آزاد کشمیر: قانون ساز اسمبلی

2026-06-05
مظفر آباد: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں برقرار رکھنے کی قرارداد منظور کر لی۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی تاریخی اور آئینی حقیقت ہے۔ قرارداد کے مطابق انتخابی پیچیدگیاں دور کرنا اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول بنائے جانے کے لیے ضروری اصلاحات اسمبلی کے ذریعے عمل میں لائی جاسکتی ہیں۔ قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں، اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے، سیاسی جماعتوں، بارایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اورآئینی ماہرین سے مشاورت کی جائے۔
آزاد کشمیر: قانون ساز اسمبلی
2026-06-05
مظفر آباد: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں برقرار رکھنے کی قرارداد منظور کر لی۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی تاریخی اور آئینی حقیقت ہے۔ قرارداد کے مطابق انتخابی پیچیدگیاں دور کرنا اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول بنائے جانے کے لیے ضروری اصلاحات اسمبلی کے ذریعے عمل میں لائی جاسکتی ہیں۔ قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں، اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے، سیاسی جماعتوں، بارایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اورآئینی ماہرین سے مشاورت کی جائے۔
پاکستان کا عالمی برادری سے بھارت
2026-06-05
اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے بھارت کے چناب اپ لنک ٹنل منصوبے پر اظہار تشویش کیا گیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ دریائے چناب کے پانی کا دوسرے دریائی نظام میں رخ موڑنا سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ اقدام ویانا کنونشن اور بین الاقوامی آبی قوانین کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ ترجمان کے مطابق بھارت کے سلال ڈیم کے ذخیرے کی گنجائش بڑھانے کے منصوبے پر بھی تشویش ہے، یہ منصوبہ بھارت کو پانی کے بہاؤ پر ایسا کنٹرول دے سکتا ہے جو سندھ طاس معاہدےکے تحت قابل قبول نہیں۔ ترجمان کا کہنا تھاکہ یہ منصوبے ثابت کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے،عالمی برادری بھارت پر زور دے کہ پاکستان کے حصے کے پانی کا بہاؤ روکنے یا موڑنے والے منصوبے ختم کرے اور سندھ طاس معاہدے پر مکمل اور مخلصانہ عملدرآمد بحال کرے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔
نکاح کے بعد بیوی کو اس کے
2026-06-05
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نکاح نامے پر دستخط کے بعد بیوی کو اس کے طے شدہ حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ کے جسٹس سلطان تنویر نے حق مہر میں دی گئی زمین کے تنازع پر خاتون کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے خاتون کی درخواست منظور کرتےہوئے ٹرائل کورٹ کا زمین کی جگہ 16 لاکھ رقم دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور کیس دوبارہ سماعت کےلیے واپس بھجوا دیا۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان 2015 میں نکاح ہوا، حق مہر دو ایکڑ زمین رکھی گئی، شوہر نے زمین کی جگہ 2015 کے ریٹ کے تحت 16 لاکھ روپے ادا کیے اور ٹرائل کورٹ نے زمین کی جگہ پیسے دینے کے فیصلے کو درست قرار دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر زمین کی جگہ رقم ادا کرنی ہے تو موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے کی جائے، نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے، اس کی شرائط فریقین کی نیت کے مطابق سمجھی جائیں، نکاح نامے کی کسی شق کی تشریح کرتے وقت فریقین کی حقیقی نیت جاننا ضروری ہے۔ ہائیکورٹ نے کہا کہ عدالتوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نکاح کے وقت خاتون کو اپنے حقوق کا علم تھا یا نہیں، شوہر کسی ابہام کا فائدہ اٹھا کر بیوی کے حقوق سلب نہیں کر سکتا، ٹرائل کورٹ نے حق مہر کی شق کی درست تشریح نہیں کی۔
امریکی صدر کی مداخلت
2026-06-05
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پچھلے سال پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، صدر ٹرمپ کو ہمیشہ "امن کے داعی" کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان میں امریکی مشن نے جمعرات کو امریکا کی آزادی کی 250 سالہ سالگرہ منائی اور اس اہم سنگِ میل کے موقع پر آزادی، وقار اور حقِ خود ارادیت کے اُن اصولوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی خصوصی شرکت کی۔ تقریب سےخطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نےحکومت اور عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ امریکا کی تاریخ امید اور روشن خیالی کی داستان ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کا تعلق 8 دہائیوں پر محیط ہے، انسداد دہشت گردی، تجارت ، سرمایہ کاری کے شعبے میں بہترین تعلقات ہیں، قیام پاکستان کے بعد امریکا ان اولین ملکوں میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کے سبز انقلاب میں مدد دی ، ہزاروں پاکستانی گریجویٹ امریکا میں تربیت لے رہے ہیں، 10 لاکھ پاکستانی امریکا کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں، پاکستان کی لیبر فورس امریکا میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پچھلے سال بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو رکوانے میں کردار ادا کیا ، صدر ٹرمپ کو ہمیشہ ایک امن کے داعی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کررہا ہے، اعتماد کے اظہار پر امریکا اور ایران کے شکرگزار ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو بھی سراہتے ہیں، فیلڈ مارشل علاقائی امن اور استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
