کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد

2026-06-18
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد اور کراچی بس اونرز ایسوسی ایشن نے جرمانوں اور کریک ڈاؤن کے خلاف ہڑتال کا اعلان کردیا۔ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتجاج آج سے غیر معینہ مدت تک کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ٹریفک پولیس کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے۔ انتظامیہ نے کہا کہ متعدد بسوں پر بھاری چالان کیے گئے ہیں،جرمانوں کے بعد گاڑیوں پر پولیس یکم جولائی سے کریک ڈاؤن کرنے جا رہی ہے۔
شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مشہد میں روضہ حضرت امام رضا کے احاطے میں سپردخاک
2026-07-10
پاکستان ریلویز کے مطابق ٹریک پر مرمتی کاموں کے باعث ٹرین سروس معطل رکھی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی بلوچستان سے ٹرین سروس معطل کی گئی تھی اور آج بھی مرمتی کام کے باعث کوئی ٹرین روانہ نہیں ہو سکے گی۔ محکمہ ریلویز نے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی روانگی آج منسوخ کر دی جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس جیکب آباد تک محدود رہے گی۔ ریلوے حکام کے مطابق ٹرین کی معطلی کے باعث مسافروں کو ٹکٹ کی پوری رقم واپس کی جائے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی میں اہم تبدیلی کر دی گئی
2026-07-10
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سردار سرفراز ڈوگر انتظامی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس ارباب محمد طاہر اب انتظامی کمیٹی کا حصہ نہیں رہے، جسٹس ارباب محمد طاہر کی جگہ جسٹس انعام امین منہاس کمیٹی کا حصہ ہوں گے، جسٹس محمد آصف اور جسٹس اعظم خان پہلے ہی کمیٹی کے ممبر ہیں۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی منظوری سے رجسٹرار ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے پاس اسلام آباد ہائیکورٹ کے تمام انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار ہوتا ہے
قومی شناختی کارڈ ہر شہری کا بنیادی حق، چھینا نہیں جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
2026-07-10
لاہور ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ گجرات اور فیملی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ قومی شناختی کارڈ ہر شہری کی بنیادی شناخت ہے، جسے اس سے نہیں چھینا جا سکتا۔ جسٹس مزمل اختر شبیر نے شہری ناصر علی رانجھا کی درخواست منظور کرتے ہوئے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قومی شناختی کارڈ کسی بھی شہری کی قانونی شناخت کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس کی معطلی یا بلاک کیے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ پہلے ہی واضح قانونی اصول وضع کر چکی ہے، جن کی موجودگی میں ماتحت عدالتیں ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔ عدالت کے روبرو درخواست گزار ناصر علی رانجھا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی اہلیہ نے نان و نفقہ کی ڈگری پر عملدرآمد کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا، جس پر فیملی کورٹ نے ان کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم جاری کر دیا، اس حکم کے خلاف سیشن کورٹ گجرات میں اپیل دائر کی گئی، تاہم سیشن کورٹ نے درخواست مسترد کر دی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب فیملی کورٹ نے انہیں طلب کیا تو وہ اس وقت پاکستان میں موجود نہیں تھے، اس کے باوجود شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم جاری کیا گیا، جو قانون اور عدالتی نظائر کے منافی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قومی شناختی کارڈ صرف ایک شناختی دستاویز نہیں بلکہ شہری کے بنیادی حقوق، قانونی حیثیت، بینکاری، سفری سہولیات، سرکاری خدمات اور دیگر روزمرہ معاملات سے براہِ راست وابستہ ہے، اس لیے اسے بلاک کرنا کسی شہری کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتا ہے۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ شناختی کارڈ بلاک کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں، لہٰذا ماتحت عدالتیں ان اصولوں سے انحراف نہیں کر سکتیں، عدالت نے فیملی کورٹ اور سیشن کورٹ گجرات کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست منظور کر لی۔
خیبر پختونخوا میں بارش سے متعلق محکمہ موسمیات کی نئی پیشگوئی
2026-07-09
پشاور: پشاور سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک میدانی علاقوں میں شدید گر رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دیر بالا و لوئر، چترال آپر و لوئر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، بونیر اور باجوڑ میں چند مقامات پر تیز ہواؤں و گرچ چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ کوہستان اَپر و لوئر، کولائی پالس، تورغر، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد میں بھی بعض مقامات پر گرچ چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ ہری پور، مردان، صوابی، مہمند، خیبر، پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، ہنگو، کرم، اورکزئی اور وزیرستان کے اضلاع میں بھی چند مقامات پر تیز ہواوُں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران چند مقامات پر تیز گرد آلود ہوائیں اور موسلادھار بارش کی بھی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پشاور میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ، ڈیرہ اور بنوں میں 42، پٹن اور تخت بھائی میں 40، دیر اور چترال میں 35، کالام اور مالم جبہ میں 27 ریکارڈ کیا گیا۔
خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر نجی کمپنی کے 5 عہدیداروں پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد
2026-07-09
اسلام آباد: وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے خاتون کو دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دینے، ہاتھ چھونے، سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ نہ بنانے سمیت مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر نجی کمپنی کے 5 عہدے داروں پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کام کی جگہ پر ہراسگی اور انتقامی رویہ ناقابلِ برداشت ہے اور اس کے سخت نتائج سامنے آئیں گے۔ شکایت گزار خاتون نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی کو بتایا کہ مختلف عہدوں پر فائز افراد نے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔ ایک ملزم نے میٹنگ کے دوران ذاتی اور غیر پیشہ ورانہ جملے کہے، دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دی اور پروڈکٹ سیمپل دکھاتے وقت اس کا ہاتھ پکڑا۔ شکایت گزار خاتون کے مطابق دوسرے ملزم نے اس کی نجی پیغامات کی تصاویر لیں اور ٹیم کے سامنے توہین آمیز جملہ کہا۔ تیسرے ملزم نے شکایت کو آگے بڑھانے سے روکا اور وہ سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ نہ کر سکا جسے اس نے خود دیکھا تھا۔ شکایت گزار خاتون نے بتایا کہ چوتھے ملزم نے انتقامی کارروائی کی ہدایت دی اور ادارے میں قانونی تقاضوں کے مطابق کمیٹی قائم نہ کی۔ پانچویں ملزم نے شکایت گزار کو قانونی نوٹس کے بعد دھمکی آمیز فون کال کی۔ شکایت گزار نے کہا کہ مسلسل دشمنی اور دباؤ کے باعث اسے نوکری چھوڑنی پڑی اور بعد میں اس کے کاغذات اور واجبات روک لیے گئے۔ دورانِ سماعت ملزمان نے الزامات مسترد کیے اور خاتون کی شخصیت، لباس اور نجی زندگی کو موضوع بنایا ۔ وفاقی محتسب نے ملزمان کے دلائل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شکایت گزار کی شخصیت، لباس یا سماجی رویہ مقدمے کا حصہ نہیں ہوتا ۔ شواہد، گواہوں کے بیانات اور ملزمان کے بیانات میں تضاد سے ہراسگی اور انتقامی کارروائی ثابت ہوئی ہے ۔ وفاقی محتسب کے مطابق نہ خوش اخلاقی رضامندی ہوتی ہے ، نہ شکایت میں تاخیر سے مقدمہ کمزور ہوتا ہے ۔ خواتین کو کام کی جگہ پر محفوظ اور عزت بخش ماحول دینا آجر کی ذمے داری ہے ۔ ہراسگی یا انتقامی رویہ قابلِ سزا جرم ہے ۔ وفاقی محتسب نے خاتون ملازمہ کی ہراسگی کے کیس میں نجی ادارے کے پانچ ملزمان کو 27 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی ۔ عدالت نے نجی ادارے کو 30 دن میں انسدادِ ہراسگی کمیٹی کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی ۔
بلوچستان سے ٹرین سروس ایک روز کیلئے معطل
2026-07-09
محکمہ ریلویز نے بلوچستان سے ٹرین سروس آج ایک روز کیلئے معطل کردی۔ ریلویز حکام کے مطا بق ٹرین سروس ریلوے ٹریک پر مرمتی کاموں کے باعث معطل کی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ آج پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی روانگی منسوخ کردی گئی ہے، پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس جیکب آباد تک محدود رہے گی۔ اس کے علاوہ ٹرین کی معطلی کے باعث مسافروں کو ٹکٹ کی پوری رقم واپس کی جائے گی۔
ائیرٹریفک کنٹرولر نے جیونیوز سے گفتگو میں کہا کہ لاپتا طیارے کے پائلٹ نے آخری پیغام مے ڈےکال نہیں دی تھی، ممکنہ طور پر ہنگامی صورتحال میں پائلٹ کو مے ڈےکال کا موقع نہیں ملا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاپتا طیارہ فنی خرابی کے بعد مرمت کیلئے شارجہ گیا تھا۔ طیارہ 5دن شارجہ میں رہا۔ طیارہ فیری فلائٹ ( خالی طیارہ ) کرتے ہوئے کراچی واپس آ رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق شارجہ میں طیارے کی مرمت Northern techniques نامی کمپنی نے کی یہ کمپنی پاکستان کے ایک سابق مشیر ہوابازی کی بتائی جاتی ہے۔ ترجمان پی اے اے کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فوری طور پر فعال کردیا گیا، لاپتا کارگو طیارے کی تلاش کے لیے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ مختلف ادارے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیراعظم کا اظہار افسوس وزیراعظم نےنجی کارگو طیارے کے بحیرہ عرب میں گرکر لاپتا ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عملےکے 5 ارکان کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا۔ وزیراعظم نےسول ایوی ایشن، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کو امدادی کارروائیاں تیزکرنے اور تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔
2026-07-08
پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی نے استحقاق سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور کرلیا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی نے استحقاق ایکٹ کی خلاف وزریوں پرسزائیں مقرر کی ہیں جس کے تحت اسمبلی یا قائمہ کمیٹی کی کارروائی، سوالات، قرارداد، تحریک یا تحریک التوا کو ایوان میں پیش یا سرکاری طور پر جاری ہونے سے پہلے شائع یا نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ایکٹ کے تحت جرم کی نوعیت کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کو قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اسمبلی کی کارروائی یا رکن کی تقریر کی مسخ شدہ رپورٹ شائع کرنے پر3 ماہ قید یا 3 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ ممنوعہ اسمبلی کارروائی یا کمیٹی رپورٹ شائع کرنے پر 6 ماہ قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی۔ اسمبلی یا اس کے وقار کے خلاف ہتک آمیزبیان شائع کرنے پر 6 ماہ قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی۔ اسمبلی افسر پر حملہ یا سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے پر ایک ماہ قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہوگی۔
شارجہ سے کراچی آنیوالے لاپتا کارگو طیارے میں کون کون سوار تھا؟
2026-07-08
شارجہ سے کراچی آتے ہوئے لاپتا ہونے والے کارگو طیارے کی کمپنی کا بیان سامنے آگیا۔ کمپنی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی آرہا تھا جس کا گزشتہ رات 9 بج کر21 منٹ پر ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ اعلامیہ کے مطابق کارگو طیارے میں 5 افراد سوار تھے جن میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈماسٹر محمد توفیق، انجینئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہےکہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کیلئےجناح ائیرپورٹ پرنجی کمپنی کا دفتر سیل کردیا گیا ہے۔ پائلٹ نے "مےڈے"کال نہیں دی: ائیر ٹریفک کنٹرولر ائیرٹریفک کنٹرولر نے جیونیوز سے گفتگو میں کہا کہ لاپتا طیارے کے پائلٹ نے آخری پیغام مے ڈےکال نہیں دی تھی، ممکنہ طور پر ہنگامی صورتحال میں پائلٹ کو مے ڈےکال کا موقع نہیں ملا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاپتا طیارہ فنی خرابی کے بعد مرمت کیلئے شارجہ گیا تھا۔ طیارہ 5دن شارجہ میں رہا۔ طیارہ فیری فلائٹ ( خالی طیارہ ) کرتے ہوئے کراچی واپس آ رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق شارجہ میں طیارے کی مرمت Northern techniques نامی کمپنی نے کی یہ کمپنی پاکستان کے ایک سابق مشیر ہوابازی کی بتائی جاتی ہے۔ ترجمان پی اے اے کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فوری طور پر فعال کردیا گیا، لاپتا کارگو طیارے کی تلاش کے لیے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ مختلف ادارے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیراعظم کا اظہار افسوس وزیراعظم نےنجی کارگو طیارے کے بحیرہ عرب میں گرکر لاپتا ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عملےکے 5 ارکان کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا۔ وزیراعظم نےسول ایوی ایشن، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کو امدادی کارروائیاں تیزکرنے اور تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔
جسٹرار کو درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر واپس کرنے کا اختیار نہیں، وفاقی آئینی عدالت
2026-07-08
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے رجسٹرار اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل پرفیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ رجسٹرار کو درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر واپس کرنے کا اختیار نہیں ۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے رجسٹرار اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل پر 6 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کردیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار کو درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر واپس کرنے کا اختیار نہیں، درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا تعین صرف عدالت کر سکتی ہے، رجسٹرار آفس صرف انتظامی نوعیت کے اعتراضات ہی عائد کرسکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ رجسٹرار آفس درخواست صرف رولز کے خلاف دائر ہونے پر واپس کر سکتا ہے لہٰذا رجسٹرار آفس کسی صورت عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں بھی کہا کہ انتظامی افسر کو عدالتی اختیار دینا آئین میں درج اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہے، رجسٹرار آفس کسی آئینی درخواست کو غیر سنجیدہ بھی قرار نہیں دے سکتا۔ واضح رہے کہ رجسٹرار آفس نے رضیہ اسلم کی آئینی درخواست 14 فروری کو ناقابل سماعت ہونے کا اعتراض لگا کر واپس کر دی تھی جس پر درخواست گزار نے رجسٹرار آفس اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر کی تھی۔
حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کی 27 ویں برسی
2026-07-07
حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کی آج 27 ویں برسی ہے، افواج پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حوالدار لالک جان کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف، سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بھی حوالدار لالک جان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ آئی ایس پی آر کےمطابق 7 جولائی 1999 کو حوالدار لالک جان شہید نے دشمن کے مسلسل حملوں کے باوجود اپنی چوکی کا جرات و استقامت سے دفاع کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود حوالدار لالک جان نے انخلا سے انکار کیا، آخری سانس تک اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے لالک جان نے دشمن کا مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیا۔
