے۔ پاسداران انقلاب سمندر میں اشتعال انگیزی سےگریز کرے۔ دنیاپاسداران انقلاب اشتعال انگیزی سےگریز کرے،کوئی بھی غیر محفوظ اقدام ناقابل برداشت ہوگا: سینٹکام پاسداران انقلاب اشتعال انگیزی سےگریز کرے،کوئی بھی غیر محفوظ اقدام ناقابل برداشت ہوگا: سینٹکام ایرانی مشقیں محفوظ، پیشہ ورانہ اندازمیں ہونی چاہییں، امریکی فورسزاورکمرشل جہازوں کےقریب غیرپیشہ ورانہ رویےسےتصادم کاخطرہ پیداہوسکتاہے، سینٹکام—فوٹو: فائل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے خبر دار کیا کہ وہ پاسداران انقلاب کےکسی بھی غیر محفوظ اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔ سینٹکام نے بیان میں کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اتوار سے 2 روزہ بجری مشقوں کا اعلان کیا ہے۔ پاسداران انقلاب سمندر میں اشتعال انگیزی سےگریز کرے۔ امریکا سے کشیدگی میں اضافہ: ایرانی پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمُز میں بحری مشقوں کا اعلان سینٹکام نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 100 سےزائد تجارتی جہاز گزرتے ہیں، ایرانی مشقیں محفوظ، پیشہ ورانہ اندازمیں ہونی چاہییں، یہ بین الاقوامی میری ٹائم ٹریفک کی آزادنہ نقل وحمل کےلیےخطرہ نہیں ہوناچاہیے۔ سینٹکام نے خبردار کیا کہ امریکی فورسز، علاقائی پارٹنرز اور کمرشل جہازوں کےقریب غیرمحفوظ اور غیرپیشہ ورانہ رویے سے تصادم کاخطرہ پیداہوسکتا ہے۔ سینٹکام کے مطابق وہ پاسداران انقلاب کےکسی بھی غیرمحفوظ اقدام کو برداشت نہیں کریں گے اور امریکی اہلکاروں، جہازوں،طیاروں کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔
شوہر حق مہر میں لکھی
2026-01-30
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہےکہ شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں ادا کرنے کا پابند ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق کیسز کی سماعت کی۔ دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حق مہر میں 40 تولہ سونا بہت زیادہ ہے، میرا موکل 20 تولہ ادا کرنے کو تیار ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 20 تولہ سے اور بڑھائیں تو شاید خاتون تصفیہ پر آمادہ ہو جائیں، عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عورت کے ساتھ جب شادی کرتے ہیں تو نکاح نامے کے تحت ادائیگی لازم ہے، شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق مختلف درخواستیں خارج کر دی۔