اسلام آباد کے نظام حکمرانی
2026-06-05
اسلام آباد: حکومت نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے حکمرانی کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کیلئے ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا۔ منصوبے کے تحت ایک منتخب علاقائی حکومت کا قیام، اداروں کے مابین انتشار (ڈس انٹی گریشن) کا خاتمہ اور ایک مربوط ’’اسمارٹ سٹی‘‘ ماڈل کی جانب پیشرفت شامل ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں خدمات کی فراہمی اور طویل المدتی شہری منصوبہ بندی بہتر بنائی جا سکے۔ ’’آئی سی ٹی گورننس ماڈل‘‘ کے عنوان سے 138؍ صفحاتی رپورٹ منصوبہ بندی کمیشن کے وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے تیار کی، کیونکہ اس بات پر تشویش پائی جاتی تھی کہ اسلام آباد ایک منصوبہ بند انتظامی دارالحکومت سے بڑھ کر 24؍ لاکھ سے زائد آبادی والے بڑے شہر میں تبدیل ہو چکا ہے، لیکن ادارہ جاتی ترقی اس رفتار سے نہیں ہو سکی۔ یہ رپورٹ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو پیش کی جا چکی ہے۔ تجویز کا مرکزی نکتہ نمائندہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت (آئی سی ٹی جی) کا قیام ہے، جسے انتظامی اور مالی خودمختاری حاصل ہوگی، جو صوبائی حکومتوں کے مساوی ہوگی، جبکہ اسلام آباد کی وفاقی حیثیت بھی برقرار ہوگی۔ مجوزہ ڈھانچے کے تحت 27؍ ارکان پر مشتمل اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی قائم کی جائے گی جن میں 21؍ براہِ راست منتخب، پانچ نشستیں خواتین کیلئے اور ایک اقلیتوں کیلئے مختص ہوگی۔ یہ اسمبلی اپنے سربراہ کا انتخاب کرے گی، جسے وزیرِ اعلیٰ یا میئر کا عہدہ دیا جا سکتا ہے، جس کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔ منصوبے کے مطابق، امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے علاوہ تمام اختیارات آئی سی ٹی حکومت کو دیے جائیں گے، جبکہ یہ دونوں امور دارالحکومت کی حیثیت کے باعث وفاق کے پاس رہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی سی ڈی اے سمیت وفاقی وزارتوں اور اداروں کے تحت موجود انتظامی ذمہ داریاں آئی سی ٹی حکومت کو منتقل کی جائیں گی تاکہ اختیارات کی تکرار اور ادارہ جاتی تضاد کا خاتمہ ہو سکے۔ اصلاحاتی پیکیج میں ایک جامع ’’اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ‘‘ کی تجویز بھی شامل ہے، جس کے تحت موجودہ بلدیاتی اور ترقیاتی قوانین یکجا کر کے ایک واحد قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔ آئی سی ٹی حکومت اپنے قواعدِ کار کے تحت کام کرے گی، جس میں محکموں کا ڈھانچہ، انتظامی درجہ بندی اور مالی اختیارات واضح طور پر متعین ہوں گے۔ عملدرآمد کیلئے رپورٹ میں متعدد کمیٹیوں کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔ ایک قانون سازی کمیٹی قوانین تیار کرے گی۔ اس کمیٹی میں وزیرِ قانون، آئی سی ٹی کے رکن قومی اسمبلی، سیکریٹریز قانون و داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے اور دیگر ارکان شامل ہوں گے۔ وزیرِ منصوبہ بندی کی سربراہی میں ایک مالیاتی کمیٹی ہوگی جو مالی وسائل کی تقسیم اور مقامی ٹیکس کے استعمال کا طریقہ کار طے کرے گی۔ جبکہ ایک منتقلی کمیٹی ہوگی جو مرحلہ وار اختیارات کی منتقلی اور انتظامی تسلسل کی نگرانی کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق، ان اصلاحات سے نئے مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ متوقع نہیں، کیونکہ توجہ نئے ادارے بنانے کے بجائے موجودہ اداروں کی تنظیمِ نو اور انضمام پر ہے، ماسوائے چند اصلاحات کے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے وسائل کی فراہمی اور مقامی ٹیکس کے استعمال کا حتمی فیصلہ مالیاتی فریم ورک کے تحت کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا ایک اہم جزو ’’اسلام آباد اسمارٹ سٹی ماڈل‘‘ ہے، جس کا مقصد دارالحکومت کو ایک جدید، ماحول دوست اور شہری ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس ماڈل میں ادارہ جاتی اصلاحات کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے کیونکہ صرف ڈیجیٹل تبدیلی حکمرانی کے مسائل حل نہیں کر سکتی تاوقتیکہ ساختی اصلاحات نہ کی جائیں۔ اسمارٹ سٹی ویژن تین ستونوں پر مبنی ہے: اسلام آباد کو ماحولیاتی سیاحت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ذریعے ’’نیچر کیپیٹل‘‘ بنانا، ثقافت اور ورثے کو فروغ دے کر شہری شناخت اور معاشی سرگرمیوں کو مضبوط کرنا، اور ایک کھلا و جامع دارالحکومت تشکیل دینا جو عوامی شمولیت اور عالمی روابط کو فروغ دے۔ رپورٹ کے مطابق ’’ڈیسٹی نیشن اسلام آباد‘‘ حکمتِ عملی سے سیاحت میں اضافہ، روزگار کے مواقع، نجی سرمایہ کاری اور مقامی آمدنی میں بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔ خدمات کی فراہمی میں بہتری کیلئے 6؍ خصوصی اداروں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جن میں صحت، تعلیم، سماجی بہبود، سیاحت و ثقافت، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، اور ڈیجیٹل و ای گورننس کے شعبے شامل ہیں۔ ہر ادارہ ایک پروفیشنل سربراہ کے تحت کام کرے گا اور کارکردگی کی بنیاد پر جوابدہی کا نظام ہوگا۔اصلاحات کا ایک اہم پہلو مربوط ڈیجیٹل گورننس نظام ہے، جس میں زمین و جائیداد کا انتظام، لائسنسنگ، ٹیکس، شناختی تصدیق، شکایات کا ازالہ اور خدمات کی نگرانی کیلئے یکساں پلیٹ فارم شامل ہوگا، تاکہ شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکے۔ عملدرآمد کا منصوبہ پانچ سالہ مرحلہ وار طریقہ کار پر مشتمل ہے، جس میں ابتدا قانونی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں سے ہوگی، اس کے بعد اداروں کا قیام، ڈیجیٹل انضمام اور کارکردگی کا استحکام شامل ہوگا۔ یہ اصلاحاتی ایجنڈا قومی پالیسیوں جیسے “اڑان پاکستان”، ڈیجیٹل پاکستان پالیسی، قومی شہری پالیسی فریم ورک اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ اگر یہ منصوبہ نافذ ہو گیا تو وفاقی دارالحکومت کے نظامِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلی آئے گی اور اسلام آباد کو ایک جدید، مؤثر اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کے ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔
سندھ، پنجاب اور پختونخوا کے
2026-06-03
سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں،طوفان اور بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا ساتھ ہی متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا میں تیز ہوائیں،طوفان کے باعث مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ تھرپارکر میں بارش اور سکھر میں ژالہ باری ہوئی جبکہ لاڑکانہ ،حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ،نیو سعیدآباد ، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچائی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد ،لاہور ،جہلم،سرگودھا ،گجرات ،رحیم یار خان ، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی ہے۔ ادھر تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا۔ پاراچنار، ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی
2026-06-03
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا،شہری رُل گئے۔ اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی۔ پیر کو کےالیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔ شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ ترجمان کراچی واٹرکارپوریشن کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔ ترجمان کےالیکٹرک کے مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔
آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ
2026-06-03
اسلام آباد : پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نےآئندہ مالی سال کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی۔ اس حوالے سے پائیڈ نے شواہد پر مبنی فریم ورک تجویز کردیا جس کے تحت مالی سال 2026-27 کے لیے قومی سطح پر کم از کم اجرت 45000 روپے ماہانہ مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ پائیڈ نے موجودہ کم از کم اجرت 40000 روپے کے مقابلے آئندہ مالی سال کیلئے 12.5 فیصد اضافہ تجویز کیا ہے۔ پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم اجرت کی پالیسی اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ گھریلو قوتِ خرید، غربت کے خدشات ، غیر رسمی روزگار، مقامی طلب، پیداواری ترغیبات اور مجموعی سماجی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل عرصے میں اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی اور اپریل 2026 میں سال بہ سال افراطِ زر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے
2026-06-03
اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کی اضافی رہائش گاہوں کی تعمیرکے منصوبے کے لیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سرکاری دستاویزکے مطابق اراکین پارلیمنٹ کےلیے اضافی فیملی سوٹس بشمول 500 سرونٹ کوارٹرزکی تعمیر کے منصوبے کے لیے آئندہ مالی سال ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40کروڑروپے ہے اور 30 جون 2026 تک اس پر 2 ارب 29 کروڑ روپےکے اخراجات کا تخمینہ ہے۔ دستاویزات کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر جی فائیو ٹو میں اس کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ پارلیمنٹ لاجز سے متصل ممبران پارلیمنٹ کے لیے 104 فیملی سوٹس تعمیر کیے جا ر ہے ہیں جن کی فنشنگ کا کا م جاری ہے۔
کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ پر
2026-06-03
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک سے گھنٹوں طویل لوڈشیڈنگ پر رپورٹ طلب کرلی۔ نیپرا حکام کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ کے شیڈول کی پابندی نہیں کررہی، مختلف علاقوں میں فالٹ تاخیر سے دور کرنے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق بجلی صارفین کی جانب سے گھنٹوں طویل لوڈشیڈنگ کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
